سورۃ الانعام: آیت 139 - وقالوا ما في بطون هذه... - اردو

آیت 139 کی تفسیر, سورۃ الانعام

وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلْأَنْعَٰمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌ

اردو ترجمہ

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqaloo ma fee butooni hathihi alanAAami khalisatun lithukoorina wamuharramun AAala azwajina wain yakun maytatan fahum feehi shurakao sayajzeehim wasfahum innahu hakeemun AAaleemun

آیت 139 کی تفسیر

آیت ” نمبر 139۔

اس شرک اور بت پرستی سے جو ادہام پیدا ہوئے تھے ‘ انکے اندر یہ لوگ اس قدر آگے بڑھ گئے تھے کہ انہوں نے حلال و حرام کے تعین کا کام بھی اللہ کے بجائے انسانوں کے سپرد کردیا تھا اور دعوی یہ کرتے تھے کہ یہ انسان جو قانون سازی کر رہے ہیں وہی اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ خرافات کی دنیا میں وہ اس مقام تک آپہنچے کہ کہنے لگے کہ ان جانوروں کے پیٹ میں جو کچھ ہے وہ مردوں کے لئے ہے یا شاید یہ بات وہ مذکورہ بالا بحریہ ‘ سائبہ اور وصیلہ وغیرہ کے حق میں کہتے تھے کہ عورتوں کے لئے اس کا کھانا حرام ہے ۔ ہاں ایک صورت ہے کہ اگر یہ جانور مردہ حالت میں پیدا ہو تو عورتیں بھی ان سے کھاسکتی ہیں اور یہ کیوں ؟ اس کا کوئی منطقی جواز ان کے پاس نہ تھا ۔ ہاں جواز صرف یہ تھا کہ انہوں نے قانون سازی کا کام جن لوگوں کے سپرد کردیا تھا ان کی منشا یہ ہوگی یا ان کا مفاد اس میں ہوگا ۔ یہ خالص بےمعنی قانون سازی تھی ۔ یہی وجہ ہے کہ اس آیت کے آخر میں قرآن کریم یہ کہتا ہے کہ یہ نہایت ہی مکروہ قانون ہے ۔ جن لوگوں نے یہ بنایا ہے انہوں نے اللہ پر افتراء پردازی کی ہے ‘ خصوصا یہ بات جو وہ کہتے ہیں کہ یہ بھی من عند اللہ شریعت ہے ۔

آیت ” سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139)

” ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “

وہ تمام امور میں بڑی حکمت کے ساتھ تصرفات کرتا ہے اور اس کے فیصلے اور قانون ایسے نہیں ہوتے جیسے ان جاہلوں کے ہوتے ہیں ۔

جب انسان کلام الہی کو پڑھتے ہوئے ان گمراہیوں پر نظر ڈالتا ہے اور ان گمراہیوں کے حاملین جن خساروں ‘ نقصانات اور مشکلات میں مبتلا ہوتے ہیں ان پر غور کرتا ہے تو وہ یہ دیکھ کر نہایت ہی تعجب میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ لوگ اسلامی شریعت اور اسلامی نظام سے انحراف کرکے کس قدر نقصانات اٹھا رہے ہیں اور کن ناقابل برداشت ذمہ داریوں میں گھر گئے ہیں ۔ ان ذمہ داریوں کو لے کر وہ کس قدر فضول اور مجمل ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان فرائض ایسے عائد کردئیے گئے ہیں کہ ناقابل فہم امور میں مبتلا ہوگئے ہیں ۔ ان کے عقائد غلط ہیں اور ان پر فرائض ایسے عائد کردیئے گئے ہیں ۔ کہ ناقابل برداشت ہیں ۔ ان کی زندگی پیچیدہ اور اضطراب انگیز ہے ۔ زندگی کا کوئی اصول نہیں ہے ۔ ہر طرف وہم و خرافات اور تقلید اور نقل ہے ۔ ان سب حالات کے مقابلے میں اسلام کا عقیدہ توحید ہے جو بالکل صاف ستھرا اور واضح ہے ۔ عقیدہ انسانی ذہن سے ادہام اور خرافات کو کھرچ کر رکھ دیتا ہے اور انسانی عقل کو اندھی تقلید کی پیروی اور جکڑی بندیوں سے آزاد کردیتا ہے ۔ یہ عقیدہ انسانیت کو جاہلیت اور اس کی رسومات سے رہائی دلاتا ہے ۔ پھر یہ عقیدہ بندوں کو بندوں کی غلامی سے آزاد کرتا ہے ‘ چاہے یہ غلامی قانون سازی کے معاملے میں ہو ‘ یا رسومات اور طرز عمل میں ہو یا حسن وقبح کے پیمانوں کے میدان میں ہوں۔ اس جنگل سے نکال کر عقیدہ توحید انسان کو ایک واضح نظریہ دیتا ہے ۔ ایک واضح معنی دیتا ہے ۔ اس کے تصورات واضح اور آسان ہیں ۔ ان تصورات کی روشنی میں انسان کو ہمہ گیر آزادی نصیب ہوجاتی ہے اور انسان صرف اللہ کی بندگی اور غلامی کے اعلی ارفع مقام تک پہنچ جاتا ہے ۔ لوگ نبی کی اتباع سے وہاں پہنچ سکتے ہیں۔

آہ ! یہ ایک عظیم خسارہ ہے اور یہ خسارہ دنیا میں بھی ہے اور آخرت میں بھی ‘ بلکہ آخرت کا خسارہ تو بہت ہی زیادہ ہے اور یہ اس لئے ہے کہ انسانیت نے اللہ کی سیدھی راہ سے انحراف کرلیا ہے اور جاہلیت کی گندگی میں ڈوب گئی ہے ۔ اس نے انسانوں کی غلامی میں اپنے آپ کو دے دیا ہے ۔

آیت 139 وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج۔یعنی کسی حاملہ مادہ جانور اونٹنی یا بکری وغیرہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا گوشت صرف مردوں کے لیے ہوگا ‘ عورتوں کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُط سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ۔ان ساری رسموں اور خود ساختہ عقائد کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہماری شریعت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے اور ہمارے آباء واجداد بھی اسی پر عمل کرتے تھے۔

نذر نیاز ابن عباس فرماتے ہیں جاہلیت میں یہ بھی رواج تھا کہ جن چوپایوں کو وہ اپنے معبودان باطل کے نام کردیتے تھے ان کا دودھ صرف مرد پیتے تھے جب انہیں بچہ ہوتا تو اگر نر ہوتا تو صرف مرد ہی کھاتے اگر مادہ ہوتا تو اسے ذبح ہی نہ کرتے اور اگر پیٹ ہی سے مردہ نکلتا تو مرد عورت سب کھاتے اللہ نے اس فعل سے بھی روکا۔ شعبی کا قول ہے کہ بحیرہ کا دودھ صرف مرد پیتے اور اگر وہ مرجاتا تو گوشت مرد عورت سب کھاتے۔ ان کی ان جھوٹی باتوں کا بدلہ اللہ انہیں دے گا کیونکہ یہ سب ان کا جھوٹ اللہ پر باندھا ہوا تھا، فلاح و نجات اسی لئے ان سے دور کردی گئی تھی۔ یہ اپنی مرضی سے کسی کو حلال کسی کو حرام کرلیتے تھے پھر اسے رب کی طرف منسوب کردیتے تھے اللہ جیسے حکیم کا کوئی فعل کوئی قول کوئی شرع کوئی تقدیر بےحکمت نہیں تھی وہ اپنے بندوں کے خیر و شر سے دانا ہے اور انہیں بدلے دینے والا ہے۔

آیت 139 - سورۃ الانعام: (وقالوا ما في بطون هذه الأنعام خالصة لذكورنا ومحرم على أزواجنا ۖ وإن يكن ميتة فهم فيه شركاء ۚ سيجزيهم...) - اردو