اس صفحہ میں سورہ Yusuf کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر ابن کثیر (حافظ ابن کثیر) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يوسف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَلَمَّا ذَهَبُوا۟ بِهِۦ وَأَجْمَعُوٓا۟ أَن يَجْعَلُوهُ فِى غَيَٰبَتِ ٱلْجُبِّ ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَيْهِ لَتُنَبِّئَنَّهُم بِأَمْرِهِمْ هَٰذَا وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ
وَجَآءُوٓ أَبَاهُمْ عِشَآءً يَبْكُونَ
قَالُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّا ذَهَبْنَا نَسْتَبِقُ وَتَرَكْنَا يُوسُفَ عِندَ مَتَٰعِنَا فَأَكَلَهُ ٱلذِّئْبُ ۖ وَمَآ أَنتَ بِمُؤْمِنٍ لَّنَا وَلَوْ كُنَّا صَٰدِقِينَ
وَجَآءُو عَلَىٰ قَمِيصِهِۦ بِدَمٍ كَذِبٍ ۚ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ وَٱللَّهُ ٱلْمُسْتَعَانُ عَلَىٰ مَا تَصِفُونَ
وَجَآءَتْ سَيَّارَةٌ فَأَرْسَلُوا۟ وَارِدَهُمْ فَأَدْلَىٰ دَلْوَهُۥ ۖ قَالَ يَٰبُشْرَىٰ هَٰذَا غُلَٰمٌ ۚ وَأَسَرُّوهُ بِضَٰعَةً ۚ وَٱللَّهُ عَلِيمٌۢ بِمَا يَعْمَلُونَ
وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍۭ بَخْسٍ دَرَٰهِمَ مَعْدُودَةٍ وَكَانُوا۟ فِيهِ مِنَ ٱلزَّٰهِدِينَ
وَقَالَ ٱلَّذِى ٱشْتَرَىٰهُ مِن مِّصْرَ لِٱمْرَأَتِهِۦٓ أَكْرِمِى مَثْوَىٰهُ عَسَىٰٓ أَن يَنفَعَنَآ أَوْ نَتَّخِذَهُۥ وَلَدًا ۚ وَكَذَٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوسُفَ فِى ٱلْأَرْضِ وَلِنُعَلِّمَهُۥ مِن تَأْوِيلِ ٱلْأَحَادِيثِ ۚ وَٱللَّهُ غَالِبٌ عَلَىٰٓ أَمْرِهِۦ وَلَٰكِنَّ أَكْثَرَ ٱلنَّاسِ لَا يَعْلَمُونَ
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
بھائی اپنے منصوبہ میں کامیاب ہوگئے۔ سمجھا بجھا کر بھائیوں نے باپ کو راضی کر ہی لیا۔ اور حضرت یوسف کو لے کر چلے جنگل میں جا کر سب نے اس بات پر اتفاق کیا کہ یوسف کو کسی غیر آباد کنویں کی تہ میں ڈال دیں۔ حالانکہ باپ سے یہ کہہ کرلے گئے تھے کہ اس کا جی بہلے گا، ہم اسے عزت کے ساتھ لے جائیں گے۔ ہر طرح خوش رکھیں گے۔ اس کا جی بہل جائے گا اور یہ راضی خوشی رہے گا۔ یہاں آتے ہی غداری شروع کردی اور لطف یہ ہے کہ سب نے ایک ساتھ دل سخت کرلیا۔ باپ نے ان کی باتوں میں آکر اپنے لخت جگر کو ان کے سپرد کردیا۔ جاتے ہوئے سینے سے لگا کر پیار پچکار کر دعائیں دے کر رخصت کیا۔ باپ کی آنکھوں سے ہٹتے ہی ان سب نے بھائی کو ایذائیں دینی شروع کردیں برا بھلا کہنے لگے اور چانٹا چٹول سے بھی باز نہ رہے۔ مارتے پیٹتے برا بھلا کہتے، اس کنویں کے پاس پہنچے اور ہاتھ پاؤں رسی سے جکڑ کر کنویں میں گرانا چاہا۔ آپ ایک ایک کے دامن سے چمٹتے ہیں اور ایک ایک سے رحم کی درخواست کرتے ہیں لیکن ہر ایک جھڑک دیتا ہے اور دھکا دے کر مار پیٹ کر ہٹا دیتا ہے مایوس ہوگئے سب نے مل کر مضبوط باندھا اور کنویں میں لٹکا دیا آپ نے کنویں کا کنارا ہاتھ سے تھام لیا لیکن بھائیوں نے انگلویوں پر مار مار کر اسے بھی ہاتھ سے چھڑا لیا۔ آدھی دور آپ پہنچے ہوں گے کہ انہوں نے رسی کاٹ دی۔ آپ تہ میں جا گرے، کنویں کے درمیان ایک پتھر تھا جس پر آکر کھڑے ہوگئے۔ عین اس مصیبت کے وقت عین اس سختی اور تنگی کے وقت اللہ تعالیٰ نے آپ کی جانب وحی کی کہ آپ کا دل مطمئن ہوجائے آپ صبر و برداشت سے کام لیں اور انجام کا آپ کو علم ہوجائے۔ وحی میں فرمایا گا کہ غمگین نہ ہو یہ نہ سمجھ کہ یہ مصیبت دور نہ ہوگی۔ سن اللہ تعالیٰ تجھے اس سختی کے بعد آسانی دے گا۔ اس تکلیف کے بعد راحت ملے گی۔ ان بھائیوں پر اللہ تجھے غلبہ دے گا۔ یہ گو تجھے پست کرنا چاہتے ہیں لیکن اللہ کی چاہت ہے کہ وہ تجھے بلند کرے۔ یہ جو کچھ آج تیرے ساتھ کر رہے ہیں وقت آئے گا کہ تو انہیں ان کے اس کرتوت کو یاد دلائے گا اور یہ ندامت سے سر جھکائے ہوئے ہوں گے اپنے قصور سن رہے ہوں گے۔ اور انہیں یہ بھی معلوم نہ ہوگا کہ تو وہ ہے۔ چناچہ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ جب برادران یوسف حضرت یوسف ؑ کے پاس پہنچے تو آپ نے تو انہیں پہچان لیا لیکن یہ نہ پہچان سکے۔ اس وقت آپ نے ایک پیالہ منگوایا اور اپنے ہاتھ پر رکھ کر اسے انگلی سے ٹھونکا۔ آواز نکلی ہی تھی اس وقت آپ نے فرمایا لو یہ جام تو کچھ کہہ رہا ہے اور تمہارے متعلق ہی کچھ خبر دے رہا ہے۔ یہ کہہ رہا ہے تہارا ایک یوسف نامی سوتیلا بھائی تھا۔ تم اسے باپ کے پاس سے لے گئے اور اسے کنویں میں پھینک دیا۔ پھر اسے انگلی ماری اور ذرا سی دیر کان لگا کر فرمایا لو یہ کہہ رہا ہے کہ پھر تم اس کے کرتے پر جھوٹا خون لگا کر باپ کے پاس گئے اور وہاں جاکر ان سے کہہ دیا کہ تیرے لڑکے کو بھیڑیئے نے کھالیا۔ اب تو یہ حیران ہوگئے آپس میں کہنے لگے ہائے برا ہوا بھانڈا پھوٹ گیا اس جام نے تو تمام سچی سچی باتیں بادشاہ سے کہہ دیں۔ پس یہی ہے جو آپ کو کنویں میں وحی ہوئی کہ ان کے اس کے کرتوت کو تو انہیں ان کے بےشعوری میں جتائے گا۔
بھائیوں کی واپسی اور معذرت چپ چاپ ننھے بھیا پر، اللہ کے معصوم نبی پر، باپ کی آنکھ کے تارے پر ظلم وستم کے کے پہاڑ توڑ کر رات ہوئے باپ کے پاس سرخ رو ہونے اور اپنی ہمدردی ظاہر کرنے کے لیے غمزدہ ہو کر روتے ہوئے پہنچے اور اپنے ملال کا یوسف کے نہ ہونے کا سبب یہ بیان کیا کہ ہم نے تیر اندازی اور ڈور شروع کی۔ چھوٹے بھائی کو اسباب کے پاس چھوڑا۔ اتفاق کی بات ہے اسی وقت بھیڑیا آگیا اور بھائی کا لقمہ بنا لیا۔ چیڑ پھاڑ کر کھا گیا۔ پھر باپ کو اپنی بات صحیح طور پر جچانے اور ٹھیک باور کرانے کے لیے پانی سے پہلے بند باندھتے ہیں کہ ہم اگر آپ کے نزدیک سچے ہی ہوتے تب بھی یہ واقعہ ایسا ہے کہ آپ ہمیں سچا ماننے میں تامل کرتے۔ پھر جب کہ پہلے ہی سے آپ نے اپنا ایک کھٹکا ظاہر کیا ہو اور خلاف ظاہر واقع میں ہی اتفاقا ایسا ہی ہو بھی جائے تو ظاہر ہے کہ آپ اس وقت تو وہ ہمیں سچا مان ہی نہیں سکتے۔ ہیں تو ہم سچے ہی لیکن آپ بھی ہم پر اعتبار نہ کرنے میں ایک حد تک حق بجانب ہیں۔ کیونکہ یہ واقعہ ہی ایسا انوکھا ہے ہم خود حیران ہیں کہ ہو کیا گیا یہ تو تھا زبانی کھیل ایک کام بھی اسی کے ساتھ کر لائے تھے یعنی بکری کے ایک بچے کو ذبح کر کے اس کے خون سے حضرت یوسف کا پیراہن داغدار کردیا کہ بطور شہادت کے ابا کے سامنے پیش کریں گے کہ دیکھو یہ ہیں یوسف بھائی کے خون کے دھبے ان کے کرتے پر۔ لیکن اللہ کی شان چور کے پاؤں کہاں ؟ سب کچھ تو کیا لیکن کرتا پھاڑنا بھول گئے۔ اس کے لیے باپ پر سب مکر کھل گیا۔ لیکن اللہ کے نبی ﷺ نے ضبط کیا اور صاف لفظوں میں گو نہ کہا تاہم بیٹوں کو بھی پتہ چل گیا کہ ابا جی کو ہماری بات جچی نہیں فرمایا کہ تمہارے دل نے یہ تو ایک بات بنادی ہے۔ خیر میں تو تمہاری اس مذبوحی حرکت پر صبر ہی کروں گا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ اپنے رحم و کرم سے اس دکھ کو ٹال دے۔ تم جو ایک جھوٹی بات مجھ سے بیان کر رہے ہو اور ایک محال چیز پر مجھے یقین دلا رہے ہو اور اس پر میں اللہ سے مدد طلب کرتا ہوں اور اس کی مدد شامل حال رہے تو دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ ہوجائے گا۔ ابن عباس کا قول ہے کہ کرتا دیکھ کر آپ نے یہ بھی فرمایا تھا کہ تعجب ہے بھیڑیا یوسف کو کھا گیا اس کا پیراہن خون آلود ہوگیا مگر کہیں سے ذرا بھی نہ پھٹا۔ خیر میں صبر کروں گا۔ جس میں کوئی شکایت نہ ہو نہ کوئی گھبراہٹ ہو۔ کہتے ہیں کہ تین چیزوں کا نام صبر ہے اپنی مصیبت کا کسی سے ذکر نہ کرنا۔ اپنے دل کا دکھڑا کسی کے سامنے نہ رونا اور ساتھ ہی اپنے نفس کا پاک نہ سمجھا۔ امام بخاری ؒ اس موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے اس واقعہ کی پوری حدیث کو بیان کیا ہے جس میں آپ پر تہمت لگائے جانے کا ذکر ہے۔ اس میں آپ نے فرمایا ہے واللہ میری اور تمہاری مثال حضرت یوسف کے باپ کی سی ہے کہ انہوں نے فرمایا تھا اب صبر ہی بہتر ہے اور تمہاری ان باتوں پر اللہ ہی سے مدد چاہی گئی ہے۔
کنویں سے بازار مصر تک بھائی تو حضرت یوسف کو کنویں میں ڈال کر چل دیئے۔ یہاں تین دن آپ کو اسی اندھیرے کنویں میں اکیلے گذر گئے۔ محمد بن اسحاق کا بیان ہے کہ اس کنویں میں گرا کر بھائی تماشا دیکھنے کے لیے اس کے آس پاس ہی دن بھر پھرتے رہے کہ دیکھیں وہ کیا کرتا ہے اور اس کے ساتھ کیا کیا جاتا ہے ؟ قدرت اللہ کی کہ ایک قافلہ وہیں سے گزرا۔ انہوں نے اپنے سقے کو پانی کے لے بھیجا۔ اس نے اسی کونے میں ڈول ڈالا، حضرت یوسف ؑ نے اس کی رسی کو مضبوط تھام لیا اور بجائے پانی کے آپ باہر نکلے۔ وہ آپ کو دیکھ کر باغ باغ ہو گیارہ نہ سکا با آواز بلند کہہ اٹھا کہ لو سبحان اللہ یہ تو نوجوان بچہ آگیا۔ دوسری قرأت اس کی یا بشرای بھی ہے۔ سدی کہتے ہیں بشریٰ سقے کے بھیجنے والے کا نام بھی تھا اس نے اس کا نام لے کر پکار کر خبر دی کہ میرے ڈول میں تو ایک بچہ آیا ہے۔ لیکن سدی کا یہ قول غریب ہے۔ اس طرح کی قرآت پر بھی وہی معنی ہوسکتے ہیں اس کی اضافت اپنے نفس کی طرف ہے اور یائے اضافت ساقط ہے۔ اسی کی تائید قرآت یا بشرای سے ہوتی ہے جیسے عرب کہتے یا نفس اصبری اور یا غلام اقبل اضافت کے حرف کو ساقط کر کے۔ اس وقت کسرہ دینا بھی جائز ہے اور رفع دینا بھی۔ پس وہ اسی قبیل سے ہے اور دوسری قرآت اس کی تفسیر ہے۔ واللہ اعلم۔ ان لوگوں نے آپ کو بحیثیت پونجی کے چھپالیا قافلے کے اور لوگوں پر اس راز کا ظاہر نہ کیا بلکہ کہہ دیا کہ ہم نے کنویں کے پاس کے لوگوں سے اسے خریدا ہے، انہوں نے ہمیں اسے دے دیا ہے تاکہ وہ بھی اپنا حصہ نہ ملائیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ برادران یوسف نے شناخت چھپائی اور حضرت یوسف نے بھی اپنے آپ کو ظاہر نہ کیا کہ ایسا نہ ہو یہ لوگ کہیں مجھے قتل ہی نہ کردیں۔ اس لیے چپ چاپ بھائیوں کے ہاتھوں آپ بک گئے۔ سقے سے انہوں نے کہا اس نے آواز دے کر بلا لیا انہوں نے اونے پونے یوسف ؑ کو ان کے ہاتھ بیچ ڈالا۔ اللہ کچھ ان کی اس حرکت سے بیخبر نہ تھا وہ خوب دیکھ بھال رہا تھا وہ قادر تھا کہ اس وقت اس بھید کو ظاہر کر دے لیکن اس کی حکمتیں اسی کے ساتھ ہیں اس کی تقدیر یونہی یعنی جاری ہوئی تھی۔ خلق و امرا اسی کا ہے وہ رب العالمین برکتوں والا ہے اس میں آنحضرت ﷺ کو بھی ایک طرح تسکین دی گئی ہے کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ قوم آپ کو دکھ دے رہی ہے میں قادر ہوں کہ آپ کو ان سے چھڑا دوں انہیں غارت کردوں لیکن میرے کام حکمت کے ساتھ ہیں دیر ہے اندھیر نہیں بےفکر رہو، عنقریب غالب کروں گا اور رفتہ رفتہ ان کو پست کردوں گا۔ جیسے کہ یوسف اور ان کے بھائیوں کے درمیان میری حکمت کا ہاتھ کام کرتا رہا۔ یہاں تک کا آخر انجام حضرت یوسف کے سامنے انہیں جھکنا پڑا اور ان کے مرتبے کا اقرار کرنا پڑا۔ بہت تھوڑے مول پر بھائیوں نے انہیں بیچ دیا۔ ناقص چیز کے بدلے بھائی جیسا بھائی دے دیا۔ اور اس کی بھی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی بلکہ اگر ان سے بالکل بلا قیمت مانگا جاتا تو بھی دے دیتے۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ مطلب یہ ہے کہ قافلے والوں نے اسے بہت کم قیمت پر خریدا۔ لیکن یہ کچھ زیادہ درست نہیں اس لیے کہ انہوں نے تو اسے دیکھ کر خوشیاں منائی تھی اور بطور پونجی اسے پوشیدہ کردیا تھا۔ پس اگر انہیں اس کی بےرغبتی ہوتی تو وہ ایسا کیوں کرتے ؟ پس ترجیح اسی بات کو ہے کہ یہاں مراد بھائیوں کا حضرت یوسف کو گرے ہوئے نرخ پر بیچ ڈالنا ہے۔ نجس سے مراد حرام اور ظلم بھی ہے۔ لیکن یہاں وہ مراد نہیں لی گئی۔ کیونکہ اس قیمت کی حرمت کا علم تو ہر ایک کو ہے۔ حضرت یوسف ؑ نبی بن نبی بن نبی خلیل الرحمن ؑ تھا۔ پس آپ تو کریم بن کریم بن کریم بن کریم تھے۔ پس یہاں مراد نقص کم تھوڑی اور کھوٹی بلکہ برائے نام قیمت پر بیچ ڈالنا ہے باوجود اس کے وہ ظلم و حرام بھی تھا۔ بھائی کو بیچ رہے ہیں اور وہ بھی کوڑیوں کے مول۔ چند درہموں کے بدلے بیس یا بائیس یا چالیس درہم کے بدلے۔ یہ دام لے کر آپس میں بانٹ لیے۔ اور اس کی انہیں کوئی پرواہ نہ تھی انہیں نہیں معلوم تھا کہ اللہ کے ہاں ان کی کیا قدر ہے ؟ وہ کیا جانتے تھے کہ یہ اللہ کے نبی بننے والے ہں۔ حضرت مجاہد ؒ کہتے ہیں کہ اتنا سب کچھ کرنے پر بھی صبر نہ ہوا قافلے کے پیچھے ہو لئے اور ان سے کہنے لگے دیکھو اس غلام میں بھاگ نکلنے کی عادت ہے، اسے مضبوط باندھ دو ، کہیں تمہارے ہاتھوں سے بھی بھاگ نہ جائے۔ اسی طرح باندھے باندھے مصر تک پہنچے اور وہاں آپ کو بازار میں لیجا کر بیچنے لگے۔ اس وقت حضرت یوسف ؑ نے فرمایا مجھے جو لے گا وہ خوش ہوجائے گا۔ پس شاہ مصر نے آپ کو خرید لیا وہ تھا بھی مسلمان۔
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم