واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔
دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔
فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔
کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔
الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور کرنے کیلئے جو اس کو پہنچی تھی۔
کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون۔ ان حد سے گذرنے والوں کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی خواہشات نفس میں انہماک اور ذکر و عبادت سے اعراض کو ان کی نظر میں محبوب بنا دیا جاتا ہے۔
آیت 12 وَاِذَا مَسَّ الْاِنْسَان الضُّرُّ دَعَانَا لِجَنْبِہٖٓ اَوْ قَاعِدًا اَوْ قَآءِمًا ج ”اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو وہ ہمیں پکارتا ہے پہلو کے بل لیٹے ہوئے یا بیٹھے ہوئے یا کھڑے ہوئے۔“فَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُ ضُرَّہٗ مَرَّ کَاَنْ لَّمْ یَدْعُنَآ اِلٰی ضُرٍّ مَّسَّہٗ ط ”پھر جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو وہ ایسے چل دیتا ہے جیسے اس نے ہمیں کبھی پکارا ہی نہ تھا کوئی تکلیف پہنچنے پر۔“کَذٰلِکَ زُیِّنَ لِلْمُسْرِفِیْنَ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ”ایسے ہی مزین کردیا گیا ہے ان حد سے بڑھنے والوں کے لیے ان کے اعمال کو۔“ان کے اندر اتنی ڈھٹائی پیدا ہوگئی ہے کہ ذرا تکلیف آجائے تو گڑ گڑا کر دعائیں مانگیں گے ‘ ہر حال میں ہمیں پکاریں گے اور گریہ وزاری میں راتیں گزار دیں گے۔ لیکن جب وہ تکلیف رفع ہوجائے گی تو ایسے بھول جائیں گے گویا ہمیں جانتے ہی نہیں۔
مومن ہر حال میں اللہ کا شکر بجا لاتے ہیں۔ اسی آیت جیسی (وَاِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ فَذُوْ دُعَاۗءٍ عَرِيْضٍ 51) 41۔ فصلت :51) ہے یعنی جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو بڑی لمبی لمبی دعائیں کرنے لگتا ہے۔ ہر وقت اٹھتے بیٹھے لیٹتے اللہ سے اپنی تکلیف کے دور ہونے کی التجائیں کرتا ہے۔ لیکن جہاں دعا قبول ہوئی تکلیف دور ہوئی اور ایسا ہوگیا جیسے کہ نہ اسے کبھی تکلیف پہنچی تھی نہ اس نے کبھی دعا کی تھی۔ ایسے لوگ حد سے گزر جانے والے ہیں اور وہ انہیں اپنے ایسے ہی گناہ اچھے معلوم ہوتے ہیں۔ ہاں ایماندار، نیک اعمال، ہدایت و رشد والے ایسے نہیں ہوتے۔ حدیث شریف میں ہے مومن کی حالت پر تعجب ہے۔ اس کے لیے ہر الٰہی فیصلہ اچھا ہی ہوتا ہے۔ اسے تکلیف پہنچی اس نے صبر و استقامت اختیار کی اور اسے نیکیاں ملیں۔ اسے راحت پہنچی، اس نے شکر کیا، اس پر بھی نیکیاں ملیں، یہ بات مومن کے سوا کسی کو حاصل نہیں۔