اس صفحہ میں سورہ Yunus کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يونس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَمِنْهُم مَّن يَنظُرُ إِلَيْكَ ۚ أَفَأَنتَ تَهْدِى ٱلْعُمْىَ وَلَوْ كَانُوا۟ لَا يُبْصِرُونَ
إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَظْلِمُ ٱلنَّاسَ شَيْـًٔا وَلَٰكِنَّ ٱلنَّاسَ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ كَأَن لَّمْ يَلْبَثُوٓا۟ إِلَّا سَاعَةً مِّنَ ٱلنَّهَارِ يَتَعَارَفُونَ بَيْنَهُمْ ۚ قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِلِقَآءِ ٱللَّهِ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ
وَإِمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ ٱلَّذِى نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا مَرْجِعُهُمْ ثُمَّ ٱللَّهُ شَهِيدٌ عَلَىٰ مَا يَفْعَلُونَ
وَلِكُلِّ أُمَّةٍ رَّسُولٌ ۖ فَإِذَا جَآءَ رَسُولُهُمْ قُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْقِسْطِ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَٰذَا ٱلْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَٰدِقِينَ
قُل لَّآ أَمْلِكُ لِنَفْسِى ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَآءَ ٱللَّهُ ۗ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ ۚ إِذَا جَآءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَـْٔخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ
قُلْ أَرَءَيْتُمْ إِنْ أَتَىٰكُمْ عَذَابُهُۥ بَيَٰتًا أَوْ نَهَارًا مَّاذَا يَسْتَعْجِلُ مِنْهُ ٱلْمُجْرِمُونَ
أَثُمَّ إِذَا مَا وَقَعَ ءَامَنتُم بِهِۦٓ ۚ ءَآلْـَٰٔنَ وَقَدْ كُنتُم بِهِۦ تَسْتَعْجِلُونَ
ثُمَّ قِيلَ لِلَّذِينَ ظَلَمُوا۟ ذُوقُوا۟ عَذَابَ ٱلْخُلْدِ هَلْ تُجْزَوْنَ إِلَّا بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ
۞ وَيَسْتَنۢبِـُٔونَكَ أَحَقٌّ هُوَ ۖ قُلْ إِى وَرَبِّىٓ إِنَّهُۥ لَحَقٌّ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
اَفَاَنْتَ تَہْدِی الْعُمْیَ وَلَوْ کَانُوْا لاَ یُبْصِرُوْنَ چنانچہ جب ان لوگوں کی نیت ہی ہدایت حاصل کرنے کی نہیں ہے ‘ جب ان کے دل ہی اندھے ہوچکے ہیں تو آپ ﷺ کی مجلس میں آنا اور آپ کی صحبت میں بیٹھنا ‘ ان کے لیے ہرگز مفید نہیں ہوسکتا۔
آیت 45 وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ کَاَنْ لَّمْ یَلْبَثُوْٓا الاَّ سَاعَۃً مِّنَ النَّہَارِ یَتَعَارَفُوْنَ بَیْنَہُمْ ط انہیں دنیا اور عالم برزخ میں گزرا ہوا وقت ایسے محسوس ہوگا جیسے کہ وہ ایک دن کا کچھ حصہ تھا۔قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِلِقَآء اللّٰہِ وَمَا کَانُوْا مُہْتَدِیْنَ آگے عذاب کی اس دھمکی کا ذکر آ رہا ہے جس کے بارے میں آیت 39 میں فرمایا گیا تھا : وَلَمَّا یَاْتِہِمْ تَاْوِیْلُہٗ ط کہ اس کی تاویل ابھی ان کے پاس نہیں آئی۔
فَاِلَیْنَا مَرْجِعُہُمْ ثُمَّ اللّٰہُ شَہِیْدٌ عَلٰی مَا یَفْعَلُوْنَ یعنی آخری محاسبہ تو ان کا قیامت کے دن ہونا ہی ہے ‘ مگر ہوسکتا ہے کہ یہاں دنیا میں بھی سزا کا کچھ حصہ ان کے لیے مختص کردیا جائے۔ جیسا کہ بعد میں مشرکین مکہ پر عذاب آیا۔ ان پر آنے والے اس عذاب کا انداز پہلی قوموں کے عذاب سے مختلف تھا۔ اس عذاب کی پہلی قسط جنگ بدر میں ان کے ّ ستر سرداروں کے قتل اور ذلت آمیز شکست کی صورت میں سامنے آئی ‘ جبکہ دوسری اور آخری قسط 9 ہجری میں واردہوئی جب انہیں الٹی میٹم دے دیا گیا : فَسِیْحُوْا فِی الْاَرْضِ اَرْبَعَۃَ اَشْہُرٍ۔ التوبۃ : 2 کہ اب تمہارے لیے صرف چند ماہ کی مہلت ہے ‘ اس میں ایمان لے آؤ ورنہ قتل کردیے جاؤ گے۔ اہل مکہ کے ساتھ عذاب کا معاملہ پہلی قوموں کے مقابلے میں شاید اس لیے بھی مختلف رہا کہ پہلی قوموں کی نسبت ان کے ہاں ایمان لانے والوں کی تعداد کافی بہتر رہی۔ مثلاً اگر حضرت نوح کی ساڑھے نو سو سال کی تبلیغ سے 80 لوگ ایمان لائے میری رائے میں وہ لوگ 80 بھی نہیں تھے تو یہاں مکہ میں حضور کی بارہ سال کی محنت کے نتیجے میں اہل ایمان کی تعداد اس سے دو گنا تھی اور ان میں حضرت ابوبکر ‘ حضرت طلحہ ‘ حضرت زبیر ‘ حضرت عثمان ‘ حضرت عبدالرحمٰن بن عوف ‘ حضرت عمر اور حضرت حمزہ رض جیسے بڑے بڑے لوگ بھی شامل تھے۔
فَاِذَاجَآءَ رَسُوْلُہُمْ قُضِیَ بَیْنَہُمْ بالْقِسْطِ وَہُمْ لَا یُظْلَمُوْنَ اس کی وضاحت کے لیے حضرت نوح ‘ حضرت ہود ‘ حضرت صالح ‘ حضرت شعیب ‘ حضرت لوط اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی قوموں کے معاملات کو ذہن میں رکھئے۔
لِکُلِّ اُمَّۃٍ اَجَلٌ ط جیسے ہر امت کے لیے ایک رسول علیہ السلام ہے ‘ اسی طرح ہر امت کے لیے اس کی اجل مہلت کی مدت بھی مقرر کردی گئی ہے۔ اللہ کی مشیت اور حکمت کے مطابق ان کے لیے مقرر کردہ وقت بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔
آیت 50 قُلْ اَرَءَ یْتُمْ اِنْ اَتٰٹکُمْ عَذَابُہٗ بَیَاتًا اَوْ نَہَارًا مَّاذَا یَسْتَعْجِلُ مِنْہُ الْمُجْرِمُوْنَ یعنی یہ جو تم سینہ تان کر کہتے ہو کہ لے آؤ عذاب ! اور پھر کہتے ہو کہ آ کیوں نہیں جاتا ہم پر عذاب ! اور پھر استہزائیہ انداز میں استفسار کرتے ہو کہ یہ عذاب کا وعدہ کب پورا ہونے جا رہا ہے ؟ تو کبھی تم لوگوں نے اس پہلو پر بھی غور کیا ہے کہ اگر وہ عذاب کسی وقت اچانک تم پر آہی گیا ‘ رات کی کسی گھڑی میں یا دن کے کسی لمحے میں ‘ تو اس سے حفاظت کے لیے تم نے کیا بندوبست کر رکھا ہے ؟ آخر تم لوگ کس بل بوتے پر عذاب کو للکار رہے ہو ؟ کس چیز کے بھروسے پر تم اس طرح جسارتیں کر رہے ہو ؟
آیت 51 اَثُمَّ اِذَا مَا وَقَعَ اٰمَنْتُمْ بِہٖط ا آ لْءٰنَ وَقَدْکُنْتُمْ بِہٖ تَسْتَعْجِلُوْنَ عذاب جب واقعتا ظاہر ہوجائے گا تو اس وقت ایمان لانے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
آیت 53 وَیَسْتَنْبِءُوْنَکَ اَحَقٌّ ہُوَ ط ”اور اے نبی ! جیسے قرآن بار بار اپنے مخالفین سے متجسسانہ انداز میں سوال searching questions کرتا ہے ‘ اسی طرح مشرکین بھی حضور سے searching انداز میں سوال کرتے تھے۔ یہاں ان کا یہ سوال نقل کیا گیا ہے کہ جو کچھ آپ کہہ رہے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے ؟ کیا آپ کو خود بھی اس کا پورا پورا یقین ہے ؟قُلْ اِیْ وَرَبِّیْٓ اِنَّہٗ لَحَقٌّط وَمَآاَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ ان الفاظ میں بہت زیادہ تاکید اور شدت ہے۔