اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَمَا لَكُمْ أَلَّا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا ذُكِرَ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُم مَّا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلَّا مَا ٱضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ ۗ وَإِنَّ كَثِيرًا لَّيُضِلُّونَ بِأَهْوَآئِهِم بِغَيْرِ عِلْمٍ ۗ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ أَعْلَمُ بِٱلْمُعْتَدِينَ
وَذَرُوا۟ ظَٰهِرَ ٱلْإِثْمِ وَبَاطِنَهُۥٓ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَكْسِبُونَ ٱلْإِثْمَ سَيُجْزَوْنَ بِمَا كَانُوا۟ يَقْتَرِفُونَ
وَلَا تَأْكُلُوا۟ مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ ٱسْمُ ٱللَّهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُۥ لَفِسْقٌ ۗ وَإِنَّ ٱلشَّيَٰطِينَ لَيُوحُونَ إِلَىٰٓ أَوْلِيَآئِهِمْ لِيُجَٰدِلُوكُمْ ۖ وَإِنْ أَطَعْتُمُوهُمْ إِنَّكُمْ لَمُشْرِكُونَ
أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَٰهُ وَجَعَلْنَا لَهُۥ نُورًا يَمْشِى بِهِۦ فِى ٱلنَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُۥ فِى ٱلظُّلُمَٰتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَٰفِرِينَ مَا كَانُوا۟ يَعْمَلُونَ
وَكَذَٰلِكَ جَعَلْنَا فِى كُلِّ قَرْيَةٍ أَكَٰبِرَ مُجْرِمِيهَا لِيَمْكُرُوا۟ فِيهَا ۖ وَمَا يَمْكُرُونَ إِلَّا بِأَنفُسِهِمْ وَمَا يَشْعُرُونَ
وَإِذَا جَآءَتْهُمْ ءَايَةٌ قَالُوا۟ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّىٰ نُؤْتَىٰ مِثْلَ مَآ أُوتِىَ رُسُلُ ٱللَّهِ ۘ ٱللَّهُ أَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهُۥ ۗ سَيُصِيبُ ٱلَّذِينَ أَجْرَمُوا۟ صَغَارٌ عِندَ ٱللَّهِ وَعَذَابٌ شَدِيدٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَمْكُرُونَ
(آیت) ” نمبر 121۔
اس کے بعد ایک بار پھر کفر و ایمان کی اصل حقیقت پر بات کی جاتی ہے اور دو بار تکرار کا مطلب ہے کہ اسلام میں حلال و حرام قرار دینے کا تعلق کفر واسلام سے ہے ۔
یہ بار بار کی تاکید ‘ یہ بار بار کے ربط اور بات کو دہرانے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اسلام کی نظر میں قانون سازی اور اقتدار اعلی انسان کی روز مرہ زندگی کے اندر کس قدر اہمیت رکھتے ہیں ۔
ّ (آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ فَلاَ تَکُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِیْنَ (114)
” پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ‘ حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ اور جن لوگوں کو ہم نے تم سے پہلے کتاب دی تھی وہ جانتے تھے کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔
یہ رسول اللہ ﷺ کی زبانی ایک سوال ہے اور یہ استفہام انکاری ہے ۔ یہ تنبیہ اس بات پر کی گئی ہے کہ کسی کے لئے یہ کوئی درست رویہ نہیں ہے کہ وہ اپنی زندگی کے معاملات میں سے کسی معاملے میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کو حاکم اور فیصلہ کنندہ تسلیم کرے ۔ چناچہ اس طرح اس بات کا فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ اسلامی نظام میں زندگی کے تمام معاملات میں فیصلہ صرف اللہ کے اختیار میں ہوگا اور یہ ایک غیر متنازعہ بات ہے اور اس بات کی ممانعت کردی جاتی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو انسانوں کی زندگیوں میں فیصلے کرنے کا مجاز ہو اور اپنی مرضی کے مطابق وہ ایسا کرتا رہے ۔
(آیت) ” أَفَغَیْْرَ اللّہِ أَبْتَغِیْ حَکَماً “۔ ” کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ؟ “
اس کے بعد اس ناگوار احساس کی تفصیل آتی ہے ‘ ان حالات کی تفصیل بھی بیان کردی جاتی ہے جن کی وجہ سے اللہ کے سوا دوسروں کا اقتدار اعلی ایک قابل سرزنش فعل قرار پاتا ہے ۔ اللہ نے ہر چیز کی تفصیلات دے دی ہیں اور اور بندوں کو اس بات کا محتاج نہیں چھوڑا کہ وہ اپنے لئے خود راہ ہدایت تلاش کرتے پھریں ‘ یا اللہ کے سوا کسی دوسری جگہ سے اپنی زندگی کے مسائل کے فیصلے لیں ۔ اور مشکلات حیات کو حل کریں ۔
(آیت) ” وَہُوَ الَّذِیْ أَنَزَلَ إِلَیْْکُمُ الْکِتَابَ مُفَصَّلاً “۔ ‘” حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے ‘ “۔ یہ کتاب اس لئے نازل کی گئی ہے کہ وہ لوگوں کے درمیان ان معاملات کے فیصلے کرے جن کے بارے میں ان کے درمیان اختلاف ہو اور یوں اللہ کی حاکمیت اور اقتدار اعلی کا ظہور ہو ۔ پھر اللہ نے یہ کتاب نہایت ہی مفصل طور پر نازل کی ہے ۔ اس میں وہ تمام اصول منضبط کردیئے گئے ہیں جن کے اوپر پورا نظام زندگی استوار ہوگا ۔ اس میں بعض فروعی اور جزئی مسائل بھی بیان کردیئے گئے ہیں جن کے بارے میں اللہ کی مرضی یہ تھی کہ وہ انسانی معاشرے کے لئے دائمی احکام ہوں چاہے وہ معاشرہ جس قدر بھی ترقی یافتہ ہو اور علمی لحاظ سے وہ بہت ہی آگے کیوں نہ بڑھ گیا ہو ۔ یہی وجہ ہے کہ اس کتاب کے ہوتے ہوئے پھر کسی دوسرے پلیٹ فارم سے فیصلہ لینے کی سرے سے ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ یہ ہے وہ فیصلہ جو اللہ تعالیٰ نے اپنی اس کتاب کے مقام کے بارے میں کیا ہے ۔ اب اگر کوئی یہ کہتا ہے : ” کہ دنیا ترقی کرچکی ہے اور اب اسے اس کتاب کی طرف رجوع کی ضرورت نہیں ہے تو ہزار بار کہتا پھرے لیکن اسے اس قول کے ساتھ ایک اور بات بھی صاف صاف کہہ دینا چاہئے وہ یہ کہ میں (نعوذ باللہ) کافر ہوں ‘ اس دین اسلام کا منکر ہوں اور اللہ رب العالمین کے اقوال کی تکذیب کرتا ہوں۔
یہاں ان لوگوں کے اردگرد ایک مخصوص صورت حالات بھی موجود ہے ‘ جس کے اندر زندگی کے حالات میں سے کسی حال میں بھی اللہ کے سوا کسی اور مصدر سے فیصلہ طلب کرنا نہایت ہی مکروہ عمل قرار پاتا ہے ‘ اور نہایت ہی عجیب سا لگتا ہے ۔ وہ یہ کہ جن لوگوں کو اس سے قبل آسمانی کتابیں دی گئیں ۔ وہ جانتے ہیں کہ یہ قرآن بھی منزل من اللہ ہے اس لئے کہ وہ کتب سماوی کے بارے میں معرفت رکھنے والے ہیں۔
(آیت) ” وَالَّذِیْنَ آتَیْْنَاہُمُ الْکِتَابَ یَعْلَمُونَ أَنَّہُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّبِّکَ بِالْحَقِّ (6 : 113)
” اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب ہمارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ “
یہ صورت حالات مکہ مکرمہ اور جزیرۃ العرب میں موجود تھی اس لئے اللہ تعالیٰ مشرکین کو اس طرف متوجہ فرماتے ہیں ۔ چاہے اہل کتاب اس حقیقت کو مان کردیں جس طرح بعض لوگوں نے کیا بھی جن کے دل اللہ نے اسلام کے لئے کھول دیئے تھے یا وہ اسے چھپا دیں اور اس کا اظہار نہ کریں ۔ اکثر اہل کتاب نے یہی رویہ اختیار کیا ‘ لیکن دونوں صورتوں میں یہ حقیقت اپنی جگہ موجود تھی کہ اہل کتاب حقیقت سے باخبر تھے ۔ خود اللہ تعالیٰ ان کے علم کے بارے میں شہادت دیتے ہیں اور اللہ کی شہادت سچی ہوتی ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ واضح الفاظ میں فرماتے ہیں کہ یہ لوگ (یعلمون) جانتے ہیں کہ قرآن اللہ کی جانب سے سچائی لے کر نازل ہوا ہے اور اس میں صرف سچائی ہی سچائی ہے اور یہ سچائی منزل من اللہ ہے ۔
آج بھی اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ وہ اس حقیقت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ اس دین کی قوت کا راز صرف یہ ہے کہ اس کی پشت پر عظیم سچائی ہے اور قرآن کریم اسی عظیم سچائی پر مشتمل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اپنے اس علم کی وجہ سے اس دین کے خلاف اس بےجگری سے مسلسل لڑ رہے ہیں ۔ وہ اس کتاب سے بھی لڑتے ہیں اور ان کی یہ لڑائی اس دین کے آغاز سے آج تک جاری ہے ۔ یہ نہایت ہی شدید اور تکلیف دہ جنگ ہے ۔ یہ جنگ اہل کتاب محض اس مقصد کے لئے لڑ رہے ہیں کہ مسلمانوں کی زندگی کے اوپر سے اس کتاب کی حاکمیت ختم کردیں اور مسلمانوں کی زندگی کچھ دوسری کتابوں اور کچھ دوسرے وضعی قوانین کی حکمرانی میں آجائے ۔ وہ اللہ کے سوا کسی اور کو جج اور حاکم بنا لیں تاکہ یہ کتاب زندہ نہ رہے اور اللہ کے دین کا کوئی حقیقی وجود نہ رہے ۔ ان کی کوشش ہے وہ ان اسلامی ممالک میں جہاں کبھی اللہ کی حاکمیت قائم تھی کچھ دوسری حاکمیتیں اور اقتدار قائم کردیں حالانکہ کبھی ان ممالک میں وہ نظام اور قانون نافذ تھا جو اس کتاب میں تھا ۔ صرف یہی قانون نافذ تھا اور اس میں اس کے ساتھ کوئی دوسرے قوانین شریک عمل نہ تھے ۔ نہ اللہ کی کتاب کے ساتھ کچھ دوسری کتابیں بھی رائج تھیں جن سے لوگ اصول قانون اور زندگی کی دوسری اقدار اخذ کرتے ہوں اور ان کی دفعات اور آیات کو کتاب اللہ کی طرح بطور اتھارٹی پیش کرتے ہوں ۔ ایسے تمام منصوبوں کے پیچھے اہل کتاب یعنی صلیبی اور صہیونی عزائم کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ اس قسم کی تمام سرگرمیاں آج بھی ان اہل کتاب ہی کی ریشہ دوانیوں سے ہوتی ہیں ۔
یہاں کہا گیا کہ اللہ نے اس کتاب کو نہایت مفصل انداز میں نازل کیا ہے اور یہ کہ اہل کتاب اس بات کو اچھی طرح جانتے بھی ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے سچائی کے ساتھ نازل ہوئی ہے ۔ اب روئے سخن حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرجاتا ہے اور آپ کے واسطہ سے تمام اہل ایمان کو یہ حقیقت بتلائی جاتی ہے اور یہ تسلی دی جاتی ہے کہ آپ اہل کتاب کے جدل وجدال اور تکذیب اور روگردانی سے دل تنگ نہ ہوں ۔ وہ جو حق کو چھپا رہے ہیں جانتے ہیں کہ حقیقت کیا ہے ۔ یہ بات آپ کے لئے گرانبارنہ وہ۔
ّ (آیت) ” (فلا تکونن من الممترین) (6 : 114) ” لہذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو ۔ “ رسول اللہ ﷺ نے تو کبھی شک اور شبہ نہیں کیا ۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب آپ پر سورة یونس کی یہ آیت نازل ہوئی :
(آیت) ” فان کنت فی شک مما انزلنا الیک فسئل الذین یقرء ون الکتب من قبلک لقد جآءک الحق من ربک فلا تکونن من الممترین “۔ (10 : 94)
” اب اگر تجھے اس ہدایت کی طرف سے کچھ شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو ان لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں ۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے ‘ تیرے رب کی طرف سے لہذا تو شک کرنے والوں میں نہ ہو۔ “ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا : ” میں نہ شک کرتا ہوں اور نہ مجھے ان سے پوچھنے کی ضرورت ہے ۔ “
لیکن ان ہدایات اور اس قسم کی دوسری مثالوں سے جو چیز معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ اس دور میں حضور ﷺ اور امت مسلمہ کو نہایت ہی گہری ریشہ دوانیوں اور سازشوں کا سامنا کرنا پڑ رہا تھا ۔ مخالفین سخت عناد اور انکار کا مظاہرہ کر رہے تھے اور اللہ کی رحمت کا یہ تقاضا تھا کہ آپ کو ایسی سخت ہدایات دے کر آپ اور امت مسلمہ کو سخت موقف اختیار کرنے کی تلقین کی جائے ۔
آگے مزید کہا جاتا ہے کہ اللہ کی دو ٹوک بات اب ختم ہوگئی ہے ‘ مکمل ہوگئی ہے ۔ اللہ کی اتھارٹی کے اوپر کوئی اور اتھارٹی نہیں ہے جو اس فیصلہ کن بات کو بدل دے کیونکہ یہ برحق ہے اور یہ حق ان کی تمام سازشوں تک رسائی رکھتا ہے ۔
(آیت) ” وَتَمَّتْ کَلِمَتُ رَبِّکَ صِدْقاً وَعَدْلاً لاَّ مُبَدِّلِ لِکَلِمَاتِہِ وَہُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ (115) “
” تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے ‘ کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سننے والا جاننے والا ہے ۔ “ اللہ تعالیٰ نے جو کہنا تھا اور جو فیصلے کرنے تھے وہ سچائی کے ساتھ کردیئے ‘ اور جو قانون سازی کرنی تھی وہ عادلانہ طور پر کردی ۔ اللہ کی بات کے بعد اب نہ کسی کی بات ہے ‘ نہ کوئی نظریہ و عقیدہ ہے ‘ نہ کوئی اصول و قانون ہے اور نہ کوئی قدر ومیزان ہے ۔ اب نہ کوئی قانون اور شریعت کے بارے میں اس کے خلاف کوئی بات کہہ سکتا ہے ‘ نہ کوئی رسم و رواج اس کے مقابلے میں رہ سکتے ہیں ۔ نہ اللہ کی اتھارٹی کے اوپر کوئی اتھارٹی ہے کہ وہ اللہ کی بات کو بدلنے کی مجازہو۔
(آیت) ” (وھو السمیع العلیم) (6 : 115) ’ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ۔ “ اس کے بندے جو کچھ کہتے ہیں وہ سنتا ہے اور ان کے اقوال کے پس منظر کو بھی جانتا ہے اور ان کے مصالح ومفادات کو بھی اچھی طرح جانتا ہے ۔
یہ فیصلہ کرنے کے بعد کہ سچائی وہی ہے جو کتاب اللہ میں ہے اور جو اللہ نے نازل کی ہے ‘ یہ بھی فیصلہ کردیا جاتا ہے کہ کتاب اللہ کی سوچ کے مقابلے میں انسان جو سوچ پیش کرتا ہے وہ محض ظن وتخمین کے پائے چوبیں پر قائم ہوتی ہے ۔ جو لوگ انسانی سوچ کی پیروی کرتے ہیں وہ محض ظن وتخمین کی پیروی کرتے ہیں اور ان کا انجام صرف یہی ہوگا کہ وہ سیدھے راستے سے بھٹک جائیں گے ۔ انسانوں کی سوچ صرف اسی وقت درست اور ہدایت یافتہ ہو سکتی ہے جب وہ کتاب اللہ سے ماخوذ ہو جو ایک یقینی مصدر ہدایت ہے ۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ رسول اللہ ﷺ کو بھی متنبہ فرماتے ہیں کہ وہ لوگوں کی ان باتوں پر دھیان نہ دیں جو وہ محض انسانی سوچ کی بنیاد پر کرتے ہیں اگرچہ لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس سوچ کی ماننے والی ہو ‘ اس لئے کہ جاہلیت بہرحال جاہلیت ہوتی ہے ‘ چاہے اس کے ماننے والے زیادہ ہوں یا کم ‘ بہرحال وہ گمراہ ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” وَإِن تُطِعْ أَکْثَرَ مَن فِیْ الأَرْضِ یُضِلُّوکَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ إِن یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ہُمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ (116)
” اے نبی ﷺ اگر تم ان لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین پر میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے ۔ وہ تو بس گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں ۔
زمین پر بسنے والے لوگوں کی اکثریت ‘ نزول قرآن کے وقت اہل جاہلیت پر مشتمل تھی ‘ جس طرح آج ہمارے دور میں لوگوں کی اکثریت ‘ نزول قرآن کے وقت اہل جاہلیت پر مشتمل تھی ‘ جس طرح آج ہمارے دور میں لوگوں کی اکثریت نے جاہلیت کو اپنا لیا ہے ۔ اس وقت لوگوں کی اکثریت الہی قانون کے مطابق اپنے فیصلے نہ کرتی تھی ‘ نہ انہوں نے اللہ کی کتابوں میں موجود شریعت کو لاء آف دی لینڈ قرار دیا تھا ۔ وہ اپنے تصورات و افکار ‘ اپنی طرز فکر اور طرز زندگی اللہ کی ہدایات اور راہنمائی سے اخذ نہ کرتے تھے ۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی اکثریت نزول قرآن کے وقت جاہلیت میں مبتلا تھی جس طرح آج لوگوں کی اکثریت جاہلیت میں مبتلا ہے ۔ وہ لوگ کوئی فکر ‘ کوئی رائے اور کوئی فیصلہ اس ” حق “ سے اخذ نہ کرتے تھے اور نہ وہ اس سچائی پر مبنی ہوتا تھا ۔ نیز اس دور کے قائدین اپنے متبع لوگوں کی ہدایت کی طرف نہیں بلکہ ضلالت کی طرف لے جاتے تھے ۔ جس طرح آج کی صورت حال ہے کہ لوگ یقینی علم کتاب وسنت کو چھوڑ کر ظن اور تخمین کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ ظن وتخمین صرف گمراہی پر منتج ہو سکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ حضور اکرم ﷺ کو متنبہ کردیا گیا کہ آپ ﷺ نے اگر لوگوں کی اطاعت شروع کردی تو وہ آپ کو گمراہ کردیں گے ۔ اللہ نے حضور ﷺ کو عمومی ہدایات اگرچہ شان نزول کے اعتبار سے دی ہیں تاہم یہ ہدایت ایک مخصوص مسئلے یعنی ذبیحوں کے ضمن میں آئی جیسا کہ آگے تفصیلات آرہی ہیں ۔
اس کے بعد یہ قرار داد آتی ہے کہ بندوں کے بارے میں ہدایت یافتہ ہونے یا گمراہ ہونے کا فیصلہ کرنے کا مجاز بھی اللہ ہی ہے ‘ کیونکہ یہ اللہ ہی ہے جو بندوں کی حقیقت سے باخبر ہے ۔ کسی کے راہ راست پر ہونے اور گمراہ ہونے کا فیصلہ بھی وہی کرسکتا ہے ۔
(آیت) ” إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ مَن یَضِلُّ عَن سَبِیْلِہِ وَہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُہْتَدِیْنَ (117)
” اور حقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے ۔ “
لوگوں کے تصورات و افکار ‘ ان کی اقدار اور پیمانوں ‘ ان کے طرز عمل اور سرگرمیوں کے بارے میں حسن وقبح کا فیصلہ کرنے کے لئے لازما کوئی معیار ہونا چاہئے جس کے مطابق یہ فیصلہ کیا جاسکے کہ حق کیا ہے اور باطل کیا ہے ۔ یہ معیار لوگوں کی خواہشات نفسانیہ اور ان کی بدلتی ہوئی اصطلاحات اور رسم و رواج کو نہیں ہونا چاہیے اس لئے کہ یہ دونوں امور متغیر ہیں ۔ اس لئے ایک ایسے منبع اور ماخذ کا تعین ہونا چاہیے جہاں سے لوگ اپنے پیمانون اور خود لوگوں کے بارے میں فیصلے کرسکیں ۔
یہاں اللہ تعالیٰ یہ قرار دیتے ہیں کہ یہ فیصلہ اللہ نے کرنا ہے کہ یہاں اچھا کیا ہے اور برا کیا ہے اور یہ حق صرف اللہ ہی کو ہے ۔ وہی فیصلہ کرسکتا ہے اور وہی جانتا ہے کہ ہدایت کیا ہے اور ضلالت کیا ہے ہادی کون ہے اور ضال کون ہے ؟
ہم کسی سوسائٹی کو یہ اختیار نہیں دے سکتے کہ وہ اپنے بدلتے ہوئے حالات اور اصطلاحات کے مطابق حسن وقبح کا فیصلہ کرے اس لئے کہ ہر سوسائٹی کے عناصر ترکیبی ‘ اس کی شکل و صورت اور اس کی مادی ضروریات بدلتی رہتی ہیں ۔ اگر یہ حق سوسائٹی کو دے دیا جائے تو حسن وقبح کے پیمانے بھی مستقل نہ رہیں گے ۔ پھر ایک زرعی معاشرے کی اخلاقی اقدار اور ہوں گیی اور ایک صنعتی معاشرے کی اقدار اور ہوں گی ۔ سرمایہ دارانہ بور ژدا معاشرے کی اقدار اور ہوں گی اور اشتراکی اور کمیونسٹ معاشرے کی اقدار اور ہوں گی اور پھر ان معاشروں کی اقدار کے مطابق لوگوں کے حسن وقبح کے اصول مختلف ہوں گے ۔
اسلام اس بات کو اچھی طرح جانتا ہے ‘ اس لئے ایسی مستقل ذاتی اقدار وضع کرتا ہے جو اللہ کی طرف سے مستقلا دی گئی ہیں ۔ معاشرے اور سوسائٹیاں جس قدر بدل جائیں ‘ ترقی یافتہ ہوں یا پسماندہ ۔ جو ساسوئٹیاں ان اصولوں کو ترک کردیں اسلامی نظام ان کے لئے ایک مخصوص اصطلاح استعمال کرتا ہے ۔ اسلام انہیں جاہلی معاشرے کے نام سے پکارتا ہے ۔ یہ مشرک معاشرہ ہوتا ہے ‘ اس لئے کہ یہ معاشرہ اللہ کے سوا دوسرے خداؤں کو یہ اختیار دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے حسن قبح کے پیمانے مقرر کریں ۔ ان کو تصور حیات ‘ اصول اخلاق اور نظام حیات دیں ۔ اسلامی نظام صرف ایک ہی تقسیم روا رکھتا ہے ۔ اس کے نزدیک ایک معاشرہ یا تو اسلامی معاشرہ ہے یا جاہلی معاشرہ ۔ کوئی تیسری قسم اس کے نزدیک نہیں ہے ۔ آگے جاہلی معاشرے کی اشکال اور صورتیں پھر مختلف ہو سکتی ہیں۔
اس طویل تمہید کے بعد اب اسلامی نظام میں ذبیحوں کے اصولی مسئلے کو لیا جاتا ہے ۔ اس مسئلے کو اسی اساسی اصول کے مطابق لیا جاتا ہے کہ اسلام میں حسن وقبح اور حلال و حرام کے تعین کا اختیار صرف اللہ کو ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سابقہ آیات میں اس اصول پر تفصیلی گفتگو ہوئی :
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118) وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ وَإِنَّ کَثِیْراً لَّیُضِلُّونَ بِأَہْوَائِہِم بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119) وَذَرُواْ ظَاہِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُونَ الإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُواْ یَقْتَرِفُونَ (120) وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
(پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ ۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو گے ۔ (6 : 118۔ 121)
حکم یہ ہے کہ جس ذبیحہ پر اللہ کا نام لیا جائے اسے کھاؤ ۔ اللہ کا نام لینا اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ لوگوں کے نظریے اور ان کے عقیدے کی سمت کا تعین کردیا جائے ‘ تاکہ انکا ایمان اور ان کی اطاعت ان احکام کے لئے مخصوص ہو جو اللہ کی طرف سے صادر ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118)
” پھر اگر تم اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو ‘ تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت کھاؤ۔ “
اور اس کے بعد ان سے پوچھا جاتا ہے کہ آخر وہ کیا چیز ہے جو تمہارے لئے ایسے جانوروں کے گوشت کو کھانے سے روک رہی ہے جبکہ ان پر اللہ کا نام لیا گیا ہے ‘ اور ان کو اللہ نے حلال قرار دیا ہے ۔ حالانکہ اللہ نے اضطراری حالت میں استثناء کی گنجائش رکھتے ہوئے ان چیزوں کی تفصیلات دے دی ہیں جو حرام ہیں ۔ یوں اللہ تعالیٰ نے حلت اور حرمت کے معاملے میں کسی کو بات کرنے کا کوئی اختیار نہیں دیا ہے ۔ اس لئے کوئی شخص یہ نہیں کرسکتا کہ وہ اپنی مرضی سے بعض چیزوں کو حلال سمجھتے ہوئے کھائے اور بعض کو حرام سمجھتے ہوئے ترک کردے ۔
(آیت) ” وَمَا لَکُمْ أَلاَّ تَأْکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَقَدْ فَصَّلَ لَکُم مَّا حَرَّمَ عَلَیْْکُمْ إِلاَّ مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَیْْہِ (6 : 119)
” آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ‘ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالت اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے “۔
ان کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے ۔ “
اس مسئلے کو وقتی تعلق اس وقت کے معاشرے میں پائے جانے والے ایک معاملے سے ہے ۔ مشرکین مکہ بعض ایسے جانوروں کا گوشت کھاتے تھے جنہیں اللہ نے حرام قرار دے دیا تھا اور بعض ایسے جانور کے گوشت کو حرام قرار یتے ہوئے نہ کھاتے ہیں جو عنداللہ حلال تھے اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کی شریعت ہے ۔ چناچہ یہاں قرآن مجید اس قصے کا فیصلہ کرتے ہوئے یہ قرار دیتا ہے کہ یہ لوگ اپنی خواہشات سے متاثر ہو کر اور بغیر علم کے قانون سازی کرتے ہیں اور یوں وہ اللہ تعالیٰ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں ۔ اس طرح وہ ان حدود کار میں داخل ہوتے ہیں جو اللہ کے لئے مخصوص ہیں حالانکہ وہ اللہ کے بندے اور غلام ہیں ۔
(آیت) ” وَإِنَّ کَثِیْراً لَّیُضِلُّونَ بِأَہْوَائِہِم بِغَیْْرِ عِلْمٍ إِنَّ رَبَّکَ ہُوَ أَعْلَمُ بِالْمُعْتَدِیْنَ (119)
” بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کن باتیں کرتے ہیں ‘ ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے ۔ “
اس لئے اللہ تعالیٰ حکم دیتا ہے کہ تم ہر قسم کے گناہوں کو ترک کر دو ‘ چاہے ظاہری ہوں یاباطنی ۔ یہ بات بھی ان گناہوں ہی میں سے ہے کہ کوئی بغیر علم کے لوگوں کو گمرہ کرنے کا سبب بنے ۔ اور یہ کام وہ محض اپنی خواہشات کی تسکین کے لئے کرے اور پھر اپنی اس سرگرمی کو دینی اور شرعی رنگ بھی دے اگرچہ شریعت کے ساتھ اسے کوئی نسبت بھی نہ ہو بلکہ یہ اسلامی شریعت پر محض افتراء ہو۔ چناچہ اللہ تعالیٰ انہیں اس قسم کی افتراء پردازی کے انجام بد سے ڈراتا ہے ۔
(آیت) ” وَذَرُواْ ظَاہِرَ الإِثْمِ وَبَاطِنَہُ إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْسِبُونَ الإِثْمَ سَیُجْزَوْنَ بِمَا کَانُواْ یَقْتَرِفُونَ (120)
” تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ۔ جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے ۔ “
اس کے بعد حکم دیا جاتا ہے کہ جن جانوروں پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو ‘ ان کا گوشت کھانے سے باز رہو ۔ یہ لوگ بعض جانوروں کو ذبح کرتے وقت ان پر اللہ کے سوا اور الہوں کے نام لیتے تھے ۔ یا وہ انہیں قماربازی کے لئے ذبح کرتے تھے اور پھر پانسوں کے ذریعے انہیں تقسیم کرتے تھے ۔ بعض مردار جانوروں کے گوشت کے استعمال کے معاملے میں وہ مسلمانوں سے جھگڑتے تھے ۔ وہ کہتے تھے اگرچہ ایسے مردہ جانروں پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا لیکن اللہ نے خود انہیں ذبح کردیا ہے ۔ ان کا استدلال یہ تھا کہ مسلمان اپنے ہاتھ سے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت تو کھاتے ہیں لیکن اللہ کے ذبح کئے ہوئے جانوروں کا گوشت وہ نہیں کھاتے ۔ یہ وہ تصور اور استدلال ہے جس کی کمزوری بالکل واضح ہے اور یہ تصور تمام جاہلیتوں کے اندر پایا جاتا رہا ہے ۔ یہ تصور مشرکین کو ان کے وہ شیاطین دیتے تھے جو جنوں اور انسانوں میں سے انکے ساتھ لگے ہوئے تھے تاکہ وہ ان کے بودے تصورات اور دلائل کے ذریعے مسلمانوں کے ساتھ مجادلہ کریں ۔ ان باتوں کی تفصیلات ان آیات میں دی گئی ہیں ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ وَإِنَّہُ لَفِسْقٌ وَإِنَّ الشَّیَاطِیْنَ لَیُوحُونَ إِلَی أَوْلِیَآئِہِمْ لِیُجَادِلُوکُمْ وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
” اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو ‘ اس کا گوشت نہ کھاؤ ‘ ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں ۔ لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو ۔ “
اس آخری فیصلہ کے سامنے کھڑے ہو کر ذرا غور کیجئے ۔ یہ فیصلہ کس قدر دو ٹوک اور صریح ہے ۔ اس میں کہا گیا ہے کہ حاکم صرف اللہ ہے ‘ اس لئے مطاع بھی وہی ہوگا اور یہ اس دین کا بنیادی اصول ہے ۔ یہ آیت فیصلہ کردیتی ہے کہ زندگی کے مسائل کے کسی ایک جزئیہ میں بھی اللہ کے سوا کسی اور کی اطاعت کرنا جبکہ یہ اطاعت اللہ کی شریعت اور اس کے اصولوں کی طرف منسوب نہ ہو ‘ کھلا شرک ہے اور اس کی وجہ سے ایک مسلمان دائرہ اسلام سے خارج ہو کر دائرہ کفر میں داخل ہوجاتا ہے ۔ علامہ ابن کثیر فرماتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ
(آیت) ” وَإِنْ أَطَعْتُمُوہُمْ إِنَّکُمْ لَمُشْرِکُونَ (121)
” اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو ۔ “
یعنی جہاں تم نے امر الہی اور شریعت الہیہ کو ترک کردیا اور دوسروں کے اوامر اور احکام کو ان پر ترجیح دے دی تو یہ صریح شرک ہوگا ۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :
(آیت) ” اتخذوا اخبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ انہوں نے اپنے احبار اور رہبان کو اللہ کے سوا رب بنایا ہے ۔ “
اس آیت کی تفسیر میں ترمذی نے ایک روایت نقل کی ہے۔ وہ حضرت عدی ؓ ابن حاتم سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے پوچھا رسول اللہ ﷺ ! انہوں نے تو احبارو رہبان کی بندگی نہیں کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” ہاں “ بالکل انہوں نے کی ہے ۔ انہوں نے ان کے لئے حرام کو حلال کردیا اور حلال کو حرام اور یہ لوگ ان کی اطاعت کرتے ہیں تو یہ ان لوگوں کی جانب سے احبارورہبان کی عبادت ہے ۔ اسی طرح علامہ ابن کثیر نے حضرت عدی ؓ سے روایت کی ہے کہ اس آیت
(آیت) ” اتخذوا اخبارھم ورھبانھم اربابا من دون اللہ “۔ کا مفہوم یہ ہے کہ انہوں نے لوگوں سے نصیحت وہدایت طلب کی اور اللہ کی کتاب کو پس پشت ڈال دیا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا تھا ۔
(آیت) ” وما امروا الا لیعبدوا الھا واحد “۔
” انکو حکم یہ دیا گیا تھا کہ وہ صرف الہ واحد کی بندگی کریں “۔ یعنی اس کی بندگی کریں جس نے اگر کسی چیز کو حرام قرار دے دیا تو وہ حرام ہوجاتی ہے اور کسی چیز کو حلال قرار دیا تو وہ حلال ہوجاتی ہے ۔ جو قانون بنایا وہ قابل اتباع ہوتا ہے جو فیصلہ وہ کرتا ہے وہ نافذ ہوجاتا ہے ۔
یہ ہیں اقوال حضرت ابن کثیر اور سدی کے ۔ یہ دونوں حضرات نہایت ہی دو ٹوک الفاظ میں فیصلہ کرتے ہیں اور بات کو بالکل کھول کر بیان کرتے ہیں اور یہ اس لئے کہ اس معاملے میں قرآن کی بات بھی نہایت ہی واضح اور دوٹوک ہے پھر اس بات کو حضرت نبی کریم ﷺ نے خود تشریح کرکے واضح کردیا ہے کہ جو شخص بھی معاملات زندگی کے کسی بھی جزئیہ میں اللہ کی بنائی ہوئی شریعت کے مقابلے میں لوگوں کی بنائی ہوئی شریعت پر چلتا ہے وہ مشرک ہے اگرچہ ایسا شخص اپنی اصلیت کے اعتبار سے مسلم ہو کیونکہ اس فعل کی وجہ سے وہ اسلام سے خارج ہو کر مشرکوں کی صف میں کھڑا ہوجاتا ہے ۔ اگرچہ زبان کے ساتھ وہ بار بار ” اشھد “ پڑھتا رہے جبکہ عملا وہ غیر اللہ کا مطیع فرمان اور شاگرد ہو ۔
آج جب ہم اس کرہ ارض پر اس زاوے سے نظر ڈالتے ہیں اور پھر اسے ہم ان آیات کی ان تصریحات کی روشنی میں دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اس پر شرک اور جاہلیت کا مکمل کنٹرول ہے ۔ الا ماشاء اللہ تو ہم اس کرہ ارض کے مالکان اقتدار کے اس عمل پر اعراض کرتے ہیں جنہوں نے خدائی خصوصیات کا دعوی کردیا ہے کہ ان کا کوئی قانون اور کوئی حکم قابل قبول نہیں ہے ۔ الا یہ کہ کوئی نہایت ہی مجبور ہو ۔
آیت زیر بحث (ولا تاکلوا) میں ذیبحوں کے بارے میں جو ہدایت دی گئی ہیں ان میں سے فقہی اعتبار سے حلال و حرام کی تفصیلات علامہ ابن کثیر نے اس طرح دی ہیں ۔ فرماتے ہیں کہ اس مسء لہ میں ائمہ فقہ کے تین اقوال ہیں۔
بعض فقہاء کہتے ہیں کہ ایسے ذیبحے کا گوشت کھانا حرام ہے چاہے ذبیحے پر اللہ نام عمدا نہ لیا گیا ہو یا سہوا ۔
حضرت ابن عمر ‘ نافع ‘ عامر شعبی اور محمد ابن سیرین سے بھی ایسے ہی مروی ہے ‘ امام مالک سے بھی ایک روایت ایسی ہی ہے ۔ امام احمد ابن حنبل سے بھی ایک روایت ایسی ہی ہے اور متقدمین ومتاخرین میں سے ایک گروہ نے اس کی تائید کی ہے ۔
ابوثور ‘ داؤد ظاہری اور ابو الفتوح محمد ابن علی طائی جو متاخرین شافعیہ میں ہیں ‘ انہوں نے اپنی کتاب اربعیں میں بھی یہی رائے اختیار کی ہے اور انہوں نے اپنے مذہب پر اسی آیت سے استدلال کیا ہے ۔ نیز اس گروہ نے شکار کے بارے میں وارد دوسری آیت سے بھی استدلال کیا ہے ۔
(آیت) ” ولا تاکلوا ممالم یذکر اسم اللہ علیہ) پس اس شکار سے کھاؤ جسے وہ (کتے) پکڑ کر تمہارے لئے رک لیں ‘ اور اس پر اللہ کا نام لو۔ “ ان کا استدلال یہ بھی ہے کہ اس آیت میں اس کے لئے انہ لفسق کا تاکیدی لفظ آیا ہے ۔ انہ کی ضمیر کا مرجع اکل ہے ۔ بعض مفسرین نے غیر اللہ کے نام پر ذبح کرنے کی طرف عائد کیا ہے ۔ نیز یہ رائے رکھنے والے حضرات ان احادیث سے بھی استدلال کرتے ہیں جو شکار اور ذبیحوں پر اللہ کا نام لینے کے بارے میں وارد ہیں مثلا عدی ؓ ابن حاتم اور ابو ثعلبہ کی احادیث ۔ ” جب تم نے اپنے سدھائے ہوئے کتے کو چھوڑا اور اس پر تم نے اللہ کا نام لیا تو جب تک وہ کتا تمہارے لئے روکے رکھے تم کھاؤ۔ “ یہ دونوں احادیث صحیحین نے روایت کی ہیں ۔ نیز رافع ابن خدیج کی حدیث سے بھی یہ گروہ استدلال کرتا ہے ۔ ” جس سے خون نکلا اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اسے کھاؤ “ یہ حدیث بھی صحیحین نے روایت کی ہے ۔ اس مسئلے میں دوسرا مذہب یہ ہے کہ ذبیحوں پر اللہ کا نام لینا شرط اور واجب نہیں ہے ۔ بلکہ یہ مستحب ہے ۔ اگر کوئی عمدا یانسیان کی وجہ سے ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ۔ یہ امام شافعی کا مذہب ہے ۔ اور آپ نے تمام رفقاء بھی اسی طرف گئے ہیں امام احمد ابن حنبل سے بھی ایک روایت اسی مضمون کی ہے ۔ امام مالک سے بھی ایک روایت اس کے مطابق ہے ۔ آپ کے رفقاء میں سے اشہب ابن عبدالعزیز نے اس کی تصریح کی ہے اور انہوں نے حضرت ابن عباس ؓ ‘ ابوہریرہ ؓ ‘ عطاء ابن ابو رباح ؓ سے بھی ایسی ہی روایات نقل کی ہیں ‘ واللہ اعلم ۔ اب رہیں وہ آیات و احادیث تو ان کی تاویل امام شافعی نے یوں کی ہے کہ آیت
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ “۔ ان ذبیحوں کے بارے میں ہے جن پر بتوں کا نام لیا گیا ہو۔ مثلا
ّ (اوفسقا اھل لغیر اللہ بہ) میں اس کی تصریح ہے ۔ اسی طرح ابن جریج کہتے ہیں کہ آیت (الاتاکلوا ‘۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ) میں ممانعت ان ذبیحوں سے ہے جو قریش بتوں کے اوپر ذبح کرتے تھے ۔ نیز ان ذبیحوں کے بارے میں جو مجوسی ذبح کرتے تھے امام شافعی نے جو مسلک اختیار کیا ہے یہ قوی تر ہے ۔
ابن ابو حاتم نے اپنی سند کے ساتھ حضرت ابن عباس ؓ سے یہ نقل کیا ہے کہ
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ “۔ مردار کے بارے میں ہے ۔ اس کی تائید میں امام ابو داؤد نے اپنی مرسل احادیث میں ثور ابن یزید کی حدیث نقل کی ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” مسلم کا ذبیحہ حلال ہے ‘ اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو یا نہ لیا گیا ہو۔ اس لئے کہ اگر وہ نام لیتا تو صرف اللہ ہی کا لیتا ۔ “ اور اس مرسل روایت کی تائید دارقطنی کی روایت سے ہوتی ہے جبکہ ایک مسلمان ذبح کرے اور اس ذبح کے وقت اللہ کا نام نہ لے تو چاہیے کہ اس کا گوشت کھایا جائے ‘ اس لئے کہ مسلمان کے اندر اللہ کے ناموں میں سے کوئی نام ہوتا ہی ہے ۔ “
تیسرا مذہب یہ ہے کہ اگر کوئی بھول کر اللہ کا نام نہ لے تو کوئی حرج نہیں ہے اور اگر عمدا ایسا کرے تو کھانا جائز نہ ہوگا ۔ امام مالک (رح) اور امام احمد ابن حنبل (رح) کا یہ مشہور مذہب ہے اور امام ابوحنیفہ (رح) اور ان کے ساتھی بھی اسی طرف گئے ہیں ۔
اسحاق ابن راہویہ بھی اسی کے قائل ہیں ۔ حضرت علی ‘ ابن عباس ‘ سعید ابن مسیب ‘ عطاء طاؤس ‘ حسن بصری ابو مالک ‘ عبدالرحمن ابن ابولیلی ‘ جعفر ابن محمد اور ربیعہ ابن عبدالرحمن سے بھی ایسا ہی منقول ہے ۔
ابن جریر کہتے ہیں کہ اہل علم نے اس آیت کے بارے میں اختلاف کیا ہے کہ اس آیت کا کوئی حکم منسوخ ہوا ہے یا نہیں ۔ بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ اپنے مفہوم میں محکم آیت ہے اور اس کا کوئی حصہ منسوخ نہیں ہے ۔ مجاہد اسی کے قائل ہیں۔ حسن بصری ‘ (رح) عکرمہ (رح) کا یہ قول ہے کہ
(آیت) ” فَکُلُواْ مِمَّا ذُکِرَ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہِ إِن کُنتُمْ بِآیَاتِہِ مُؤْمِنِیْنَ (118)
دوسری جگہ اللہ فرماتے ہیں ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ وانہ لفسق “۔ اس طرح اس آیت نے پہلی کو منسوخ کردیا ۔ پھر اس سے اہل کتاب کا کھانا مستثنی کیا گیا ۔
(آیت) ” وطعام الذین اوتوالکتاب حل لکم وطعامکم حل لھم) ابن ابو حاتم کہتے ہیں کہ عباس ابن الولید کے سامنے مکحول کی یہ روایت پڑھی گئی کہ اللہ نے پہلے یہ آیت نازل فرمائی ۔
(آیت) ” وَلاَ تَأْکُلُواْ مِمَّا لَمْ یُذْکَرِ اسْمُ اللّہِ عَلَیْْہ ) اور اس کے بعد اللہ نے اسے منسوخ کردیا ۔ یوں اس نے اہل اسلام پر رحم فرمایا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔
(آیت) ” الیوم احل لکم الطیبت وطعام الذین اوتوا الکتاب حل لکم “۔ یوں اس دوسری آیت نے پہلی کو منسوخ کردیا اور اہل کتاب کا ذبیحہ حلال قرار دیا گیا ۔ اس کے بعد ابن جریر نے کہا : ” کہ حقیقت یہ ہے کہ جن چیزوں پر اللہ نام نہ لیا گیا ہو ۔ ان کی حرمت اور اہل کتاب کے ذبیحوں کی حلت کے احکام میں کوئی فرق نہیں ہے ۔ میں سمجھتا ہوں کہ ابن جریر کی بات درست ہے ۔ سلف میں سے جن لوگوں نے نسخ کا لفظ استعمال کیا ان کی مراد تخصیص ہے ‘ واللہ اعلم ۔
اس کے بعد اسلام اور کفر کے درمیان ایک مکمل معرکہ سامنے آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر گاؤں میں بڑے بڑے مجرمین پیدا کئے ہیں اور ان کے دلوں میں کبروغرور کی ایک بڑی مقدار پائی جاتی ہے ۔ یہ اس گاؤں کے بڑے مجرم ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ پورے علاقے میں لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں ۔ اس بیانیہ میں واضح طور پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کو راہ راست پر آنے سے روکتے ہیں ۔ اس بیانیہ میں واضح طور پر یہ دکھایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے دل ایمان کے لئے کھل جاتے ہیں ان کے حالات کیسے ہوتے ہیں ۔ وہ حالات کس طرح کے ہوتے ہیں جن میں لوگوں کے دل اسلام اور قبولیت حق کے لئے تنگ ہوجاتا ہے اور اسلام کا تصور کرتے ہی وہ لوگ تنگی محسوس کرتے ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ گویا ان کی سانس رک گئی ہے ۔ یوں یہ بیانیہ موضوع سخن یعنی اسلام میں حلال و حرام کے موضوع کے ساتھ اصولی طور پر منسلک ہوجاتا ہے ۔ یعنی اصول اور فروع کی نسبت قائم ہوجاتی ہے اور یہ اشارہ دیا جاتا ہے کہ ذبیحوں کی حلت اور حرمت کا مسئلہ کوئی معمولی مسئلہ نہیں ہے ۔ بلکہ یہ نہایت ہی اصولی مسئلہ ہے ۔
(آیت) ” نمبر 122 تا 125۔
ان آیات میں ہدایت وضلالت کی ماہیت کی تصویر کشی کی گئی ہے اور حقیقت ہدایت وضلالت پر حقیقت ضلالت کی نہایت ہی حقیقت پسندانہ تعبیر کی گئی ہے ۔ اس کے اندر جو تشبیہات اور جو مجاز استعمال کیا گیا ہے وہ اس لئے کیا گیا ہے کہ یہ تصویر پرتاثیر بن جائے ۔ تشبہیات اور مجاز بھی نہایت ہی واقعیت پسندانہ ہیں۔
ہدایت وضلالت کے حقائق اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایسے ہیں جن کو سمجھانے کے لئے اس قسم کی تصویر کشی اور موثر انداز بیان نہایت ہی ضروری ہے ۔ اگرچہ بلاشبہ ہدایت وضلالت حقائق ہیں ۔ لیکن یہ روحانی اور نظریاتی حقائق ہیں اور ایسے حائق میں جنہیں تجربات اور عمل کے ذریعے چکھا جاسکتا ہے ۔ رہی کسی روحانی حقیقت کی تعبیر یا حسن تعبیر تو اس سے لطف اندوز صرف وہی شخص ہو سکتا ہے جس نے ان حقائق کو عملا برتا ہو ۔
یہ ایسے حقائق ہیں جو مردہ دلوں کو زندہ کرتے ہیں اور جو تاریک قلب ونظر کو روشن کرتے ہیں ۔ یہ حقائق انسان کو ایسی زندگی دیتے ہیں ۔ جس کے ذریعے انسان ہر چیز کا مزہ لیتا ہے ۔ ہر چیز کے بارے میں درست نقطہ نظر اپناتا ہے ‘ ہر چیز کی صحیح قدروقیمت متعین کرتا ہے ۔ انسان کا احساس تمام محسوسات کے بارے میں یکسر بدل جاتا ہے اور اس کے دل و دماغ میں اس قدر روشنی پیدا ہوجاتی ہے جس میں انسان ایک نئے جہان کو دریافت کرلیتا ہے ‘ جس کے بارے میں پہلے اسے کچھ احساس بھی نہیں ہوتا ۔
ایک ایسا تجربہ ہے جو عام انسان کے حس وادراک میں نہیں آسکتا ۔ نہ انسان اسے الفاظ کا جامہ پہنا سکتا ہے ۔ اس کا ادراک صرف وہ شخص کرسکتا ہے جس نے اس حقیقت کو چکھا ہو ، قرآن کریم کا اسلوب بیان اس قدر زور دار ہے کہ صرف وہی اسے ہمارے ادارک کے قریب ترک کرسکتا ہے ۔ کیونکہ یہ قرآن کا کمال ہے کہ وہ ہر حقیقت کے لئے حسب حال الفاظ لے کر آتا ہے جو مفہوم کی حقیقت کے ساتھ ہم رنگ ہوتے ہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ کفر انسان کو ازلی اور ابدی حقیقت سے دور کردیتا ہے ۔ یہ ازلی اور ابدلی حقیقت ایسی ہوتی ہے جس کے لئے فنا نہیں ہے ۔ جو اوجھل نہیں ہوتی اور نہ گہرائی تک اترتی ہے ۔ ابدی اور ازلی حقیقت سے قطع تعلق ہی درحقیقت موت ہے ‘ کسی انسان کے لئے ۔ ایسا انسان کبھی بھی فعال نہیں ہوسکتا ‘ موثر نہیں ہو سکتا اور اس کائنات پر اسے کنٹرول نہیں حاصل ہو سکتا ۔ چناچہ ایسا شخص مردہ شخص ہے ۔ اس کی قوتیں اور صلاحیتیں مر جاتی ہیں ۔ اور وہ فطرتا مردہ انسان ہوتا ہے ۔ یہی ہے موت کی حقیقت ۔
اس کے مقابلے میں ایمان نام ہے اس ابدی قوت کے ساتھ اتحادواتصال کا ۔ ایمان اس قوت سے مدد لیتا ہے اور یہ قوت اس کی دعا کو قبول کرتی ہے لہذا ایمان حیات ہے اور کفر موت ہے ۔
پھر کفر کی حالت میں روح انسانی شرف اور علم سے محروم ہوتی ہے ۔ وہ تاریکی میں گھر جاتی ہے ۔ انسان کے اعضاء اور اس کے شعور پر تالے پڑجاتے ہیں ۔ انسان تاریکی میں کھو جاتا ہے اور گمراہ ہوجاتا ہے ۔ ایمان ہی درحقیقت آنکھیں کھول دیتا ہے ۔ وہ ادراک کا بہترین وسیلہ ہے ۔ اس سے استقامت نصیب ہوتی ہے ۔ وہ ایک نور ہے ‘ نور کے ہر مفہوم کے اعتبار سے ۔
کفر سے انسان سکڑ جاتا ہے ‘ اور بالاخر پتھر بن جاتا ہے ‘ اس کی سوچ تنگ ہوجاتی ہے اور اس کی وجہ سے انسان فطری راستے سے بےراہ ہوجاتا ہے ۔ لہذا کفر ایک قسم کی تنگی ہے جس میں ہر شخص اطمینان سے محروم ہوجاتا ہے ۔ اور ہر وقت دل تنگ رہتا ہے جبکہ ایمان سے شرح صدر ‘ خوشی ‘ سہولت حاصل ہوتی ہے اور اس کے خوشگوار سائے میں اطمینان نصیب ہوتا ہے ۔
کافر کی حیثیت اس طرح ہوتی ہے جس طرح کوئی خودروگھاس اور پودا ہوتا ہے جس کا اس کرہ ارض پر کوئی مضبوط وجود نہیں ہوتا اور نہ اس کی پختہ جڑیں ہوتی ہیں ‘ وہ ایک ایسا فرد ہوتا ہے جو اپنے خالق سے منقطع ہوتا ہے اور تنہا تنہا نظر آتا ہے ۔ اس کائنات سے بھی وہ مربوط نہیں ہوتا ‘ اس کائنات کے ساتھ اس کا روحانی ربط نہیں ہوتا ۔ فقط مادی ربط ہوتا ہے جو نہایت ہی محدود تعلق ہے اور یہ اسی طرح ہے جس طرح کسی بھی حیوان کا اس کائنات کے ساتھ فطری ربط ہوتا ہے ۔ محض محسوس ربط اور دائرہ ۔
اس کے مقابلے میں للہ فی للہ جو تعلق ہوتا ہے وہ انسان فانی کو حقیقت ابدیہ اور حقیقت ازلیہ کے ساتھ مربوط کردیتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسے اس کائنات ظاہری کے ساتھ بھی موصول اور مربوط کردیتا ہے ۔
اس کے بعد ایک مومن کا گہرا تعلق اس قافلہ ایمان کے ساتھ اور ایک ایسی امت کے ساتھ ہوتا ہے جس کی جڑیں انسان تاریخ میں دور دور تک پھیلی ہوئی ہوتی ہیں ۔ لہذا مومن روابط کے ایک بڑے خزانے کا مالک ہوتا ہے ۔ وہ تعلقات کا ایک عظیم اور وسیع سرمایہ رکھتا ہے ۔ وہ ایک نہایت ہی بھرپور اور وسیع شخصیت رکھتا ہے ۔ اس کا وجود اور اس کی شخصیت اس کی عمر کے اختتام کے ساتھ ختم نہیں ہوجاتی ۔
جب انسان ایمان لاتا ہے تو وہ اپنے دل میں ایک روشنی پاتا ہے اور اس روشنی کے ذریعے پھر اسے دین کے حقائق معلوم ہوتے ہیں اور اسے اس دین کے منہاج عمل اور طرز تحریک کا بھی علم ہوجاتا ہے ۔ اس کے قلب پر عجیب انکشافات ہوتے ہیں ۔ جب ایک مومن اپنے دل میں یہ نور پاتا ہے تو اسے عجیب و غریب مناظر ومقامات نظر آتے ہیں ۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس دین کے تمام اجزاء کے اندر ایک گہراربط پایا جاتا ہے ۔ اسے حقائق واضح طور پر نظر آتے ہیں ۔ اسے نظر آتا ہے کہ اس دین کا منہاج عمل نہایت ہی گہرا اور نہایت ہی خوبصورت ہے ۔ یہ دین متفرق عقائد اور متفرق عبادات کا کوئی بےربط مجموعہ نہیں ہے جس میں کچھ قوانین بھی ہوں اور کچھ ہدایات بھی ‘ بلکہ یہ دین ایک مکمل منصوبہ ہے ‘ اس کے تمام اجزاء ایک دوسرے میں داخل اور ایک دوسرے کے ساتھ پیوستہ ہیں ‘ ایک دوسرے کے ساتھ ہم آہنگ ہیں اور ایک دوسرے کے ساتھ نہایت ہی گہرا عشق رکھتے ہیں ۔ یہ تمام اجزاء ایک جسم کی طرح زندہ اور اس کائنات کی فطرت کے ساتھ ہم سفر ہیں اور یہ سفر نہایت ہی دوستانہ ‘ باہم محبت اور گہری الفت کے ساتھ جاری وساری ہے ‘ نہایت ہی جوش و محبت کے ساتھ ۔
انسان اپنے دل میں یہ نور پاتا ہے ‘ اس کے ذریعے اس پر اپنی ذات کے حقائق اپنی حیات کے حقائق ‘ کرہ ارض پر رونما ہونے والے حقائق لوگوں کے حقائق اور لوگوں کے احوال کے حقائق منکشف ہوتے ہیں ۔ ان کی نظروں کے سامنے نہایت ہی روشن اور خیرہ کن مناظر آتے ہیں وہ اس کائنات کے اندر جاری وساری سنت الہیہ اور اس کے ضوابط کو بھی پالیتا ہے ‘ جو نہایت ہی محکم اور فطری اور خوشگوار انداز میں جاری ہیں ۔ پھر وہ یہ بھی جان لیتا ہے کہ ان سنن و ضوابط کے پیچھے اللہ کی مشیت بھی کام کررہی ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہی ہے جس نے اس کائنات میں سنن الہیہ اور اس کے ضوابط کے پیچھے اللہ کی مشیت بھی کام کر رہی ہے اور یہ اللہ کی مشیت ہی ہے جس نے اس کائنات میں سنن الہیہ کو آزادی کے ساتھ جاری وساری کیا ہے اور کام کے مواقع فراہم کئے ہیں ۔ ایسا شخص پھر اس کائنات کے انسانوں کو دیکھتا ہے کہ یہ لوگ کس طرح سنن الہیہ کے مطابق چلتے پھرتے ہیں لیکن سنن الہیہ کے حدود کے اندر ۔
جب کسی انسان کے دل میں یہ نور ایمانی پیدا ہوجاتا ہے تو ہر معاملے ‘ ہر واقعہ اور ہر مسئلے میں سچائی کی راہ واضح طور پر پالیتا ہے ۔ اب وہ اپنے اردگرد جاری سنن الہیہ اور واقعات اچھی طرح دیکھ سکتا ہے ۔ خواہ وہ اس کے نفس سے متعلق ہوں ‘ اس کے خیالات سے متعلق ہوں یا اس کے اردگرد مختلف لوگوں کی طرف سے جاری منصوبوں سے متعلق ہوں ۔ وہ اپنے ماحول کے ارادوں کو بھی معلوم کرلیتا ہے چاہے یہ ارادے ظاہر ہوں یا پوشیدہ ۔ واقعات کی تعبیر و توضیح وہ اپنی عقل اور اپنے نفس کے اندر واضح طور پر پاتا ہے ۔ وہ رونما ہونے والے تمام واقعات کی تعبیر اچھی طرح کرسکتا ہے گویا وہ ہر معاملے کا جواب کتاب اللہ اخذ کررہا ہے ۔
جسے یہ نور حاصل ہوتا ہے اس کے خیالات ‘ اس کا شعور اور اس کے خدوخال بھی روشن نظر آتے ہیں ۔ وہ اپنے دل میں مسرور ‘ اپنے حالات پر خوش اور اپنے انجام سے مطمئن ہوتا ہے ۔ وہ حکم دیتے وقت نرم اور خوشگوار رویہ اپناتا ہے ۔ وہ واقعات و حالات کا سامنا بھی نہایت ہی سنجیدگی سے کرتا ہے اور ہر حال میں مطمئن پرامید پر یقین ہوتا ہے ۔ یہ ہے وہ حقیقت جس کی تصویر کشی قرآن کریم ان الفاظ میں کرتا ہے اور کتنی خوبصورتی سے اور کس پیارے انداز میں۔
(آیت) ” أَوَ مَن کَانَ مَیْْتاً فَأَحْیَیْْنَاہُ وَجَعَلْنَا لَہُ نُوراً یَمْشِیْ بِہِ فِیْ النَّاسِ کَمَن مَّثَلُہُ فِیْ الظُّلُمَاتِ لَیْْسَ بِخَارِجٍ مِّنْہَا (122)
” کیا وہ شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اس سے نہ نکلتا ہو۔ “
اس دین سے قبل مسلمان ایسے ہی تھے ‘ وہ مردہ تھے ‘ یہ اسلام ہی ہے جس نے ان کی روح کو وسعت دی اور انہیں زندگی بخشی ۔ ان کو ترقی جستجو ‘ حرکت اور حیات جاوداں عطا کی جبکہ اس سے پہلے ان کے دل بجھے بجھے تھے ۔ ان کی روح تاریک تھی ‘ لیکن جب ان کے دلوں کے اوپر ایمان کی بارش ہوئی تو وہ سرسبز اور لہلہاتے ہوئے کھیت کی طرح ہوگئے ۔ ان کی روح سے نور کے چشمے پھوٹنے لگے ‘ روشنی اور نور کی لہریں اٹھنے لگیں ۔ وہ گمراہوں کو راہ بتلانے لگے ۔ وہ حران وپریشان لوگوں کو راہ دکھاتے ‘ خوفزدہ انسانیت کو اطمینان دلاتے ‘ غلاموں کو رہائی دلاتے ‘ وہ لوگوں کے لئے زندگی کے سفر کی سمت متعین کرنے لگے اور یہ اعلان کرنے لگے کہ انسان کو از سر نو زندگی عطا ہوگئی ہے ۔ اب وہ صرف اللہ کا غلام ہے اور دنیا کی تمام غلاموں سے اس نے رہائی پالی ہے ۔
سوال یہ ہے کہ جس کی روح میں اللہ نے زندگی بھر دی ہو ‘ کیا وہ شخص اس آدمی کی طرح ہو سکتا ہے جو اندھیروں میں گھرا ہوا ہے اور ان سے اس کے نکلنے کی کوئی سبیل نہیں ہے ۔ یقینا ان دونوں افراد کے حالات ایک دوسرے سے بہت ہی مختلف ہیں ۔ اور اس کے درمیان بہت بڑا فرق ہے ۔ لہذا کون ہے جو اس ظلمت کدے میں دھرنا مار کر بیٹھ جائے جبکہ اس کے اردگرد ونور کا فیضان ہو رہا ہو۔
(آیت) ” کَذَلِکَ زُیِّنَ لِلْکَافِرِیْنَ مَا کَانُواْ یَعْمَلُونَ “۔ (6 : 122)
” کافروں کے لئے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنا دیئے گئے ہیں۔ “ یہ ہے حقیقی راز ۔ یہاں کفر کی تعبیر تاریکی اور موت سے کی گئی ہے اور کفر کے اندر یہ صفات مشیت الہی نے ودیعت کی ہیں ۔ پھر اللہ نے انسانوں کے اندر ایسی اقسام پیدا کی ہیں کہ ان میں سے بعض لوگ نور کو پسند کرتے ہیں اور بعض لوگ ظلمت کو پسند کرتے ہیں ۔ جب کوئی ظلمت کو پسند کرنے لگتا ہے تو اس کے لئے ظلمت محبوب کردی جاتی ہے اور وہ گمراہی میں دور تک نکل جاتا ہے یہاں تک کہ اس کے لئے واپس آنے کا کوئی راستہ ہی نہیں رہتا ۔ اس کے بعد جنوں اور انسانوں میں سے شیاطین کا ایک لشکر سامنے آتا ہے جو ایک دوسرے کے سامنے بدنما اور گمراہ کن باتوں کو اچھا بنا کر پیش کرتا ہے ۔ اور پھر وہ کافروں کے لئے ان کے اعمال کو مزید خوشنما بنادیتے ہیں ۔ جس دل میں نور ایمان نہیں ہوتا وہ ان شیاطین کی باتوں پر توجہ سے کان دھرتا ہے ۔ وہ ان کے وسوسوں کے جال میں پھنس جاتا ہے اب وہ ہدایت وضلالت کی بھی کوئی تمیز نہیں کرسکتا کیونکہ وہ اندھیروں میں گھرا ہوتا ہے ۔ یوں اللہ کافروں کے لئے ان کے اعمال کو خوشنما بنا دیتا ہے ۔
اس اصول کے مطابق اللہ تعالیٰ نے ہر گاؤں میں کچھ و ڈیرے مجرم بنا دیئے ہیں اور وہ ان بستیوں میں اپنی مکاریوں کے جال پھیلاتے ہیں ۔ یوں اللہ کی جانب سے انسانوں کے ابتلاء کی یہ اسکیم مکمل ہوتی ہے اور اللہ کی تقدیر اپنا کام کرتی ہے ۔ اس کی حکمت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں اور ہر شخص اس دنیا میں وہی راستہ اختیار کرتا ہے جو اس کے لئے ساز گار بنا دیا گیا ہوتا ہے اور آخر کار ہر شخص اپنے مقرر انجام تک جا پہنچتا ہے ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ جَعَلْنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ أَکَابِرَ مُجَرِمِیْہَا لِیَمْکُرُواْ فِیْہَا وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)
” اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکروفریب کا جال پھیلائیں ۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں خود پھنسے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔ “
یہ اللہ کی سنت ہے کہ وہ ہر بستی ‘ شہر یا دارالخلافہ میں بڑے بڑے مجرمین میں کچھ لوگوں کو مقتدر بنا دیتا ہے ۔ یہ جرائم پیشہ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دین کے دشمن ہوتے ہیں اور یہ دین کے دشمن اس لئے ہوتے ہیں کہ بستیوں کے اوپر اقتدار حاصل کرکے اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتے ہیں ۔ دین ان سے اس اقتدار کو چھین کر اسے اپنے مقاصد کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یوں دین ان سے ربوبیت اور حاکمیت کی حیثیت چھین لیتا ہے اور لوگوں کو آزادی حاصل ہوجاتی ہے ۔ یوں دین تمام لوگوں کو اللہ کی غلامی میں دے دیتا ہے اور اللہ ہی رب الناس اور ملک الناس قرار پاتا ہے ۔
یہ سنت الہیہ ہے کہ اللہ سچائی کے ساتھ رسولوں کو بھیجے اور یہ سچائی تمام مدعیان ربوبیت سے ان کی ربوبیت چھین لے اور تمام مدعیان حاکمیت سے ان کا حق اقتدار چھین لے ۔ چناچہ سچائی کے باوجود یہ اکابر مجرمین رسولوں اور سچائی کے دشمن ہوجاتے ہیں اور بستیوں اور دارالحکومتوں میں اپنی مکاری کے جال پھیلاتے ہیں ۔ تمام لوگ اپنے اپنے دارالخلافوں سے ایک دوسرے کو ہدایت اور رپورٹیں دیتے ہیں جو فریب پر مبنی ہوتی ہیں اور یہ لوگ معرکہ حق و باطل میں شیاطین کے معاون بنتے ہیں ۔ باطل اور گمراہی کو پھیلانے کی سعی کرتے رہتے ہیں اور اپنی اس ظاہری اور خفیہ سازش کی وجہ سے لوگوں کو حقیر سمجھتے ہیں ۔
یہ سنت جاریہ اور ہمہ گیر معرکہ ہے ۔ اس لئے کہ دونوں قوتوں کے درمیان اصل اول ہی کی بنا پر تضاد ووجود میں آگیا ہے ۔ اصل اول یہ ہے کہ حاکمیت اور اقتدار اعلیٰ صرف اللہ جل شانہ کے ساتھ مخصوص ہے جبکہ کسی بھی بستی کے مجرمین کی خواہش یہ ہوتی ہے کہ اس بستی میں ان کی بات کی چلت ہو اس کے علاوہ اہل حق اور ان اکابر مجرمین کے درمیان ذاتی تضاد بھی ہوتا ہے ۔
ہر نبی کو اس معرکے سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ کوئی نبی اس سے بچ نہیں سکتا ۔ نبی اور اہل ایمان کے لئے لازمی ہے کہ وہ اس معرکے میں کو دیں اور آخر کار میں اس میں سے سرخروئی کے ساتھ نکلیں ۔ اللہ اپنے دوستوں کو اطمینان دلاتے ہیں کہ ان مجرمین کا مکر و فریب کتنا ہی عظیم کیوں نہ ہو اور ان کا حال طویل سے طویل ترکیوں نہ ہو ؟ آخر کار یہ مکر خود ان پر آکر پڑے گا ۔ اس لئے کہ اہل ایمان صرف تنہا اس معرکے میں نہیں کودتے اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور وہ ان کے لئے کافی مددگار ہے ۔ وہ کافرین کی سازش کو خود ان پر لوٹاتا ہے ۔ ” دراصل وہ خود اپنے فریب کے جال میں پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ۔
(آیت) ” وَمَا یَمْکُرُونَ إِلاَّ بِأَنفُسِہِمْ وَمَا یَشْعُرُونَ (123)
” لہذا اہل ایمان کو پوری طرح مطمئن رہنا چاہیے ۔ “
اب قرآن کریم یہ بتاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کے دین کے دشمنوں کے مزاج میں کبر و غرور کا مادہ بھرا ہوتا ہے ۔ اور یہی کبر اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ اسلام سے دور رہیں اور یہ اس لئے اس نظریہ سے دور بھاگتے ہیں کہ اس میں جس طرح یہ اکابر اللہ کے بندے ہوتے ہیں اس طرح تمام عوام بھی اللہ کے بندے ہوتے ہیں ‘ کوئی طبقاتی فرق باقی نہیں رہتا ۔ چونکہ یہ لوگ اپنے اس طبقاتی فرق و امتیاز کو قائم رکھنا چاہتے ہیں اس لئے ایسے لوگوں کے لئے یہ ایک بڑا کڑوا گھونٹ ہے کہ یہ ایمان لے آئیں اور نبی کے سامنے اطاعت کریں حالانکہ وہ اس بات کے عادی ہیں کہ وہ خود مطاع بنیں اور الوہیت اور ربوبیت کے مقام پر فائز ہوں ‘ قانون سازی کریں اور ان کے قوانین کو تسلیم کیا جائے ۔ وہ احکام دیں اور لوگ ان کے احکام کی اطاعت کریں ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ایسی باتیں کرتے ہیں جو کرنے کی نہیں ہیں ۔ نہایت ہی بےبنیاد بات کرتے ہیں ۔ کہ ہم اس وقت تک ایمان نہ لائیں گے جب تک ہمیں وہ تعلیم نہ دی جائے جو نبیوں کو دی گئی :
(آیت) ” وَإِذَا جَاء تْہُمْ آیَۃٌ قَالُواْ لَن نُّؤْمِنَ حَتَّی نُؤْتَی مِثْلَ مَا أُوتِیَ رُسُلُ اللّہِ “ (6 : 124)
جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہی ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے۔ “
ولید ابن مغیرہ نے ایک بار کہا : ” کہ اگر نبوت حق بات ہوتی تو میں زیادہ مستحق تھا کہ میں نبی ہوتا ‘ کیونکہ میں عمر میں ’ اے محمد ‘ تم سے بڑا ہو ۔ مال میں تم سے زیادہ ہوں ۔ “ اور ابو جہل نے کہا ’ خدا کی قسم ہم اس تحریک پر راضی نہ ہوں گے اور نہ ہی اس کی اطاعت کریں گے الا یہ کہ ہم پر بھی اسی طرح جبرئیل وحی لے کر آئیں جس طرح اس پر لاتے ہیں ۔
یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ کبر نفس اور اس قسم کے لوگ جس طرح کے عادی ہوتے ہیں کہ یہ احکام صادر کرتے ہیں اور دوسرے لوگ اطاعت کرتے ہیں ایسے امور ہیں جن کی وجہ سے لوگوں کے لئے ضلالت کو مزین کردیا جاتا ہے اور یوں یہ لوگ دین اور داعیان دین (رسل) کے مقابلے میں دشمنی پر اتر آتے ہیں ۔
چناچہ اللہ ایسے لوگوں کے ان اقوال کی تردید فرماتے ہیں ۔ اول یہ کہ کسی کو رسول مقرر کرنا یہ اللہ کے علم محیط پر موقوف ہے کہ کون اس لائق ہے کیونکہ نبوت ایک نہایت ہی اہم کائناتی منصب ہے ۔ اور دوسری بات یہ کہ یہاں اللہ تعالیٰ ان کی تردید سختی ‘ تحقیر اور دھمکی سے کرتے ہیں کہ تمہارا انجام بہت ہی برا ہونے والا ہے ۔
(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)
” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ “
رسالت ایک نہایت ہی عظیم اور مہتم بالشان منصب ہے ۔ یہ ایک کائناتی معاملہ ہے جس میں ازلی اور ابدی ارادہ الہیہ ایک بندے کے ساتھ جڑ جاتا ہے ۔ عالم بالا اور انسان کی محدود دنیا کے درمیان اتصال ہوجاتا ہے ۔ آسمان اور زمین آپس میں مل جاتے ہیں ‘ دنیا اور آخرت ایک ہوجاتے ہیں ۔ اس میں سچائی کے کلیات انسانی دلوں ‘ انسانی واقعات ‘ انسانی تاریخ اور عملی دنیا پر منطبق ہوتے ہیں ۔ اس میں ایک انسان اپنی ذات سے الگ ہوجاتا ہے اور خالص اور کامل اللہ کا ہوجاتا ہے ۔ محض نیت اور عمل کا خلوص ہی نہیں بلکہ اس مخصوص انسان کا ظرف بھی اس عظیم کام کے لئے خالی ہوجاتا ہے ۔ ذات رسول باری کے ساتھ مربوط ہوجاتی ہے ۔ رسول اور خدا کے درمیان براہ راست رابطہ ہوجاتا ہے ۔ اور یہ اتصال صرف اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے کہ رسول کی ذات اپنی ماہیت کے اعتبار سے اس رابطے کے لئے صالح اور قابل ہوجائے ۔ اس کے اندر ایسی صلا حیت پیدا کردی جائے کہ وہ اس پیغام کو وصول کرسکے ۔
اس لئے یہ بات اللہ ہی جانتا ہے اور فیصلہ کرتا ہے کہ امانت رسالت وہ کہاں لا کر رکھ دے ۔ اس مقصد کے لئے کس ذات کا انتخاب کرے ۔ کیونکہ اللہ کے اربوں بندے اس زمین پر آتے جاتے اور موجود رہتے ہیں ۔ یہ اللہ ہی ہے کہ ان اربوں میں سے کسی ایک کا انتخاب فرما لیتا ہے ۔
جو لوگ مقام رسالت تک پہنچنا چاہتے ہیں یا وہ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انکو دینی تعلیمات عطا کی جائیں جو رسولوں کو دی گئی ہیں ‘ لیکن یہ لوگ ایسا مزاج رکھتے ہیں جو مسلمان کے لئے موزوں ہی نہیں ہوتا اس لئے کہ وہ خود اپنی ذات کو محور کائنات سمجھتے ہیں جبکہ رسولوں کا مزاج بالکل دوسرا ہوتا ہے ۔ رسول کا مزاج تو یہ ہوتا ہے کہ وہ نہایت ہی عاجزی سے رسالت کو قبول کرتا ہے اور پھر اپنے آپ کو اس کے لئے وقف کردیتا ہے ۔ وہ اپنی ذات کو اس پیغام میں نشوونما دیتا ہے اور پھر رسول کو یہ منصب ایسے حالات میں دیا جاتا ہے کہ وہ نہ اس کے بارے میں کوئی خبر رکھتا ہے اور نہ ہی وہ اس کا امیدوار ہوتا ہے ۔
(آیت) ” وما کنت ترجو ان یلقی الیک الکتب الا رحمۃ من ربک “۔ تم اس بات کی امید نہ رکھتے تھے کہ تمہارے طرف کتاب کا القاء ہوگا ‘ یہ تو تمہارے رب کی ایک رحمت تھی ۔ “ دوسری بات یہ ہے کہ یہ اکابر جاہل ہیں اور اس منصب کی اہمیت سے واقف ہی نہیں ہیں۔ وہ اس حقیقت کو سمجھ ہی نہیں پا رہے کہ یہ منصب کسی کو عطا کرنا صرف اللہ کے اختیار میں ہے ۔
یہی وجوہات ہیں جن کی بنا پر قرآن ان کی بات کا دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتا ہے ۔
(آیت) ” اللّہُ أَعْلَمُ حَیْْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہُ “ (6 : 124) ” اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ “
چونکہ اللہ جانتا تھا ‘ اس لئے اس نے یہ منصب موزوں شخص کو دے دیا ۔ نہایت ہی مکرم اور مخلص شخص کے سپرد ہوا ۔ پوری تاریخ میں اس نے رسولوں کے معزز سلسلے کو جاری کیا اور اسے خاتم النبین ﷺ پر ختم کیا ۔
اس کے بعد اللہ تعالیٰ ان مجرمین کو یہ دھمکی دیتے ہیں کہ ان کا انجام توہین آمیز ہوگا اور انہیں شدید عذاب سے دوچار ہونا ہوگا ۔
(آیت) ” سَیُصِیْبُ الَّذِیْنَ أَجْرَمُواْ صَغَارٌ عِندَ اللّہِ وَعَذَابٌ شَدِیْدٌ بِمَا کَانُواْ یَمْکُرُونَ (124)
” قریب ہے وہ وقت کہ یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دو چار ہوں گے ۔ ‘
اللہ کے ہاں انکو ذلت اس لئے نصیب ہوگی کہ انہوں نے اپنے متبعین کے ہاں اپنے آپ کو سربلند کیا ہوا تھا اور وہ بوجہ کبر و غرور قبول حق سے انکار کرتے تھے اور ان برائیوں کے ساتھ ساتھ مقام رسالت کی تمنا بھی کرتے تھے ۔ اور چونکہ انہوں نے اسلامی تحریک کے مقابلے میں سازش کا جال پھیلایا ‘ رسولوں کی دشمنی اختیار کی اور مومنین کو اذیت دی ‘ اس لئے انہیں سخت عذاب دیا جائے گا ۔
اب یہ بیان اس بات پر ختم ہوتا ہے کہ انسانوں کے دل و دماغ میں ایمان ہو تو کیا صورت حال ہوتی ہے اور ہدایت سے انسان کے شب وروز کس طرح بدل جاتے ہیں ۔