ان الذین لا یرجون لقآء نا بیشک جو لوگ ہم سے ملنے کے امیدوار نہیں۔ ملنے سے مراد ہے ثواب کیونکہ اللہ کی ملاقات اور اس کا دیدار سب سے بڑا ثواب ہے۔
ورضوا بالحیوۃ الدنیا اور دنیوی زندگی پر مگن ہیں ‘ یعنی آخرت کی زندگی پر دنیوی زندگی کو انہوں نے ترجیح دے رکھی ہے۔
واطمانوا بھا اور اسی زندگی پر مطمئن ہو بیٹھے ہیں۔ یعنی اسی زندگی پر وہ ٹھہر گئے ہیں ‘ اسی کی لذتیں اور آرائشیں ان کا منتہائے قصد ہیں اور آخرت میں کام آنے والے اعمال ترک کرچکے ہیں۔
والذین ھم عن ایٰتنا غٰفلون۔ اور وہ لوگ جو ہماری (قدرت و صنعت کی) نشانیوں سے غافل ہیں۔
ترجمۂ مذکورۂ بالا کی صورت میں اوّل الذکر الذین سے مراد ہوں گے یہود و نصاریٰ جو اللہ کی ہستی کو تو مانتے ہیں ‘ حشرنشر کا عقیدہ بھی رکھتے ہیں ‘ لیکن اسکے ساتھ ہی دنیا کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں ‘ ثواب آخرت سے مایوس ہیں۔ ان کا مقصد صرف دنیوی لذت اندوزی اور راحت کوشی ہے اور مؤخر الذکر الذین سے مراد ہیں وہ لوگ جو اللہ کی توحید کو نہیں مانتے اور حشر و جزا کا عقیدہ نہیں رکھتے۔
بیضاوی نے لکھا ہے : اول الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جو قیامت کے منکر ہیں ‘ جزائے آخرت کی ان کو امید ہی نہیں۔ زندگی صرف اسی دنیوی زندگی کو جانتے ہیں اور مؤخر الذکر الَّذِیْنَ سے مراد ہیں وہ لوگ جن کو محبت دنیا نے تصور آخرت اور تیاری آخرت سے غافل بنا رکھا ہے۔ بعض اہل تفسیر کے نزدیک دونوں الَّذِیْنَ سے مراد عام کفار ہی ہیں لیکن تعدد اوصاف کی وجہ سے دونوں کے درمیان حرف عطف ذکر کردیا گیا ہے (جیسے الی الملک القرم وابن الہمام ولیث الکتیبۃ فی المزدحم میں سب اوصاف یعنی قرم ‘ ابن الہمام اور لیث الکتیبۃ کا مصداق الملک ہی ہے لیکن اوصاف کے تغایر کو ذات کے تغایر کے قائم مقام قرار دے کر اوصاف کے درمیان حروف عطف ذکر کئے گئے ہیں اسی طرح آیات میں بھی تعداد اوصاف کو تعدد ذوات کا درجہ دے کر بیچ میں حروف عطف ذکر کردیا گیا ہے) اس امر پر بھی تنبیہ ہے کہ چونکہ وہ دونوں اصاف قبیحہ کے حامل اور جامع ہیں ‘ اسلئے مستحق وعید ہیں۔ بغوی نے لکھا ہے : رجائکا معنی خوف بھی ہے اور طمع بھی۔ اس تقدیر پر آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو نہ ہمارے عذاب کا خوف ہے نہ ثواب کی امید (گویا ہمارے سامنے آنے کا نہ ان کو کوئی اندیشہ ہے نہ کوئی امید) حضرت ابن عباس نے فرمایا : عَنْ اٰیٰاتِنَا یعنی محمد رسول اللہ (ﷺ) اور قرآن سے غافل ہیں ‘ ان کی طرف سے رخ موڑے ہوئے ہیں۔
آیت 7 اِنَّ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَآءَ نَا ”بیشک وہ لوگ جو ہم سے ملاقات کے امیدوار نہیں ہیں“یہاں پر یہ نکتہ نوٹ کریں کہ یہ الفاظ اس سورت میں باربار دہرائے جائیں گے۔ اصل میں یہ ایسی انسانی سوچ اور نفسیاتی کیفیت کی طرف اشارہ ہے جس کے مطابق انسانی زندگی ہی اصل زندگی ہے۔ انسان کو غور کرنا چاہیے کہ یہ انسانی زندگی جو ہم اس دنیا میں گزار رہے ہیں اس کی اصل حقیقت کیا ہے ! اسے محاورۃً ”چار دن کی زندگی“ قرار دیا جاتا ہے۔ بہادر شاہ ظفر ؔ نے بھی کہا ہے عمر دراز مانگ کے لائے تھے چار دن دو آرزو میں کٹ گئے ‘ دو انتظار میں !اگر انسان اس دنیا میں طویل طبعی عمر بھی پائے تو اس کا ایک حصہ بچپن کی ناسمجھی اور کھیل کود میں ضائع ہوجاتا ہے۔ شعور اور جوانی کی عمر کا تھوڑا سا وقفہ اس کے لیے کار آمد ہوتا ہے۔ اس کے بعد جلد ہی بڑھاپا اسے اپنی گرفت میں لے لیتا ہے اور وہ دیکھتے ہی دیکھتے لِکَیْ لاَ یَعْلَمَ بَعْدَ عِلْمٍ شَیْءًا ط النحل : 70 کی جیتی جاگتی تصویر بن کر رہ جاتا ہے۔ تو کیا انسانی زندگی کی حقیقت بس یہی ہے ؟ اور کیا اتنی سی زندگی کے لیے ہی انسان کو اشرف المخلوقات کا لقب دیا جاتا ہے ؟ انسان غور کرے تو اس پر یہ حقیقت واضح ہوگی کہ انسانی زندگی محض ہمارے سامنے کے چند ماہ وسال کا مجموعہ نہیں ہے بلکہ یہ ایک کبھی نہ ختم ہونے والے سلسلے کا نام ہے۔ علامہ اقبالؔ کے بقول : تو اسے پیمانۂ امروز و فردا سے نہ ناپ جاوداں ‘ پیہم دواں ‘ ہر دم جواں ہے زندگی اوراقبالؔ ہی نے اس سلسلے میں انسانی ناسمجھی اور کم ظرفی کی طرف ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے : تو ہی ناداں چند کلیوں پر قناعت کر گیا ورنہ گلشن میں علاج تنگئ داماں بھی ہے !اس لامتناہی سلسلۂ زندگی میں سے ایک انتہائی مختصر اور عارضی وقفہ یہ دنیوی زندگی ہے جو اللہ نے انسان کو آزمانے اور جانچنے کے لیے عطا کی ہے : اَلَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا ط الملک : 2۔ جبکہ اصل زندگی تو آخرت کی زندگی ہے اور وہ بہت طویل ہے۔ جیسے سورة العنکبوت میں فرمایا : وَاِنَّ الدَّارَ الْاٰخِرَۃَ لَہِیَ الْحَیَوَانُ 7 لَوْ کَانُوْا یَعْلَمُوْنَ ”اور یقیناً آخرت کا گھر ہی اصل زندگی ہے ‘ کاش کہ انہیں معلوم ہوتا !“ مگر وہ لوگ جن کا ذہنی افق تنگ اور سوچ محدود ہے ‘ وہ اسی عارضی اور مختصر وقفۂ زندگی کو اصل زندگی سمجھ کر اس کی رعنائیوں پر فریفتہ اور اس کی رنگینیوں میں گم رہتے ہیں۔ بقول علامہ اقبال ؔ :کافر کی یہ پہچان کہ آفاق میں گم ہے مؤمن کی یہ پہچان کہ گم اس میں ہیں آفاق !اصل اور دائمی زندگی کی عظمت اور حقیقت ایسے لوگوں کی نظروں سے بالکل اوجھل ہوچکی ہے۔ وَرَضُوْا بالْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَاطْمَاَ نُّوْا بِہَا وَالَّذِیْنَ ہُمْ عَنْ اٰیٰتِنَا غٰفِلُوْنَ ”اور وہ دنیا کی زندگی پر ہی راضی اور اسی پر مطمئن ہیں ‘ اور جو ہماری آیات سے غافل ہیں۔“انسانوں کے اندر اور باہر اللہ کی بیشمار نشانیاں موجود ہیں اور ان کی فطرت انہیں بار بار دعوت فکر بھی دیتی ہے : کھول آنکھ ‘ زمین دیکھ ‘ فلک دیکھ ‘ فضا دیکھ ! مشرق سے ابھرتے ہوئے سورج کو ذرادیکھ !مگر وہ لوگ شہوات نفسانی کے چکروں میں اس حدتک غلطاں و پیچاں ہیں کہ انہیں آنکھ کھول کر انفس و آفاق میں بکھری ہوئی ان لاتعداد آیات الٰہی کو ایک نظر دیکھنے کی فرصت ہے نہ توفیق۔
نادان و محروم لوگ جو لوگ قیامت کے منکر ہیں، جو اللہ کی ملاقات کے امیدوار نہیں۔ جو اس دنیا پر خوش ہوگئے ہیں، اسی پر دل لگا لیا ہے، نہ اس زندگی سے فائدہ اٹھاتے ہیں، نہ اس زندگی کو سود مند بناتے ہیں اور اس پر مطمئن ہیں۔ اللہ کی پیدا کردہ نشانیوں سے غافل ہیں۔ اللہ کی نازل کردہ آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے، ان کی آخری جگہ جہنم ہے۔ جو ان کی خطاؤں اور گناہوں کا بدلہ ہے جو ان کے کفر و شرک کی جزا ہے۔