یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔
یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔
وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔
لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔
وَابْيَضَّتْ عَيْنٰهُ مِنَ الْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيْمٌحضرت یعقوب کو حضرت یوسف سے بہت محبت تھی۔ بیٹے کے ہجر اور فراق میں آپ کے دل پر جو گزری تھی خود قرآن کے یہ الفاظ اس پر گواہ ہیں۔ یہ انسانی فطرت کا ایک ناگزیر تقاضا ہے جسے یہاں اچھی طرح سمجھنے کی ضرورت ہے۔ کسی کے بچے کا فوت ہوجانا یقیناً بہت بڑا صدمہ ہے لیکن بچے کا گم ہوجانا اس سے کئی گنا بڑا صدمہ ہے۔ فوت ہونے کی صورت میں اپنے سامنے تجہیز و تکفین ہونے سے اپنے ہاتھوں دفن کرنے اور قبر بنا لینے سے کسی قدر صبر کا دامن ہاتھ میں رہتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس صبر میں ثبات پیدا ہوتا جاتا ہے۔ مگر بچے کے گم ہونے کی صورت میں اس کی یاد مستقل طور پر انسان کے لیے سوہان روح بن جاتی ہے۔ یہ خیال کسی وقت چین نہیں لینے دیتا کہ نہ معلوم بچہ زندہ ہے یا فوت ہوگیا ہے۔ اور اگر زندہ ہے تو کہاں ہے ؟ اور کس حال میں ہے ؟ یہی دکھ تھا جو حضرت یعقوب کو اندر ہی اندر کھا گیا تھا اور رو رو کر آپ کی آنکھیں سفید ہوچکی تھیں۔ آپ کو وحی کے ذریعے یہ تو بتلا دیا گیا تھا کہ یوسف زندہ ہیں اور آپ سے ضرور ملیں گے مگر کہاں ہیں ؟ کس حال میں ہیں ؟ اور کب ملیں گے ؟ یہ وہ سوالات تھے جو آپ کو سالہا سال سے مسلسل کرب میں مبتلا کیے ہوئے تھے۔ اب بن یامین کی جدائی پر یوسف کا غم پوری شدت سے عود کر آیا۔