سورہ یونس (10): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yunus کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يونس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یونس کے بارے میں معلومات

Surah Yunus
سُورَةُ يُونُسَ
صفحہ 209 (آیات 7 سے 14 تک)

إِنَّ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا وَرَضُوا۟ بِٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا وَٱطْمَأَنُّوا۟ بِهَا وَٱلَّذِينَ هُمْ عَنْ ءَايَٰتِنَا غَٰفِلُونَ أُو۟لَٰٓئِكَ مَأْوَىٰهُمُ ٱلنَّارُ بِمَا كَانُوا۟ يَكْسِبُونَ إِنَّ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ يَهْدِيهِمْ رَبُّهُم بِإِيمَٰنِهِمْ ۖ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ فِى جَنَّٰتِ ٱلنَّعِيمِ دَعْوَىٰهُمْ فِيهَا سُبْحَٰنَكَ ٱللَّهُمَّ وَتَحِيَّتُهُمْ فِيهَا سَلَٰمٌ ۚ وَءَاخِرُ دَعْوَىٰهُمْ أَنِ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَٰلَمِينَ ۞ وَلَوْ يُعَجِّلُ ٱللَّهُ لِلنَّاسِ ٱلشَّرَّ ٱسْتِعْجَالَهُم بِٱلْخَيْرِ لَقُضِىَ إِلَيْهِمْ أَجَلُهُمْ ۖ فَنَذَرُ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ وَإِذَا مَسَّ ٱلْإِنسَٰنَ ٱلضُّرُّ دَعَانَا لِجَنۢبِهِۦٓ أَوْ قَاعِدًا أَوْ قَآئِمًا فَلَمَّا كَشَفْنَا عَنْهُ ضُرَّهُۥ مَرَّ كَأَن لَّمْ يَدْعُنَآ إِلَىٰ ضُرٍّ مَّسَّهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْمُسْرِفِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا ٱلْقُرُونَ مِن قَبْلِكُمْ لَمَّا ظَلَمُوا۟ ۙ وَجَآءَتْهُمْ رُسُلُهُم بِٱلْبَيِّنَٰتِ وَمَا كَانُوا۟ لِيُؤْمِنُوا۟ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْقَوْمَ ٱلْمُجْرِمِينَ ثُمَّ جَعَلْنَٰكُمْ خَلَٰٓئِفَ فِى ٱلْأَرْضِ مِنۢ بَعْدِهِمْ لِنَنظُرَ كَيْفَ تَعْمَلُونَ
209

سورہ یونس کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یونس کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہو گئے ہیں، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena la yarjoona liqaana waradoo bialhayati alddunya waitmaannoo biha waallatheena hum AAan ayatina ghafiloona

ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔

ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔

واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔

والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔

ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ جو اللہ کی ہستی کو تو مانتے ہیں ‘ حشرنشر کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اسکے ساتھ ہی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘ ثواب آخرت سے مایوس ہیں۔ ان کا مقصد صرف دنیوی لذت اندوزی اور راحت کوشی ہے اور مؤخر الذکر الذین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کی توحید کو نہیں مانتے اور حشر و جزا کا عقیدہ نہیں رکھتے۔

بیضاوی نے لکھا ہے : اول الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ‘ جزائے آخرت کی ان کو امید ہی نہیں۔ زندگی صرف اسی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور مؤخر الذکر الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جن کو محبت دنیا نے تصور آخرت اور تیاری آخرت سے غافل بنا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک دونوں الَّذِیْنَ سے مراد عام کفار ہی ہیں لیکن تعدد اوصاف کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر کردیا گیا ہے (جیسے الی الملک القرم وابن الہمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم میں سب اوصاف یعنی قرم ‘ ابن الہمام اور لیث الکتیبۃ کا مصداق الملک ہی ہے لیکن اوصاف کے تغایر کو ذات کے تغایر کے قائم مقام قرار دے کر اوصاف کے درمیان حروف عطف ذکر کئے گئے ہیں اسی طرح آیات میں بھی تعداد اوصاف کو تعدد ذوات کا درجہ دے کر بیچ میں حروف عطف ذکر کردیا گیا ہے) اس امر پر بھی تنبیہ ہے کہ چونکہ وہ دونوں اصاف قبیحہ کے حامل اور جامع ہیں ‘ اسلئے مستحق وعید ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : رجائکا معنی خوف بھی ہے اور طمع بھی۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو نہ ہمارے عذاب کا خوف ہے نہ ثواب کی امید (گویا ہمارے سامنے آنے کا نہ ان کو کوئی اندیشہ ہے نہ کوئی امید) حضرت ابن عباس نے فرمایا : عَنْ اٰیٰاتِنَا یعنی محمد رسول اللہ (ﷺ) اور قرآن سے غافل ہیں ‘ ان کی طرف سے رخ موڑے ہوئے ہیں۔

اردو ترجمہ

اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے) کرتے رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika mawahumu alnnaru bima kanoo yaksiboona

اولئک ماوٰھم النار ۔ یہی ہیں کہ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے ‘ ان کے برے کرتوت کی وجہ سے۔ یعنی کفر پر قائم اور معاصی پر جمے رہنے کی وجہ سے۔

اردو ترجمہ

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں اُن کا رب اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتوں میں ان کے نیچے نہریں بہیں گی

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena amanoo waAAamiloo alssalihati yahdeehim rabbuhum bieemanihim tajree min tahtihimu alanharu fee jannati alnnaAAeemi

ان الذین امنوا وعملوا الصلحٰت یدیھم ربھم بایمانھم ناقابل شک ہے یہ بات کہ جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے نیک عمل کئے ‘ ان کے ایمان کی وجہ سے ان کا رب ان کو (جنت میں پہنچانے والے راستہ کی) ہدایت کرے گا۔

مجاہد نے کہا : پل صراط پر ان کو جنت تک پہنچانے والا راستہ بتا دے گا۔ ان کیلئے نور کر دے گا جس کی راہنمائی میں وہ (جنت تک) جائیں گے۔ بعض نے کہا : ہدایت سے مراد یہ ہے کہ ایمان کی وجہ سے اللہ ان کو حقائق دین سمجھنے کا راستہ بتا دے گا۔ حضرت انس کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جس نے جانی چیز پر عمل کیا ‘ اللہ اس کو انجانی چیز کا علم عطا فرما دے گا۔ رواہ ابونعیم فی الحیلۃ۔ بعض نے کہا : یھدیھم کا یہ معنی ہے کہ اللہ ان کو ثواب اور جزا دے گا یا جنت کے اندر ان کے مقاصد ان کو پہنچا دے گا۔

بیضاوی نے لکھا ہے : ترتیب کلام کا مفہوم اگرچہ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا سبب ایمان اور عمل صالح (کا مجموعہ) ہے لیکن تنہا بایمانھم کا صریحی لفظ بتا رہا ہے کہ ہدایت کا مستقل سبب ایمان ہے ‘ عمل صالح تو اس کا تکملہ اور تتمہ ہے۔

تجری من تحتھم الانھٰر ان کے نیچے نہریں رواں ہوں گی۔ نیچے سے مراد ہے سامنے ‘ جیسا آیت قَدْ جَعَلَ رَبُّکَ تَحْتَکِ سَرِیًّا میں تحت سے مراد سامنے ہے ‘ کیونکہ حضرت مریم کا نہر کے اوپر بیٹھنا اس آیت کا مقصود نہیں ہے بلکہ نہر کا سامنے ہونا مراد ہے۔

فی جنت النعیم۔ چین کے باغوں میں۔

اردو ترجمہ

وہاں ان کی صدا یہ ہوگی کہ “پاک ہے تو اے خدا، " اُن کی دعا یہ ہوگی کہ “سلامتی ہو " اور ان کی ہر بات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ “ساری تعریف اللہ رب العالمین ہی کے لیے ہے "

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

DaAAwahum feeha subhanaka allahumma watahiyyatuhum feeha salamun waakhiru daAAwahum ani alhamdu lillahi rabbi alAAalameena

دعوٰھم فیھا سبحانک اللھم جنتوں میں ان کی دعاء (اس طرح ) ہوگی : اے اللہ ! تو ہر برائی سے پاک ہے ‘ ہم تجھے ہر عیب و نقص سے پاک جانتے اور مانتے ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : اہل تفسیر کا بیان ہے کہ اہل جنت اور ان کے خادموں کے درمیان سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ کا لفظ طلب طعام کی علامت ہوگا۔ جب اہل جنت کھانے کے خواہشمند ہوں گے تو کہیں گے : سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ فوراً حسب پسند کھانے کے خوان حاضر کر دئیے جائیں گے۔ ہر خوان ایک میل لمبا ‘ ایک میل چوڑا ہوگا۔ ہر خوان پر ستر ہزار کا سے ہوں گے ‘ ہر کاسہ میں الگ رنگ کا کھانا ہوگا ‘ ایک دوسرے کے مشابہ نہ ہوگا۔ کھانے سے فارغ ہو کر سب اللہ کی ثنا کریں گے۔ وَاٰخِرُ دَعْوٰھُمْ اَنِ الْحَمْدُِ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَکا یہی معنی ہے۔ بعض علماء نے کہا : اہل جنت سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ مزے لے لے کر کہیں گے ‘ یعنی اس کلام کے کہنے میں ان کو لذت آئے گی۔ مسلم ‘ ابو داؤد اور امام احمد نے حضرت جابر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ سانس لینے کی طرح اللہ کی طرف سے سبحان اللہ اور الحمد اللہ کہنے کا اہل جنت کو الہام ہوگا (یعنی بےاختیار ان کی زبانوں پر تسبیح وتحمید جاری ہوگی) ۔

وتحیتھم فیھا سلم اور جنت کے اندر ان کا ملاقاتی ابتدائی کلام (لفظ) سلام ہوگا۔ ایک دوسرے کو سلام کرے گا اور فرشتے بھی ہر دروازے سے داخل ہو کر کہیں گے۔ سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ اور اللہ کی طرف سے بھی سلام لے کر فرشتے آئیں گے اور کہیں گے : اللہ تم کو سلام فرماتا ہے (یعنی بشارت سلامتی دیتا ہے) ابن ماجہ ‘ ابن ابی الدنیا ‘ دارقطنی اور اجری نے حضرت جابر کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : جب اہل جنت اپنی راحتوں میں مشغول ہوں گے کہ اچانک ان پر اوپر سے ایک نور چمکے گا۔ سر اٹھا کر دیکھیں گے تو (نظر آئے گا کہ) اللہ اوپر سے ان پر جلوہ پاش ہے۔ اللہ فرمائے گا : ” السلام علیکم یا اہل الجنۃِ “ یہی ہے معنی سَلٰمٌ قَوْلاً مِّنْ رَّبِّ رَّحِیْمٍ کا۔

امام احمد ‘ بزار اور ابن حبان نے حضرت ابن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ کی مخلوق میں سے جنت کے اندر سب سے پہلے فقراء مہاجرین داخل ہوں گے جن سے (اسلام کی) سرحدوں کا انتظام ہوتا ہے اور انہی کے ذریعے سے ناگوار امور سے حفاظت کی جاتی ہے ‘ لیکن (اتنی اہم شخصیت کے حامل ہونے کے باوجود) ان میں سے جب کوئی مرتا ہے تو دل کی خواہش دل ہی میں لے کرجاتا ہے ‘ پورا کرنے کی توفیق ہی اس کو نہیں ملتی۔ اللہ اپنے ملائکہ میں سے جس کو چاہے گا حکم دے گا کہ مہاجرین کے پاس جاؤ اور ان کو میرا سلام پہنچاؤ۔ فرشتے عرض کریں گے : اے ہمارے مالک ! ہم تیرے آسمان کے باشندے ہیں ‘ مخلوق میں تیرے برگزیدہ بندے ہیں۔ کیا تو ہم کو حکم دے رہا ہے کہ ہم ان کے پاس جائیں اور ان کو سلام کریں ؟ اللہ فرمائے گا : یہ میرے ایسے بندے تھے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہیں کرتے تھے ‘ کسی کو میرا شریک نہیں قرار دیتے تھے۔ انہی کو سرحدوں پر بھیجا جاتا تھا اور انہی کے ذریعہ سے ناگوار امور سے حفاظت ہوتی تھی اور جب ان میں سے کوئی مرتا تھا تو اپنا ارمان اپنے دل میں ہی لے کر مرتا تھا ‘ پورا کرنے کی اس کو توفیق ہی نہ ہوتی تھی۔ حسب الحکم فرشتے ان کے پاس جنت کے ہر دروازہ سے آئیں گے اور کہیں گے : سَلاَمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔

واخر دعوٰھم ان الحمد اللہ رب العٰلمین۔ اور ان کی (اس وقت کی باتوں میں) آخری بات ہوگی الْحَمْدُ للّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ شاید اس سے مراد یہ ہے کہ جب اہل جنت ‘ جنت میں داخل ہو کر اللہ کی عظمت کا معائنہ کریں گے تو اس کی بزرگی بیان کریں گے اور صفات جلالیہ کا اظہار کریں گے۔ پھر اللہ کی طرف سے فرشتے حاضر ہو کر ان کو تمام آفتوں سے سالم رہنے اور عزت و کرامت پر فائز ہونے کی دعا دیں گے۔ اس وقت وہ اللہ کی حمد و ثنا کریں گے اور اللہ کی صفت اکرام کو بیان کریں گے۔

بغوی نے لکھا ہے : وہ کلام کا آغاز تسبیح سے کریں گے اور الحمد اللہ پر کلام کو ختم کریں گے اور ان دونوں کے درمیان جو بات کرنی چاہیں گے ‘ کریں گے۔

اردو ترجمہ

اگر کہیں اللہ لوگوں کے ساتھ برا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلت عمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaw yuAAajjilu Allahu lilnnasi alshsharra istiAAjalahum bialkhayri laqudiya ilayhim ajaluhum fanatharu allatheena la yarjoona liqaana fee tughyanihim yaAAmahoona

ولو یعجل اللہ للناس الشر استجالھم بالخیر اور اگر (لوگوں کی عجلت طلب کے موافق) اللہ فوراً برا نتیجہ دے دیتا ‘ جیسا کہ فوری عجلت طلب پر اچھا نتیجہ دے دیتا ہے۔

حضرت ابن عباس نے فرمایا : اس (آیت) سے مراد وہ قول ہے جو عموماً غصہ کے وقت لوگ اپنے اہل و عیال کے متعلق کہتے ہیں کہ تم پر اللہ کی مار ‘ تم پر خدا کی لعنت وغیرہ۔

قتادہ نے کہا : آیت کا تشریحی مطلب یہ ہے کہ لوگ جب اللہ سے کوئی بددعا کرتے ہیں اور فوری شر کے طلبگار ہوتے ہیں ‘ اگر اللہ ان کی بددعا کو قبول کرنے میں اسی عجلت سے کام لے جس عجلت سے وہ لوگوں کی نیک دعاؤں کو قبول کرتا ہے۔ نیک دعاؤں کے نتیجہ کو جلد طلب کرنے کا تو آیت میں ذکر ہے ‘ جلد نتیجہ دینے کا ذکر نہیں۔ اور شر کے ساتھ استعجال کا ذکر نہیں کیا ‘ یعنی بددعا کے ساتھ نتیجہ کی فوری طلب کا ذکر نہیں کیا بلکہ فوری نتیجہ دینے کا ذکر کیا۔ اس طرح کلام میں اختصار ہوگیا اور غیر مذکور مطلب قرینہ سے معلوم ہوگیا۔ روایت میں آیا ہے کہ نضر بن حارث نے (اپنے لئے بددعا کی تھی اور) کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہی حق ہے جو تیری طرف سے آیا ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کر۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔

لقضی الیھم اجلھم تو ان کا (عذاب کا) وعدہ کبھی کا پورا ہوچکا ہوتا۔ یعنی مار دئیے گئے ہوتے اور ہلاک ہو چکتے۔

فنذر الذین لا یرجون لقاء نا فی طغیانھم یعمھون۔ سو اسلئے ان لوگوں کو جن کو ہمارے پاس آنے کا کھٹکا نہیں ہے ‘ ہم (یونہی بلا عذاب چند روز) چھوڑ رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں بھٹکتے رہیں۔

لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَنَا یعنی حشر اور عذاب سے نہیں ڈرتے۔ فَنَذَرُالخ کا عطف ایک محذوف جملہ پر ہے ‘ اصل کلام یوں تھا : لیکن ہم ہلاک کرنے میں جلدی نہیں کرتے اور ڈھیل دینے کے بجائے فوری نہیں مار ڈالتے اور ان کافروں کو گمراہی میں چھوڑے رکھتے ہیں کہ اپنی سرکشی میں سرگرداں پھرتے رہیں۔

اردو ترجمہ

انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکارا ہی نہ تھا اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha massa alinsana alddurru daAAana lijanbihi aw qaAAidan aw qaiman falamma kashafna AAanhu durrahu marra kaan lam yadAAuna ila durrin massahu kathalika zuyyina lilmusrifeena ma kanoo yaAAmaloona

واذا مس الانسان الضر اور جب انسان کو کوئی تکلیف پہنچتی ہے۔ الضر سے مراد ہے سختی ‘ مصیبت۔

دعانا لجنبہ او قاعدًا او قائمًا تو وہ (نجات و خلاص کیلئے) ہم کو پکارتا ہے پہلو کے بل (یعنی لیٹ کر) یا بیٹھ کر یا کھڑے ہو کر۔ یعنی مصیبت دور ہونے کی ہر حالت میں فوراً ہم سے دعا کرتا ہے لیٹے لیٹے ‘ بیٹھے بیٹھے ‘ کھڑے کھڑے۔

فلما کشفنا عنہ ضرہ مر پھر جب ہم اس کی تکلیف ہٹا دیتے ہیں ‘ کھول دیتے ہیں تو وہ اپنے سابق طریقے پر قائم رہتا ہے ‘ کفر کرتا رہتا ہے ‘ ناشکری کرتا ہے۔

کان لم یدعنا معلوم ہوتا ہے کہ (مصیبت اور دکھ کی حالت میں) اس نے ہم سے دعا ہی نہیں کی تھی ‘ ہم کو پکارا ہی نہ تھا۔

الی ضر مسہ اس مصیبت کو دور کرنے کیلئے جو اس کو پہنچی تھی۔

کذلک زین للمسرفین ما کانوا یعملون۔ ان حد سے گذرنے والوں کو ان کے اعمال اسی طرح مستحسن معلوم ہوتے ہیں۔ یعنی خواہشات نفس میں انہماک اور ذکر و عبادت سے اعراض کو ان کی نظر میں محبوب بنا دیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ

لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو (جو اپنے اپنے زمانہ میں برسر عروج تھیں) ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روش اختیار کی اور اُن کے رسُول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لا کر ہی نہ دیا اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walaqad ahlakna alquroona min qablikum lamma thalamoo wajaathum rusuluhum bialbayyinati wama kanoo liyuminoo kathalika najzee alqawma almujrimeena

ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔

لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔

وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔

وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان کا مبدء تعین تھا ‘ اسلئے اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ازلی علم میں وہ مؤمن نہ تھے ‘ اللہ (تخلیق سے پہلے ہی) جانتا تھا کہ وہ کافر مریں گے۔

کذلک نجزی القوم المجرمین۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں اور کفر پر جمے رہنے والوں کی سزا ان کو ہلاک کردینا ہے جبکہ یہ امر یقین ہوجائے کہ ان کو مہلت دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ پس ایسی ہی سزا ہم ہر مجرم کو یا تم کو دیں گے۔ جرم کا تقاضا ہی یہ ہے ‘ جرم ہلاکت کا مستحق بنا دیتا ہے۔

اردو ترجمہ

اب ان کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Thumma jaAAalnakum khalaifa fee alardi min baAAdihim linanthura kayfa taAAmaloona

ثم جعلنکم خلئف فی الارض من بعدھم پھر ان کے یعنی ہلاک شدہ قوموں کے بعد ہم نے (اے اہل مکہ ! ) تم کو ان کا جانشین بنایا۔

لننظر کیف تعملون۔ تاکہ ہم دیکھیں کہ تم کیسے عمل کرتے ہو اچھے یا برے اور گزشتہ اقوام کے احوال سے عبرت اندوز ہو کر پیغمبروں کی تصدیق کرتے ہو یا نہیں کرتے۔ یہ آیت بتا رہی ہے کہ اعمال و افعال بذات خود نہ اچھے ہوتے ہیں نہ برے۔ افعال کی اچھائی برائی ‘ کیفیت و جہت کے اختلاف پر مبنی ہے۔ ایک ہی عمل مختلف وجوہ کے تحت اچھا بھی ہوجاتا ہے اور برا بھی۔ حضرت ابو سعید خدری کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : دنیا میٹھی اور سرسبز ہے۔ اللہ تم کو یہاں (گزشتہ اقوام کا) جانشین بنائے گا اور دیکھے گا کہ تم کیسے عمل کرتے ہو۔

209