اس صفحہ میں سورہ Yusuf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ يوسف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
قَالَ مَعَاذَ ٱللَّهِ أَن نَّأْخُذَ إِلَّا مَن وَجَدْنَا مَتَٰعَنَا عِندَهُۥٓ إِنَّآ إِذًا لَّظَٰلِمُونَ
فَلَمَّا ٱسْتَيْـَٔسُوا۟ مِنْهُ خَلَصُوا۟ نَجِيًّا ۖ قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوٓا۟ أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ ٱللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِى يُوسُفَ ۖ فَلَنْ أَبْرَحَ ٱلْأَرْضَ حَتَّىٰ يَأْذَنَ لِىٓ أَبِىٓ أَوْ يَحْكُمَ ٱللَّهُ لِى ۖ وَهُوَ خَيْرُ ٱلْحَٰكِمِينَ
ٱرْجِعُوٓا۟ إِلَىٰٓ أَبِيكُمْ فَقُولُوا۟ يَٰٓأَبَانَآ إِنَّ ٱبْنَكَ سَرَقَ وَمَا شَهِدْنَآ إِلَّا بِمَا عَلِمْنَا وَمَا كُنَّا لِلْغَيْبِ حَٰفِظِينَ
وَسْـَٔلِ ٱلْقَرْيَةَ ٱلَّتِى كُنَّا فِيهَا وَٱلْعِيرَ ٱلَّتِىٓ أَقْبَلْنَا فِيهَا ۖ وَإِنَّا لَصَٰدِقُونَ
قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَكُمْ أَنفُسُكُمْ أَمْرًا ۖ فَصَبْرٌ جَمِيلٌ ۖ عَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِيَنِى بِهِمْ جَمِيعًا ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْعَلِيمُ ٱلْحَكِيمُ
وَتَوَلَّىٰ عَنْهُمْ وَقَالَ يَٰٓأَسَفَىٰ عَلَىٰ يُوسُفَ وَٱبْيَضَّتْ عَيْنَاهُ مِنَ ٱلْحُزْنِ فَهُوَ كَظِيمٌ
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَٰلِكِينَ
قَالَ إِنَّمَآ أَشْكُوا۟ بَثِّى وَحُزْنِىٓ إِلَى ٱللَّهِ وَأَعْلَمُ مِنَ ٱللَّهِ مَا لَا تَعْلَمُونَ
حضرت یوسف (علیہ السلام) نے یہ نہیں کہا کہ پناہ خدا کی ، کہ ہم کسی چور کے بدلے ایک بےگناہ کو پکڑ لیں۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ بھائی چور نہیں ہے ، اس لیے انہوں نے نہایت ہی ٹیکنیکل انداز تعبیر اختیار کیا۔ اگرچہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی زبان مصری ہوگی لیکن قرآن نے ان کی جو حالت بتائی ہے ظاہر ہے وہ اصل کے مطابق ہے۔ “ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ”۔ ان الفاظ میں بالکل سادہ حقیقت کا اظہار ہے ، نہ الزام ہے اور اس کی طرف اشارہ کہ مال رکھا کس نے۔
انا اذا لظلمون “ اگر ہم دوسرے کو گرفتار کریں تو ہم ظالم ہوں گے ”۔ بس یہ آخری بات تھی ۔ وہ سمجھ گئے کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا۔ اب وہ سوچنے لگے کہ والد کو کس طرح منہ دکھائیں گے۔
درس نمبر 110 تشریح آیات
80 ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ 101
برادران یوسف اب برادر خورد کے چھڑانے سے مایوس ہوچکے ہیں۔ یوسف (علیہ السلام) کے دربار سے ذرا ہٹ کر وہ ایک مجلس مشاورت منعقد کرتے ہیں۔ یہ بھی ایک عجیب منظر ہے ۔ سیاق کلام میں سب کے اقوال و تجاویز کا تذکرہ نہیں کیا گیا۔ البتہ اس مشاورت کا آخری قول اور فیصلہ کن تجویز یہاں دے دی گئی۔
آیت نمبر 80 تا 82
برادران یوسف (علیہ السلام) میں سے بڑے بھائی سب سے پہلے ان کو یاد دلاتے ہیں کہ والد نے تم سے پختہ عہد لیا ہے اور یہ کہ اس سے پہلے تم یوسف (علیہ السلام) کے ساتھ بھی زیادتی کرچکے ہو ، اور وہ اس کا اقرار کرلیتے ہیں۔ پھر ہو فیصلہ کن تجویز دیتے ہیں کہ وہ مصر کو اس وقت تک نہ چھوڑیں گے جب تک ان کے والد اجازت نہیں دیتے یا اللہ تعالیٰ کوئی فیصلہ نہیں فرماتے ، اللہ کے فیصلے کے وہ بہرحال پابند ہیں۔ وہ کیا کریں ؟ تو ان سے انہوں نے کہا کہ تم جاؤ اور باپ سے صاف صاف کہو کہ آپ کے بیٹے نے چوری کا ارتکاب کیا ہے۔ پکڑا گیا ، یہ ہے ان کا علم اور مشاہدہ۔ اگر وہ بری الذمہ اور بےگناہ ہے اور اصل حقیقت کچھ اور ہے تو اس سے وہ بیخبر ہیں۔ ان کو بالکل یہ توقع نہ تھی کہ ان کو ایسا حادثہ پیش آئے گا۔ یہ تو ہے اس معاملے کا ظاہری پہلو ، اگر اصل بات کوئی اور ہو تو وہ امر غیبی ہوگی اور ہم اس کو نہیں جانتے۔ نہ جاننے کے مکلف ہیں اور یہ بات ان کی نسبت غیب ہی تھی اور کوئی شخص غیبی واقعات کا دفاع نہیں کرسکتا۔ اور یہ کہ اگر آپ کو ہماری بات پر یقین نہیں آتا تو آپ ، شہر کے دوسرے لوگوں سے پوچھ سکتے ہیں اور پھر مصر سے ہم جس قافلے کے ساتھ آئے ہیں ، اس سے بھی پوچھ سکتے ہیں کیونکہ وہ اکیلے تو نہ تھے ، آج کل مصر کو قافلے پر قافلہ جارہا ہے اور وہاں سے لوگ غلہ لے کر آتے ہیں۔ مصر کے گرد تمام علاقے قحط کی لپیٹ میں ہیں ، سخت خشک سالی ہے۔
٭٭٭
اب وہ کس حال میں واپس آئے ، سفر کس طرح بےہوا ، یہاں ان تفصیلات کو حذف کردیا گیا ہے۔ یہ لوگ اب غم زدہ باپ کے سامنے کھڑے ہیں۔ انہوں نے ماجرا سنا دیا۔ غم زدہ باپ کا صرف ایک مختصر جواب سیاق کلام میں نقل کردیا جاتا ہے۔ نہایت ہی اندوہناک الفاظ میں ۔ لیکن ان کے کلام میں اب بھی امید کی ایک کرن باقی ہے۔ وہ توقع کرتے ہیں کہ خدا دونوں بچے ان کو واپس کر دے گا۔ بلکہ تینوں کو واپس کر دے گا۔ کیونکہ تیسرا بھی مصر میں دھرنا مار کر بیٹھ گیا ہے۔ اس بوڑھے باپ کے شکستہ دل میں اب بھی ایک عجیب امید ہے۔ یہ ہے پیغمبرانہ بصیرت !
آیت نمبر 83
تمہارے نفوس نے بہت ہی بڑے گناہ کو سہل بنا دیا ہے۔ تم بھائیوں کے خلاف سازش کرتے ہو۔ میں اس پر صبر ہی کرسکتا ہوں۔ یہ الفاظ حضرت یعقوب (علیہ السلام) نے یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کے وقت بھی کہے تھے۔ لیکن اس بار یہاں وہ ایک امید بھی ظاہر کرتے ہیں کہ شاید اللہ ان سب کو واپس دلادے۔ بیشک اللہ ہی علیم و حکیم ہے۔ وہ میرے حالات سے بھی واقف ہے اور پسران کے بیانات کی حقیقت بھی جانتا ہے۔ واقعات و امتحانات کی حقیقت بھی وہ جانتا ہے اور جب بھی اللہ کی حکمت کا تقاضا ہوگا تمام واقعات و حقائق سامنے آجائیں گے۔
امید کی یہ کرن اس بوڑھے کے دل میں کہاں سے آئی۔ یہ خدا تعالیٰ سے امید کی کرن تھی ، ذات باری سے ان کا گہرا تعلق تھا۔ اللہ اور اس کی رحمت کے وجود کا پختہ یقین تھا۔ اور یہ یقین اللہ کے برگزیدہ بندوں کے قلوب میں صاف نظر آیا کرتا ہے۔ اور ان کے نزدیک یہ یقین اس قدر حساس ہوتا ہے کہ اس کے مقابلے میں حواسہ خمسہ کا احساس کم نظر آتا ہے۔
یہ ایک غم زدہ والد کی نہایت ہی موثر تصویر کشی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ اس غم کو جھیلنے کے لئے وہ تنہا ہیں ، اس میں ان کے اہل و عیال کے دل شریک نہیں ہیں۔ نہ وہ اس کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور نہ یک جہتی کرتے ہیں۔ لہٰذا وہ علیحدگی میں تنہا ہو کر بیٹھ گئے ہیں۔ اس سے قبل انہیں ایک صدمہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کی گمشدگی کی صورت میں پہنچ چکا تھا ، وہ اسے بھول نہ سکے۔ اور طویل عرصہ گزر جانے کے باوجود اس صدمے میں بھی کوئی کمی نہ آئی تھی۔ اب تازہ صدمہ یوسف (علیہ السلام) کے چھوٹے بھائی کی گرفتاری کی صورت میں پیش آیا ہے ، اور اس کی وجہ سے سابقہ زخم بھی تازہ ہوگئے ہیں۔ اب ان کے صبر جمیل کا پیمانہ لبریز ہوا چاہتا ہے۔
یاسفی علی یوسف (12 : 84) “ ہائے یوسف ! ” انسان اپنے غموں کو چھپاتا ہے ، برداشت کرتا ہے ، اس کے اعضاء ٹوٹ جاتے ہیں اس کی آنکھیں غم سے سفید ہوجاتی ہیں اور یہ غم انہیں اندر ہی اندر میں گھلا رہا ہے۔
وابیضت ۔۔۔۔۔ کظیم (12 : 84) “ اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں اور وہ دل ہی دل میں غم کھائے جا رہا تھا ”۔
لیکن اس کے دوسرے بیٹوں کے دل حضرت یوسف (علیہ السلام) کے حسد سے اس قدر بھرے ہوئے تھے کہ انہیں اپنے بوڑھے باپ کے حال پر بھی رحم نہ آرہا تھا ، ان کی سنگدلی کا یہ عالم تھا کہ ان کے والد کی یہ بےپناہ محبت بھی ان پر اثر انداز نہ ہو رہی تھی۔ بجائے اس کے کہ وہ تعزیت کرتے ، ان کے دل میں شمع امید روشن کرتے وہ ان کو اور مایوس کرتے اور امید کی آخری کرن کو بھی بجھانے کی سعی کرتے ہیں۔
آیت نمبر 85
یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔
لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔
آیت نمبر 86
ان الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک پیغمبر کے دل میں اللہ کی حاکمیت اور اختیار مطلق کا کس قدر گہرا شعور ہوتا ہے۔ خدا رسیدہ لوگوں کو اللہ کے انعامات کا بھی احساس ہوتا ہے اور اللہ کی جلالت شان کا گہرا شعور بھی۔
حضرت یوسف (علیہ السلام) کے متعلق جو ظاہری صورت حالات تھی وہ نہایت ہی مایوس کن تھی اور ایک طویل عرصہ بھی گزر چکا تھا۔ ان کی تو زندگی کی امید ہی قطع ہوچکی تھی چہ جائیکہ یہ امید ہو کہ وہ اپنے والد کو اپنے پاس آنے کی دعوت دیں گے اور اس مایوس کن صورت حال ہی کے نتیجے میں ان کے بیٹوں نے ان کے اس تازہ تجسس پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ لیکن یہ تمام حالات اس اللہ کے بندے کی اس پختہ امید کو متاثر نہ کرسکے جو وہ اللہ سے رکھتے تھے ۔ کیونکہ ان کا اپنے رب سے گہرا رابطہ تھا اور وہ اپنے رب کے بارے میں وہ کچھ جانتے تھے جو وہ دوسرے لوگ نہ جانتے تھے کیونکہ وہ حقائق ان کی نظروں سے اوجھل تھے۔ خصوصاً اس واقعہ کے بارے میں۔
یہ ہے حقیقی ایمان کی قدرو قیمت اور اللہ کی حقیقی معرفت کی شان۔ جب اللہ کے بندوں کو معرفت حاصل ہوتی ہے تو ان پر تجلیات ہوتی ہیں۔ اور وہ عالم شہود میں ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی قدرت اور اللہ کی تقدیر سے وابستہ ہوتے ہیں۔ اور اللہ کی نگرانی اور اس کی رحمت ان کے شامل حال ہوتی ہے ۔ وہ جانتے ہیں کہ اللہ اپنے صالح بندوں کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے۔
یہ الفاظ واعلم من اللہ ما لا تعلمون (12 : 86) “ اور میں اللہ کی طرف سے جو کچھ جانتا ہوں تم نہیں جانتے ” ایسے ہیں جن سے یہ حقیقت اس قدر عیاں ہے کہ ہم اس کو کسی طرح اپنے جملے میں ادا نہیں کرسکتے۔ اس بات کو وہی شخص جان سکتا ہے جس کو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی طرح صبر کا ذوق خاص دیا گیا ہو ، ایسے ہی لوگ جان سکتے ہیں کہ ان کلمات کا مفہوم کیا ہے ؟
اور جن قلوب کے اندر اس قسم کا ذوق پیدا ہوگیا ہو ، یعنی معرفت الٰہی کا ذوق ، ان پر اگر مشکلات اور شدائد کی بارش ہوجائے تو بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ، سوائے اس کے کہ ان شدائد سے ایسے قلوب کا تعلق باللہ ، ذوق معرفت اور مشاہدہ حق مزید قوی ہوجاتا ہے۔
میں اس کے سوا اور کچھ کہنے کی طاقت نہیں رکھتا ، لیکن میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں کہ اس کا مجھ پر بہت ہی بڑا کرم ہے۔ اس کا میرے ساتھ جو تعلق ہے اسے وہ جانتا ہے یا میں۔ وہ تو علیم وخبیر ہے۔
اب حضرت یعقوب (علیہ السلام) یوسف (علیہ السلام) اور اس کے بھائیوں کی تلاش کی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور لڑکوں کو کہتے ہیں کہ وہ مایوس نہ ہوں اللہ کی رحمت بہت ہی وسیع ہے ، اس بات کا امکان ہے کہ وہ سب مل جائیں۔ رحمت الٰہی کا دروازہ ہر وقت کھلا رہتا ہے۔