ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔
کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔
ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد (ﷺ) کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔
آیت 103 ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ جیسے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچالیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے ‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔