اس صفحہ میں سورہ Yunus کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يونس کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَإِذَا تُتْلَىٰ عَلَيْهِمْ ءَايَاتُنَا بَيِّنَٰتٍ ۙ قَالَ ٱلَّذِينَ لَا يَرْجُونَ لِقَآءَنَا ٱئْتِ بِقُرْءَانٍ غَيْرِ هَٰذَآ أَوْ بَدِّلْهُ ۚ قُلْ مَا يَكُونُ لِىٓ أَنْ أُبَدِّلَهُۥ مِن تِلْقَآئِ نَفْسِىٓ ۖ إِنْ أَتَّبِعُ إِلَّا مَا يُوحَىٰٓ إِلَىَّ ۖ إِنِّىٓ أَخَافُ إِنْ عَصَيْتُ رَبِّى عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ
قُل لَّوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا تَلَوْتُهُۥ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَدْرَىٰكُم بِهِۦ ۖ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيكُمْ عُمُرًا مِّن قَبْلِهِۦٓ ۚ أَفَلَا تَعْقِلُونَ
فَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ ٱفْتَرَىٰ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِـَٔايَٰتِهِۦٓ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلْمُجْرِمُونَ
وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰٓؤُلَآءِ شُفَعَٰٓؤُنَا عِندَ ٱللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّـُٔونَ ٱللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِى ٱلسَّمَٰوَٰتِ وَلَا فِى ٱلْأَرْضِ ۚ سُبْحَٰنَهُۥ وَتَعَٰلَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ
وَمَا كَانَ ٱلنَّاسُ إِلَّآ أُمَّةً وَٰحِدَةً فَٱخْتَلَفُوا۟ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِن رَّبِّكَ لَقُضِىَ بَيْنَهُمْ فِيمَا فِيهِ يَخْتَلِفُونَ
وَيَقُولُونَ لَوْلَآ أُنزِلَ عَلَيْهِ ءَايَةٌ مِّن رَّبِّهِۦ ۖ فَقُلْ إِنَّمَا ٱلْغَيْبُ لِلَّهِ فَٱنتَظِرُوٓا۟ إِنِّى مَعَكُم مِّنَ ٱلْمُنتَظِرِينَ
واذا تتلی علیھم ایاتنا اور جب ان کے سامنے ہماری آیات تلاوت کی جاتی ہیں۔ قتادہ کے قول پر مشرکین مکہ مراد ہیں۔ مقاتل نے کہا : پانچ آدمیوں کے حق میں اس آیت کا نزول ہو۔ مکرز بن حفص ‘ عمرو بن عبد اللہ بن ابو قیس عامری ‘ عاص بن عامر بن ہشام ‘ عبد اللہ بن ابی مخزومی ‘ ولید بن مغیرہ۔
بینٰت کھلی ہوئی یعنی جو واضح طور پر بتا رہی ہیں کہ وہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔
قال الذین لا یرجون لقاء نا کہتے ہیں : وہ لوگ جو ہماری پیشی سے نہیں ڈرتے۔ یعنی حشر سے نہیں ڈرتے اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔
ائت بقران غیر ھذا اس کے سوا کوئی دوسرا قرآن لاؤ۔ یعنی اس کے سوا کوئی دوسری کتاب لاؤ جس کو ہم پڑھیں اور اس کے اندر ایسے امور نہ ہوں جو ہماری نظر میں بعید از صداقت ہیں جیسے مرنے کے بعد ثواب و عذاب ہونا ‘ بتوں کی پوجا کی ممانعت اور ان کے عیوب کا اظہار۔
او بدلہ یا اسی کو بدل دو ۔ یعنی ایک آیت کی جگہ دوسری آیت رکھ دو ۔ مقاتل کا بیان ہے : مندرجۂ بالا پانچوں آدمیوں نے رسول اللہ (ﷺ) کی خدمت میں عرض کیا تھا : اگر آپ چاہتے ہیں کہ ہم آپ پر ایمان لے آئیں تو کوئی ایسا قرآن پیش کیجئے جو اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہو یا نہ ہو ‘ لات و منات اور عزّٰی کی برائی اور ان کی پوجا کی ممانعت اس میں نہ ہو۔ اگر اللہ کی طرف سے ایسا قرآن نہ آئے تو آپ خود اپنی طرف سے بنا دیجئے یا اسی کو بدل دیجئے۔ آیت عذاب کی جگہ آیت رحمت اور حرام کی جگہ حلال اور حلال کی جگہ حرام ہونے کا حکم دے دیجئے۔
قل ما یکون لی ان ابدلہ من تلقآء نفسی (اے محمد (ﷺ) ! ) آپ کہہ دیجئے کہ اپنی طرف سے اس کو بدل دینا میرے لئے درست نہیں۔ جواب میں صرف تبدیل آیت (یا تبدیل حکم) کا ذکر کیا (دوسرا قرآن پیش کرنے کا ذکر نہیں کیا) کیونکہ جب تبدیل آیت کا امکان نہیں تو دوسرا قرآن پیش کرنا بدرجۂ اولیٰ ناممکن ہوگا۔ یا یوں کہا جائے کہ ایک آیت کی جگہ دوسری آیت پڑھ دینا تو انسانی اختیار میں ہے اور اس قرآن کی طرح دوسرا معجز قرآن پیش کرنا انسانی قدرت سے ہی خارج ہے۔ پس جب امکانی چیز سے انکار کا حکم دے دیا گیا تو خارج از قدرت کام سے انکار بدرجۂ اولیٰ ہوگیا۔ یا یہ کہا جائے کہ اُبَدِّلَہٗ میں تبدیل سے مراد عام تبدیل ہے۔ قرآن کی جگہ دوسرا قرآن لانا یا آیت کی جگہ دوسری آیت ذکر کرنا (یعنی کسی قسم کی تبدیلی میرے لئے درست نہیں) ۔
ان اتبع الا ما یوحی الی میں تو بس اسی کا اتباع کرتا ہوں جو میرے پاس وحی سے آتا ہے۔ یہ جملہ اختیار تبدیل نہ ہونے کی علت ہے جو محض متبع ہوتا ہے ‘ اس کو بذات خود کوئی تصرف اور خرد برد کرنے کا اختیار نہیں ہوتا۔
قرآن میں بعض آیات ناسخ اور بعض منسوخ ہیں (اس طرح تبدیل آیات ہوجاتی ہے) اس سے پیدا ہونے والے وہم کا بھی اس جملہ سے ازالہ ہوگیا (کہ یہ تبدیلی بھی میری خودساختہ نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہے۔ کفار بعض آیات کی ناسخیت و منسوخیت کو دیکھ کر شبہ کرسکتے تھے کہ شاید یہ رسول اللہ (ﷺ) کا اپنا کلام ہے ‘ جب چاہا حکم دے دیا ‘ جب چاہا منسوخ کردیا۔ مِنْ تِلْقَآءِ نَفِسِیْ کے لفظ سے اس کی بھی تردید ہوگئی۔ اپنی طرف سے تبدیل کرنے کو آئندہ آیت میں نافرمانی کے لفظ سے تعبیر کیا ہے۔
انی اخاف ان عصیت ربی عذاب یوم عظیم۔ اگر میں اپنے رب کی نافرمانی کروں گا تو مجھے بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔ بڑے دن سے مراد ہے قیامت کا دن۔ اس آیت میں اس طرف اشارہ ہے کہ کافر مذکورۂ بالا خواہش (یعنی تبدیل حکم و تغیر قرآن کی درخواست) کی وجہ سے مستحق عذاب ہوگئے۔
قل لو شآء اللہ آپ کہہ دیجئے کہ اگر اللہ کو کچھ اور منظور ہوتا۔ یا یہ مطلب کہ اگر اللہ کو اس قرآن کی تلاوت کرانی منظورنہ ہوتی تو وہ مجھ پر اس کو نازل نہ فرماتا۔
ما تلوتہ علیکم ولا ادرٰں کم بہ نہ میں تم کو پڑھ کر سناتا نہ اللہ اس سے تم کو میری زبانی واقف بناتا۔
فقد لبثت بیکم عمرا من قبلہ میں تمہارے اندر ایک مدت یعنی چالیس سال سے نزول قرآن سے پہلے رہتا ہوں اور جب تک میرے پاس وحی نہیں آئی ‘ میں نے کچھ نہیں بیان کیا۔ اس جملہ سے قرآن کے معجز ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جو شخص چالیس برس کچھ لوگوں کے ساتھ رہا ہو اور نہ تعلیم حاصل کی ہو ‘ نہ کسی عالم سے ملا ‘ نہ کبھی شعر کہا ہو ‘ نہ خطبہ دیا ہو ‘ پھر اچانک وہ ایسی کتاب پیش کر دے جس کی فصاحت ہر کلام کی فصاحت سے اعلیٰ اور ہر نظم و نثر سے بالا ہو اور انکار و اعمال کے تمام ضابطے اس میں مذکور ہوں اور گذشتہ و آئندہ کے واقعات صحیح صحیح بیان کئے گئے ہوں تو یقیناً ایسی کتاب کسی مخلوق کی ساختہ پرداختہ نہیں ہو سکتی ‘ اللہ کی طرف سے نازل کردہ ہی ہوگی۔
افلا تعقلون کیا تم اپنی دانش و عقل سے قرآن پر غور نہیں کرتے کہ تم کو معلوم ہوجاتا کہ یہ کتاب میری ساختہ پرداختہ نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔
فائدہ : وحی سے پہلے چالیس سال کی عمر تک رسول اللہ (ﷺ) مکہ میں رہے ‘ پھر وحی نازل ہوئی تو نزول وحی کے بعد بھی تیرہ سال تک مکہ میں ہی قیام پذیر رہے ‘ اس کے بعد مکہ کو چھوڑ کر مدینہ کو تشریف لے گئے اور دس سال تک وہاں سکونت پذیر رہے۔ وفات کے وقت حضور (ﷺ) کی عمر 63 سال تھی۔ رواہ مسلم عن ابن عباس۔
محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ تمام علماء کا اس امر پر تو اتفاق ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ (ﷺ) مدینہ میں دس سال قیام پذیر رہے اور وحی سے پہلے چالیس سال مکہ میں رہے لیکن نبوت کے بعد مکہ میں کتنی مدت گذری ‘ یہ اختلافی مسئلہ ہے۔ صحیح قول یہ ہے کہ نبوت کے تیرہ سال آپ نے مکہ میں گذارے۔
بغوی نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ آغاز نبوت کے بعد دس سال حضور (ﷺ) مکہ میں رہے اور ساٹھ سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔
ابن سعد ‘ عمرو بن شیبہ اور حاکم نے اکلیل میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بھی یہی قول نقل کیا ہے۔ بغوی نے لکھا ہے کہ اوّل روایت (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات ہونا اور نبوت کے بعد مکہ میں 13 سال قیام پذیر رہنا) زیادہ مشہور بھی ہے اور واضح بھی ___ مسلم نے حضرت انس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی اور حضرت ابوبکر اور حضرت عمر کی بھی یہی عمر ہوئی۔
ابو داؤد طیالسی اور مسلم نے معاویہ بن ابی سفیان کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) اور حضرت ابوبکر و حضرت عمر کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ شیخین نے حضرت عائشہ کی روایت سے لکھا کہ حضور (ﷺ) کی وفات 63 سال کی عمر میں ہوئی۔ نووی نے اسی کو صحیح اور مشہور اور علماء کا متفق علیہ قول قرار دیا ہے۔
احمد اور مسلم نے لکھا ہے کہ عمار بن ابی عمار نے بیان کیا : میں نے حضرت ابن عمر سے دریافت کیا : وفات کے وقت رسول اللہ (ﷺ) کی عمر کیا تھی ؟ فرمایا : کیا تم گنتی نکالو گے ؟ میں نے عرض کیا : جی ہاں۔ فرمایا : چالیس جس میں بعثت ہوئی ‘ پندرہ تک مکہ میں امن و خوف کی حالت میں قیام رکھا اور دس ہجرت کے بعد مدینہ میں گذارے۔
حاکم نے اکلیل میں علی بن ابی زید کی وساطت سے یوسف بن مہران کی روایت بیان کی ہے کہ حضرت ابن عباس نے فرمایا : 65 سال کی عمر میں رسول اللہ (ﷺ) کی وفات ہوئی۔ حاکم نے اکلیل میں اور نووی نے لکھا ہے کہ علماء کے نزدیک بالاتفاق صحیح ترین روایت 63 سال والی ہے ‘ باقی روایات کی تاویلیں کی گئی ہیں۔ ساٹھ سال والی روایت میں صرف دہائیاں ذکر کی گئی ہیں ‘ اکائی نظر انداز کردی گئی ہیں ___ 65 والی روایت بھی قابل تاویل یا مشکوک ہے۔ عروہ نے حضرت ابن عباس کی 65 سال والی روایت کا انکار کیا ہے اور اس کو غلط قرار دیا ہے۔ آغاز نبوت کا دور حضرت ابن عباس نے نہیں پایا۔ محمد بن یوسف صالحی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عباس کا قول اکثر روایتوں میں 63 سال کا آیا ہے ‘ معلوم ہوتا ہے کہ پہلے حضرت ابن عباس کے قول میں 65 سال کی عمر میں وفات پانے کا ذکر تھا ‘ پھر آپ نے اکثر کے قول کی طرف رجوع کرلیا (یعنی 63 سال کی عمر میں وفات پانا تسلیم کرلیا) ۔
قاضی عیاض نے حضرت ابن عباس اور حضرت سعید بن مسیب کے حوالہ سے 43 سال کی عمر میں بعثت ہونے کا ذکر کیا ہے مگر یہ راویت شاذ ہے ‘ صحیح 40 سال کی عمر ہے۔
فمن اظلم ممن افتریٰ علی اللہ کذبًا پس اس سے بڑا کون ہے جس نے اللہ پر جھوٹی تہمت تراشی کی اور خیال کیا کہ اللہ کا کوئی ساجھی اور اولاد ہے۔
او کذب بٰایٰتہ یا اللہ کی آیتوں کو سچا نہ جانا اور ان (کی صداقت) کا انکار کردیا۔
انہ لا یفلح المجرمون۔ کوئی شبہ نہیں کہ مجرموں یعنی مشرکوں کو فلاح یعنی نجات نہیں ملے گی۔
ویعبدون من دون اللہ ما لا یضرھم ولا ینفعھم اور مکہ کے کافر اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی پوجا کرتے ہیں کہ اگر ان کی پوجا نہ کریں تو وہ ان پجاریوں کو نقصان نہیں دے سکتیں اور اگر ان کی پوجا کریں تو پجاریوں کو فائدہ نہیں پہنچا سکتیں۔ یعنی بتوں کی پوجا کرتے ہیں جو بالکل بےجان ہیں ‘ نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان اور معبود میں نفع و نقصان پہنچانے کی طاقت ہونی چاہئے تاکہ پوجا کرنے والے کو پوجا کا ثواب دے سکے ‘ فائدہ پہنچا سکے یا ضرر کو دفع کرسکے۔
ویقولون ھؤلآ شفعاؤنا عند اللہ اور کہتے ہیں کہ اللہ کے ہاں یہ (معبود) ہمارے سفارشی ہیں۔ دنیوی امور میں بھی ہماری سفارش کرتے ہیں اور اگر قیامت ہوئی تو وہاں بھی یہ شفاعت کریں گے۔
قل اتنبؤن اللہ بما لا یعلم فی السموت ولا فی الارض آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم اللہ کو ایسی بات کی اطلاع دے رہے ہو جس کو وہ نہیں جانتا اور آسمان و زمین میں کہیں اس کا وجود نہیں۔ یعنی اللہ کا شریک قرار دے رہے ہو اور بتا رہے ہو کہ اللہ کے علاوہ بھی دوسرے معبود ہیں۔ اس آیت میں کافروں کو رجز بھی ہے اور استہزاء بھی (کہ آپ بڑے عالم ہیں کہ جو چیز اللہ کو بھی معلوم نہیں اس کی اطلاع آپ دے رہے ہیں) فِی السَّمٰوٰتِ والْاَرْضِ کے الفاظ سے اسی طرف اشارہ ہے کہ جس کو یہ لوگ اللہ کا شریک قرار دے رہے ہیں ‘ وہ آسمانی موجودات میں سے ہوگا مثلاً فرشتہ ہوگا یا زمین کی موجودات میں سے مثلاً پتھر وغیرہ اور کائنات سماوی و ارضی سب کی سب حادث ہے ‘ مغلوب ہے ‘ اس کو شریک الوہیت قرار دینے کیسے درست ہو سکتا ہے۔
سبحٰنہ وتعلیٰ عما یشرکون۔ وہ پاک ہے اور ان کے شرک کرنے یا مشرکوں سے برتر ہے۔
وما کان الناس الا امۃ واحدۃ اور نہیں تھے لوگ مگر ایک گروہ۔ یعنی سب موحد تھے ‘ فطرت پر تھے یا اسلام پر تھے مطلب یہ کہ حضرت آدم کے زمانہ سے حضرت نوح کی بعثت سے کچھ پہلے تک یا طوفان کے بعد یا حضرت ابراہیم کے عہد سے عمرو بن لحی کے زمانہ تک سب لوگ توحید پر تھے۔
یا ایک امت سے مراد ہے گمراہی پر سب کا اتفاق۔ مطلب یہ کہ زمانۂ فترۃ (انقطاع رسالت) میں سب لوگ گمراہ تھے۔
فاختلفوا پس ان میں (نفس پرستی اور خواہشات کی پیروی کی وجہ سے) اختلاف ہوگیا (ان کے فرقے بن گئے) یا پیغمبروں کی بعثت کی وجہ سے گمراہ جماعت میں پھوٹ پڑگئی۔ ایک گروہ پیغمبر وں کا متبع اور دوسرا گروہ پیغمبروں کی تکذیب کرنے والا۔
ولولا کلمۃ سبقت من ربک لقضی بینھم فیما فیہ یختلفون۔ اور اگر ایک بات نہ ہوتی جو آپ کے رب کی طرف سے پہلے ٹھہر چکی ہے تو جس چیز میں یہ اختلاف کر رہے ہیں ‘ اس کا قطعی فیصلہ (دنیا میں ہی) ہوچکا ہوتا۔ کلمۂ سابقہ سے مراد ہے اللہ کا وہ ازلی فیصلہ کہ ہر امت کی ایک میعاد زندگی مقرر ہے۔ کلبی نے کہا : کلمۂ سابقہ سے یہ مراد ہے کہ اللہ نے اس امت کو ڈھیل دینے اور دنیوی عذاب سے ہلاک نہ کرنے کا وعدہ فرما لیا ہے۔ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ یعنی دنیا میں عذاب نازل کردیا جاتا اور تکذیب کرنے والوں کو فوراً ہلاک کردیا جاتا ‘ یہی ان کے اختلاف کا فیصلہ ہوجاتا۔ حسن نے کہا : اللہ کا ازلی فیصلہ ہوچکا تھا کہ قیامت سے پہلے دنیا میں عذاب وثواب کی شکل میں ان کے اختلاف کا فیصلہ نہیں کیا جائے گا کہ دنیا میں ہی جنت یا دوزخ میں داخل کردیا جائے بلکہ اللہ کی طرف سے جنت و دوزخ میں داخلہ کا وقت روز قیامت کو مقرر کردیا گیا ہے۔
ویقولون لو لا انزل علیہ ایۃ من ربہ اور (کفار مکہ) کہتے ہیں کہ اس پر (ہماری مطلوبہ آیات میں سے) کوئی آیت کیوں نازل نہیں کی گئی۔
فقل انما الغیب اللہ تو آپ کہہ دیجئے کہ غیب کا علم تو بس اللہ ہی کو ہے ‘ وہی جانتا ہے کہ مطلوبہ آیات کا نزول کیوں نہ ہوا ‘ مانع کیا ہے۔ یا الغیب سے مراد ہے مَا غَابَ عَنِ النَّاس یعنی اللہ کا امر جو لوگوں کو معلوم نہیں ‘ اس کا علم اللہ ہی کو ہے۔
فانتظروا پس تم منتظر رہو۔ یعنی مطلوبہ آیات کے نزول کا انتظار کرو ‘ یا ہمارے تمہارے درمیان اللہ کے فیصلہ کا انتظار کرو کہ ہم میں سے کون حق پر ہے اور کون باطل پر۔
انی معکم من المنتظرین۔ میں بھی تمہارے ساتھ منتظر ہوں اور دیکھ رہا ہوں کہ نازل شدہ آیات کے انکار اور نئی مطلوبہ آیات کی خواہش پر اللہ تمہارے ساتھ کیا کرتا ہے۔