آیت نمبر 98
لفظ سوف کے ساتھ وعدہ دعا سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ انسان کے زخمی دل سے کدورت نکلتے نکلتے وقت لگتا ہے۔ دلوں کی کدورت جلدی صاف نہیں ہوتی۔
آیت 98 قَالَ سَوْفَ اَسْتَغْفِرُ لَكُمْ رَبِّيْ ۭ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِيْمُ یہاں پر ”سَوْفَ“ کا لفظ بہت اہم ہے۔ یعنی آپ نے فوری طور پر ان کے لیے استغفار نہیں کیا بلکہ وعدہ کیا کہ میں عنقریب تم لوگوں کے لیے اپنے رب سے استغفار کروں گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی اپنے بیٹوں کے بارے میں آپ کے دل میں رنج اور غصہ برقرار تھا۔ شاید آپ کا خیال ہو کہ میں یوسف سے مل کر ساری تفصیلات معلوم کروں گا ‘ اس کے بعد جب تمام معاملات کی صفائی ہوجائے گی تو پھر میں اپنے رب سے ان کے لیے معافی کی درخواست کروں گا۔