اِنَّا نَرٰىكَ مِنَ الْمُحْسِنِيْنَ یہ صورت حال ان لوگوں کے لیے بہت پریشان کن تھی۔ باپ کا اعتماد وہ پہلے ہی کھو چکے تھے۔ اس دفعہ اللہ کے نام پر عہد کر کے بن یامین کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اب خیال آتا تھا کہ اگر اسے یہاں چھوڑ کر واپس جاتے ہیں تو والد کو جا کر کیا منہ دکھائیں گے۔ چناچہ وہ گڑ گڑانے پر آگئے اور حضرت یوسف کی منت سماجت کرنے لگے کہ آپ بہت شریف اور نیک انسان ہیں ‘ آپ ہم میں سے کسی ایک کو اس کی جگہ اپنے پاس رکھ لیں مگر اس کو جانے دیں۔
جب بنیامین کے پاس سے شاہی مال برآمد ہوا اور ان کے اپنے اقرار کے مطابق وہ شاہی قیدی ٹھر چکے تو اب انہیں رنج ہونے لگا۔ عزیز مصر کو پرچانے لگے اور اسے رحم دلانے کے لئے کہا کہ ان کے والد ان کے بڑے ہی دلدادہ ہیں۔ ضعیف اور بوڑھے شخض ہیں۔ ان کا ایک سگا بھائی پہلے ہی گم ہوچکا ہے۔ جس کے صدمے سے وہ پہلے ہی سے چور ہیں اب جو یہ سنیں گے تو ڈر ہے کہ زندہ نہ بچ سکیں۔ آپ ہم میں سے کسی کو ان کے قائم مقام اپنے پاس رکھ لیں اور اسے چھوڑ دیں آپ بڑے محسن ہیں، اتنی عرض ہماری قبول فرما لیں۔ حضرت یوسف ؑ نے جواب دیا کہ بھلا یہ سنگدلی اور ظلم کیسے ہوسکتا ہے کہ کرے کوئی بھرے کوئی۔ چور کو روکا جائے گا نہ کہ شاہ کو ناکردہ گناہ کو سزا دینا اور گنہگار کو چھور دینا یہ تو صریح ناانصافی اور بدسلوکی ہے۔