فلولا کانت قریۃ امنت فنفعھا ایمانھا الا قوم یونس قوم یونس کے علاوہ کوئی اور ایسی بستی کیوں نہیں ہوئی کہ (مشاہدۂ عذاب کے بعد) وہ ایمان لائی ہو اور ایمان اس کیلئے مفید ہوا ہو۔ قریہ سے مراد ہیں قریہ والے ‘ یعنی ان بستیوں والے جن کو اللہ نے (تکذیب رسول کی سزا میں) تباہ کردیا۔ اٰمَنَتْ یعنی عذاب کا مشاہدہ کرنے سے پہلے ایمان لے آئی ہو اور فرعون کی طرح وقت موت پر ایمان کو نہ ٹالا ہو۔ ایمان کے مفید ہونے کا مقصد یہ ہے کہ اللہ نے ان کا ایمان قبول کرلیا ہو (اور آیا ہوا عذاب ٹال دیا ہو) ۔
حضرت ابن عمر راوی ہیں کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ اپنے بندہ کی توبہ قبول کرتا ہے جب تک غرغرہ نہ لگنے لگے۔ رواہ الترمذی وابن ماجہ وابن حبان والحاکم والبیہقی۔
حضرت ابو ذر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اللہ بلاشک اپنے بندہ کی مغفرت کردیتا ہے جب تک پردہ نہ پڑجائے۔ صحابہ نے عرض کیا : یا رسول اللہ (ﷺ) ! پردہ کیا۔ فرمایا : شرک کی حالت میں مرنا۔ رواہ احمد والبیہقی فی کتاب البعث والنشور
لَوْلا حرف تحضیض (ابھارنا ‘ برانگیختہ کرنا) ہے۔ اس کے اندر نفی کا معنی ہے ‘ اسلئے الاَّ قَوْمَ یُوْنُسَاستثناء متصل ہے۔ مطلب یہ ہے کہ قوم یونس مستثنیٰ ہے۔ وہ عذاب (دنیوی) کا مشاہدہ کرنے کے وقت ایمان لائی اور اس کو اس ایمان نے فائدہ پہنچایا (ا اللہ نے اس کی توبہ قبول کرلی) آخرت کے عذاب سے محفوظ ہوگئی (لیکن قوم یونس غرغرہ کی حالت سے پہلے اور عذاب آخرت کے معائنہ سے قبل ایمان لائی تھی) ۔
لما امنوا جب وہ ایمان لے آئے ‘ یعنی اختیار کی حالت میں جب وہ ایمان لے آئے تو ہم نے ان کے ایمان کو قبول کرلیا۔ ابن مردویہ نے حضرت عائشہ کی روایت سے رسول اللہ (ﷺ) کا یہ فرمان اس آیت کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ جب وہ ایمان لے آئے تو انھوں نے دعا کی :
کشفنا عنھم عذاب الخزی فی الحیوۃ الدنیا اور ہم نے دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب ان سے دور کردیا۔
ومتعنھم الی حین۔ اور ایک (معین مقرر) وقت تک (دنیا میں) ان کو بہرہ اندوز کردیا۔ مقرر وقت سے مراد وقت موت جس کا علم اللہ کو تھا۔ بغوی نے لکھا ہے : اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ کوئی بستی ایسی نہیں ہوئی کہ عذاب کا مشاہدہ کرلینے کے بعد ایمان لائی ہو اور اس حالت میں اس کے ایمان نے اس کو فائدہ پہنچایا ہو ‘ سوائے قوم یونس کے۔ ان کو ایسے وقت میں ایمان لانے سے بھی فائدہ ہوا۔
اس جگہ علماء کے دو قول ہیں : ایک فریق کا قول ہے کہ قوم یونس نے عذاب کو آنکھوں سے اپنے سامنے دیکھ لیا تھا اور اس کے بعد ایمان لائے تھے۔ دوسرا فریق قائل ہے کہ عذاب کی علامت دیکھی تھی ‘ عذاب نہیں دیکھا تھا۔ اول قول اکثر اہل علم کا ہے۔ کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : کَشَفْنَا عَنْھُمْ عَذَابَ الْخِزْیِاور عذاب کو دور کرنا وقوع کے بعد ہی ہوتا ہے۔
بغوی کے اس کلام کا مفاد یہ ہے کہ دنیوی عذاب آجانے کی حالت (جس کو بغوی نے حالت بأس کہا ہے) میں کسی کا ایمان قابل قبول نہیں۔ حالت بأس میں ایمان صرف قوم یونس کا قبول کیا گیا ‘ اس کے علاوہ کسی کا قبول نہیں کیا گیا۔
صحیح یہ ہے کہ آیت میں عذاب الیم سے وہ اخروی عذاب مراد ہے جو مرنے کے وقت ملائکۂ موت کی شکل میں مردہ کے سامنے آجاتا ہے۔ اس عذاب کو دیکھنے کے بعد ایمان لاناقابل قبول نہیں (دنیوی عذاب کو دیکھ کر ایمان لانا قابل قبول ہے) دیکھو ! بدر کے دن کافروں پر قتل و قید کی شکل میں دنیوی عذاب آیا اور اس جنگ سے جو کفار بچ گئے اور بعد کو ایمان لے آئے تو ان کا ایمان قبول بھی کیا گیا۔ قوم یونس کا بھی یہی حال ہوا۔ آخرت کے عذاب کو دیکھنے سے پہلے وہ لوگ ایمان لے آئے باوجودیکہ دنیوی عذاب انہوں نے آنکھوں سے دیکھ لیا تھا اور دیکھنے کے بعد ایمان لائے تھے ‘ پھر بھی ان کا ایمان مقبول ہوا اور دنیوی زندگی میں رسوائی کا عذاب اللہ نے ان سے دور کردیا۔
رہا فرعون کے ایمان کا قبول نہ ہونا ‘ اس کی وجہ یا یہ تھی کہ وہ مرنے کے وقت غرغرہ کی حالت میں ایمان لایا تھا جو ناقابل قبول ہے ‘ یا یہ سبب تھا کہ زبان سے اس نے اگرچہ ایمان کا اظہار کیا تھا مگر (ا اللہ کو معلوم تھا کہ وہ) دل سے ایمان نہیں لایا تھا کیونکہ حضرت موسیٰ نے اس کیلئے بددعا کی تھی اور آپ کی بددعا قبول ہوئی تھی ‘ اسلئے فرعون دل سے ایمان لانے والا ہی نہ تھا۔ فرعون اور اس کی قوم کی عادت ہی ہوگئی تھی کہ جب ان پر کوئی عذاب پڑجاتا تھا تو کہتے تھے : موسیٰ ! اپنے رب سے اس عذاب کو ٹال دینے کی دعا کر دو ۔ اگر عذاب تم نے دور کرا دیا تو ہم تم پر ایمان لے آئیں گے اور تمہارے ساتھ بنی اسرائیل کو جانے کی اجازت دے دیں گے۔ لیکن جب اللہ عذاب کو ایک مدت مقرر کیلئے دور کردیتا تھا تو وہ عہد توڑ دیتے تھے اور وعدہ کے خلاف کرتے تھے۔ پس ممکن ہے کہ آخری مرتبہ بھی فرعون دل سے ایمان نہ لایا ہو ‘ صرف زبان سے اقرار کرلیا ہو۔
غرغرہ کی حالت میں ایمان قبول ہونے یا نہ ہونے کا مسئلہ سورة النساء کی آیت اِنَّمَا التَّوبَتَہ علی اللّٰہ لِلَّذِیْنَ یَعْمَلُوْنَ السُّوْءَ بِجَھَالَۃٍ الخ کی تفسیر کے ذیل میں ہم نے بیان کردیا ہے۔
حضرت یونس (علیہ السلام) کا قصّہ
بغوی نے حضرت ابن مسعود اور حضرت سعید بن جبیر اور وہب بن منبہ وغیرہ کی روایات سے حسب ذیل بیان کیا ہے۔
قوم یونس نینوا علاقۂ موصل کی رہنے والی تھی۔ اللہ نے ان کی ہدایت کیلئے حضرت یونس کو مامور فرمایا۔ حضرت یونس نے ان کو ایمان کی دعوت دی مگر انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اللہ کی طرف سے حضرت یونس کو حکم دیا گیا : ان سے کہہ دو کہ تین روز تک صبح کے وقت ان پر عذاب آئے گا۔ حضرت یونس نے اطلاع دے دی۔ قوم والوں نے کہا : تجربہ سے ثابت ہے کہ یہ شخص کبھی جھوٹ نہیں بولا ‘ اسلئے انتظار کرو اور دیکھو ! اگر یہ آج رات تمہارے ساتھ رہے تو سمجھ لو صبح کو کچھ نہیں ہوگا اور اگر رات کو تمہارے ساتھ نہ رہے تو سمجھ لو کہ صبح ........... کو عذاب ضرور آئے گا۔ وسط شب میں حضرت یونس قوم کے پاس سے باہر چلے گئے۔ صبح ہوئی تو لوگوں کے سروں سے ایک میل اوپر عذاب آگیا۔ وہب کا بیان ہے : عذاب ایک سیاہ گھٹا کی شکل میں سخت دھواں اڑاتا آگیا ‘ پھر نیچے اتر کر شہر پر چھا گیا جس سے گھروں کی چھتیں کالی ہوگئیں۔ یہ دیکھ کر لوگوں کو ہلاک ہوجانے کا یقین ہوگیا۔ حضرت یونس کو تلاش کیا تو ان کا بھی کہیں پتہ نہ چلا۔ آخر اللہ نے ان کے دلوں میں توبہ کرنے کا خیال ڈال دیا اور بڑے ‘ بچے ‘ عورت ‘ مرد اور چوپائے سب شہر کے باہر میدان میں جمع ہوگئے۔ سبھوں نے کمبل کا (فقیرانہ) لباس پہن لیا اور لگے توبہ کرنے اور صحیح نیت کے ساتھ ایمان کا اظہار کرنے۔ ہر ماں کو بچے سے علیحدہ کردیا گیا تھا یہاں تک کہ چوپایوں کے بچے بھی ماؤں سے جدا کر دئیے گئے تھے۔ اس علیحدگی کی وجہ سے آدمیوں اور جانوروں کے بچوں نے چیخنا شروع کردیا ‘ مائیں بھی (جذبۂ محبت کے زیر اثر) چیخنے لگیں (ایک کہرام مچ گیا) بیتابی سے سب چیخ پڑے اور اللہ کے سامنے گڑگڑائے۔ آخر اللہ نے رحم فرمایا ‘ دعا قبول فرمائی اور چھایا ہوا عذاب دور کردیا۔ یہ واقعہ 10 محرم کا تھا۔
ابن جریر ‘ ابن ابی حاتم ‘ ابن المنذر اور ابو الشیخ نے قتادہ کا بیان نقل کیا ‘ قتادہ نے کہا : ہم سے کہا گیا کہ قوم یونس مقام نینوا علاقۂ موصل میں رہتی تھی۔ اس بیان میں اتنا زائد ہے کہ جب اللہ نے ان کے دلوں کی سچائی مشاہدہ فرما لی اور توبہ و ندامت جان لی تو عذاب دور کردیا حالانکہ عذاب ان کے سروں پر لٹک آیا تھا ‘ صرف ایک میل کا فاصلہ رہ گیا تھا۔
ابن ابی حاتم نے حضرت علی کا بیان نقل کیا ہے کہ قوم یونس کی توبہ عاشورہ کے دن قبول ہوئی تھی۔ حضرت یونس قوم کی بستی سے باہر چلے گئے اور عذاب نازل ہونے اور قوم کے ہلاک ہونے کا انتظار کرتے رہے ‘ لیکن جب آپ نے عذاب آتا نہ دیکھا (اس زمانہ کا قومی ضابطہ تھا کہ) اگر کوئی شخص بلاثبوت جھوٹ بولتا تھا تو اس کو قتل کردیا جاتا تھا۔ حضرت یونس نے کہا : میں نے قوم سے جھوٹی بات کہی (یعنی میرا جھوٹ ثابت ہوگیا) اب کیسے ان کے پاس لوٹ کر جاسکتا ہوں۔ یہ خیال کر کے قوم سے ناراض اور اپنے رب سے کشیدہ ہو کر چل دئیے۔ دریا پر پہنچے تو کچھ لوگ کشتی میں سوار ہو رہے تھے۔ لوگوں نے پہچان لیا اور بلا کرایہ سوار کرلیا۔ کشتی جب آپ کو لے کر بیچ سمندر میں پہنچی تو رک گئی ‘ نہ آگے بڑھ سکتی تھی نہ پیچھے ہٹ سکتی تھی۔ کشتی والوں نے کہا : کشتی کے اڑ جانے کی کوئی خاص وجہ ہے۔ حضرت یونس نے کہا : مجھے اس کی وجہ معلوم ہے ‘ اس میں کوئی بڑا گناہگار سوار ہے۔ لوگوں نے کہا : وہ کون ہے ؟ حضرت یونس نے کہا : میں ہوں ‘ مجھے دریا میں پھینک دو ۔ لوگوں نے کہا : جب تک ہمارے نزدیک کوئی خاص وجہ نہ ہو ‘ ہم تو آپ کو پھینکنے والے نہیں۔ آخر قرعہ اندازی کی اور تین بار حضرت یونس ہی کا نام قرعہ میں نکلا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یا تو تم مجھے پانی میں پھینک دو ورنہ سب ہلاک ہوجاؤ گے۔ مجبوراً کشتی والوں نے آپ کو پھینک دیا۔ پھینکتے ہی کشتی روانہ ہوگئی۔ کشتی کے نچلے حصہ کے پاس ایک مچھلی منہ کھولے اللہ کے حکم کی منتظر تھی۔ جونہی حضرت یونس پانی میں گرے ‘ مچھلی نے اپنے منہ میں لے لیا۔
یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ اللہ نے ایک بڑی مچھلی کو حکم دیا ‘ اس نے کشتی کی طرف رخ کیا۔ کشتی والوں نے جو اس کو منہ کھولے ہوئے کشتی کی طرف رخ کئے ہوئے دیکھا جو بڑے پہاڑ جیسی تھی تو انہوں نے محسوس کیا کہ وہ کشتی کے اندر کسی کی جستجو کر رہی ہے۔ حضرت یونس نے یہ دیکھتے ہی پانی میں چھلانگ لگا دی (اور مچھلی نے ان کو پکڑ لیا) ۔
حضرت ابن عباس کا بیان ہے کہ حضرت یونس اپنی قوم سے ناراض ہو کر نکل کھڑے ہوئے اور بحر روم پر پہنچے۔ وہاں ایک کشتی مسافروں سے بھری کھڑی تھی۔ آپ اس میں سوار ہوگئے۔ جب کشتی روانہ ہو کر وسط میں پہنچی تو رک کر کھڑی ہوگئی۔ قریب تھا کہ سب لوگ ڈوب جائیں ‘ ملاح بولے : ہماری کشتی میں کوئی گناہگار آدمی یا بھاگا ہوا غلام سوار ہوگیا ہے جس کی وجہ سے کشتی اڑ گئی ہے۔ ہمارا طریقہ ہے کہ ایسے موقع پر قرعہ اندازی کرتے ہیں۔ جس کے نام پر قرعہ نکل آتا ہے ‘ اس کو سمندر میں پھینک دیتے ہیں (کشتی چل نکلتی ہے) ایک آدمی کو ڈبو دینا تو پوری کشتی کے مع سواریوں کے ڈوب جانے سے بہتر ہوتا ہے۔ چناچہ لوگوں نے تین بار قرعہ ڈالا ‘ ہر بار حضرت یونس کے نام پر نکلا۔ حضرت یونس فوراً کھڑے ہوئے اور بولے : میں ہی گناہگار آدمی اور بھاگا ہوا غلام ہوں۔ اس کے بعد آپ نے خود اپنے کو پانی میں پھینک دیا۔ فوراً ایک مچھلی نے نگل لیا ‘ پھر اس مچھلی سے بڑی مچھلی نے آکر اس مچھلی کو نگل لیا۔ اللہ نے مچھلی کو حکم دیا کہ یونس کو بال برابر تکلیف نہ ہونے پائے۔ میں نے تیرے پیٹ کو اس کیلئے قید خانہ بنایا ہے ‘ اس کو تیری غذا نہیں بنایا۔ حضرت ابن عباس کی روایت میں آیا ہے کہ مچھلی کو ندا دی گئی کہ ہم نے یونس کو تیری روزی نہیں بنایا بلکہ تیرے پیٹ کو اس کی حفاظت کا مقام اور عبادت خانہ بنایا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ قرعہ ڈالنے سے پہلے ہی حضرت یونس کھڑے ہوگئے اور فرمایا : میں ہی گنہگار ‘ بھاگا ہوا غلام ہوں۔ کشتی والوں نے پوچھا : تم کون ہو ؟ فرمایا : یونس بن متی۔ لوگ پہچان گئے اور بولے : اے اللہ کے رسول ! ہم آپ کو نہیں پھینکیں گے بلکہ قرعہ اندازی کریں گے۔ قرعہ اندازی کی گئی اور حضرت یونس کے نام کا قرعہ نکل آیا اور آپ نے خود اپنے آپ کو پانی میں پھینک دیا۔ حضرت ابن مسعود نے فرمایا : جس مچھلی نے آپ کو نگلا تھا ‘ وہ آپ کو ساتویں زمین کی گہرائی میں لے گئی اور چالیس رات تک آپ مچھلی کے پیٹ میں رہے۔ وہاں آپ نے سنگریزوں کے تسبیح کرنے کی آواز سنی تو تاریکیوں میں ہی پکار اٹھے : لاَ اِلٰہَ الاَّ اَنْتَ سُبْحْانَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ ۔ اللہ نے آپ کی دعا قبول فرما لی اور بحکم خداوندی مچھلی نے لا کر آپ کو سمندر کے کنارے پھینک دیا۔ اس وقت آپ کی ہیئت ایسی تھی جیسے پرو بال نوچا ہو اچوزہ۔ اللہ نے فوراً کدو کا درخت پیدا کردیا جس کے سایہ میں آپ نے آرام لیا اور ایک پہاڑی بکری یا پاڑی کو مامور کردیا ‘ آپ اس کا دودھ پیتے رہے۔ جب درخت سوکھ گیا تو آپ درخت پر رو دئیے۔ اللہ نے وحی بھیجی : تو ایک درخت کے خشک ہوجانے پر تو رو دیا اور ایک لاکھ یا اس سے بھی زیادہ آدمیوں پر نہیں رویا اور ان کو ہلاک کروا دینا چاہا۔ یہاں سے حضرت یونس چل دئیے اور ایک غلام سے ملاقات ہوئی جو جانور چرا رہا تھا ‘ اس سے پوچھا : غلام ! تو کون ہے ؟ اس نے کہا : یونس کی قوم کا ہوں۔ حضرت نے فرمایا : جب تو اپنی قوم والوں سے جا کر ملے تو ان سے کہہ دینا کہ میری ملاقات یونس سے ہوئی تھی۔ غلام نے کہا : آپ واقف ہیں کہ اگر میرے پاس گواہ نہ ہوں گے تو (مجھے جھوٹی اطلاع دینے پر) قتل کردیا جائے گا۔ حضرت یونس نے فرمایا : یہ زمین کا ٹکڑا اور یہ درخت تیری گواہی دے گا۔ غلام نے کہا : تو شہادت دینے کا ان کو حکم دے دیجئے۔ حضرت یونس نے فرمایا : جب یہ غلام تمہارے پاس آئے تو تم دونوں اس کی گواہی دینا۔ زمین اور درخت نے کہا : بہت اچھا۔ اس غلام نے جا کر اپنے بادشاہ کو اطلاع دے دی کہ حضرت یونس سے میری ملاقات ہوئی تھی۔ بادشاہ نے غلام کو قتل کردینے کا حکم دے دیا۔ غلام نے کہا : میرے پاس (اس بات کی سچائی کے) گواہ ہیں ‘ میرے ساتھ کسی کو بھیجو۔ غرض غلام لوگوں کو ساتھ لے کر اس جگہ اور اس درخت کے پاس پہنچا اور کہا : میں تم دونوں کو خدا کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا حضرت یونس نے تم دونوں کو گواہ بنایا تھا ؟ دونوں نے کہا : ہاں۔ یہ سنتے ہی لوگ خوفزدہ ہو کر لوٹ آئے اور بادشاہ سے آ کر کہہ دیا کہ درخت اور زمین نے اس غلام کی گواہی دی۔ بادشاہ نے غلام کا ہاتھ پکڑ کر اس کو اپنی جگہ بٹھا دیا اور کہا : تو اس جگہ کا مجھ سے زیادہ حقدار ہے۔ غلام نے ان لوگوں کا انتظام چالیس سال تک کیا۔
آیت 98 فَلَوْلاَ کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَآ اِیْمَانُہَآ اِلاَّ قَوْمَ یُوْنُسَ حضرت یونس نینوا کی طرف مبعوث ہوئے تھے۔ آپ کی دعوت کے مقابلے میں آپ کی قوم انکار پر اڑی رہی۔ جب آخری حجت کے بعد ان لوگوں پر عذاب کا فیصلہ ہوگیا تو حضرت یونس حمیت دینی کے جوش میں انہیں چھوڑ کر چلے گئے اور جاتے جاتے انہیں یہ خبر دے گئے کہ اب تین دن کے اندر اندر تم پر عذاب آجائے گا ‘ جبکہ اللہ کی طرف سے آپ کو اپنی قوم کو چھوڑ کر جانے کی ابھی باضابطہ طور پر اجازت نہیں دی گئی تھی۔ اللہ تعالیٰ کی سنت یہ رہی ہے کہ ایسے مواقع پر رسول اپنی مرضی سے اپنی بستی کو نہیں چھوڑ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے باقاعدہ ہجرت کا حکم نہ آجائے نبی کا معاملہ اس طرح سے نہیں ہوتا۔ محمد رسول اللہ کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ آپ نے مسلمانوں کو مدینہ ہجرت کرنے کا حکم دے دیا تھا مگر آپ نے خود اس وقت تک ہجرت نہیں فرمائی جب تک آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے با ضابطہ طور پر اس کی اجازت نہیں مل گئی تھی۔ سیرت کی کتابوں میں یہاں تک تفصیل ملتی ہے کہ حضرت ابوبکر نے دو اونٹنیاں اس مقصد کے لیے تیار کر رکھی تھیں اور روزانہ آپ سے استفسار کرتے تھے کہ حضور ! اجازت ملی یا نہیں ؟بہر حال حضرت یونس کے جانے کے بعد جب عذاب کے آثار پیدا ہوئے تو پوری بستی کے لوگ اپنے بچوں ‘ عورتوں اور مال مویشی کو لے کر باہر نکل آئے اور اللہ کے حضور گڑگڑا کر توبہ کی۔ اللہ کے قانون کے مطابق تو عذاب کے آثار ظاہر ہوجانے کے بعد نہ ایمان فائدہ مند ہوتا ہے اور نہ توبہ قبول کی جاتی ہے ‘ مگر حضرت یونس کے وقت سے پہلے ہجرت کر جانے کی وجہ سے اس قوم کے معاملے میں نرمی اختیار کی گئی اور ان کی توبہ قبول کرتے ہوئے ان پر سے عذاب کو ٹال دیا گیا۔ یوں انسانی تاریخ میں ایک استثناء exception قائم ہوا کہ اس قوم کے لیے قانون خداوندی میں رعایت دی گئی۔
افسوس انسان نے اکثر حق کی مخالفت کی کسی بستی کے تمام باشندے کسی نبی پر کبھی ایمان نہیں لائے۔ یا تو سب نے ہی کفر کیا یا اکثر نے۔ سورة یٰسین میں فرمایا بندوں پر افسوس ہے ان کے پاس جو رسول آئے انہوں نے ان کا مذاق اڑایا۔ ایک آیت میں ہے ان سے پہلے رسول آئے، انہیں لوگوں نے جادوگر یا مجنون کا ہی خطاب دیا۔ تجھ سے پہلے جتنے رسول آئے سب کو ان کی قوم کے سرکشوں ساہو کاروں نے یہی کہا کہ ہم نے تو اپنے بڑوں کو جس لکیر پر پایا اسی کے فقیر بنے رہیں گے۔ حضور ﷺ فرماتے ہیں مجھ پر انبیاء پیش کئے گئے کسی نبی کے ساتھ تو لوگوں کا ایک گروہ تھا۔ کسی کے ساتھ صرف ایک آدمی کوئی محض تنہا۔ پھر آپ نے حضرت موسیٰ ؑ کی امت کی کثرت کا بیان کیا۔ پھر اپنی امت کا، اس سے بھی زیادہ ہونا۔ زمین کے مشرق مغرب کی سمت کو ڈھانپ لینا بیان فرمایا۔ الغرض تمام انبیاء میں سے کسی کی ساری امت نے انہیں نبی نہیں مانا۔ سوائے اہل نینویٰ کے جو حضرت یونس ؑ کی امت کے لوگ تھے۔ یہ بھی اس وقت جب نبی ؑ کی زبان سے عذاب کی خبر معلوم ہوگئی۔ پھر اس کے ابتدائی آثار بھی دیکھ لیے۔ ان کے نبی ؑ انہیں چھوڑ کر چلے بھی گئے۔ اس وقت یہ سارے کے سارے اللہ کے سامنے جھک گئے اس سے فریاد شروع کی، اس کی جناب میں عاجزی اور گریہ وزاری کرنے لگے، اپنی مسکینی ظاہر کرنے لگے۔ اور دامن رحمت سے لپٹ گئے۔ سارے کے سارے میدان میں نکل کھڑے ہوئے اپنی بیویوں، بچوں اور جانوروں کو بھی ساتھ اٹھا کرلے گئے۔ اور آنسوؤں کی جھڑیاں لگا کر اللہ تعالیٰ سے فریاد کرنے دعائیں مانگنے لگے کہ یا رب عذاب ہٹا لے۔ رحمت رب جوش میں آئی، پروردگار نے ان سے عذاب ہٹا لیا اور دنیا کی رسوائی کے عذاب سے انہیں بچالیا۔ اور ان کی عمر تک کی انہیں مہلت دے دی اور اس دنیا کا فائدہ انہیں پہنچایا۔ یہاں جو فرمایا کہ دنیا کا عذاب ان سے ہٹا لیا۔ اس سے بعض نے کہا ہے کہ اخروی عذاب دور نہیں۔ لیکن یہ ٹھیک نہیں اس لے کے دوسری آیت میں ہے (فَاٰمَنُوْا فَمَتَّعْنٰهُمْ اِلٰى حِيْنٍ01408ۭ) 37۔ الصافات :148) وہ ایمان لائے اور ہم نے انہیں زندگی کا فائدہ دیا۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ ایمان لائے۔ اور یہ ظاہر ہے کہ ایمان آخرت کے عذاب سے نجات دینے والا ہے۔ واللہ اعلم۔ حضرت قتادہ فرماتے ہیں آیت کا مطلب یہ ہے کہ کس بستی اہل کفر کا عذاب دیکھ لینے کے بعد ایمان لانا ان کے لیے نفع بخش ثابت نہیں ہوا۔ سوائے قوم یونس ؑ کی قوم کے کہ جب انہوں نے دیکھا کہ ان کے نبی ان میں سے نکل گئے اور انہوں نے خیال کرلیا کہ اب اللہ کا عذاب آیا چاہتا ہے، اس وقت توبہ استغفار کرنے لگے ٹاٹ پہن کر خشوع و خضوع سے میلے کچیلے میدان میں آکھڑے ہوئے بچوں کو ماؤں سے دور کردیا۔ جانوروں کے تھنوں سے ان کے بچوں کو الگ کردیا۔ اب جو رونا دھونا اور فریاد شروع کی تو چالیس دن رات اسی طرح گزار دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دل کی سچائی دیکھ لی۔ ان کی توبہ و ندامت قبول فرمائی اور ان سے عذاب دور کردیا، یہ لوگ موصل کے شہر نینویٰ کے رہنے والے تھے۔ فلو لا کی فھلا قرأت بھی ہے ان کے سروں پر عذاب رات کی سیاہی کے ٹکڑوں کی طرح گھوم رہا تھا ان کے علماء نے انہیں مشورہ دیا تھا کہ جنگل میں نکل کھڑے ہو اور اللہ سے دعا کرو کہ وہ ہم سے اپنے عذاب کو دور کر دے اور یہ کہو یاحی حین لاحی یاحی محیی الموتی یاحی لا الہ الا انت قوم یونس کا پورہ قصہ سورة الصافات کی تفسیر میں انشاء اللہ العزیز ہم بیان کریں گے۔