سورہ یونس: آیت 103 - ثم ننجي رسلنا والذين آمنوا... - اردو

آیت 103 کی تفسیر, سورہ یونس

ثُمَّ نُنَجِّى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ ٱلْمُؤْمِنِينَ

اردو ترجمہ

پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma nunajjee rusulana waallatheena amanoo kathalika haqqan AAalayna nunjee almumineena

آیت 103 کی تفسیر

ثم ننجی رسلنا والذین امنوا پھر ہم (کافروں اور منکروں کو ہلاک کردیتے ہیں اور) اپنے پیغمبروں اور ان کے ماننے والوں کو بچا لیتے ہیں۔ یہ حال گزشتہ کا بیان ہے (یعنی گزشتہ زمانہ میں ہم نے ایسا کیا تھا اور یہی ہمارا دستور تھا) ۔

کذلک حقا علینا ننج المؤمنین۔ اسی طرح (یعنی گزشتہ پیغمبروں کی طرح) ہم بچا لیں گے مؤمنوں کو۔

ہمارا یہ وجوبی وعدہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جیسے گزشتہ پیغمبروں اور مؤمنوں کو ہم نے بچایا ‘ اسی طرح نزول عذاب کے وقت ہم محمد (ﷺ) کو اور ان پر ایمان لانے والوں کو بچا لیں گے اور یہ بچا لینا (حسب وعدہ) ہم پر واجب ہے۔

آیت 103 ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ جیسے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچالیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے ‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔

آیت 103 - سورہ یونس: (ثم ننجي رسلنا والذين آمنوا ۚ كذلك حقا علينا ننج المؤمنين...) - اردو