ولقد اھلکنا القرون من قبلکم اور (اے اہل مکہ ! ) تم سے سابق قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔
لما ظلموا جب انہوں نے (کفر و بداعمالی کر کے) خود اپنے اوپر ظلم کیا۔
وجاء تھم رسلھم بالبینت اور ان کے پیغمبر کھلی ہوئی واضح دلیلیں ان کے پاس لا چکے (مگر انہوں نے کسی دلیل کو نہیں مانا) گویا حجت تمام ہوگئی اور ہلاکت کا ان کو استحقاق ہوگیا۔ اسی مضمون کو دوسری آیت میں بیان کیا ہے ‘ فرمایا ہے : وَمَا کُنَّا مُعَذِّبِیْنَ حَتّٰی نَبْعَثَ رَسُوْلاً ۔
وما کانوا لیؤمنوا اور وہ (ظالم قومیں) ایسی تھیں ہی نہیں کہ ایمان لاتیں۔ یعنی ان میں ایمان لانے کی فطری صلاحیت ہی نہ تھی۔ اللہ کے اسم مضل (گمراہ کرنے والا) کا پرتو ان کا مبدء تعین تھا ‘ اسلئے اللہ نے بھی ان کی مدد نہیں کی۔ یا یہ مطلب ہے کہ اللہ کے ازلی علم میں وہ مؤمن نہ تھے ‘ اللہ (تخلیق سے پہلے ہی) جانتا تھا کہ وہ کافر مریں گے۔
کذلک نجزی القوم المجرمین۔ ہم مجرم لوگوں کو ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔ یعنی پیغمبروں کی تکذیب کرنے والوں اور کفر پر جمے رہنے والوں کی سزا ان کو ہلاک کردینا ہے جبکہ یہ امر یقین ہوجائے کہ ان کو مہلت دینے سے کوئی فائدہ نہ ہوگا ‘ پس ایسی ہی سزا ہم ہر مجرم کو یا تم کو دیں گے۔ جرم کا تقاضا ہی یہ ہے ‘ جرم ہلاکت کا مستحق بنا دیتا ہے۔
اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ سابقہ اقوام پر تکذیب رسول کی وجہ سے عذاب آئے تہس نہس ہوگئے۔ اب تم ان کے قائم مقام ہو اور تمہارے پاس بھی افضل الرسل آچکے ہیں۔ اللہ دیکھ رہا ہے کہ تمہارے اعمال کی کیا کیفیت رہتی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں دنیا میٹھی، مزے کی، سبز رنگ والی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس میں تمہیں خلیفہ بنا کر دیکھ رہا ہے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو ؟ دنیا سے ہوشیار رہو۔ اور عورتوں سے ہوشیار رہو۔ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں کا ہی آیا تھا۔ (مسلم) حضرت عوف بن مالک نے حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے کہا کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ گویا آسمان سے ایک رسی لٹکائی گئی۔ رسول اللہ ﷺ نے تو اسے مکمل تھام لیا، پھر لٹکائی گئی تو ابوبکر صدیق ؓ نے بھی اسی طرح اسے مضبوطی سے تھام لیا۔ پھر منبر کے ارد گرد لوگوں نے ناپنا شروع کیا تو حضرت عمر ؓ تین ذراع بڑھ گئے۔ حضرت عمر ؓ نے یہ خواب سن کر فرمایا بس ہٹاؤ بھی۔ ہمیں خوابوں کیا حاجت ؟ پھر اپنی خلافت کے زمانے میں عمر فاروق نے کہا عوف تمہارا خواب کیا تھا ؟ حضرت عوف نے کہا جانے دیجئے۔ جب آپ کو اس کی ضرورت ہی نہیں۔ آپ نے جب مجھے ڈانٹ دیا پھر اب کیوں پوچھتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا اس وقت تو تم خلیفۃ الرسول کو ان کی موت کی خبر دے رہے تھے۔ اب بیان کرو انہوں نے بیان کیا۔ تو آپ نے فرمایا لوگوں کا منبر کی طرف تین ذراع پانا یہ تھا کہ ایک تو خلیفہ برحق تھا۔ دوسرے خلیفہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے بالکل بےپرواہ تھا۔ تیسرا خلیفہ شہید ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے پھر ہم نے تمہیں خلیفہ بنایا کہ ہم تمہارے اعمال دیکھیں۔ اے عمر کی ماں کے لڑکے تو خلیفہ بنا ہوا ہے۔ خوب دیکھ بھال لے کہ کیا کیا عمل کر رہا ہے ؟ آپ کا فرمان کہ " میں اللہ کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی پرواہ نہیں کرتا " سے مراد ان چیزوں میں ہے جو اللہ چاہے۔ شہید ہونے سے مراد یہ ہے کہ جب حضرت عمر ؓ کی شہادت ہوئی اس وقت مسلمان آپ کی مطیع و فرمانبردار تھے۔