سورۃ الانعام: آیت 114 - أفغير الله أبتغي حكما وهو... - اردو

آیت 114 کی تفسیر, سورۃ الانعام

أَفَغَيْرَ ٱللَّهِ أَبْتَغِى حَكَمًا وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنزَلَ إِلَيْكُمُ ٱلْكِتَٰبَ مُفَصَّلًا ۚ وَٱلَّذِينَ ءَاتَيْنَٰهُمُ ٱلْكِتَٰبَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُۥ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّكَ بِٱلْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ ٱلْمُمْتَرِينَ

اردو ترجمہ

پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کر دی ہے؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Afaghayra Allahi abtaghee hakaman wahuwa allathee anzala ilaykumu alkitaba mufassalan waallatheena ataynahumu alkitaba yaAAlamoona annahu munazzalun min rabbika bialhaqqi fala takoonanna mina almumtareena

آیت 114 کی تفسیر

(آیت) ” نمبر 114 تا 117۔

یہ اہم تمہیدی امور یہاں اس لئے لائے گئے ہیں کہ اصل موضوع پر کلام کیا جاسکے ۔ اس کے بعد اس تمہید اور موضوع دونوں کو مسئلہ کفرو ایمان کے ساتھ مربوط کردیا جاتا ہے ۔

آیت 114 اَفَغَیْرَ اللّٰہِ اَبْتَغِیْ حَکَمًا اب پھر یہ متجسسانہ سوال searching question اسی پس منظر میں کیا گیا ہے کہ مشرکین مکہ اللہ کو مانتے تھے۔ چناچہ ان سے پوچھا جا رہا ہے کہ وہ اللہ جس کو تم مانتے ہو ‘ میں نے بھی اسی کو اپنا رب مانا ہے۔ تو کیا اب تم چاہتے ہو کہ میں اس معبود حقیقی کو چھوڑ کر کسی اور کو اپنا حکم تسلیم کرلوں ‘ اور وہ بھی ان میں سے جن کو تم لوگوں نے اپنی طرف سے گھڑ لیا ہے ‘ جن کے بارے میں اللہ نے کوئی سند یا دلیل نازل نہیں کی ہے۔ سورة الزخرف میں اسی نکتہ کو اس انداز میں پیش کیا گیا ہے : قُلْ اِنْ کَان للرَّحْمٰنِ وَلَدٌق فَاَنَا اَوَّلُ الْعٰبِدِیْنَ آپ ﷺ کہیے کہ اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتا تو سب سے پہلے اس کو میں پوجتا۔ یعنی جب میں اللہ کی پرستش کرتا ہوں تو اگر اللہ کا کوئی بیٹا ہوتاتو کیا میں اس کی پرستش نہ کرتا ؟ چناچہ میں جو اللہ کو اپنا معبود سمجھتا ہوں اور کسی کو اس کا بیٹا نہیں مانتاتو جان لیں کہ اس کا کوئی بیٹا ہے ہی نہیں۔ سمجھانے کا یہ انداز جو قرآن میں اختیار کیا گیا ہے بڑا فطری ہے۔ اس میں منطق کے بجائے جذبات سے براہ راست اپیل ہے۔ دروں بینی introspection کی طرف دعوت ہے کہ اپنے دل میں جھانکو ‘ گریبان میں منہ ڈالو اور سوچو ‘ حقیقت تمہیں خود ہی نظر آجائے گی۔ وَّہُوَ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ اِلَیْکُمُ الْکِتٰبَ مُفَصَّلاً ط۔ وَالَّذِیْنَ اٰتَیْنٰہُمُ الْکِتٰبَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّہٗ مُنَزَّلٌ مِّنْ رَّبِّکَ بالْحَقِّ فَلاَ تَکُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ۔ ۔اہل کتاب زبان سے اقرار کریں نہ کریں ‘ اپنے دلوں میں ضروریقین رکھتے ہیں کہ یہ قرآن اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ ہے۔

اللہ کے فیصلے اٹل ہیں حکم ہوتا ہے کہ مشرک جو کہ اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کر رہے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ کیا میں آپس میں فیصلہ کرنے والا بجز اللہ تعالیٰ کے کسی اور کو تلاش کروں ؟ اسی نے صاف کھلے فیصلے کرنے والی کتاب نازل فرما دی ہے یہود و نصاری جو صاحب کتاب ہیں اور جن کے پاس اگلے نبیوں کی بشارتیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ یہ قرآن کریم اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل شدہ ہے تجھے شکی لوگوں میں نہ ملنا چاہیے، جیسے فرمان ہے (فَاِنْ كُنْتَ فِيْ شَكٍّ مِّمَّآ اَنْزَلْنَآ اِلَيْكَ فَسْــــَٔـلِ الَّذِيْنَ يَقْرَءُوْنَ الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ لَقَدْ جَاۗءَكَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ فَلَا تَكُوْنَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِيْنَ) 10۔ یونس :94) یعنی ہم نے جو کچھ وحی تیری طرف اتاری ہے اگر تجھے اس میں شک ہو تو جو لگو اگلی کتابیں پڑھتے ہیں تو ان سے پوچھ لے یقین مان کہ تیرے رب کی جانب سے تیری طرف حق اتر چکا ہے پس تو شک کرنے والوں میں نہ ہو، یہ شرط ہے اور شرط کا واقع ہونا کچھ ضروری نہیں اسی لئے مروی ہے کہ حضور نے فرمایا نہ میں شک کروں نہ کسی سے سوال کروں، تیرے رب کی باتیں صداقت میں پوری ہیں، اس کا ہر حکم عدل ہے، وہ اپنے حکم میں بھی عادل ہے اور خبروں میں صادق ہے اور یہ خبر صداقت پر مبنی ہے، جو خبریں اس نے دی ہیں وہ بلا شبہ درست ہیں اور جو حکم فرمایا ہے وہ سراسر عدل ہے اور جس چیز سے روکا وہ یکسر باطل ہے کیونکہ وہ جس چیز سے روکتا ہے وہ برائی والی ہی ہوتی ہے جیسے فرمان ہے آیت (يَاْمُرُهُمْ بالْمَعْرُوْفِ وَيَنْهٰىهُمْ عَنِ الْمُنْكَرِ وَيُحِلُّ لَهُمُ الطَّيِّبٰتِ وَيُحَرِّمُ عَلَيْهِمُ الْخَـبٰۗىِٕثَ وَيَضَعُ عَنْهُمْ اِصْرَهُمْ وَالْاَغْلٰلَ الَّتِيْ كَانَتْ عَلَيْهِمْ) 7۔ الاعراف :157) وہ انہیں بھلی باتوں کا حکم دیتا ہے اور بری باتوں سے روکتا ہے کوئی نہیں جو اس کے فرمان کو بدل سکے، اس کے حکم اٹل ہیں، دنیا میں کیا اور آخرت میں کیا اس کا کوئی حکم ٹل نہیں سکتا۔ اس کا تعاقب کوئی نہیں کرسکتا۔ وہ اپنے بندوں کی باتیں سنتا ہے اور ان کی حرکات سکنات کو بخوبی جانتا ہے۔ ہر عامل کو اس کے برے بھلے عمل کا بدلہ وہ ضرور دے گا۔

آیت 114 - سورۃ الانعام: (أفغير الله أبتغي حكما وهو الذي أنزل إليكم الكتاب مفصلا ۚ والذين آتيناهم الكتاب يعلمون أنه منزل من ربك بالحق...) - اردو