اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَقَالُوا۟ هَٰذِهِۦٓ أَنْعَٰمٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لَّا يَطْعَمُهَآ إِلَّا مَن نَّشَآءُ بِزَعْمِهِمْ وَأَنْعَٰمٌ حُرِّمَتْ ظُهُورُهَا وَأَنْعَٰمٌ لَّا يَذْكُرُونَ ٱسْمَ ٱللَّهِ عَلَيْهَا ٱفْتِرَآءً عَلَيْهِ ۚ سَيَجْزِيهِم بِمَا كَانُوا۟ يَفْتَرُونَ
وَقَالُوا۟ مَا فِى بُطُونِ هَٰذِهِ ٱلْأَنْعَٰمِ خَالِصَةٌ لِّذُكُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَىٰٓ أَزْوَٰجِنَا ۖ وَإِن يَكُن مَّيْتَةً فَهُمْ فِيهِ شُرَكَآءُ ۚ سَيَجْزِيهِمْ وَصْفَهُمْ ۚ إِنَّهُۥ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
قَدْ خَسِرَ ٱلَّذِينَ قَتَلُوٓا۟ أَوْلَٰدَهُمْ سَفَهًۢا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا۟ مَا رَزَقَهُمُ ٱللَّهُ ٱفْتِرَآءً عَلَى ٱللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا۟ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ
۞ وَهُوَ ٱلَّذِىٓ أَنشَأَ جَنَّٰتٍ مَّعْرُوشَٰتٍ وَغَيْرَ مَعْرُوشَٰتٍ وَٱلنَّخْلَ وَٱلزَّرْعَ مُخْتَلِفًا أُكُلُهُۥ وَٱلزَّيْتُونَ وَٱلرُّمَّانَ مُتَشَٰبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَٰبِهٍ ۚ كُلُوا۟ مِن ثَمَرِهِۦٓ إِذَآ أَثْمَرَ وَءَاتُوا۟ حَقَّهُۥ يَوْمَ حَصَادِهِۦ ۖ وَلَا تُسْرِفُوٓا۟ ۚ إِنَّهُۥ لَا يُحِبُّ ٱلْمُسْرِفِينَ
وَمِنَ ٱلْأَنْعَٰمِ حَمُولَةً وَفَرْشًا ۚ كُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ وَلَا تَتَّبِعُوا۟ خُطُوَٰتِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۚ إِنَّهُۥ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِينٌ
آیت 138 وَقَالُوْا ہٰذِہٖٓ اَنْعَامٌ وَّحَرْثٌ حِجْرٌق لاَّ یَطْعَمُہَآ اِلاَّ مَنْ نَّشَآءُ بِزَعْمِہِمْ یعنی یہ ساری خود ساختہ پابندیاں وہ بزعم خویش درست سمجھتے تھے۔وَاَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُوْرُہَا وَاَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُوْنَ اسْمَ اللّٰہِ عَلَیْہَا افْتِرَآءً عَلَیْہِ ط۔یعنی اپنے مشرکانہ توہمات کے تحت بعض جانوروں کو سواری اور بار برداری کے لیے ممنوع قرار دیتے تھے اور کچھ حیوانات کے بارے میں طے کرلیتے تھے کہ ان کو جب ذبح کرنا ہے تو اللہ کا نام ہرگز نہیں لینا۔ لہٰذا اس سے پہلے آیت 121 میں جو حکم آیا تھا کہ مت کھاؤ اس چیز کو جس پر اللہ تعالیٰ کا نام نہ لیا جائے وہ دراصل ان کے اس عقیدے اور رسم کے بارے میں تھا ‘ وہ عام حکم نہیں تھا۔ سَیَجْزِیْہِمْ بِمَا کَانُوْا یَفْتَرُوْنَ ۔یہ جھوٹی چیزیں جو انہوں نے اللہ کے بارے میں گھڑ لی ہیں ‘ اللہ ضرور انہیں اس جھوٹ کی سزا دے گا۔
آیت 139 وَقَالُوْا مَا فِیْ بُطُوْنِ ہٰذِہِ الْاَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُوْرِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلٰٓی اَزْوَاجِنَا ج۔یعنی کسی حاملہ مادہ جانور اونٹنی یا بکری وغیرہ کے پیٹ میں جو بچہ ہے اس کا گوشت صرف مردوں کے لیے ہوگا ‘ عورتوں کے لیے اس کا کھانا جائز نہیں ہے۔ وَاِنْ یَّکُنْ مَّیْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَآءُط سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْط اِنَّہٗ حَکِیْمٌ عَلِیْمٌ ۔ان ساری رسموں اور خود ساختہ عقائد کے بارے میں وہ دعویٰ کرتے تھے کہ یہ ہماری شریعت ہے جو حضرت ابراہیم علیہ السلام سے چلی آرہی ہے اور ہمارے آباء واجداد بھی اسی پر عمل کرتے تھے۔
آیت 140 قَدْ خَسِرَ الَّذِیْنَ قَتَلُوْٓا اَوْلاَدَہُمْ سَفَہًام بِغَیْرِعِلْمٍ وَّحَرَّمُوْا مَا رَزَقَہُمُ اللّٰہُ افْتِرَآءً عَلَی اللّٰہِ ط۔یعنی ان ساری غلط رسومات کا انتساب وہ لوگ اللہ کے نام کرتے تھے۔ دوسری طرف وہ بتوں کے نام پر قربانیاں دیتے اور استھانوں پر نذرانے بھی چڑھاتے تھے۔ اسی طرح کے نذرانے وہ اللہ کے نام پر بھی دیتے تھے۔ یہ سارے معاملات ان کے ہاں اللہ تعالیٰ اور بتوں کے لیے مشترکہ طور پر چل رہے تھے۔ اس طرح انہوں نے سارا دین مشتبہ اور گڈ مڈ کردیا تھا۔
آیت 141 وَہُوَ الَّذِیْٓ اَنْشَاَ جَنّٰتٍ مَّعْرُوْشٰتٍ وَّغَیْرَ مَعْرُوْشٰتٍ ’ ’ معروشات کے زمرے میں بیل نما پودے آتے ہیں ‘ جن کا اپنا تنا نہیں ہوتا جس پر خود وہ کھڑے ہوسکیں۔ اس لیے ایسے پودوں کو سہارا دے کر کھڑا کرنا پڑتا ہے ‘ جیسے انگور کی بیل وغیرہ۔ دوسری طرف غیرمعروشات میں عام درخت شامل ہیں جو خود اپنے مضبوط تنے پر کھڑے ہوتے ہیں ‘ جیسے انار یا آم کا درخت ہے۔ وَّالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفًا اُکُلُہٗ وَالزَّیْتُوْنَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہًا وَّغَیْرَمُتَشَابِہٍ ط۔یہ اللہ تعالیٰ کی صناعی کی مثالیں ہیں کہ اس نے مختلف النوع درخت ‘ کھیتیاں اور پھل پیدا کیے ‘ جو آپس میں ملتے جلتے بھی ہیں اور مختلف بھی۔ جیسے Citrus Family کے پھلوں میں کینو ‘ فروٹر اور مالٹا وغیرہ شامل ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سب ایک ہی قسم یا خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور شکل ‘ ذائقہ وغیرہ میں ایک دوسرے کے مشابہ ہونے کے باوجود سب کی اپنی اپنی الگ پہچان ہے۔ کُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖٓ اِذَا اَثْمَرَ وَاٰتُوْا حَقَّہٗ یَوْمَ حَصَادِہٖ یعنی جیسے زمین کی پیداوار میں سے عشرکا ادا کرنا فرض ہے ‘ ایسے ہی ان پھلوں پر بھی زکوٰۃ دینے کا حکم ہے۔ لہٰذا کھیتی اور پھلوں کی پیدوار میں سے اللہ تعالیٰ کا حق نکال دیا کرو۔
آیت 142 وَمِنَ الْاَنْعَامِ حَمُوْلَۃً وَّفَرْشًا ط حَمُوْلَۃ وہ جانور ہیں جو قد کاٹھ اور ڈیل ڈول میں بڑے بڑے ہیں اور جن سے باربرداری کا کام لیا جاسکتا ہے ‘ مثلاً گھوڑا ‘ خچر ‘ اونٹ وغیرہ۔ ان کے برعکس کچھ ایسے جانور ہیں جو اس طرح کی خدمت کے اہل نہیں ہیں اور چھوٹی جسامت کی وجہ سے استعارۃً انہیں فرش زمین سے منسوب کیا گیا ہے ‘ گویا زمین سے لگے ہوئے ہیں ‘ مثلاً بھیڑ ‘ بکری وغیرہ۔ یہ ہر طرح کے جانور اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے پیدا کیے ہیں۔