حضرت یعقوب نے حالات کو بھانپ لیا ، خود نبوت نے انہیں بتا دیا کہ یوسف کو کم از کم بھیڑئیے نے نہیں کھایا۔ انہوں نے کوئی اور ہی سازش کی ہے۔ یہ جو بتا رہے ہیں وہ واقعہ نہیں ہے جو بتا رہے ہیں ، یہ تو نہیں ہے۔ اس لیے انہوں نے صرف یہ تبصرہ کیا کہ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے کوئی بڑا برا کام آسان بنا دیا ہے اور اس کا ارتکاب تم نے کرلیا ہے اور یہ کہ ان کے لیے صبر کے سوا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔ جزع و فزع ان کے شایان شان نہیں ہے اور یہ جھوٹ بادی النظر میں جھوٹ ہے جو یہ لوگ گھڑ رہے ہیں۔ اس کے بارے میں میں اللہ ہی سے شکایت کرسکتے ہیں۔
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اَنْفُسُکُمْ اَمْرًاان کی بات سن کر حضرت یعقوب نے فرمایا کہ نہیں بات کچھ اور ہے۔ یہ بات جو تم بتا رہے ہو یہ تو تمہارے جی کی گھڑی ہوئی ایک بات ہے۔ تمہارے نفسوں نے تمہارے لیے ایک بڑی بات کو ہلکا کر کے پیش کیا ہے اور تم لوگوں نے کوئی بہت بڑا غلط اقدام کیا ہے۔فَصَبْرٌ جَمِيْلٌ ۭ وَاللّٰهُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰي مَا تَصِفُوْنَ حضرت یعقوب اکیلے تھے بوڑھے تھے اور دوسری طرف دس جوان بیٹے اس صورت حال میں اور کیا کہتے ؟