سورہ یونس (10): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yunus کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يونس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یونس کے بارے میں معلومات

Surah Yunus
سُورَةُ يُونُسَ
صفحہ 211 (آیات 21 سے 25 تک)

وَإِذَآ أَذَقْنَا ٱلنَّاسَ رَحْمَةً مِّنۢ بَعْدِ ضَرَّآءَ مَسَّتْهُمْ إِذَا لَهُم مَّكْرٌ فِىٓ ءَايَاتِنَا ۚ قُلِ ٱللَّهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ۚ إِنَّ رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ هُوَ ٱلَّذِى يُسَيِّرُكُمْ فِى ٱلْبَرِّ وَٱلْبَحْرِ ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا كُنتُمْ فِى ٱلْفُلْكِ وَجَرَيْنَ بِهِم بِرِيحٍ طَيِّبَةٍ وَفَرِحُوا۟ بِهَا جَآءَتْهَا رِيحٌ عَاصِفٌ وَجَآءَهُمُ ٱلْمَوْجُ مِن كُلِّ مَكَانٍ وَظَنُّوٓا۟ أَنَّهُمْ أُحِيطَ بِهِمْ ۙ دَعَوُا۟ ٱللَّهَ مُخْلِصِينَ لَهُ ٱلدِّينَ لَئِنْ أَنجَيْتَنَا مِنْ هَٰذِهِۦ لَنَكُونَنَّ مِنَ ٱلشَّٰكِرِينَ فَلَمَّآ أَنجَىٰهُمْ إِذَا هُمْ يَبْغُونَ فِى ٱلْأَرْضِ بِغَيْرِ ٱلْحَقِّ ۗ يَٰٓأَيُّهَا ٱلنَّاسُ إِنَّمَا بَغْيُكُمْ عَلَىٰٓ أَنفُسِكُم ۖ مَّتَٰعَ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا ۖ ثُمَّ إِلَيْنَا مَرْجِعُكُمْ فَنُنَبِّئُكُم بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ إِنَّمَا مَثَلُ ٱلْحَيَوٰةِ ٱلدُّنْيَا كَمَآءٍ أَنزَلْنَٰهُ مِنَ ٱلسَّمَآءِ فَٱخْتَلَطَ بِهِۦ نَبَاتُ ٱلْأَرْضِ مِمَّا يَأْكُلُ ٱلنَّاسُ وَٱلْأَنْعَٰمُ حَتَّىٰٓ إِذَآ أَخَذَتِ ٱلْأَرْضُ زُخْرُفَهَا وَٱزَّيَّنَتْ وَظَنَّ أَهْلُهَآ أَنَّهُمْ قَٰدِرُونَ عَلَيْهَآ أَتَىٰهَآ أَمْرُنَا لَيْلًا أَوْ نَهَارًا فَجَعَلْنَٰهَا حَصِيدًا كَأَن لَّمْ تَغْنَ بِٱلْأَمْسِ ۚ كَذَٰلِكَ نُفَصِّلُ ٱلْءَايَٰتِ لِقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ وَٱللَّهُ يَدْعُوٓا۟ إِلَىٰ دَارِ ٱلسَّلَٰمِ وَيَهْدِى مَن يَشَآءُ إِلَىٰ صِرَٰطٍ مُّسْتَقِيمٍ
211

سورہ یونس کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یونس کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم ان کو رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملہ میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں ان سے کہو “اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلم بند کر رہے ہیں "

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha athaqna alnnasa rahmatan min baAAdi darraa massathum itha lahum makrun fee ayatina quli Allahu asraAAu makran inna rusulana yaktuboona ma tamkuroona

واذا اذقنا الناس رحمۃ من بعد ضراء مستھم جب لوگوں کو کوئی دکھ پہنچتا ہے اور پھر ہم ان کو رحمت کا مزہ چکھا دیتے ہیں۔ رحمت سے مراد ہے سرسبزی ‘ ارزانی ‘ فراخ دستی ‘ صحت۔ اور ضَّراء سے مراد ہے خشک سالی ‘ بدحالی ‘ افلاس اور بیماری۔

اذا لھم مکر فی ایٰتنا تو فوراً ہماری آیتوں کے بارے میں شرارت کرنے لگتے ہیں۔ مجاہد نے کہا : مکر سے مراد ہے تکذیب و استہزاء۔ میں کہا ہوں : مکر کا معنی ہے پوشیدہ طور پر کسی کو برائی پہنچانے کا ارادہ کرنا۔ آیات کی تکذیب بظاہر رسول اللہ (ﷺ) کی تکذیب اور آپ کو برائی پہنچانے کے ارادہ کا مظاہرہ تھا ‘ اللہ کی تکذیب نہ تھی لیکن آیات اللہ حقیقت میں اللہ کا کلام تھا ‘ اسلئے درپردہ تکذیب اور ارادۂ شر کا رجوع اللہ ہی کی طرف ہوتا ہے ‘ اور یہی مکر کی حقیقت ہے۔

مقاتل بن حبان نے کہا : (ا اللہ ان کو رزق دیتا تھا ‘ بارش برساتا تھا اور) وہ اللہ کے رازق ہونے کے قائل نہ تھے بلکہ کہتے تھے : نچھتر کی وجہ سے بارش ہوئی ہے۔ تکذیب آیات کی ان کی طرف سے یہ حیلہ سازی تھی ‘ اسی کو مکر کہا گیا ہے۔ یہ بھی روایت میں آیا ہے کہ ایک بار اہل مکہ قحط میں مبتلا ہوئے ‘ پھر اللہ نے ان پر رحم کیا اور قحط کو دور کردیا۔ قحط دور ہوتے ہی وہ ناشکری اور استہزاء بآیات اللہ کرنے لگے۔ اللہ کی نعمت کے شکرگذار نہ ہوئے۔ بخاری کی روایت میں آیا ہے کہ کافروں کی بےرخی اور روگردانی دیکھ کر رسول اللہ (ﷺ) نے بددعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! یوسف (علیہ السلام) کے سات سالوں کی طرح ان کو ہفت سالہ قحط میں مبتلا کر کے میری مدد فرما۔ بددعا کے نتیجہ میں اہل مکہ پر قحط مسلط ہوگیا کہ ہر چیز (یعنی کھیتی ‘ سبزی ‘ پھل وغیرہ) تباہ ہوگئی ‘ کھالیں اور مردار جانور تک کھانے کی نوبت آگئی۔ ابو سفیان نے خدمت گرامی میں حاضر ہو کر عرض کیا : محمد (ﷺ) تمہاری قوم والے ہلاک ہوگئے۔ تم اللہ کی اطاعت اور صلۃ الرحم (قرابتداروں سے حسن سلوک) کا ہم کو حکم دیتے ہو۔ اللہ سے ان کیلئے دعا کر دو کہ اللہ ان کی مصیبت کو دور کر دے۔ رسول اللہ (ﷺ) نے دعا فرما دی۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ قحط میں مبتلا ہونے کے بعد مشرکوں نے کہا تھا : اے ہمارے رب ! ہم سے اس عذاب کو دور کر دے ‘ ہم ایمان لے آئیں گے۔ رسول اللہ (ﷺ) کو (ا اللہ کی طرف سے) اطلاع دی گئی کہ اگر یہ مصیبت دور کردی گئی تو یہ لوگ پھر اپنی اصلی حالت کی طرف لوٹ جائیں گے (کفر کرنے لگیں گے) ۔

غرض رسول اللہ (ﷺ) نے دعا کردی اور اللہ نے مصیبت دور کردی ‘ مگر وہ پھر (شرک و تکذیب کی طرف) لوٹ گئے۔ اس کی سزا اللہ نے ان کو بدر کے دن دی (کہ سرداران شرک کو تباہ کردیا) ۔

قل اللہ اسرع مکرًا آپ کہہ دیجئے کہ خفیہ تدبیر کرنے میں اللہ تم سے تیز ہے۔ اس کی خفییہ تدبیر یا تو ڈھیل ہے۔

حضرت علی کا ارشاد ہے : اللہ جس کی دنیا فراخ کر دے اور وہ یہ نہ سمجھے کہ یہ اللہ کی طرف سے ڈھیل ہے تو اس کی عقل فریب خوردہ ہے۔ میں کہتا ہوں : حضرت کی مراد یہ ہے کہ وسعت دنیا حاصل ہونے کے بعد جو شخص (ا اللہ کی ڈھیل کو نہ سمجھے اور) شکر ادا نہ کرے وہ فریب خوردہ ہے۔

یا مکر سے مراد ہے مگر کی سزا ___ یعنی لوگ تو خفیہ تدبیریں بعد کو کرتے ہیں ‘ اللہ ان کی سازشوں سے پہلے ہی ان کی سزا کی خفیہ تدبیر یا (خفیہ) ڈھیل دینے کو تجویز کرچکا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں نے سرعت مکر کا یہ معنی بیان کیا ہے کہ حق کو دفع کرنے کی جو تدبیریں کافر کرتے ہیں ‘ ان سے زیادہ سرعت کے ساتھ اللہ ان کو ہلاک کردینے کی تدبیر کردیتا ہے۔ اللہ کا عذاب ان پر بہت جلد آجاتا ہے۔ اللہ چونکہ قدرت رکھتا ہے ‘ اسلئے وہ جو کچھ چاہتا ہے وہ ضرور آ کر رہتا ہے اور کافر دفع حق کی قدرت نہیں رکھتے۔

ان رسلنا یکتبون ما تمکرون۔ جو مکاریاں تم کرتے ہو ہمارے پیامبر (یعنی اعمال کی نگرانی رکھنے والے فرشتے) اس کو لکھ لیتے ہیں۔ مطلب یہ کہ تمہاری خفیہ تدبیریں نگرانی رکھنے والے ملائکہ سے بھی پوشیدہ نہیں رہ سکتیں ہیں ‘ اللہ سے کس طرح چھپی رہ سکتی ہیں جو سارے جہان کا خالق ہے۔

اردو ترجمہ

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گھر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اس سے دُعائیں مانگتے ہیں کہ “اگر تو نے ہم کو اس بلا سے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Huwa allathee yusayyirukum fee albarri waalbahri hatta itha kuntum fee alfulki wajarayna bihim bireehin tayyibatin wafarihoo biha jaatha reehun AAasifun wajaahumu almawju min kulli makanin wathannoo annahum oheeta bihim daAAawoo Allaha mukhliseena lahu alddeena lain anjaytana min hathihi lanakoonanna mina alshshakireena

ھو الذی یسیرکم فی البر والبحر اللہ وہی ہے جو خشکی اور سمندر میں تم کو چلاتا ہے۔ یعنی تم کو سفر پر آمادہ کرتا اور چلنے کی طاقت دیتا ہے۔

حتی اذا کنتم فی الفلک یہاں تک کہ جب تم کشتیوں (اور جہازوں) میں ہوتے ہو۔ فُلک کا استعمال ایک

کیلئے بھی ہوتا ہے اور ایک سے زیادہ کیلئے بھی (گویا یہ لفظ واحد بھی ہے اور جمع بھی) اس آیت میں جمع کا معنی مراد ہے کیونکہ آئندہ فقرہ میں جمع کی ضمیر اس لفظ کی طرف راجع کی گئی ہے۔

وجرین بھم اور کشتیاں (یا جہاز) اپنی سواریوں کو لے کر چلتے ہیں۔ کنتم میں خطاب ہے اور بھم میں ضمیر غائب ہے۔

عبارت کی یہ رنگینی کلام میں زور پیدا کرنے کیلئے اختیار کی گئی۔ ھِمْ کا لفظ بتا رہا ہے کہ یہ تذکرہ مخاطبین کا نہیں ‘ دوسرے لوگوں کا ہے جن کی حالت تعجب انگیز ہے۔

بریح طیبۃ نرم رفتار منزل تک پہنچانے والی ہوا کے ساتھ۔

وفرحوا بھا اور خوش رفتار ہوا کی وجہ سے وہ خوش ہوتے ہیں۔

جآء ھا ریح عاصف تو (کشتیوں پر) آجاتی ہے آندھی ‘ یعنی سخت طوفان۔

وجآء ھم الموج من کل مکان اور ہر جگہ (یا ہر طرف) سے ان پر (طوفانی) موجیں آجاتی ہیں۔

وظنوا انھم احیط بھم اور ان کا غالب گمان ہوجاتا ہے کہ ہر طرف سے وہ موجوں اور تباہیوں سے گھر گئے ‘ بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں رہا۔ مستقبل میں ہلاک ہوجانے کے قرائن ہوتے ہیں اور قرائن سے غالب گمان ہی ہو سکتا ہے ‘ یقین نہیں پیدا ہوتا ‘ اسلئے ظنوا فرمایا۔

دعوا اللہ مخلصین لہ الدین اس وقت سب خالص اعتقاد کے ساتھ اللہ ہی کو پکارتے ہیں۔ یعنی خلوص دل کے ساتھ اللہ سے دعا کرتے ہیں ‘ سوائے اللہ کے اور کسی کو نہیں پکارتے۔ عرب کے مشرک بھی سخت مصیبت پڑنے پر اللہ ہی کو پکارتے تھے۔

لئن انجیتنا من ھذہ لنکونن من الشکرین۔ اگر تو ہم کو اس طوفان سے بچا لے گا تو ہم شکر کرنے والوں میں سے ہوں گے۔ یعنی وہ کہتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔ یا یہ مطلب ہے کہ وہ پکارتے ہیں کہ اگر تو ہم کو الخ۔

اردو ترجمہ

مگر جب وہ ان کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے منحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے دنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma anjahum itha hum yabghoona fee alardi bighayri alhaqqi ya ayyuha alnnasu innama baghyukum AAala anfusikum mataAAa alhayati alddunya thumma ilayna marjiAAukum fanunabbiokum bima kuntum taAAmaloona

فلما انجھم اذاھم یبغون فی الارض بغیر الحق پھر جب اللہ ان کو اس مہلکہ سے بچا لیتا ہے تو فوراً ہی وہ اطراف زمین میں ناحق سرکشی کرنے لگتے ہیں۔ یعنی اللہ جب ان کی دعا قبول کرلیتا ہے اور طوفان سے رہائی دے دیتا ہے تو یکدم وہ حدود فساد میں داخل ہوجاتے ہیں۔ اِذَامفاجات کیلئے ہے اور بغی سے مراد ہے اباحت کی حدود سے نکل کر فساد کی طرف بڑھنا۔ بغیر الحق کے لفظ سے یبغون کے مفہوم کی تاکید ہو رہی ہے کیونکہ فساد تو ہوتا ہی ناحق ہے۔

شبہ ہو سکتا تھا کہ مسلمان بھی کافروں کی بستیوں کو تباہ کرتے ‘ ان کی کھیتیوں کو اجاڑتے اور باغوں کو ویران کرتے۔ یہ بھی تو فساد ہے۔ اس شبہ کو دور کرنے کیلئے فرمایا کہ یہ (فساد نما) حرکات جو مسلمان سے سرزد ہوتی ہیں ‘ تخریب کیلئے نہیں ہیں بلکہ ان کی غرض تعمیر اور اصلاح ہوتی ہے۔ ایسا اللہ کے حکم سے کیا جاتا ہے ‘ حدود اباحت سے تجاوز نہیں کیا جاتا۔

یایھا الناس انما بغیکم علی انفسکم اے لوگو ! (سن لو) یہ تمہاری سرکشی تمہارے لئے وبال (جان) ہونے والی ہے۔ ظلم کا برا نتیجہ تمہاری ہی طرف لوٹتا ہے۔ ترمذی و ابن ماجہ نے حسن سند کے ساتھ حضرت عائشہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : حسن سلوک اور اقربا پروری کا اچھا نتیجہ ہر بھلائی سے جلد مل جاتا ہے اور ظلم و قطع رحم کا برا نتیجہ ہر برائی کے نتیجے سے پہلے آجاتا ہے۔ ابو الشیخ ‘ خطیب اور ابن مردویہ نے تفسیر میں حضرت انس کی روایت سے بیان کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : یہ تین چیزیں اپنے کرنے والے پر ہی لوٹ پڑتی ہیں : ظلم ‘ فریب ‘ دغا۔

ابن لالی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے فرمایا : اگر پہاڑ ‘ پہاڑ پر ظلم کرے تو ظلم کرنے والا (پہاڑ) پھٹ کر ٹکڑے ہوجائے گا۔

متاع الحیوۃ الدنیا زندگی میں چندے اس سے حظ اٹھا رہے ہو ‘ یعنی عارضی اور فنا پذیر ہے۔ متاع الحیٰوۃ فعل محذوف کا مفعول ہے یا بغیکا۔

ثم الینا مرجعکم پھر (مرنے کے بعد یا قیامت کے دن) تمہاری واپسی ہماری ہی طرف ہوگی۔

فننبئکم بما کنتم تعملون۔ پھر تمہارے اعمال کا بدلہ دے کر ہم تم کو آگاہ کردیں گے (کہ یہ بدلہ فلاں عمل کا ہے) ۔

اردو ترجمہ

دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں، خوب گھنی ہو گئی، پھر عین اُس وقت جبکہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک یہ سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ گیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama mathalu alhayati alddunya kamain anzalnahu mina alssamai faikhtalata bihi nabatu alardi mimma yakulu alnnasu waalanAAamu hatta itha akhathati alardu zukhrufaha waizzayyanat wathanna ahluha annahum qadiroona AAalayha ataha amruna laylan aw naharan fajaAAalnaha haseedan kaan lam taghna bialamsi kathalika nufassilu alayati liqawmin yatafakkaroona

انما مثل الحیوۃ الدنیا دنیوی زندگی کی عجیب حالت ‘ یعنی دنیوی زندگی بہت جلد زوال پذیر ہے۔ اس کے باوجود لوگ اس پر شیفتہ ہیں ‘ یہ عجیب بات ہے۔

کما انزلنہ من السماء ایسی ہے جیسے ہم آسمان سے پانی برساتے ہیں۔

فاختلط بہ نبات الارض مما یا کل الناس والانعام پھر اس پانی سے زمین کے نباتات جن کو آدمی اور چوپائے کھاتے ہیں ‘ خوب گنجان ہو کر نکلے۔ اخْتَلَطَ گتھ جاتا ہے ‘ گھنا ہوجاتا ہے۔ مَا یَأکُلُ النَّاس یعنی انسان کی خوراک غلہ ‘ پھل ‘ سبزیاں۔ وَالْاََنْعَامُط اور چوپایوں کی خوراک یعنی گھاس ‘ چارہ۔

حتی اذا اخذت الارض زخرفھا وازینت یہاں تک کہ وہ زمین اپنی رونق کا پورا حصہ لے چکی اور اس کی خوب زیبائش ہوگئی۔ زُخْرُف حسن ‘ رونق ‘ رنگا رنگ پھولوں اور سبزیوں سے پیدا ہونے والا جمال ارضی۔

وظن اھلھًا انھم قدرون علیھا اور اس زمین کے مالکوں نے خیال کرلیا کہ اب ہم اس پر بالکل قابض ہوچکے۔

یعنی زمین کے مالک کو یہ خیال ہوجاتا ہے کہ اب زمین کی پیداوار میرے قبضہ میں آگئی ‘ میں کھیتی کاٹ کر غلہ حاصل کرسکتا ہوں اور پھل توڑ کر فائدہ اٹھا سکتا ہوں۔

اتھا امرنا لیلاً او نھارًا فجعلنھا حصیدًا (اچانک بعض حوادث کی وجہ سے کھیتی کو تباہ کرنے کیلئے) رات کو یا دن کو ہمارا حکم آ پہنچتا ہے اور ہم اس کو کٹے ہوئے کھیت کی طرح کردیتے ہیں۔ یعنی کھڑی کھیتی کو ہم ایسا کردیتے ہیں جیسے کھیت کو کسی نے جڑ سے کاٹ لیا ہو۔

کان لم تغن بالامس ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہاں کل کھیتی تھی ہی نہیں۔ لَِمْ تَغْنَ ۔ غَنِیَ بالمکان سے ماخوذ ہے۔

غَنِیَ بالمکان اس جگہ ٹھہرا ‘ قیام کیا ‘ رہا۔ بِالْاَمْسِ یعنی اس وقت سے تھوڑے پہلے ‘ مراد ہے ماضی قریب۔

یہ تشیبہ مرکب بمرکب ہے۔ اگرچہ عبادت میں مشبہ بہ پانی کو قرار دیا گیا ہے لیکن واقعہ کے پورے مضمون کے ساتھ تشبیہ دینی مقصود ہے۔ پورے کلام کا مضمون یہ ہے کہ کھیتی سرسبز اور باغ کے پھل تر و تازہ ہوتے ہیں ‘ زمین شاداب اور پررونق ہوتی ہے۔ مالکوں کو خیال ہوجاتا ہے کہ اب یہ پیداوار اور کھیتی ہر حادثہ سے نکل گئی ‘ اب اس پر کوئی مصیبت نہیں آئے گی کہ یکدم اللہ کا حکم آ پہنچتا ہے (مختلف ارضی و سماوی حوادث کی وجہ سے) اللہ بھرے پرے باغوں اور سرسبز لہلہاتی کھیتیوں کو تباہ کر کے ‘ ریزہ ریزہ اور بھوسہ بنا دیتا ہے ‘ یہی حالت دنیوی زندگی کی ہے۔ قتادہ نے کہا : دنیا پر بھروسہ رکھنے والے اور سامان دنیا میں ڈوبے ہوئے شخص پر یکدم اللہ کا حکم اور اس کا عذاب انتہائی غفلت کی حالت میں آ پہنچتا ہے (گویا اس تشبیہ کی وجہ شبہ ‘ بےفکری اور غفلت کی حالت میں عذاب خداوندی کا آ پہنچنا ہے) ۔

کذلک نفصل الایت لقوم یتفکرون۔ ہم اسی طرح آیات کو صاف صاف بیان کرتے ہیں ‘ ایسے لوگوں کیلئے جو سوچتے ہیں۔

اردو ترجمہ

(تم اِس نا پائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو) اور اللہ تمہیں دار السلام کی طرف دعوت دے رہا ہے (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WaAllahu yadAAoo ila dari alssalami wayahdee man yashao ila siratin mustaqeemin

وا اللہ یدعوا الی دارالسلام اور اللہ (سب لوگوں کو) ایسے گھر کی طرف بلا رہا ہے جو ہر قسم کی تباہی اور ہلاکت سے سالم ہے ‘ یعنی جنت کی طرف۔ قتادہ نے کہا : جنت اللہ کا گھر ہے۔ السلام اللہ کا نام ہے (یعنی آیت میں السلام سے مراد سلامتی نہیں ہے بلکہ اللہ کا خاص نام مراد ہے اور یہ صیغۂ صفت ہے ‘ مصدر مراد نہیں ہے) لفظ السلام کا ذکر اسی مفہوم پر تنبیہ کرنے کیلئے کیا گیا۔ حضرت جابر کی روایت ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) سو رہے تھے کہ کچھ فرشتے آئے اور آپس میں کہنے لگے : تمہارے اس ساتھی کی ایک خاص حالت ہے ‘ مثال دے کر اس کی حالت بیان کرو۔ کسی فرشتے نے کہا : یہ سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل بیدار ہے۔ پھر فرشتوں نے کہا : اس کی حالت ایسی ہے جیسے کسی شخص نے کوئی مکان بنایا اور (مہمانوں کو کھلانے کیلئے) دسترخوان بچھایا اور لوگوں کو بلانے کیلئے ایک آدمی کو بھیجا۔ جن لوگوں نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ اس گھر میں آگئے اور دسترخوان پر کچھ کھالیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا اور نہ دسترخوان سے کچھ کھایا۔ (دوسرے) فرشتوں نے کہا : اس مثال کی تشریح کرو تاکہ یہ شخص سمجھ جائے۔ ایک فرشتے نے کہا : یہ تو سو رہا ہے۔ دوسرے نے کہا : اس کی آنکھ سو رہی ہے ‘ دل تو بیدار ہے۔ فرشتوں نے کہا : اس کی تشریح یہ ہے کہ مکان جنت ہے اور لوگوں کو بلانے والا محمد (ﷺ) ہے۔ جس نے محمد (ﷺ) کا کہا مانا ‘ اس نے اللہ کی اطاعت کی اور جس نے محمد (ﷺ) کی نافرمانی کی ‘ اس نے اللہ کی نافرمانی کی۔ لوگوں کے مختلف فرقے ہیں۔ رواہ البخاری

دارمی نے حضرت ربیعہ جرشی کی روایت سے بھی یہ حدیث نقل کی ہے لیکن اس روایت کے یہ الفاظ ہیں کہ مجھ سے کہا گیا : (قوم کے) سردار نے ایک مکان بنایا اور دسترخوان تیار کیا اور ایک آدمی کو (عام لوگوں کو کھانے کیلئے) بلانے کیلئے بھیجا۔ پس جس شخص نے دعوت قبول کرلی ‘ وہ گھر کے اندر آگیا اور دستر خوان پر اس نے (کھانا) کھالیا اور (میزبان) سردار اس سے خوش ہوگیا اور جس نے دعوت قبول نہیں کی ‘ وہ گھر کے اندر نہیں آیا ‘ اس نے دسترخوان سے کچھ نہیں کھایا اور سردار اس سے ناخوش ہوگیا۔ فرمایا : پس اللہ سردار ہے اور محمد (ﷺ) بلانے والا ہے اور مکان اسلام ہے اور دسترخوان جنت ہے۔

بعض علماء کے نزدیک (آیت میں) سلام سے مراد یہی عرفی اسلامی سلام ہے۔ اہل جنت ‘ جنت کے اندر باہم سلام علیک کریں گے ‘ اسی لئے جنت کو دارالسلام کہا گیا اور فرشتے بھی جنت میں سلام کریں گے۔ وَالْمَلَآءِکَۃُ یَدْخُلُوْنَ عَلَیْھِمْ مِّنْ کُلِّ بَابٍ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔

ویھدی من یشآء الی صراط مستقیم۔ اور وہ جس کو چاہتا ہے سیدھی راہ بتا دیتا ہے۔ سیدھی راہ سے مراد ہے دین اسلام ‘ طریقۂ سنت اور اللہ تک پہنچنے کا راستہ۔ دعوت عمومی ہے (جنت کی طرف اللہ سب لوگوں کو بلا رہا ہے) اور ہدایت یابی مشیت خداوندی پر مؤقوف ہے۔ اس سے معلوم ہو رہا ہے کہ امر اور ارادہ میں فرق ہے (امر تمام لوگوں کو ہے اور ہدایت یابی کا ارادہ صرف مؤمن سے تعلق رکھتا ہے۔ اللہ (ازلی) کافر کو ہدایت کرنا نہیں چاہتا (اگرچہ ہدایت قبول کرنے کا حکم کافر کو بھی دیا ہے) امر الٰہی سے تخلف تو ممکن بلکہ واقع ہے ‘ بیشتر انسان اللہ کے حکم کے خلاف چلتے ہیں مگر اللہ کے ارادے کی خلاف ورزی کوئی نہیں کرسکتا۔ کفر بھی ایمان کی طرح اللہ کے ارادہ سے ہوتا ہے مگر امر کے خلاف ہوتا ہے۔ اشاعرہ کا یہی قول ہے۔ فرقۂ معتزلہ امر اور ارادہ میں فرق نہیں کرتا۔ ان لوگوں کے نزدیک کفر اور ہر قسم کا گناہ اللہ کے ارادہ سے نہیں ہوتا۔

211