یہ سبق اس قصے کی تیسر کڑی ہے اور حضرت یوسف کی مشکلات زندگی بھی تیسری اور آخری کڑی ہے۔ اس کڑی کے بعد حضرت یوسف کی زندگی کے مشکل دن ختم ہونے والے ہیں۔ اب آرام اور سکون ہی ہوگا۔ اب حضرت یوسف کی زندگی کا امتحان دوسرے انداز میں ہوگا۔ پہلے مصائب میں ان کی آزمائش تھی ، اب عیش و آرام اور اقتدار کی زندگی میں ان کی آزمائش ہوگ۔ اس کڑی میں ان کی آزمائش جیل جانے میں ہو رہی ہے یہ عجیب آزمائش ہے کہ وہ الزام سے بری ہوگئے ہیں پھر بھی جیل میں ہیں ، ایک گناہ گار تو صبر کرلیتا ہے کیونکہ اس کو علم ہوتا ہے کہ اس نے قصور کیا ہے لیکن ایک بےگناہ جب قید ہوتا ہے تو اس کے لیے سزا ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ اگرچہ دل میں اسے یہ سکون ہوتا ہے کہ وہ بےگناہ ہے۔
اس عرصے میں حضرت یوسف پر اللہ کے انعامات ظاہر ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اب ان کو تعبیر رویا کا علم لدنی عطا کردیا گیا ہے ، اسی طرح وہ تاویل احادیث میں ماہر ہوچکے ہیں ، واقعات کے آغاز ہی میں وہ معلوم کرلیتے ہیں کہ ان کے نتائج کیا ہوں گے اور اس کے بعد اب بادشاہ کے سامنے حضرت یوسف کی براءت کا بھی انتظام ہورہا ہے ، خود بادشاہ عورتوں کو بلا کر انکوائری کرتا ہے۔ اب حضرت یوسف کی خفیہ صلاحیتیں سامنے آرہی ہیں۔ وہ بادشاہ کے مقرب خاص ہوکر تمام اختیارات کے مالک اور مقتدر اعلی بن جاتے ہیں۔ اور جس مقام پر اللہ نے ان کو پہنچانا تھا وہ پہنچ جاتے ہیں۔
درس نمبر 108 تشریح آیات 35 ۔۔۔ تا۔۔۔ 52
۔۔۔
محلات کی فضاؤں میں ، آمریت کی چھاؤں میں نوابوں کے درباروں میں جاہلیت کے نظاموں میں ایسے ہی فیصلے ہوتے ہیں۔ انہوں نے یوسف (علیہ السلام) کی پاک دامنی کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا ، انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ یہ عورت اس فرشتہ سیرت شخص کو عورتوں کی مجالس میں پیش کرتی ہے اور برملا دھمکیاں دیتی ہے ، تمام مصری عورتوں کو یقین تھا کہ یہ عورت اپنے غلام کی محبت میں اندھی ہو رہی ہے اور اپنی فریفتگی کا اعلان کرتی پھر رہی ہے۔ یوسف علیہ السالم پر ان عورتوں کا دباؤ اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ وہ اللہ سے استعانت طلب فرماتے ہیں۔ دوسری جانب یہ عورت بھی اس بات پر تلی ہوئی ہے اور اعلان کر رہی ہے کہ یوسف کو اس کی مراد پوری کرنا ہوگی یا اسے قید خانوں میں ذلیل و خوار ہونا ہوگا ، اب یا تو وہ حکم کی تعمیل کرے گا یا جیل جائے گا۔
ان حالات کے بعد یہ لوگ اس نتیجے تک پہنچتے ہیں کہ ایک عرصے کے لیے یوسف کو قید کردیا جائے۔ واضح طور پر نظر آتا ہے کہ یہ عورت اب مایوس ہوگئی ہوگی ، دوسری جانب چہ میگوئیاں عام ہوگئی ہوں گی اور اب ان نام نہاد اونچے گھرانوں کی عزت کا تحفظ اسی طرح ہوسکتا تھا کہ بےگناہ کو قید کردیا جائے۔ یہ کام تو ان کے لیے بہت ہی آسان ہے۔ اس نے چونکہ اس ترقی یافتہ عورت کی خواہشات کو پورا نہ کیا تھا لہذا اسے لازماً جیل جانا تھا کیونکہ وہ بیچار بدنام ہوگئی اور ہر طرف سے چہ میگوئیاں تھیں اور ہر محفل میں وہ موضوع سخن تھی۔
آیت 35 ثُمَّ بَدَا لَهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا رَاَوُا الْاٰيٰتِ لَيَسْجُنُنَّهٗ حَتّٰي حِيْنٍ اس تقریب میں جو کچھ ہوا اس معاملے کو پوشیدہ رکھنا ممکن نہیں تھا چناچہ ارباب اختیار نے جب یہ سارے حالات دیکھے تو انہیں عافیت اور مصلحت اسی میں نظر آئی کہ حضرت یوسف کو وقتی طور پر منظر سے ہٹا دیا جائے اور اس کے لیے مناسب یہی ہے کہ کچھ عرصے کے لیے انہیں جیل میں ڈال دیا جائے۔
جیل خانہ اور یوسف ؑ حضرت یوسف ؑ کی پاک دامنی کا راز سب پر کھل گیا۔ لیکن تاہم ان لوگوں نے مصلحت اسی میں دیکھی کہ کچھ مدت تک حضرت یوسف ؑ کو جیل خانہ مییں رکھیں۔ بہت ممکن ہے کہ اس میں ان سب نے یہ مصلحت سوچی ہو کہ لوگوں میں یہ بات پھیل گئی ہے کہ عزیز کی بیوی اس کی چاہت میں مبتلا ہے۔ جب ہم یوسف کو قید کردیں گے وہ لوگ سمجھ لیں گے کہ قصور اسی کا تھا اسی نے کوئی ایسی نگاہ کی ہوگی۔ یہی وجہ تھی کہ جب شاہ مصر نے آپ کو قید خانے سے آزاد کرنے کے لیے اپنے پاس بلوایا تو آپ نے وہیں سے فرمایا کہ میں نہ نکلوں گا جب تک میری برات اور میری پاکدامنی صاف طور پر ظاہر نہ ہوجائے اور آپ حضرات اس کی پوری تحقیق نہ کرلیں جب تک بادشاہ نے ہر طرح کے گواہ سے بلکہ خود عزیز کی بیوی سے پوری تحقیق نہ کرلی اور آپ کا بےقصور ہونا، ساری دنیا پر کھل نہ گیا آپ جیل خانے سے باہر نہ نکلے۔ پھر آپ باہر آئے جب کہ ایک دل بھی ایسا نہ تھا جس میں صدیق اکبر، نبی اللہ پاکدامن اور معصوم رسول اللہ حضرت یوسف علیہ الصلواۃ والسلام کی طرف سے ذرا بھی بدگمانی ہو۔ قید کرنے کی بڑی وجہ یہی تھی کہ عزیز کی بیوی کی رسوائی نہ ہو۔