(آیت) ” وَکَذَلِکَ نُرِیْ إِبْرَاہِیْمَ مَلَکُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضِ وَلِیَکُونَ مِنَ الْمُوقِنِیْنَ (75)
” ابراہیم (علیہ السلام) کو ہم اسی طرح زمین و آسمان کا نظام سلطنت دکھاتے تھے اور اس لئے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے ۔
اس فطرت سلیمہ کے ساتھ ‘ اس کھلی بصیرت کے ساتھ اور طلب حق کی راہ میں اس خلوص کی وجہ سے اور اس اور صراحت کے ساتھ باطل کا انکار کی وجہ سے اللہ نے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو زمین و آسمان کی بادشاہت کے کچھ راز بتائے ‘ جن میں زمین اور آسمانوں میں مملکت الہیہ کے کچھ اصول تھے ۔ اس کائنات کے کچھ خفیہ راز جن پر یہ نظام استوار ہے ‘ پھر اللہ نے انہیں وہ دلائل و شواہد دیئے جو اس کائنات میں موجود تھے ۔ خود ان کی فطرت اور انکے دل کے اندر بھی ان ہی جیسے دلائل و شواہد موجود تھے جو راہ ہدایت دکھا رہے تھے تاکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) باطل کے انکار کے مقام سے آگے بڑھ کر حصول حق اور معرفت حق کے درجے تک پہنچ جائیں اور انہیں پوری طرح یقین آجائے ۔
یہ ہے فطرت کا گہرا طریق کار۔ اس کے مطابق جو فراست دی جاتی ہے وہ کبھی بھی زنگ آلود نہیں ہو سکتی اور انسان کے اندر ایسی بصیرت پیدا ہوجاتی ہے جو اپنی آنکھوں سے اس کائنات میں قدرت کے عجائبات کو دیکھتی ہے ۔ انسان کے اندر ایسا تدبر پیدا ہوتا ہے جو ان مشاہدات عجیبہ کا تتبع کرتا ہے اور آخر کار راز کائنات تک جا پہنچتا ہے ۔ جب اس کے ساتھ انسان اللہ کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے تو اس کے عوض اللہ تعالیٰ اس انسان کی راہنمائی کرتا ہے ۔
یوں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اس کائنات کی سیر شروع کی اور اس راہ سے انہیں اللہ کے فضل وصل نصیب ہوا ۔ پہلے تو وہ اپنی فطرت سلیمہ کے ذریعے حق تعالیٰ کو پکار رہے تھے لیکن اب تو آپ کی قوت مدرکہ اور آپ کے علم میں ذات باری موجود تھی ۔ پہلے تو حقیقت الوہیت کا شعور ان کے ضمیر اور ان کی فطرت سلیمہ میں تھا مگر اب یہ حقیقت ان کے فہم وادراک میں آچکی تھی ۔
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی فطرت صادقہ اور فطرت سلیمہ کا یہ سفر نہایت ہی دلچسپ ہے ۔ اس کا مطالعہ جاری رہنا چاہئے یہ عظیم سفر تھا اگرچہ چشم ظاہر بین کو یہ سفر ایک معمولی سفر نظر آتا ہے ۔ یہ سفر درحقیقت فطری ایمان سے آگے بڑھ کر ایمان مدرک اور ایمان مفہومہ کی طرف انتقال تھا ۔ ایمان مدرک اور ایمان مفہوم کے اوپر ہی شرعی فرائض اور واجبات کا دارومدار ہوتا ہے اور پھر انسان پر شریعت کا اتباع فرض ہوجاتا ہے ۔ یہ ایمان اور اتباع شریعت ‘ وہ مقام ہے جسے صرف لوگوں کے عقلی سفر پر ہی نہیں چھوڑ دیا گیا بلکہ اللہ نے اس کے بیان اور تشریح کے لئے نبوت کو جاری کیا اور سلسلہ رسل کو جاری فرمایا تاکہ لوگ ایمان و شریعت کو صرف اپنی عقل ہی سے معلوم نہ کریں بلکہ رسول اس کی تبلیغ اور تبیین کریں۔
لوگوں پر عقلی ایمان کے بجائے شرعی ایمان اور شرعی دلائل حجت قرار پائیں ۔ آخرت میں بھی جزا وسزا کا مدار ان احکام شرعی پر ہوگا جو رسولوں کی زبانی نازل نہیں ہوئے اور یہ سلسلہ اس لئے جاری کیا کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم تھا کہ انسان صرف اپنی عقل سے ایمان و شریعت کی تفصیلات طے نہیں کرسکتا ۔
رہے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تو وہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) تھے ۔ وہ ایک عام انسان نہ تھے ۔ وہ اللہ کے دوست تھے اور مسلمانوں کے ابو الاباء تھے ۔
آیت 75 وَکَذٰلِکَ نُرِیْٓ اِبْرٰہِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ یہاں ملکوت سے مراد یہ پورا نظام ہے جس کے تحت اللہ تعالیٰ اس کائنات کو چلا رہا ہے۔ یہ نظام گویا ایک Universal Government ہے اور اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ کارندے اسے چلا رہے ہیں۔ اس نظام کا مشاہدہ اللہ تعالیٰ اپنے رسولوں کو کراتا ہے تاکہ ان کا یقین اس درجے کا ہوجائے جیسا کہ آنکھوں دیکھی چیز کے بارے میں ہوتا ہے۔وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ ۔اس فقرے میں و کی وجہ سے ہم اس سے پہلے یہ فقرہ محذوف مانیں گے : تاکہ وہ اپنی قوم پر حجت قائم کرسکے وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ اور ہوجائے پوری طرح یقین کرنے والوں میں سے۔اب آگے جو تفصیل آرہی ہے یہ در حقیقت حضرت ابراہیم علیہ السلام کی طرف سے اپنی قوم پر حجت پیش کرنے کا ایک انداز ہے۔ بعض حضرات کے نزدیک یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے اپنے ذہنی ارتقاء کے کچھ مراحل ہیں ‘ کہ واقعتا انہوں نے یہ سمجھا کہ یہ ستارہ میرا خدا ہے۔ پھر جب وہ چھپ گیا تو انہوں نے سمجھا کہ نہیں نہیں یہ تو ڈوب گیا ہے ‘ یہ خدا نہیں ہوسکتا۔ پھر چاند کو دیکھ کر ایسا ہی سمجھا۔ پھر سورج کو دیکھا تو ایسا ہی خیال ان کے دل میں آیا۔ یہ بعض حضرات کی رائے ہے اور ان الفاظ سے ایسا کچھ متبادر بھی ہوتا ہے ‘ لیکن اس سلسلے میں زیادہ صحیح رائے یہی ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی طریقہ اختیار کیا۔ آگے آیت 83 کے ان الفاظ سے اس موقف کی تائید بھی ہوتی ہے : وَتِلْکَ حُجَّتُنَآ اٰتَیْنٰہَآ اِبْرٰہِیْمَ عَلٰی قَوْمِہٖ ط پھر یہ بات بھی واضح رہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام تو اللہ کے نبی تھے اور کوئی بھی نبی زندگی کے کسی بھی مرحلے پر کبھی شرک کا ارتکاب نہیں کرتا۔ اس کی فطرت اور سرشت اتنی خالص ہوتی ہے کہ وہ کبھی شرک میں مبتلا ہو ہی نہیں سکتا۔ انبیاء کا مرتبہ تو بہت ہی بلند ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے تو صدیقین کو یہ شان عطا کی ہے کہ وہ بھی شرک میں کبھی مبتلا نہیں ہوتے۔ حضرت ابوبکر اور حضرت عثمان رض جو صحابہ کرام رض میں سے صدیقین ہیں ‘ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے بھی کبھی شرک نہیں کیا تھا۔