ولو شاء ربک لامن من فی الارض کلھم جمیعا اور (اے محمد (ﷺ) ! ) اگر اپ کے رب کو منظور ہوتا تو زمین پر رہنے والے سب کے سب ایمان لے آتے ‘ کوئی بغیر ایمان لائے نہ بچتا اور کوئی ایمان سے اختلاف نہ کرتا۔ سب ایمان پر متفق ہوجاتے۔
فرقۂ قدریہ قائل ہے کہ اللہ تو سب لوگوں کا مؤمن ہوجانا چاہتا ہے لیکن لوگ خود اپنے اختیار سے ایمان لانا نہیں چاہتے (اس فرقہ کے نزدیک مشیت اور رضا میں فرق نہیں ہے۔ چاہنے کا معنی ہے پسند کرنا۔ اُشَاعِرَہ کہتے ہیں کہ اللہ کو ایمان تو سب کا پسند ہے مگر مشیت نہیں کہ سب مؤمن ہوجائیں۔ رضائے الٰہی سے تخلف تو ہو سکتا ہے مگر مشیت سے تخلف نہیں ہو سکتا۔ قدریہ کے نزدیک جو رضا ہے وہی مشیت رضا عام ہے ‘ مشیت بھی عام ہے ‘ رضا کے خلاف ہونا ممکن ہے اور ہوتا ہے۔ مشیت کے خلاف بھی ہو سکتا ہے اور ہوتا ہے) آیت بتا رہی ہے کہ اللہ نے سب لوگوں کو مؤمن بنانا چاہا ہی نہیں ‘ اگر اس کی مشیت ہوتی تو سب مؤمن ہوجاتے (ہاں سب کا مؤمن ہوجانا اس کو پسند ہے) قدریہ نے اس کا یہ جواب دیا ہے کہ آیت میں مشیت سے مراد ہے مجبور کن مشیت اور مجبور کن مشیت الٰہی کے خلاف ہونا ممکن نہیں (پس اللہ کی مجبور کن مشیت نہیں ہوتی کہ سب مؤمن ہوجائیں ‘ مگر یہ زائد شرط خلاف ظاہر ہے۔
افانت تکرہ الناس حتی یکونوا مؤمنین۔ (اے محمد (ﷺ) ! ) کیا آپ لوگوں کو اللہ کی مشیت نہ ہونے کے باوجود مجبور کردیں گے کہ وہ مؤمن ہوجائیں __ استفہام انکاری ہے اور اَنْتَ ضمیر کا تُکْرِہُفعل سے پہلے لانا دلالت کر رہا ہے کہ اس امر پر کہ اللہ نے نہ چاہے تو کسی چیز کا وجود ناممکن ہے۔ جبر کر کے بھی اس کو حاصل نہیں کیا جاسکتا ‘ ترغیب دے کر حاصل کرنے کا تو ذکر ہی کیا ہے۔ بات یہ ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) بہت زیادہ خواہشمند تھے کہ سب لوگ مؤمن ہوجائیں ... (حالانکہ) آپ کا کام صرف ترغیب دینا تھا ‘ جبر کرنے کا تو اختیار ہی نہ تھا اور جو کام جبر سے بھی پورا نہ ہو سکے وہ محض ترغیب سے کیسے پورا ہو سکتا ہے) پس اللہ نے بتا دیا کہ جس کے نصیب میں سعادت ہوگی ‘ وہی ایمان لائے گا اور جو اللہ کے علم میں شقی ہے ‘ وہ ایمان نہیں لا سکتا ‘ آپ اس کی کچھ پرواہ نہ کیجئے۔ گویا اس آیت میں رسول اللہ (ﷺ) کیلئے تسکین ہے۔
آیت 99 وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّہُمْ جَمِیْعًایہ مضمون سورة الانعام میں بڑے شد ومد کے ساتھ آچکا ہے۔ حضور کی شدید خواہش تھی کہ یہ سب لوگ ایمان لے آئیں مگر اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سلسلے میں ہمارا اپنا قانون ہے اور وہ یہ کہ جو حق کا طالب ہوگا اسے حق مل جائے گا اور جو تعصب ضد اور ہٹ دھرمی پر اتر آئے گا اسے ہدایت نصیب نہیں ہوگی۔ اگر لوگوں کو مسلمان بنانا ہی مقصود ہوتا تو اللہ کے لیے یہ کون سا مشکل کام تھا۔ وہ سب کو پیدا ہی ایسے کرتا کہ سب مؤمن متقی اور پرہیزگار ہوتے۔ آخر اس نے فرشتے بھی تو پیدا کیے ہیں جو کبھی غلطی کرتے ہیں نہ اس کی معصیت۔ جیسا کہ سورة التحریم میں فرمایا : لَا یَعْصُوْنَ اللّٰہَ مَآ اَمَرَہُمْ وَیَفْعَلُوْنَ مَا یُؤْمَرُوْنَ وہ اللہ کے احکام کی نافرمانی نہیں کرتے اور وہی کرتے ہیں جو انہیں حکم دیا جاتا ہے۔ لیکن انسانوں کو اس نے پیدا ہی امتحان کے لیے کیا ہے۔ سورة الملک کے آغاز میں زندگی اور موت کی تخلیق کا یہی مقصد بتایا گیا ہے : خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَیٰوۃَ لِیَبْلُوَکُمْ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا آیت 2 ”اس نے زندگی اور موت کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون حسن عمل کا رویہ اختیار کرتا ہے“۔ لہٰذا اے نبی آپ اس معاملے میں اپنا فرض ادا کرتے جائیں ‘ کوئی ایمان لائے یا نہ لائے اس کی پروا نہ کریں ‘ کسی کو ہدایت دینے یا نہ دینے کا معاملہ ہم سے متعلق ہے۔اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ اصل میں یہ ساری باتیں حضور کے دل مبارک کا بوجھ ہلکا کرنے کے لیے کی جا رہی ہیں کہ آپ ہر وقت دعوت و تبلیغ کی جدوجہدّ میں مصروف ہیں ‘ پھر آپ کو یہ اندیشہ بھی رہتا ہے کہ کہیں اس ضمن میں میری طرف سے کوئی کوتاہی تو نہیں ہو رہی۔ جیسے سورة الاعراف آیت 2 میں فرمایا : فَلاَ یَکُنْ فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ کہ آپ کے دل میں فرائض رسالت کے سلسلے میں کسی قسم کی تنگی نہیں ہونی چاہیے۔ اور ان لوگوں کے پیچھے آپ اپنے آپ کو ہلکان نہ کریں۔
اللہ کی حکمت سے کوئی آگاہ نہیں اللہ کی حکمت ہے کہ کوئی ایمان لائے اور کسی کو ایمان نصیب ہی نہ ہو۔ ورنہ اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو تمام انسان ایمان دار ہوجاتے۔ اگر وہ چاہتا تو سب کو اسی دین پر کار بند کردیتا۔ لوگوں میں اختلاف تو باقی ہی نہ رہے۔ سوائے ان کے جن پر رب کا رحم ہو، انہیں اسی لیے پیدا کیا ہے، تیرے رب کا فرمان حق ہے کہ جہنم انسانوں اور جنوں سے پر ہوگی۔ کیا ایماندار ناامید نہیں ہوگئے ؟ یہ کہ اللہ اگر چاہتا تو تمام لوگوں کو ہدایت کرسکتا تھا۔ یہ تو ناممکن ہے کہ تو ایمان ان کے دلوں کے ساتھ چپکا دے، یہ تیرے اختیار سے باہر ہے۔ ہدایت و ضلالت اللہ کے ہاتھ ہے۔ تو ان پر افسوس اور رنج و غم نہ کر اگر یہ ایمان نہ لائیں تو تو اپنے آپ کو ان کے پیچھے ہلاک کردے گا ؟ تو جسے چاہے راہ راست پر لا نہیں سکتا۔ یہ تو اللہ کے قبضے میں ہے، تجھ پر تو صرف پہنچا دینا ہے حساب ہم خود لے لیں گے، تو تو نصیحت کردینے والا ہے۔ ان پر داروغہ نہیں۔ جسے چاہے راہ راست دکھائے جسے چاہے گمراہ کر دے۔ اس کا علم اس کی حکمت اس کا عدل اسی کے ساتھ ہے۔ اس کی مشیت کے بغیر کوئی بھی مومن نہیں ہوسکتا۔ وہ ان کو ایمان سے خالی، ان کے دلوں کو نجس اور گندہ کردیتا ہے جو اللہ کی قدرت، اللہ کی برھان، اللہ کے احکام کی آیتوں میں غور فکر نہیں کرتے۔ عقل و سمجھ سے کام نہیں لیتے، وہ عادل ہے، حکیم ہے، اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔