سورہ یوسف (12): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Yusuf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يوسف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ یوسف کے بارے میں معلومات

Surah Yusuf
سُورَةُ يُوسُفَ
صفحہ 244 (آیات 70 سے 78 تک)

فَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ جَعَلَ ٱلسِّقَايَةَ فِى رَحْلِ أَخِيهِ ثُمَّ أَذَّنَ مُؤَذِّنٌ أَيَّتُهَا ٱلْعِيرُ إِنَّكُمْ لَسَٰرِقُونَ قَالُوا۟ وَأَقْبَلُوا۟ عَلَيْهِم مَّاذَا تَفْقِدُونَ قَالُوا۟ نَفْقِدُ صُوَاعَ ٱلْمَلِكِ وَلِمَن جَآءَ بِهِۦ حِمْلُ بَعِيرٍ وَأَنَا۠ بِهِۦ زَعِيمٌ قَالُوا۟ تَٱللَّهِ لَقَدْ عَلِمْتُم مَّا جِئْنَا لِنُفْسِدَ فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا كُنَّا سَٰرِقِينَ قَالُوا۟ فَمَا جَزَٰٓؤُهُۥٓ إِن كُنتُمْ كَٰذِبِينَ قَالُوا۟ جَزَٰٓؤُهُۥ مَن وُجِدَ فِى رَحْلِهِۦ فَهُوَ جَزَٰٓؤُهُۥ ۚ كَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ فَبَدَأَ بِأَوْعِيَتِهِمْ قَبْلَ وِعَآءِ أَخِيهِ ثُمَّ ٱسْتَخْرَجَهَا مِن وِعَآءِ أَخِيهِ ۚ كَذَٰلِكَ كِدْنَا لِيُوسُفَ ۖ مَا كَانَ لِيَأْخُذَ أَخَاهُ فِى دِينِ ٱلْمَلِكِ إِلَّآ أَن يَشَآءَ ٱللَّهُ ۚ نَرْفَعُ دَرَجَٰتٍ مَّن نَّشَآءُ ۗ وَفَوْقَ كُلِّ ذِى عِلْمٍ عَلِيمٌ ۞ قَالُوٓا۟ إِن يَسْرِقْ فَقَدْ سَرَقَ أَخٌ لَّهُۥ مِن قَبْلُ ۚ فَأَسَرَّهَا يُوسُفُ فِى نَفْسِهِۦ وَلَمْ يُبْدِهَا لَهُمْ ۚ قَالَ أَنتُمْ شَرٌّ مَّكَانًا ۖ وَٱللَّهُ أَعْلَمُ بِمَا تَصِفُونَ قَالُوا۟ يَٰٓأَيُّهَا ٱلْعَزِيزُ إِنَّ لَهُۥٓ أَبًا شَيْخًا كَبِيرًا فَخُذْ أَحَدَنَا مَكَانَهُۥٓ ۖ إِنَّا نَرَىٰكَ مِنَ ٱلْمُحْسِنِينَ
244

سورہ یوسف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ یوسف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

جب یوسفؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا پھر ایک پکارنے والے نے پکار کر کہا "اے قافلے والو، تم لو گ چور ہو"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma jahhazahum bijahazihim jaAAala alssiqayata fee rahli akheehi thumma aththana muaththinun ayyatuha alAAeeru innakum lasariqoona

آیت نمبر 70 تا 78

یہ ایک نہایت ہی دلچسپ منظر ہے۔ اس میں متنوع حرکات ، تاثرات ، سر پر ائز شامل ہیں۔ جیسا کہ کوئی نہایت ہی موثر ، جذباتی اور زندگی سے بھر پور کوئی ڈرامائی منظر ہو سکتا ہے۔ لیکن کمال یہ ہے کہ قرآن کریم زندہ اور حقیقی واقعات کو نہایت ہی موثر انداز میں بیان کرتا ہے۔

پس پردہ حرکت یہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) بادشاہ کے پیمانے یا پیالے کو ان کے سامان میں رکھوا رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے یہ پیالہ بیک وقت پینے کے کام بھی آتا تھا اور غلہ ماپنے کا پیمانہ بھی تھا ۔ اس دور میں گندم کو سونے کے پیمانے میں ناپنا تعجب انگیز امر نہیں ہے کیونکہ اس قحط کے دور میں سونے کے مقابلے میں گندم کی اہمیت زیادہ تھی۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) پس منظر میں اس پیالے کو اپنے بھائی کے بار میں رکھوا رہے ہیں تا کہ اللہ کی ہدایات کے مطابق اس تدبیر اے بھائی کو پکڑا جاسکے۔ تفصیلات ابھی آرہی ہیں۔

اب جبکہ یہ قافلہ بار لدوا کر واپس عازم کنعان ہوچکا تو ایک منادی نمودار ہوتا ہے اور وہ اعلان عام کی شکل میں آواز دیتا ہے اور یہ اعلان پورے قافلے کے لئے ہے۔

ایتھا العیر انکم لسرقون (12 : 70) “ اے قافلے والو ! تم لوگ چور ہو ”۔ برادران یوسف ڈر سے کانپ اٹھتے ہیں کیونکہ چوری کا الزام پورے قافلے پر لگ چکا ہے۔ ان کے لئے اس کی اہمیت اس لئے بھی زیادہ ہے کہ وہ حضرت یعقوب علی السلام ، ابن اسحاق ابن ابراہیم (علیہم السلام) کے بیٹے ہیں۔ یہ لوگ اپنے جانور اور بار واپس کرلیتے ہیں تا کہ اس الزام کی تحقیقات کی جاسکے۔

اردو ترجمہ

انہوں نے پلٹ کر پوچھا "تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟ "

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo waaqbaloo AAalayhim matha tafqidoona

قالوا واقبلوا علیہم ما ذا تفقدون (12 : 71) “ انہوں نے پلٹ کر پوچھا تمہاری کیا چیز کھوئی گئی ؟ ” چناچہ ان ملازمین نے ، جن کی ڈیوٹی تھی کہ وہ ان کے بار تیار کریں ، کہا چوکیداروں نے کہا جن میں سے یہ اعلان کنندہ بھی تھا۔

اردو ترجمہ

سرکاری ملازموں نے کہا "بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا" (اور ان کے جمعدار نے کہا) "جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارشتر انعام ہے، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo nafqidu suwaAAa almaliki waliman jaa bihi himlu baAAeerin waana bihi zaAAeemun

قالوا نفقد صواع الملک (12 : 72) “ سرکاری ملازمین نے کہا بادشاہ کا نہ ہم کو نہیں مل رہا ”۔ اس دوران ایک دوسرا شخص منظر پر آتا ہے اور وہ انعام ، انعام کی ایک بڑی رقم کا اعلان کرتا ہے کہ اگر کوئی رضا کارانہ طور پر واپس کر دے تو یہ قیمتی انعام دیا جائے گا۔ ولمن جاء بہ حمل بعیر وانا بہ زعیم (12 : 72) “ جو شخص لا کر دے گا اس کے لئے ایک بار شتر انعام ہے اور اس کا میں ذمہ دارہوں ”۔ زعیم بمعنی ضامن کہ اسے ایک بار شتر گندم دوں گا۔

لیکن ان حضرات کو تو پورا یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں ، کیونکہ انہوں نے کوئی زیادتی نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی وہ اس لئے آئے تھے کہ ایسی حرکتیں کریں ، جس سے باہم اعتماد تباہ ہوجائے اور مختلف ممالک کے بین الاقوامی تعلقات خراب ہوں۔ چناچہ وہ قسمیہ بیان دیتے ہیں :

قالوا تاللہ۔۔۔۔۔۔ فی الارض (12 : 73) “ ان بھائیوں نے کہا خدا کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں ”۔ تمہیں ہماری تاریخ کا بھی علم ہے ، ہمارے نسب و حسب کا بھی علم ہے اور ہماری ظاہری پوزیشن بھی نظر آتی ہیں۔

وما کنا سرقین (12 : 73) “ اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں ”۔ ہم سے یہ برا فعل ہرگز صادر نہیں ہو سکتا ، ہرگز نہیں۔ بادشاہ کے کارندوں اور چوکیداروں نے کہا۔

اردو ترجمہ

ان بھائیوں نے کہا "خدا کی قسم، تو لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo taAllahi laqad AAalimtum ma jina linufsida fee alardi wama kunna sariqeena

اردو ترجمہ

اُنہوں نے کہا "اچھا، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo fama jazaohu in kuntum kathibeena

قالوا فما جزؤہ ان کنتم کذبین (12 : 74) “ اچھا ، اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو پھر چور کی سزا کیا ہے ؟ ” اس سے وہ حکمت معلوم ہوتی ہے جو اس تدبیر کی شکل میں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائی۔ دین یعقوب (علیہ السلام) میں قانون یہ تھا کہ چور کو چوری کے مال اور جرم کے بدلے رہن قیدی یا غلام بنا لیا جائے۔ برادران یوسف (علیہ السلام) کو چونکہ اپنی گناہی کا پورا پورا یقین تھا ، تو وہ کو خوشی خوشی اس پر راضی ہوگئے کہ دین یعقوبی کے مطابق فیصلہ ہوجائے جو بھی مجرم ہو۔ یوں اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے لئے جو اسکیم تیار کی وہ پایہ تکمیل کو پہنچی۔

اردو ترجمہ

اُنہوں نے کہا "اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo jazaohu man wujida fee rahlihi fahuwa jazaohu kathalika najzee alththalimeena

قالوا جزؤہ ۔۔۔۔۔۔ الظلمین “ انہوں نے کہا اس کی سزا ؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے۔ ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے ”۔

یہ سب گفتگو حضرت یوسف (علیہ السلام) کی موجودگی میں ہو رہی تھی اور وہ یہ سب کچھ دیکھ اور سن رہے تھے ۔ اس لیے کہ انہوں نے تلاشی کا حکم دیا اور ان کی دانش مندی نے انہیں یہ سمجھایا کہ دوسرے بھائیوں کے باروں کی تلاشی پہلے لی جائے تا کہ تفتیش اور تدبیر کے بارے میں کوئی شبہ نہ ہو۔

اردو ترجمہ

تب یوسفؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کر لی اِس طرح ہم نے یوسفؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالا تر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fabadaa biawAAiyatihim qabla wiAAai akheehi thumma istakhrajaha min wiAAai akheehi kathalika kidna liyoosufa ma kana liyakhutha akhahu fee deeni almaliki illa an yashaa Allahu narfaAAu darajatin man nashao wafawqa kulli thee AAilmin AAaleemun

فبدا باوعیتھم۔۔۔۔۔۔۔۔ وعاء اخیہ (12 : 76) “ تب یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائی سے پہلے ان کی خرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز برآمد کرلی ”۔

اس مرحلے پر قرآن اس دہشت اور پریشانی کو بیان نہیں کرتا جس سے برادران یوسف اچانک دو چار ہوگئے۔ ان کو تو سو فیصدی یقین تھا کہ وہ بےگناہ ہیں۔ انہوں نے بیان حلفی بھی دے دیا تھا اور بیک آواز دے دیا تھا۔ قرآن کریم نے منظر کا یہ حصہ انسانی تخیل پر چھوڑ دیا کیونکہ ایسے مواقع پر ایسے تاثرات خود بخود ظاہر ہوتے ہیں۔ اس تاثر کو انسانی خیال پر چھوڑ دیا گیا اور واقعہ پر ایک تبصرہ کردیا گیا تا کہ ابنائے یعقوب جس دہشت اور شرمندگی سے دو چار تھے ، ایک قاری اس سے ذرا نکل آئے۔

کذلک کدنا لیوسف (12 : 76) “ اس طرح ہم نے یوسف (علیہ السلام) کی تائید اپنی تدبیرت کی جو نہایت ہی گہری تدبیر تھی۔

ما کان لیاخذ اخاہ فی دین الملک (12 : 76) “ اس کو دین شاہی میں اپنے بھائی کو پکڑنے کا حق نہ تھا ”۔ یعنی اگر اس کیس کا فیصلہ شاہی قانون کے مطابق کیا جاتا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) بھائی کو شخصی طور پر نہیں روک سکتے تھے۔ صرف اسے چور کی سزا دے سکتے تھے۔ لیکن بھائیوں نے یہ تجویز دی کہ ان کے اپنے دین کے مطابق چور کا فیصلہ ہونا چاہئے ۔ یہ ہے وہ تدبیر جس کے اسباب اللہ نے حضرت یوسف (علیہ السلام) کو سمجھائے ۔ یہ ہے اللہ کی جانب سے یوسف (علیہ السلام) کے حق میں تدبیر۔ لفظ “ کید ” عربی میں خفیہ تدبیر کو کہتے ہیں اور اس کا استعمال لغت میں خیر اور شر دونوں معنوں میں ہوتا ہے۔ لیکن عموماً اس کا استعمال شر میں ذرا زیادہ ہوگیا۔ بظاہر تو یہاں اس کے بھائی کے لئے بھی واقعہ شر ہی کا ہو رہا ہے ، بھائیوں کے لئے بھی یہ بظاہر شر ہے کیونکہ ان کو والد کا سامنا کرنا مشکل ہوگیا۔ پھر حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے لئے بھی یہ وقتی طور پر تکلیف دہ امر ہے۔ چناچہ قرآن کریم نے واقعہ کے ظاہری پہلو کو مدنظر رکھتے ہوئے اس کے لئے “ کید ” کا لفظ استعمال کیا جو قرآن کریم کا ایک نہایت ہی لطیف اسلوب بیان ہے۔

ما کان ۔۔۔۔۔۔ یشاء اللہ (12 : 76) “ وہ بادشاہ کے قانون میں اپنے بھائی کو نہ پکڑ سکتے تھے الا یہ کہ اللہ ایسا چاہتا ”۔ جیسا کہ اللہ نے ان کے لئے زیر نظر تدبیر کی۔

اس آخری تبصرے میں یہ بھی بتا دیا گیا ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کو اللہ نے بہت ہی رفعتیں بہت ہی علم ، عطا فرما دیا تھا۔

نرفع درجت من نشاء (12 : 76) “ ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ تنبیہ بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کا علم سب سے اونچا اور اعلیٰ ہے۔

وفوق کل ذی علم علیم (12 : 76) “ اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحب علم سے بالاتر ہے ”۔ یہ ایک لطیف احتیاط ہے۔

یہاں قرآن مجید نے اس آیت :

کذلک کدنا۔۔۔۔۔۔۔ دین الملک (12 : 76) “ ہم نے یوسف (علیہ السلام) کے لئے یوں تدبیر کی۔۔۔۔ وہ اپنے بھائی کو بادشاہ کے قانون نظام میں گرفتار نہ کرسکتے تھے ” میں لفظ “ دین ” کو ایک مخصوص مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے اور یہ نہایت ہی ٹیکنیکل اصطلاحی استعمال ہے۔ یعنی نظام اور شریعت کے مفہوم میں کیونکہ مصر کے قانونی نظام میں چور کے لئے یہ سزا نہ تھی کہ اسے جرم کے عوض رکھ ہی لیا جائے۔ یہ سزا صرف حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے شرعی اور قانونی نظام میں تھی۔ برادران یوسف اس بات پر راضی ہوگئے تھے کہ کیس کا فیصلہ ان کے قانون کے مطابق کیا جائے۔ جب ۔۔۔۔ اس کے بھائی کی خرجی سے نکلا تو حضرت یوسف (علیہ السلام) نے ان پر انہی کا قانون نافذ کردیا۔ یہاں قرآن کریم نے نظام اور قانون پر “ الدین ” کا اطلاق فرمایا ہے۔

دین کا یہ نہایت ہی واضح اور صریح مفہوم ہے ، اور بیسویں صدی کی جاہلیت میں سب کے ذہن سے یہ مفہوم غائب ہے۔ ان لوگوں کے ذہن سے بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہتے ہیں اور ان کے ذہن سے بھی جو اس جاہلیت کے داعی اور پیروکار ہیں۔

ان لوگوں نے دین کا مفہوم عبادت اور مراسم مذہبی تک محدود کردیا ہے۔ یہ سمجھتے ہیں کہ جو شخص اللہ کی وحدانیت پر اعتقاد رکھتا ہو ، رسول کو سچا سمجھتا ہو ، ملائکہ اور کتب پر ایمان رکھتا ہو ، تمام رسولوں کو مانتا ہو ، آخرت پر یقین رکھتا ہو ، اور اچھی اور بری تقدیر کے من جانب اللہ ہونے کا قائل ہو اور پھر وہ فرائض و عبادات پر عمل پیرا ہو ، بس وہ پکا دین دار ہے۔ اگرچہ زندگی کے دوسرے معاملات میں وہ دوسرے ارباب اور دوسرے حاکموں کی اطاعت کرتا ہے اور دوسروں کے قانون اور شریعت کے مطابق فیصلے کرتا ہو حالانکہ اس آیت میں صریح طور پر کہا گیا ہے کہ نظام قانون اور شریعت دین کا مسئلہ ہے اور اللہ کے دین کا مفہوم اللہ کا پورا نظام زندگی ہے۔

“ الدین ” کے مفہوم کو اس قدر محدود کردیا گیا ہے اور اس قدر سکیڑ دیا گیا ہے کہ وہ عبادات اور اعتقادات تک محدود ہو کر رہ گیا ہے لیکن حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت محمد ﷺ تک تمام انبیاء نے جو دین پیش کیا اس کا مفہوم اس طرح محدود نہ تھا۔

دین کا مفہوم ہمیشہ یہ رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی مکمل بندگی کی جائے۔ ان تمام امور پر عمل کیا جائے جو شریعت کا حصہ ہیں۔ اور ان تمام امور کو ترک کیا جائے جو شریعت کے خلاف ہیں۔ جس طرح اللہ وحدہ آسمانوں میں حاکم ہیں اسی طرح زمین پر بھی اللہ وحدہ کی حکومت قائم کی جائے اور اللہ وحدہ کو تمام انسانوں کا رب سمجھا جائے یعنی وہی حاکم ہو ، وہی قانون ساز ہو ، اور اسی کے احکام و نواہی چلیں۔ اہم بات یہ ہے کہ کون لوگ اللہ کے دین میں ہیں اور کون لوگ بادشاہ کے دین میں ہیں ؟ اس مفہوم کے اعتبار سے جو لوگ اللہ کے نظام ، اللہ کے قانون کی اطاعت کرتے ہیں وہ دین الٰہی میں ہیں اور جو لوگ بادشاہ کے نظام اور قانو کو مانتے ہیں وہ بادشاہ کے دین میں ہیں۔ یہ لوگ اگر شرک بھی کرتے ہیں تو پھر یہ اعتقادات و نظریات میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں اور نظام اور قانون اور دستور میں بھی شرک کے مرتکب ہوتے ہیں۔

دین کے مفہوم کے یہ منطقی اور بدیہی نتائج ہیں اور اسلامی نظریہء حیات کے بدیہیات میں سے ہیں۔

آج کل عوام الناس کے بعض ہمدرد عوام کی طرف سے یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ یہ لوگ “ دین اللہ ” کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے اس لیے ایسے لوگ نہ اس بات کا مطالبہ کرتے ہیں کہ اسلامی قانون اور دستور کو نافذ کیا جائے اور نہ اس کے لئے جدو جہد کرتے ہیں۔ پھر کیا ان لوگوں کی یہ جہالت اور دین کے حقیقی مفہوم سے لا علمی ان کے لئے معافی کا عذر بن جائے گی ؟

میں تو یہ نہیں سمجھتا کہ دین کے مفہوم کو نہ جاننا اور اس کی حقیقت سے بیخبر ہونا کسی کو دین دار بناتا ہے ۔ کسی حقیقت پر یقین اس وقت حاصل ہوتا ہے جب کسی کو وہ حقیقت معلوم ہو۔ اگر لوگ کسی عقیدے کا علم ہی نہیں رکھتے تو وہ اس کے معتقد کیسے ہو سکتے ہیں اور کس طرح انہیں اس عقیدے والا کہا جاسکتا ہے جبکہ وہ اس عقیدے کا مفہوم ہی نہیں سمجھتے۔

ہو سکتا ہے کہ دین کی حقیقت سے بیخبر ی آخرت میں ان کے حساب و کتاب میں کسی نرمی کا باعث ہو ، یا عذاب میں کمی ہوجائے ، اور یہ حساب ان سے لیا جائے جنہوں نے ان کو دین سکھایا نہیں جبکہ وہ دین کے حقیقی مفہوم سے واقف تھے۔ لیکن یہ ایک مسئلہ ہے جس کا تعلق اخروی حساب سے ہے ، اور تمام اہل جاہلیت کی سزا کا مسئلہ جن تک دعوت نہ پہنچی ہو۔ اس میں بحث و مباحثہ کرنا ہمارے لیے کچھ زیادہ مفید نہیں ہے نہ یہ ہمارا مسئلہ ہے۔ ہمارا فریضہ تو یہ ہے کہ ہم تمام لوگوں کو اسلام کی دعوت دیں اور ایک ایک تک پہنچائیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمارا یہ بھی فریضہ ہے کہ ہم لوگوں کو ان کے موجودہ دین کی حقیقت سمجھائیں۔ یہ کہ یہ دین اللہ کا دین قطعاً نہیں ہے۔ اللہ کا دین تو وہ ہے جو اس کے نصوص کی صورت میں بطور نظام زندگی اور نظام قانون کے موجود ہے۔ اس طرح اسلامی عقائد کے ساتھ جو شخص اللہ کے نظام اور قانون کو بھی رائج اور نافذ کرے گا وہی دین اسلام میں ہوگا۔ جو شخص کسی بادشاہ یا دوسرے شخص کا نظام رائج کرے گا وہ اس کے نظام اور دین میں ہوگا۔ یہ مسئلہ مختلف فیہ نہیں ہے۔

وہ لوگ جو اس دین کے مفہوم ہی سے ناواقف ہیں ، ان کے بارے میں اس بات کا امکان ہی نہیں ہے کہ وہ اس دین کا اعتقاد رکھتے ہوں ۔ کیونکہ ان کی جہالت کا تعلق دین کی بنیاد سے وابستہ ہے اور جو شخص کسی چیز کی حقیقت کا علم نہ رکھتا ہو وہ عقلاً اور واقعتاً اس چیز پر اعتقاد رکھنے کے قابل ہی نہیں رہتا۔ کیونکہ عقیدہ علم کے بعد آتا ہے۔ یہ بات ہدایتہً ثابت ہے کہ علم کے بغیر عقیدہ ممکن نہیں ہے۔

پس ہمارے لیے یہ بہتر ہے کہ ہم لوگوں کے سامنے دین کے اصل مفہوم اور دین کی حقیقت ظاہر کریں ۔ بجائے اس کے کہ ہم ان کی جانب سے بےجامد افعت کریں ، ان کے لیے عذرات تلاش کریں ، ان کے لئے ہم اللہ کریم سے بھی زیادہ رحمدل ہوجائیں۔ جبکہ وہ درحقیقت اللہ کے دین میں داخل نہیں ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں پالیسی یہ ہونا چاہئے کہ انہیں صاف صاف بتا دیا جائے کہ ان کی یہ پوزیشن ہے چاہے وہ دین کو اپنائیں یا چھوڑ دیں۔

یہ پالیسی ہمارے لیے بھی مفید ہے اور ان عوام الناس کے لیے بھی مفید ہے۔ اس طرح ہم ان جاہلوں کی گمراہی کے نتائج بھگتنے سے بھی بچ جائیں گے کیونکہ یہ لوگ دین کے مفہوم کو نہ پانے کی وجہ سے دین کے معتقد ہی نہیں رہے۔ اگر ہم ان لوگوں کے سامنے دین کی اصل حقیقت پیش کردیں جو دراصل دین اسلام میں داخل نہیں ہیں بلکہ دین شاہ وغیرہ میں ہیں تو ممکن ہے کہ ان کا ضمیر بیدار ہوجائے اور وہ در حقیقت دین اسلام میں داخل ہوجائیں۔

یہی پالیسی نبی کریم ﷺ کی رہی ہے اور یہی پالیسی تمام داعیان حق کی ہونی چاہیے ، ہر زمان و مکان میں ہونی چاہیے ، تمام جاہلوں اور جاہلیت پرستوں کے مقابلے میں۔

اردو ترجمہ

ان بھائیوں نے کہا "یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسفؑ) بھی چوری کر چکا ہے" یوسفؑ ان کی یہ بات سن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی بس (زیر لب) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ "بڑے ہی برے ہو تم لوگ، (میرے منہ در منہ مجھ پر) جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo in yasriq faqad saraqa akhun lahu min qablu faasarraha yoosufu fee nafsihi walam yubdiha lahum qala antum sharrun makanan waAllahu aAAlamu bima tasifoona

اس مختصر سبق آموز تبصرے کے بعد اب ہم برادران یوسف (علیہ السلام) کی طرف لوٹتے ہیں۔ حالات ایسے ہیں کہ اس مشکل مرحلے سے دو چار ہو کر یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے خلاف ان کے دل میں چھپی ہوئی عداوت اور بغض و حسد اب اہل پڑا ہے۔ چناچہ وہ اپنے آپ کو اس جرم سے بری قرار دے کر ، اس کا ذمہ دار حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی دوسری بیوی کی اولاد کو ٹھہراتے ہیں۔

قالوا ان یسرق فقد سرق اخ لہ من قبل (12 : 77) ان بھائیوں نے کہا “ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی (یوسف (علیہ السلام) بھی چوری کرچکا ہے ”۔ ہمارے تفاسیر کے ذخیرے میں اس الزام پر طویل تبصرے ، حکایات اور روایات بیان کی گئی ہیں ، جو سب کی سب اسرائلیات پر مشتمل ہیں۔ یہ کہ اس کی طرف سے سرقہ قابل تعجب نہیں ہے۔ اس سے قبل اس کے بھائی (یوسف (علیہ السلام) اس جرم کا ارتکاب کرچکے ہیں۔ گویا انہوں نے تو یوسف (علیہ السلام) کے بارے میں باپ کے سامنے جھوٹ نہیں کہا تھا۔ کیا وہ اب عزیز مصر کے سامنے جھوٹ نہیں بول رہے کہ اپنے آپ کو اس شرمندگی سے نکالیں اور اس طرح وہ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائی سے قدرے علیحدہ کردیں۔ اس طرح یوسف (علیہ السلام) اور ان کے بھائی کے حق میں اپنے قدیمی بغض اور حسد کو ظاہر کردیں۔ حقیقت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت یوسف (علیہ السلام) پر یہ بالکل ناحق اور جھوٹا الزام لگایا۔

فاسرھا یوسف فی نفسہ ولم یبدھالھم (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) ان کی یہ بات سن کر پی گیا اور یہ بات ان پر نہ کھولی ”۔ یوسف (علیہ السلام) نے ان کو اس الزام کے جواب میں ، اپنی حقیقت ان پر نہ کھولی ، بات کو پی گئے اور اپنے تاثرات کا اظہار نہ کیا۔ حالانکہ وہ جانتے تھے کہ وہ اور ان کے بھائی دونوں بری الذمہ ہیں۔ البتہ انہوں نے صرف اتنا کہا :

قال انتم شرمکانا (12 : 77) “ تم بہت ہی برے لوگ ہو ”۔ یعنی تم یہ جھوٹا الزام لگا رہے ہو اور جس پر تم الزام لگا رہے ہو ، اس کے مقابلے میں تم تو بہت ہی برے ہو ”۔

قال انتم شر مکاناً (12 : 77) “ یوسف (علیہ السلام) نے کہا ، تم بہت ہی برے ہو ”۔ یعنی تم جس پر الزام سرقہ لگا رہے ہو اس کے مقابلے میں اللہ کے نزدیک تم خود بہت ہی برے ہو ، اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے جو کچھ کہا۔ یہ محض گالی نہ تھی بلکہ حقیقت تھی۔

واللہ اعلم بما تصفون (12 : 77) “ جو الزام تم لگا رہے ہو ، اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے ”۔ اور اس واقعہ کی حقیقت بھی اور تمہارے الزام کی حقیقت بھی۔ یوں اللہ پر چھوڑ کر حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بات کو یہاں ہی ختم کردیا کیونکہ یہاں مطلب و موضوع کے ساتھ اس واقعہ کا تعلق نہیں ہے۔

اب یہ لوگ اس پریشان کن صورت حال پر غور کرنے لگے جس میں وہ گرفتار ہوگئے تھے۔ سوچنے لگے کہ والد نے تو پہلے ہی یہ کہا تھا کہ :

لتاتننی بہ الا این یحاط بکم (12 : 66) “ تم ضرور اسے لے کر آؤ گے الا یہ کہ تم سب گھر جاؤ ”۔ اب وہ حضرت یوسف (علیہ السلام) سے رحم کی اپیل کرنے لگے۔ اس نوجوان بھائی کے بہت ہی بوڑھے باپ کا واسطہ دینے لگے ، یہ پیش کرنے لگے کہ اس کی جگہ ہم میں سے کسی ایک کو گرفتار کرلے ۔ یہ ان کو یاد دلا رہے ہیں کہ یوسف (علیہ السلام) تم بہت محسن ، نیک نفس انسان ہو اور اس کے باپ ہی کی خاطر اسے رہا کردو۔

قالوا یایھا العزیز ۔۔۔۔۔ المحسنین (12 : 78) “ انہوں نے کہا “ اے سردار ذی اقتدار (عزیر) اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں ”۔ لیکن حضرت یوسف (علیہ السلام) تو انہیں مزید سبق پڑھانا چاہتے تھے۔ وہ ان کو اس اچانک خوشی کے لئے تیار کررہے تھے ، جو ان کے لیے ، ان کے والد کے لئے اور سب رشتہ داروں کے لئے آرہی تھی تا کہ وہ بےحد خوش ہوں اور ان پر اس کا گہرا اثر ہو۔

اردو ترجمہ

انہوں نے کہا "اے سردار ذی اقتدار (عزیز)، اس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qaloo ya ayyuha alAAazeezu inna lahu aban shaykhan kabeeran fakhuth ahadana makanahu inna naraka mina almuhsineena
244