ویستنبؤک احق ھو وہ آپ سے دریافت کرتے ہیں کہ کیا وہ (یعنی توحید ‘ نبوت ‘ قرآن ‘ قیامت اور عذاب وثواب) حق ہے (یا بےحقیقت ‘ محض مذاق) ۔
قل اي وربی انہ لحق وما انتم بمعجزین۔ آپ کہہ دیجئے : جی ہاں ‘ اپنے رب کی قسم ! بلاشک و شبہ وہ حق ہے اور تم ہرا نہیں سکتے (یعنی اس کے آنے کو اور اس کی صداقت کو روک نہیں سکتے) مطلب یہ کہ تم اس سے چھوٹ نہیں سکتے۔ عَجَزَ عَنِ الشَّیْءِ وہ شخص فلاں چیز سے عاجز ہوگیا ‘ یعنی وہ چیز اس سے فوت ہوگئی۔
آیت 53 وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ط ”اور اے نبی ! جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال searching questions کرتا ہے ‘ اسی طرح مشرکین بھی حضور سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے ؟قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآاَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکید اور شدت ہے۔
مٹی ہونے کے بعد جینا کیسا ہے ؟ پوچھتے ہیں کہ کیا مٹی ہوجانے اور سڑ گل جانے کے بعد جی اٹھنا اور قیامت کا قائم ہونا حق ہی ہے ؟ تو ان کا شبہ مٹا دے اور قسم کھا کر کہہ دے کہ یہ سراسر حق ہی ہے۔ جس اللہ نے تہیں اس وقت پیدا کیا جب کہ تم کچھ نہ تھے۔ وہ تمہیں دوبارہ جب کہ تم مٹی ہوجاؤ گے پیدا کرنے پر یقیناً قادر ہے وہ تو جو چاہتا ہے فرما دیتا ہے کہ یوں ہوجا اسی وقت ہوجاتا ہے اسی مضمون کی اور دو آیتیں قرآن کریم میں ہیں۔ سورة سبا میں ہے (قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُم ڎڎ) 34۔ سبأ :3) سورة تغابن میں ہے (قُلْ بَلٰى وَرَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُـنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُم) 64۔ التغابن :7) ان دونوں میں بھی قیامت کے ہونے پر قسم کھا کر یقین دلایا گیا ہے۔ اس دن تو کفار زمین بھر کر سونا اپنے بدلے میں دے کر بھی چھٹکارا پانا پسند کریں گے۔ دلوں میں ندامت ہوگی، عذاب سامنے ہوں گے، حق کے ساتھ فیصلے ہو رہے ہوں گے، کسی پر ظلم ہرگز نہ ہوگا۔