سورہ یونس (10): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yunus کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يونس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یونس کے بارے میں معلومات

Surah Yunus
سُورَةُ يُونُسَ
صفحہ 220 (آیات 98 سے 106 تک)

فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ ءَامَنَتْ فَنَفَعَهَآ إِيمَٰنُهَآ إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّآ ءَامَنُوا۟ كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ ٱلْخِزْىِ فِى ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَمَتَّعْنَٰهُمْ إِلَىٰ حِينٍ وَلَوْ شَآءَ رَبُّكَ لَءَامَنَ مَن فِى ٱلْأَرْضِ كُلُّهُمْ جَمِيعًا ۚ أَفَأَنتَ تُكْرِهُ ٱلنَّاسَ حَتَّىٰ يَكُونُوا۟ مُؤْمِنِينَ وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَن تُؤْمِنَ إِلَّا بِإِذْنِ ٱللَّهِ ۚ وَيَجْعَلُ ٱلرِّجْسَ عَلَى ٱلَّذِينَ لَا يَعْقِلُونَ قُلِ ٱنظُرُوا۟ مَاذَا فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَٱلْأَرْضِ ۚ وَمَا تُغْنِى ٱلْءَايَٰتُ وَٱلنُّذُرُ عَن قَوْمٍ لَّا يُؤْمِنُونَ فَهَلْ يَنتَظِرُونَ إِلَّا مِثْلَ أَيَّامِ ٱلَّذِينَ خَلَوْا۟ مِن قَبْلِهِمْ ۚ قُلْ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ ثُمَّ نُنَجِّى رُسُلَنَا وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ حَقًّا عَلَيْنَا نُنجِ ٱلْمُؤْمِنِينَ قُلْ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِن كُنتُمْ فِى شَكٍّ مِّن دِينِى فَلَآ أَعْبُدُ ٱلَّذِينَ تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ وَلَٰكِنْ أَعْبُدُ ٱللَّهَ ٱلَّذِى يَتَوَفَّىٰكُمْ ۖ وَأُمِرْتُ أَنْ أَكُونَ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ وَأَنْ أَقِمْ وَجْهَكَ لِلدِّينِ حَنِيفًا وَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُشْرِكِينَ وَلَا تَدْعُ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَنفَعُكَ وَلَا يَضُرُّكَ ۖ فَإِن فَعَلْتَ فَإِنَّكَ إِذًا مِّنَ ٱلظَّٰلِمِينَ
220

سورہ یونس کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یونس کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا (اس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اس پر سے دنیا کی زندگی میں رسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا اور اس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falawla kanat qaryatun amanat fanafaAAaha eemanuha illa qawma yoonusa lamma amanoo kashafna AAanhum AAathaba alkhizyi fee alhayati alddunya wamattaAAnahum ila heenin

آیت 98 فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ حضرت یونس نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ آپ کی دعوت کے مقابلے میں آپ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو حضرت یونس حمیت دینی کے جوش میں انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انہیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا ‘ جبکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ایسے مواقع پر رسول اپنی مرضی سے اپنی بستی کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ ہجرت کا حکم نہ آجائے نبی کا معاملہ اس طرح سے نہیں ہوتا۔ محمد رسول اللہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا تھا مگر آپ نے خود اس وقت تک ہجرت نہیں فرمائی جب تک آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے با ضابطہ طور پر اس کی اجازت نہیں مل گئی تھی۔ سیرت کی کتابوں میں یہاں تک تفصیل ملتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے دو اونٹنیاں اس مقصد کے لیے تیار کر رکھی تھیں اور روزانہ آپ سے استفسار کرتے تھے کہ حضور ! اجازت ملی یا نہیں ؟بہر حال حضرت یونس کے جانے کے بعد جب عذاب کے آثار پیدا ہوئے تو پوری بستی کے لوگ اپنے بچوں ‘ عورتوں اور مال مویشی کو لے کر باہر نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر توبہ کی۔ اللہ کے قانون کے مطابق تو عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد نہ ایمان فائدہ مند ہوتا ہے اور نہ توبہ قبول کی جاتی ہے ‘ مگر حضرت یونس کے وقت سے پہلے ہجرت کر جانے کی وجہ سے اس قوم کے معاملے میں نرمی اختیار کی گئی اور ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا گیا۔ یوں انسانی تاریخ میں ایک استثناء exception قائم ہوا کہ اس قوم کے لیے قانون خداوندی میں رعایت دی گئی۔

اردو ترجمہ

اگر تیرے رب کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw shaa rabbuka laamana man fee alardi kulluhum jameeAAan afaanta tukrihu alnnasa hatta yakoonoo mumineena

آیت 99 وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًایہ مضمون سورة الانعام میں بڑے شد ومد کے ساتھ آچکا ہے۔ حضور کی شدید خواہش تھی کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمارا اپنا قانون ہے اور وہ یہ کہ جو حق کا طالب ہوگا اسے حق مل جائے گا اور جو تعصب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ اگر لوگوں کو مسلمان بنانا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا۔ وہ سب کو پیدا ہی ایسے کرتا کہ سب مؤمن متقی اور پرہیزگار ہوتے۔ آخر اس نے فرشتے بھی تو پیدا کیے ہیں جو کبھی غلطی کرتے ہیں نہ اس کی معصیت۔ جیسا کہ سورة التحریم میں فرمایا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ وہ اللہ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ لیکن انسانوں کو اس نے پیدا ہی امتحان کے لیے کیا ہے۔ سورة الملک کے آغاز میں زندگی اور موت کی تخلیق کا یہی مقصد بتایا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا آیت 2 ”اس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون حسن عمل کا رویہ اختیار کرتا ہے“۔ لہٰذا اے نبی آپ اس معاملے میں اپنا فرض ادا کرتے جائیں ‘ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے اس کی پروا نہ کریں ‘ کسی کو ہدایت دینے یا نہ دینے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ اصل میں یہ ساری باتیں حضور کے دل مبارک کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ آپ ہر وقت دعوت و تبلیغ کی جدوجہدّ میں مصروف ہیں ‘ پھر آپ کو یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں اس ضمن میں میری طرف سے کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ جیسے سورة الاعراف آیت 2 میں فرمایا : فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ کہ آپ کے دل میں فرائض رسالت کے سلسلے میں کسی قسم کی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ اور ان لوگوں کے پیچھے آپ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔

اردو ترجمہ

کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لا سکتا، اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wama kana linafsin an tumina illa biithni Allahi wayajAAalu alrrijsa AAala allatheena la yaAAqiloona

اردو ترجمہ

اِن سے کہو “زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اسے آنکھیں کھول کر دیکھو" اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے ان کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہو سکتی ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Quli onthuroo matha fee alssamawati waalardi wama tughnee alayatu waalnnuthuru AAan qawmin la yuminoona

آیت 101 قُلِ انْظُرُوْا مَاذَا فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ زمین و آسمان میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں ہیں ‘ ان کو بنظر غائر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

اردو ترجمہ

اب یہ لوگ اِس کے سوا اور کس چیز کے منتظر ہیں کہ وہی برے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں؟ اِن سے کہو “اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fahal yantathiroona illa mithla ayyami allatheena khalaw min qablihim qul faintathiroo innee maAAakum mina almuntathireena

آیت 102 فَہَلْ یَنْتَظِرُوْنَ الاَّ مِثْلَ اَیَّامِ الَّذِیْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلِہِمْ رسولوں کی تکذیب کرنے والی قوموں پر آنے والے عذاب استیصال والے دنوں کو قرآن حکیم میں ”ایام اللہ“ قرار دیا گیا ہے۔ تو کیا یہ لوگ ایسے دنوں کے منتظر ہیں جو قوم نوح یا قوم ہود علیہ السلام یا قوم صالح یا قوم لوط علیہ السلام کو دیکھنے پڑے تھے ؟

اردو ترجمہ

پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں ہمارا یہی طریقہ ہے ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma nunajjee rusulana waallatheena amanoo kathalika haqqan AAalayna nunjee almumineena

آیت 103 ثُمَّ نُنَجِّيْ رُسُلَنَا وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كَذٰلِكَ ۚ حَقًّا عَلَيْنَا نُنْجِ الْمُؤْمِنِيْنَ جیسے حضرت نوح ‘ حضرت ہود اور حضرت صالح کی قوموں میں سے جو لوگ ایمان لے آئے انہیں بچالیا گیا۔ عامورہ اور سدوم کی بستیوں میں سے کوئی ایک خوش قسمت بھی نہ نکلا کہ اسے بچایا جاتا۔ حضرت لوط صرف اپنی دو بیٹیوں کو لے کر وہاں سے نکلے تھے ‘ جبکہ ان کی اپنی بیوی بھی پیچھے رہ جانے والوں کے ساتھ رہ گئی اور عذاب کا نشانہ بنی۔

اردو ترجمہ

اے نبیؐ! کہہ دو کہ لوگو، اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں ان کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اسی خدا کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qul ya ayyuha alnnasu in kuntum fee shakkin min deenee fala aAAbudu allatheena taAAbudoona min dooni Allahi walakin aAAbudu Allaha allathee yatawaffakum waomirtu an akoona mina almumineena

آیت 104 قُلْ يٰٓاَيُّھَا النَّاسُ اِنْ كُنْتُمْ فِيْ شَكٍّ مِّنْ دِيْنِيْ اب سورة کے آخر میں فیصلہ کن انداز میں خطاب کیا جا رہا ہے کہ اے لوگو ! یہ جو تم مجھ پر دباؤ ڈال رہے ہو ‘ کہ میں اپنے موقف میں کچھ نرمی پیدا کرلوں یا تمہارے ساتھ کسی حد تک مداہنت compromise کا رویہ اختیار کروں ‘ تو اس کا مطلب تو یہ ہے کہ تمہیں میرے دین کے بارے میں ابھی تک شک ہے۔ اگر ایسا ہے تو تم لوگ اپنا یہ شک دور کرلو :

اردو ترجمہ

اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تو یکسو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اِس دین پر قائم کر دے، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waan aqim wajhaka lilddeeni haneefan wala takoonanna mina almushrikeena

آیت 105 وَاَنْ اَقِمْ وَجْہَکَ للدِّیْنِ حَنِیْفًاپورے حنیف یعنی یکسو ہو کر دین کی طرف متوجہ ہوں۔

اردو ترجمہ

اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wala tadAAu min dooni Allahi ma la yanfaAAuka wala yadurruka fain faAAalta fainnaka ithan mina alththalimeena
220