قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔
یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔
آیت 75 قَالُوْا جَزَاۗؤُهٗ مَنْ وُّجِدَ فِيْ رَحْلِهٖ فَهُوَ جَزَاۗؤُهٗ ۭ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَ انہوں نے کہا کہ ہاں اگر ایسا ہوا تو پھر جس کے سامان میں سے آپ کا جام نکل آئے سزا کے طور پر آپ لوگ اسے اپنے پاس رکھ لیں وہ آپ کا غلام بن جائے گا۔ ہمارے ہاں تو شریعت ابراہیمی کی رو سے چوری کے جرم کی یہی سزا رائج ہے۔