درس نمبر 107 ایک نظر میں
یہ سبق اس قصے کے دوسرے حلقے پر مشتمل ہے۔ اب یوسف (علیہ السلام) مصر پہنچ گئے ہیں۔ غلام کی طرح بک گئے ہیں ، لیکن جس شخص نے اسے خریدا ، اس نے دیکھ لیا کہ یہ بچہ نہایت ہی ہونہار ہے۔ ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ چناچہ اس نے اپنی بیوی کو ان کے بارے میں ہدایات دیں کہ یہ بچہ غیر معمولی ہے۔ یہاں سے حضرت یوسف کے خواب کی تعبیر شروع ہوتی ہے۔
لیکن بلوغ تک پہنچتے پہنچے حضرت یوسف کے لیے ایک دوسرے قسم کا امتحان ابھی باقی تھا۔ حضرت یوسف کو اللہ نے منصب رسالت کے شایان شان علم و حکمت عطا کیا ہوا تھا اور یہ آزمائش ایسی تھی کہ محض اللہ کا فضل و کرم ہی اس امتحان میں کسی کو بچا سکتا تھا۔ حضرت یوسف اعلی طبقات کے آزادانہ ماحول میں پل رہے تھے۔ ایسے طبقات بالعموم عیاشی اور فسق و فجور میں مبتلا ہوتے ہیں۔ ان طبقات کے اکثر نوجوان بےراہ روی میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ حضرت یوسف محض فضل الہی سے اس گندے ماحول سے پاک دامن بن کر نکلے ۔ ان کے لیے یہ مشقت سابقہ آزمائشوں سے کچھ کم نہ تھی۔
درس نمبر 107 تشریح آیات
21 ۔۔۔ تا ۔۔۔ 34
تفسیر آیت 21: ابھی تک ہمیں یہ نہیں بتایا گیا کہ حضرت کو کس نے خریدا۔ لیکن قدرے بعد میں یہ بتایا جائے گا کہ خریدار عزیز مصر ہے۔ کہا گیا ہے کہ وہ مصر کے اکابر میں سے تھا۔ لیکن ہمیں یہ معلوم ہوجاتا ہے کہ حضرت یوسف کو قدم جمانے کا موقع مل گیا۔ اب مصیبت اور مشقت کے دن بیت گئے اور اب ان کے لیے اچھے سے اچھے دن آنے والے ہیں
اکرمی مثواہ " اس کو اچھی طرح رکھنا " مثوی ثوی سے اسم ظرف ہے یعنی رات گزارنے کی جگہ اور ٹھہرنے کی جگہ۔ اکرام مثوی سے مراد خود ان کا اکرام ہے۔ لیکن اس کے مقام اکرام کرو ، زیادہ مبالغہ ہے اس سے کہ کوئی کہے اس کا اکرام کرو۔ یعنی صرف اس کی ذات کا اکرام ہی نہیں بلکہ اس کی بجائے قیام کا بھی اکرام ہو۔ اب ایک تو اس کا جائے قیام اندھے کنویں میں تھا جو ہر طرف سے خطرات میں گھرا ہوا تھا اور ہر طرف مصائب ہی مصائب تھے اور اب یہاں ان کا تمکن ہے۔
عزیز مصر اپنی بیوی کو یہ بھی بتا دیتا ہے کہ اس بچے سے اس کی کیا امیدیں وابستہ ہیں ؟
عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًا : بعید نہیں کہ یہ ہمارے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ جس طرح بعض روایات میں آتا ہے شاید اس کے ہاں کوئی بیٹآ نہ ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ اس شخص نے یہ عندیہ دیا کہ اگر یہ بچہ صاحب فراست نکلا تو اسے بیٹآ بنا لیں گے ، جس طرح حضرت یوسف کے مزاج اور طور طریقوں سے معلوم ہوتا تھا ، بعد میں وہ نہایت ہی رجل رشید ثابت ہوئے۔
اب یہاں قصے کے واقعات کو روک لیا جاتا ہے اور درمیان میں ایک مختصر سا تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے۔ یہ تدابیر اللہ نے اس لیے اختیار کیں تاکہ حضرت یوسف کے قدم مصر میں جم جائیں۔ اب حضرت یوسف نے اس خریدار کے دل اور اس کے خاندان میں قدم جما لیے ہیں اور ان کی ترقی کا دور شروع ہوچکا ہے اور آگے جا کر ان کو اس بلند سوسائٹی میں رکھ کر معاملہ فہمی کے مواقع فراہم ہوں گے اور ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو اپنے تمام امور پر مکمل کنٹرول حاصل ہے اور اللہ تعالیٰ کے منصوبے اسی طرح نافذ ہوتے ہیں جس طرح اللہ چاہتا ہے۔
وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ ۡ وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ ۭ وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ : اس طرح ہم نے یوسف کے لیے اس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔ مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔
یہ کس طرح ؟ دیکھو یوسف کے بھائیوں نے ان کے خلاف کیا سازش کی اور اللہ نے ان کے لیے کیا سوچا اور اہا۔ اور اللہ نے جو چاہا وہ کامیاب رہا۔ کیونکہ اللہ کو تمام امور پر کنٹرول حاصل ہے لہذا ان کی تدابیر دھری کی دھری رہ گئیں اور حضرت یوسف کے بارے میں اللہ کا منصوبہ کامیاب رہا۔
مگر اکثر لوگ اس حقیقت کو نہیں جانتے کہ جو اللہ چاہتا ہے ، وہ ہوتا ہے اور لوگوں کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا۔
آیت 21 وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ لامْرَاَتِهٖٓ اَكْرِمِيْ مَثْوٰىهُ عَسٰٓى اَنْ يَّنْفَعَنَآ اَوْ نَتَّخِذَهٗ وَلَدًاوہ شخص مصر کی حکومت میں بہت اعلیٰ منصب عزیز مصر پر فائز تھا۔ حضرت یوسف کو بیٹا بنانے کی خواہش سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید اس کے ہاں اولاد نہیں تھی۔وَكَذٰلِكَ مَكَّنَّا لِيُوْسُفَ فِي الْاَرْضِ اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے یوسف کو اس دور کی متمدن ترین مملکت میں پہنچا دیا اور وہاں آپ کی رہائش کا بندوبست بھی کیا تو کسی جھونپڑی میں نہیں بلکہ ملک کے ایک بہت بڑے صاحب حیثیت شخص کے گھر میں اور وہ بھی محض ایک غلام کے طور پر نہیں بلکہ خصوصی عزت و اکرام کے انداز میں۔وَلِنُعَلِّمَهٗ مِنْ تَاْوِيْلِ الْاَحَادِيْثِ یعنی عزیز مصر کے گھر میں آپ کو جگہ بنا کردینے کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ وہاں آپ کو ”معاملہ فہمی“ کی تربیت فراہم کی جائے۔ عزیز مصر کا گھر ایک طرح کا سیکریٹریٹ ہوگا جہاں آئے دن انتہائی اعلیٰ سطح کے اجلاس ہوتے ہوں گے اور قومی و بین الاقوامی نوعیت کے انتہائی اہم امور پر بحث و تمحیص کے بعد فیصلے کیے جاتے ہوں گے اور حضرت یوسف کو ان تمام سرگرمیوں کا بہت قریب سے مشاہدہ کرنے کے مواقع میسر آتے ہوں گے۔ اس طرح بہت اعلیٰ سطح کی تعلیم و تربیت کا ایک انتظام تھا جو حضرت یوسف کے لیے یہاں پر کردیا گیا۔وَاللّٰهُ غَالِبٌ عَلٰٓي اَمْرِهٖ وَلٰكِنَّ اَكْثَرَ النَّاسِ لَا يَعْلَمُوْنَ اللہ تعالیٰ اپنے ارادے کی تنفیذ پر غالب ہے وہ اپنا کام کر کے رہتا ہے۔
بازار مصر سے شاہی محل تک رب کا لطف بیان ہو رہا ہے کہ جس نے آپ کو مصر میں خریدا، اللہ نے اس کے دل میں آپ کی عزت و وقعت ڈال دی۔ اس نے آپ کے نورانی چہرے کو دیکھتے ہی سمجھ لیا کہ اس میں خیر و صلاح ہے۔ یہ مصر کا وزیر تھا۔ اس کا نام قطفیر تھا۔ کوئی کہتا ہے اطفیر تھا۔ اس کے باپ کا نام دوحیب تھا۔ یہ مصر کے خزانوں کا داروغہ تھا۔ مصر کی سلطنت اس وقت ریان بن ولید کے ہاتھ تھی۔ یہ عمالیق میں سے ایک شخص تھا۔۔ عزیز مصر کی بیوی صاحبہ کا نام راعیل تھا۔ کوئی کہتا ہے زلیخا تھا۔ یہ رعابیل کی بیٹی تھیں۔ ابن عباس کا بیان ہے کہ مصر میں جس نے آپ کو خریدا اس کا نام مالک بن ذعربن قریب بن عنق بن مدیان بن ابراہیم تھا۔ واللہ اعلم۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ فرماتے ہیں سب سے زیادہ دوربین اور دور رس اور انجام پر نظریں رکھنے والے اور عقلمندی سے تاڑنے والے تین شخص گزرے ہیں۔ ایک تو یہی عزیز مصر کہ بیک نگاہ حضرت یوسف کو تاڑ لیا گیا اور جاتے ہی بیوی سے کہا کہ اسے اچھی طرح آرام سے رکھو۔ دوسری وہ بچی جس نے حضرت موسیٰ ؑ کو بیک نگاہ جان لیا اور جا کر باپ سے کا کہ اگر آپ کو آدمی کی ضرورت ہے تو ان سے معاملہ کرلیجئے یہ قوی اور باامانت شخص ہے۔ تیسرے حضرت صدیق اکبر ؓ کہ آپ نے دنیا سے رخت ہوتے ہوئے خلافت حضرت عمر ؓ جیسے شخص کو سونپی۔ یہاں اللہ تعالیٰ اپنا ایک اور احسان بیان فرما رہا ہے کہ بھائیوں کے پھندے سے ہم نے چھڑایا پھر ہم نے مصر میں لا کر یہاں کی سرزمین پر ان کا قدم جما دیا۔ کیونکہ اب ہمارا یہ ارادہ پورا ہونا تھا کہ ہم اسے تعبیر خواب کا کچھ علم عطا فرمائیں۔ اللہ کے ارادہ کو کون ٹال سکتا ہے۔ کون روک سکتا ہے ؟ کون خلاف کرسکتا ہے ؟ وہ سب پر غالب ہے۔ سب اس کے سامنے عاجز ہیں جو وہ چاہتا ہے ہو کر ہی رہتا ہے جو ارادہ کرتا ہے کر چکتا ہے۔ لیکن اکثر لوگ علم سے خالی ہوتے ہیں۔ اس کی حکمت کو مانتے ہیں نہ اس کی حکمت کو جانتے ہیں نہ اس کی باریکیوں پر ان کی نگاہ ہوتی ہے۔ نہ وہ اس کی حکمتوں کو سمجھ سکتے ہیں۔ جب آپ کی عقل کامل ہوئی جب جسم اپنی نشو و نما تمام کرچکا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرمائی اور اس سے آپ کو مخصوص کیا۔ یہ کوئی نئی بات نہیں ہم نیک کاروں کو اسی طرح بھلا بدلہ دیتے ہیں۔ کہتے ہیں اس سے مراد تینتیس برس کی عمر ہے۔ یا تیس سے کچھ اوپر کی یا بیس کی یا چالیس کی یا پچیس کی یا تیس کی یا اٹھارہ کی۔ یا مراد جوانی کو پہنچنا ہے اور اس کے سوا اوراقوال بھی ہیں واللہ اعلم