اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلِكُلٍّ دَرَجَٰتٌ مِّمَّا عَمِلُوا۟ ۚ وَمَا رَبُّكَ بِغَٰفِلٍ عَمَّا يَعْمَلُونَ
وَرَبُّكَ ٱلْغَنِىُّ ذُو ٱلرَّحْمَةِ ۚ إِن يَشَأْ يُذْهِبْكُمْ وَيَسْتَخْلِفْ مِنۢ بَعْدِكُم مَّا يَشَآءُ كَمَآ أَنشَأَكُم مِّن ذُرِّيَّةِ قَوْمٍ ءَاخَرِينَ
إِنَّ مَا تُوعَدُونَ لَءَاتٍ ۖ وَمَآ أَنتُم بِمُعْجِزِينَ
قُلْ يَٰقَوْمِ ٱعْمَلُوا۟ عَلَىٰ مَكَانَتِكُمْ إِنِّى عَامِلٌ ۖ فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَن تَكُونُ لَهُۥ عَٰقِبَةُ ٱلدَّارِ ۗ إِنَّهُۥ لَا يُفْلِحُ ٱلظَّٰلِمُونَ
وَجَعَلُوا۟ لِلَّهِ مِمَّا ذَرَأَ مِنَ ٱلْحَرْثِ وَٱلْأَنْعَٰمِ نَصِيبًا فَقَالُوا۟ هَٰذَا لِلَّهِ بِزَعْمِهِمْ وَهَٰذَا لِشُرَكَآئِنَا ۖ فَمَا كَانَ لِشُرَكَآئِهِمْ فَلَا يَصِلُ إِلَى ٱللَّهِ ۖ وَمَا كَانَ لِلَّهِ فَهُوَ يَصِلُ إِلَىٰ شُرَكَآئِهِمْ ۗ سَآءَ مَا يَحْكُمُونَ
وَكَذَٰلِكَ زَيَّنَ لِكَثِيرٍ مِّنَ ٱلْمُشْرِكِينَ قَتْلَ أَوْلَٰدِهِمْ شُرَكَآؤُهُمْ لِيُرْدُوهُمْ وَلِيَلْبِسُوا۟ عَلَيْهِمْ دِينَهُمْ ۖ وَلَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَا فَعَلُوهُ ۖ فَذَرْهُمْ وَمَا يَفْتَرُونَ
(آیت) ” نمبر 132۔
اہل ایمان کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ شیاطین کے بھی درجے ہیں ۔ ایک سے ایک بڑا ہے ۔ اور سب لوگوں کے اعمال ریکارڈ شدہ ہیں اور اللہ تعالیٰ ان سے بیخبر نہیں ہے ۔
(آیت) ” وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ (132)
” اللہ تعالیٰ نے بندوں کے لئے رسول بھیجے ‘ یہ محض اس کا کرم ہے کہ اس نے ایسا کیا ‘ اس لئے کہ وہ غنی بادشاہ ہے ‘ اسے ان کے ایمان کی کوئی ضرورت لاحق نہیں ہے ۔ نہ ان کی جانب سے عبادت اور بندگی کی کوئی احتیاج ہے ۔ اگر وہ نیک بنتے ہیں تو وہ دنیا اور آخرت میں اپنی بھلائی کے لئے نیک بنیں گے ۔ اسی طرح اللہ رحمت کا اظہار اس وقت بھی علی وجہ الاثم ہوتا ہے کہ اللہ اس دنیا میں نافرمانوں کو بھی مہلت دیتا ہے ورنہ وہ اس بات کی پوری پوری قدرت رکھتا ہے کہ وہ سب کو ہلاک کردے اور ان کی جگہ کوئی دوسری قوم اور نسل لے آئے ۔
(آیت) ” نمبر 133۔
لوگوں کو یہ بات بھولنا چاہیے کہ وہ اس دنیا میں محض اللہ کی مہربانی کی وجہ سے زندہ ہیں ۔ ان کا یہاں رہنا اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ ان کے پاس جو قوت اور حکمت ہے یہ انہیں اللہ کی عطا کی ہوئی ہے ۔ یہ اصل قوت نہیں ہے بلکہ عطائی ہے ۔ وہ خود مختار نہیں ہیں اس لئے کہ کوئی شخص اپنی پیدائش اپنے وجود اور اس جہان میں اپنی بقا میں کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ انسان کو جو بھی قوت دی گئی ہے اس میں اس کا کوئی اختیار نہیں ہے ۔ ان کو یہاں سے ہٹانا اور ان کی جگہ دوسری اقوام کو لانا اللہ کے لئے بہت ہی آسان ہے ۔ کیا وہ دیکھتے نہیں کہ خود اللہ نے دوسری اقوام کی جگہ انہیں یہاں وجود بخشا اور اپنی قدرت کے ذریعے ان دوسری اقوام کی جگہ یہاں انہیں اقتدار اور قوت دی ۔
یہ نہایت ہی شدید تنبیہات ہیں اور نہایت ہی سختی کے ساتھ انسانوں کے دل و دماغ کو جھنجوڑا جا رہا ہے ۔ خصوصا ان لوگوں کو جو ظالم اور مشرک ہیں اور وہ جنات جو مکرو فریب کا جال بچھاتے ہیں ‘ لوگوں پر دست درازیاں کرتے ہیں ‘ اقتدار کا تخت بچھاتے ہیں ۔ خود حلال و حرام قرار دیتے ہیں اور اللہ کی شریعت پر دست درازی کرتے اور خود قانون بناتے ہیں ۔ یہ سب لوگ اللہ کے قبضہ قدرت میں ہیں جب تک وہ چاہے وہ رہیں گے اور جب چاہے ان کو اس دنیا سے رخصت کرکے ان کی جگہ دوسری اقوام کو لے آئے ان تنبیہات کے ذریعے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو تسلی بھی دیتا ہے کہ اگرچہ ان پر مظالم ہوتے ہیں ‘ ان کے خلاف سازشیں ہوتی ہیں اور انہیں اذیت دی جاتی ہے لیکن ان کے دشمن اللہ پر غالب نہیں ہیں ۔ یہ امتحان ہے اور اللہ کسی بھی وقت ان کو اور ان کی مکاریوں کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے اور یہ آخری ضرب ہے ۔
(آیت) ” نمبر 134۔
تم اللہ کے قبضہ قدرت میں ہو ‘ اور تم اس کی مشیت کے مر ہوں منت ہو۔ تم اللہ کی مشیت کے دائرے سے نہ باہر نکل سکتے ہو اور نہ اللہ کے مقابلے میں سرکشی کرسکتے ہو ۔ اس سے قبل مناظر قیامت جن کی ایک جھلک تم دیکھ چکے ہو ‘ تمہارے انتظار میں ہیں ۔ یہ مناظر عملا تمہارے سامنے آنے والے ہیں ۔ تم ان سے بچ کر نہیں نکل سکو گے کیونکہ اللہ کا نظام نہایت ہی قوی اور متین ہے ۔
اب یہ تبصرے اور نتائج ایک نہایت ہی سخت تہدید پر ختم ہوتے ہیں جس کے گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔
(آیت) ” نمبر 135۔
یہ نہایت ہی پختہ تہدید ہے ‘ حق پر مشتمل ہے اور اس کی پشت پر سچائی کی قوت ہے ۔ یہ تہدید نبی کریم ﷺ کی زبانی ہے کہ وہ ان کے معاملات سے ہاتھ نکال رہے ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ وہ سچائی پر ہیں ‘ انہیں یقین ہے کہ ان کا طریق کار اور نظام سچائی پر مشتمل ہے اور انہیں پختہ یقین ہے کہ ان کے مخالفین گمراہی پر ہیں اور ان کا انجام برا ہونے والا ہے ۔ اور وہ یہ ہے کہ :
(آیت) ” إِنَّہُ لاَ یُفْلِحُ الظَّالِمُونَ (135) ” کہ ظالم فلاح نہیں پاسکتے “۔
اس لئے کہ یہ غیر متبدل اصول ہے ‘ کہ مشرکین جو اللہ کے سوا کسی اور کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں اور انہیں اپنا دوست بتاتے ہیں وہ کامیاب نہیں ہو سکتے اس لئے کہ اللہ کے سوا کوئی اور کسی کا مددگار نہیں ہوسکتا ‘ نہ اس کے سوا کوئی اور نصرت کرسکتا ہے ۔ جو لوگ اللہ کی ہدایات سے منہ موڑتے ہیں ‘ وہ نہایت اعلی درجے کی گمراہی میں بہت دور تک چلے گئے ہیں اور وہ گھاٹے ہی گھاٹے میں ہیں ۔
اب اس سورة کے دوسرے حلقے میں کلام کرنے سے پہلے مناسب ہے کہ اس سبق پر قدرے غور کیا جائے ۔ اس سبق سے پہلے ان ذبیحوں پر کلام تھا جن پر اللہ کا نام نہ لیا گیا تھا اور اس سبق کے بعد پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں نذر ونیاز کی بحث ہے ۔ ان دوجزوی مسائل کے درمیان یہ سبق خالص نظریاتی اور عقائد کے مباحث پر مشتمل ہے اور ان میں ایمان وکفر کے مسائل اور مناظر بیان کئے گئے ۔ اس درمیانی سبق میں انسانوں اور جنوں انبیاء اور ان کے دشمنوں کے درمیان چلنے والی کشمکش کا ذکر کیا گیا ہے اور وہ تمام بڑے بڑے نظریاتی مسائل چھیڑے گئے ہیں جو اس سورة میں بالعموم بیان ہوئے ہیں ۔
دیکھنا یہ ہے کہ قرآن کریم زندگی کے ان جزوی مسائل کو کس طرح شریعت کے مطابق اسلام کی نظریاتی اساس پر منطبق کرتا ہے اور اس بات کو اہمیت دیتا ہے کہ ہر مسئلے کا نظریاتی پس منظر نظروں سے اوجھل نہ ہونے پائے ۔ وہ نظریاتی اساس یہ ہے کہ اس کائنات کا رب اور حاکم صرف اللہ ہے اور وہی ہے جو حلال و حرام کی حدود کا تعین کرتا ہے ۔ سوال یہ ہے کہ قرآن کریم جگہ جگہ اپنے نظریہ اساسی کو کیوں بار بار دہراتا ہے اس لئے کہ قرآن کریم اصولا اس بات کو اسلام کا اساسی نظریہ قرار دیتا ہے ۔ اسلام کا نظریہ اساسی کلمہ شہادت (لاالہ الا اللہ) پر قائم ہے ۔ اسی کلمہ کے ذریعے اسلام مسلمانوں کے دلوں سے تمام دوسری خدائیاں نکال کر ان کے دلوں میں صرف اللہ کی الوہیت اور حاکمیت کا عقیدہ جاگزیں کرتا ہے ۔ چناچہ اسلام تمام لوگوں سے حق حاکمیت چھین کر صرف اللہ کی حاکمیت قائم کرتا ہے ۔ قانون سازی ایک ایسا معاملہ ہے کہ کوئی چھوٹا قانون ہو یا بڑا دونوں میں اللہ کا حق حاکمیت استعمال ہوتا ہے ۔ یہی وہ حق ہے جسے ایک مسلمان صرف اللہ کے لئے مخصوص کردیتا ہے اور تمام دوسرے لوگوں کے لیے اس حق کی نفی کردیتا ہے ۔ اسلام میں دین کا مفہوم یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں ‘ چاہے وہ عقائد ونظریات سے متعلق ہوں مثلا الوہیت وحاکمیت یا عملی معاملات ہوں سب میں صرف اللہ کی اطاعت اور بندگی کی جائے اور قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہو۔ اس طرح قانون کا حق بھی صرف اللہ کے قانون کو حاصل ہو ۔ چناچہ ایک مسلمان کا دین یہ ہوتا ہے کہ وہ تمام اطاعتوں اور قیادتوں کا انکار کرکے صرف اللہ کی اطاعت اور قیادت کو قبول کرلے ۔
یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم ان اعتقادی امور کو بار بار دہراتا اور ان کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور تمام امور کو ان نظریات پر مرتب کرتا ہے جس طرح اس مکمل سورة میں صاف نظر آتا ہے جیسا کہ آغاز سورة میں ہم نے کہا کہ یہ سورة پوری کی پوری مکی ہے اور مکی سورتوں میں امت مسلمہ کے سامنے قانون سازی کا کوئی مسئلہ درپیش نہ تھا ۔ اس کے باوجود اس سورة میں نظریاتی اور اعتقادی طور پر اس بات کی صاف صاف نشاندہی کردی گئی ہے کہ قانون سازی کا حق صرف اللہ کو ہے اور یہ اسلام اور دین اسلام کا ایک عظیم اور اساسی نظریاتی اصول ہے جس پر یہ دین قائم ہے ۔ (1) (دیکھئے خصائص التصور الاسلامی کا فصل الوہیت اور عبودیت)
درس نمبر 70 ایک نمبر میں :
یہ سبق جو قدرے طویل ہے اور اس سے پہلے کا سبق اور اس پر آنے والے تبصرے اسلام کے نظریہ حاکمیت سے متعلق ہیں ۔ یہ ایک ایسی سورة میں ہیں جو مکہ میں نازل ہوئی ‘ جبکہ یہ بات معلوم ہے کہ مکی سورتوں کا موضوع بالعموم نظریات اور عقائد سے متعلق ہوتا ہے ۔ مکی سورتوں میں قانون سازی کو نہیں چھیڑا گیا تھا ‘ قانون سازی کے بارے میں صرف وہ باتیں ان سورتوں میں ہوتی تھیں جن کا تعلق اصول قانون سے تھا ، مکہ مکرمہ میں کوئی اسلامی حکومت موجود نہ تھی جسے قانون سازی کی ضرورت پڑتی اور اللہ تعالیٰ شریعت کو محض داستان یا تاریخ کے طور پر ذکر کرنا نہ چاہتا تھا ۔ نہ اس وقت اسلامی شریعت بحث وتحقیق کا محض کوئی تدریسی موضوع تھا ۔ اسلام تو ایک ایسا معاشرہ چاہتا تھا جو عملا پورے کا پورا اسلام میں داخل ہوسکے ‘ جس کے اندر لوگ اپنے آپ کو ‘ اپنی پوری زندگی کو اللہ کی بندگی اور شریعت کی قیادت میں دینے کے لئے تیار ہوں ۔ لہذا اسلام میں قانون سازی اس وقت تک نہ ہو سکتی تھی جب تک اسلامی حکومت قائم نہ ہوجائے اور وہ لوگوں کے درمیان اللہ کے قانون کے مطابق فیصلے کرنا نہ شروع کردے ۔ صورت یہ نہ ہو کہ ادھر سے حکم آ رہا ہو اور ادھر انسانوں پر نافذ ہورہا ہو ‘ اس لئے کہ اسلام کا مزاج ہی ایسا ہے کہ وہ ایک عملی نظام ہے اور اپنے قانون نظام کا نفاظ بھی سنجیدگی ‘ وقار اور متانت کے ساتھ کرتا ہے ۔
لیکن میں یہ کہتا ہوں کہ یہ سبق ایک مکی سورة میں ہونے کے باوجود قانون سازی کے مسئلے کے ساتھ متعلق ہے ۔ اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اسلام قانون سازی کو بہت ہی اہمیت دیتا ہے اور قانون سازی کو اس دین کے اساسی مسائل میں سے تصور کرتا ہے ۔
اس سے قبل کہ ہم اس سبق کی تفصیلا میں جائیں مناسب ہوگا کہ ظلال القرآن کی طرز پر ہم اس پورے سبق پر ایک اجمالی نگاہ دوڑائیں اور دیکھیں کہ اس سبق کی مراد کیا ہے اور اس میں کیا ہدایات دی گئی ہیں ؟
اس کا آغاز اس بات سے ہوتا ہے کہ مشرکین مکہ پھلوں ‘ مویشیوں اور اولاد کے بارے میں کچھ تصورات اور ادہام رکھتے تھے ۔ ان کے کچھ مالی اور کچھ اجتماعی تصورات تھے جو دور جاہلیت میں عقیدے اور قانون کا درجہ رکھتے تھے ۔ یہ تصورات اور ادہام درج ذیل امور پر مشتمل تھے ۔
1۔ اللہ نے انہیں فصلوں اور مویشیوں کی صورت میں جو رزق عطا کیا تھا وہ انہوں نے دو حصوں میں تقسیم کردیا تھا ۔ ایک حصہ اللہ کے لئے تھا ‘ اور وہ یہ زعم رکھتے تھے کہ اللہ نے یہ حصہ اپنے لئے مخصوص کرلیا ہے ۔ ایک دوسرا حصہ انہوں نے اپنے شرکاء کے ساتھ مخصوص کردیا تھا ۔ یہ شرکاء وہ الہ تھے جن کو وہ پکارتے تھے اور ان کو وہ اللہ کے ساتھ اپنے نفس کے معاملات ‘ اموال اور اولاد کے معاملات میں شریک کرتے تھے ۔
(آیت) ” وَجَعَلُواْ لِلّہِ مِمِّا ذَرَأَ مِنَ الْحَرْثِ وَالأَنْعَامِ نَصِیْباً فَقَالُواْ ہَـذَا لِلّہِ بِزَعْمِہِمْ وَہَـذَا لِشُرَکَآئِنَا (6 : 136)
” انہوں نے اللہ کے لئے خود اس کی پیدا کی ہوئی کھیتوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے ‘ اور کہتے ہیں یہ اللہ کیلئے ہے بزعم خود ‘ اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لئے ہے ۔
2۔ اس کے بعد وہ خود بزعم خود مقرر کردہ حصہ خدا پر دست درازی کرتے تھے اس حصے سے کچھ وہ لے لیتے تھے اور اسے اپنے شریکوں کے حصے کے ساتھ ملا دیتے تھے لیکن وہ اپنے شرکاء کے حصے کے ساتھ یہ سلوک نہ کرتے تھے ۔
(آیت) ” فَمَا کَانَ لِشُرَکَآئِہِمْ فَلاَ یَصِلُ إِلَی اللّہِ وَمَا کَانَ لِلّہِ فَہُوَ یَصِلُ إِلَی شُرَکَآئِہِمْ (6 : 136)
” پھر جو حصہ ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کا ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لئے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے ۔ “
3۔ ان کے ان شرکاء نے ان کے لئے قتل اولاد کو خوشنما بنادیا تھا ۔ یہ کام ان کے معاشرے میں پائے جانے والے کاہنوں کا تھا جو ان کے قوانین بناتے تھے جو ان کے لئے از خود ایسی رسومات گھڑتے تھے کہ ان پر لوگ عمل کرنے پر مجبور ہوتے ۔ ان پر ایک طرف سے اجتماعی دباؤ ہوتا تھا اور دوسری جانب سے وہ دینی رسومات کے زاویہ سے از خود ایسا کرنا چاہتے تھے مثلا وہ فقر اور عار کی وجہ سے لڑکیوں کو قتل کرتے تھے اور بعض اوقات وہ بطور نذر بھی اولاد کو قتل کرتے تھے جس طرح عبدالمطلب نے نذر مانی تھی کہ اگر اس کے دس بچے ہوئے اور جوان ہوئے تو وہ ایک کو الہوں کے نام پر قربان کرے گا ۔
(آیت) ” وَکَذَلِکَ زَیَّنَ لِکَثِیْرٍ مِّنَ الْمُشْرِکِیْنَ قَتْلَ أَوْلاَدِہِمْ شُرَکَآؤُہُمْ لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ (6 : 137)
” اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لئے ان کے شریکوں نے اولاد کے قتل کو خوشنما بنایا ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنا دیں ۔ “
4۔ یہ لوگ بعض جانوروں اور بعض فصلوں پر پابندی عائد کردیتے تھے ۔ وہ کہتے تھے کہ ان کا کھانا محض اللہ کے اذن پر موقوف ہے اور یہ ان کا زعم تھا ۔ بعض سواری کے جانوروں کی پشت کا گوشت نہ کھاتے تھے ۔ بعض پر وہ ذبح کے وقت اللہ کا نام لینا جائز نہ سمجھتے تھے یا حج کے موسم میں اگر ان پر سوار ہوتے تو اللہ کا نام نہ لیتے اس لئے کہ وہ کہتے تھے کہ یہ حج کی سواریاں ہیں اور ان کے اندر اللہ کا ذکر موجود ہے ۔ وہ کہتے یہ تھے کہ یہ اللہ کا حکم ہے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ ہَـذِہِ أَنْعَامٌ وَحَرْثٌ حِجْرٌ لاَّ یَطْعَمُہَا إِلاَّ مَن نّشَاء بِزَعْمِہِمْ وَأَنْعَامٌ حُرِّمَتْ ظُہُورُہَا وَأَنْعَامٌ لاَّ یَذْکُرُونَ اسْمَ اللّہِ عَلَیْْہَا افْتِرَاء عَلَیْْہِ “۔ (6 : 138)
” کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ “
5۔ وہ کہتے تھے کہ بعض جانوروں کا جو حمل ہے وہ صرف مردوں کے لئے ہے اور عورتوں پر وہ حرام ہے ۔ ہاں اگر وہ بچہ مردہ پیدا ہو تو مرد اور عورت دونوں مساویانہ طور پر حقدار ہوں گے اور اس مضحکہ خیز قانون کو بھی وہ منجانب اللہ سمجھتے تھے ۔
(آیت) ” وَقَالُواْ مَا فِیْ بُطُونِ ہَـذِہِ الأَنْعَامِ خَالِصَۃٌ لِّذُکُورِنَا وَمُحَرَّمٌ عَلَی أَزْوَاجِنَا وَإِن یَکُن مَّیْْتَۃً فَہُمْ فِیْہِ شُرَکَاء سَیَجْزِیْہِمْ وَصْفَہُمْ إِنَّہُ حِکِیْمٌ عَلِیْمٌ(139)
” اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کیلئے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ‘ لیکن اگر وہ مردہ ہوں تو دونوں اس کھانے میں شریک ہو سکتے ہیں ۔ یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا ۔ یقینا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے ۔ “
عربی سوسائٹی کے اسلام سے پہلے جو رنگ ڈھنگ تھے مذکور بالا تصورات ‘ مزعومات اور رسم و رواج سے ان کا اندازہ بخوبی ہوجاتا ہے اور مکہ مکرمہ کے اندر اس سورة کی اصلاحات کے ذریعے قرآن کریم ان کا قلع قمع کرنے کے درپے ہے ۔
عربوں کے دل و دماغ کو ان غلط مزعومات سے پاک کر رہا ہے اور عرب کی جاہلی سوسائٹی سے ان کو محو کر رہا ہے ۔ قرآن کریم نہایت ہی دھیمی رفتار سے اپنے مخصوص منہاج اصلاح کے ذریعے غلط تصورات کے اس جنگل کو صاف کررہا ہے ۔
٭ سب سے پہلے اس نے لوگوں کو یہ بتایا کہ جو لوگ اپنی اولاد کو مختلف وجوہات کی بنا پر قتل کر رہے ہیں وہ بیوقوف ہیں ۔ وہ علم ومعرفت سے محروم ہیں اور اپنے آپ کو نعمت اولاد سے محروم کر رہے ہیں ۔ پھر یہ کام وہ یوں کرتے ہیں کہ اسے اللہ کی طرف منسوب کرکے اس کی ذات بےعیب پر افتراء باندھنے کے جرم کا ارتکاب بھی کرتے ہیں ۔ قرآن نے اعلان کیا کہ یہ مطلق گمراہی ہے اور یہ مزعومات سب کے سب غلط ہیں ۔
٭ اس کے بعد قرآن نے انہیں یہ سمجھایا کہ ان کے یہ تمام اموال جن میں وہ تصرف کرتے ہیں یہ دراصل اللہ کے پیدا کردہ ہیں ۔ اللہ ہی وہ ذات ہیں جس نے تمہارے لئے طرح طرح کے باغ ‘ تاکستان اور نخلستان پیدا کئے ۔ وہی ہے جس نے تمہارے تمام جانور پیدا کئے اور وہی ہے جو سب کو رزق دیتا ہے ۔ غرض وہی مالک ہے اور صرف وہی لوگوں کے لئے قانون بنانے کا حق رکھتا ہے ‘ ان تمام چیزوں میں جو اس نے اس دنیا میں بطور رزق پیدا کیں ۔ اس بیان کے دوران قرآن کریم ان مناظر کو کام میں لاتا ہے جو انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں ۔ پھلوں کے باغ اور لہلہاتے کھیت اور نخلستان اور تاکستان وغیرہ اور حیوانات جو بہترین اور خوبصورت سواری کا کام کرتے ہیں اور ان کی فر سے فرش کا کام لیا جاتا ہے ‘ ان کا گوشت کھایا جاتا ہے ‘ ان کی کھالوں سے متعدد مفادات لئے جاتے ہیں بلکہ اون اور بال بھی کام میں لائے جاتے ہیں ۔ اس مقام پر یہ تاثر بھی واضح طور پر دیا جاتا ہے کہ انسان اور شیطان کے درمیان روز اول سے دشمنی ہے لہذا انہیں ہر گز اپنے دشمنوں کے قدموں پر نہیں چلنا چاہیے اس لئے کہ ہو کھلا دشمن ہے ۔
٭ اس کے بعد بعض حیوانات کے بارے میں ان کے بودے تصورات کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ یہ تصورات اور عقائد ادنی منطق سے بھی خالی ہیں ۔ ان تصورات کو ایسے انداز میں سامنے لایا گیا ہے کہ وہ بادی النظر میں حقیر بودے اور بےوقعت نظر آتے ہیں ۔ اس وضاحت کے بعد ان سے پوچھا جاتا ہے کہ ان بےدلیل قوانین رواجات پر وہ کیوں عمل پیرا ہیں ؟ وہ کس دلیل سے کہتے ہیں کہ یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ۔ انہیں صرف وہی لوگ کھا سکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں ‘ حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ‘ پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے ۔ کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افتراء کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ سوال کرتے ہیں کیا تم اس وقت موجود تھے جب اللہ تعالیٰ نے یہ قوانیں بنائے ؟ یا یہ کوئی راز کی بات تھی جو اللہ تعالیٰ نے صرف تمہیں بتائی تھی یا یہ حکم صرف تمہارے لئے تھا ۔ فرماتے ہیں یہ سب کچھ افتراء ہے اور لوگوں کو ناحق گمراہ کرنا ہے اور اس افتراء اور گمراہی کے نتیجے میں اللہ ان سے مواخذہ کرے گا ۔
٭ اس مقام پر اللہ تعالیٰ واضح فرماتے ہیں کہ حرام کیا ہے اور حلال کیا ہے اور یہ کہ یہودیوں کے لئے کیا حرام کیا گیا تھا اور کیوں اور مسلمانوں کے لئے کیا حرام ہے اور وہ کیا چیزیں ہیں جو اگرچہ یہودیوں کے لئے قبلا حرام تھیں مگر اب حلال کردی گئی ہیں ۔
٭ اس کے بعد ان کے اس استدلال کی تردید کی جاتی ہے کہ وہ جو کہتے ہیں کہ اگر اللہ نہ چاہتا تو وہ اس جاہلیت میں مبتلا نہ ہوتے اور یوں اپنے لئے خود حلال و حرام کے اصول طے کر کے شرک کا ارتکاب نہ کرتے ۔
(آیت) ” لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)
” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے آباء شرک کرتے اور نہ ہم کسی چیز کو حرام قرار دیتے ۔ “
چناچہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :
کہ یہ بات اور یہ استدلال تمام کافر ہمیشہ سے پیش کرتے چلے آئے ہیں لیکن تاریخ میں جن اقوام نے یہ استدلال کیا ہے وہ ہمارے عذاب سے بچ کر نہیں نکل سکیں ۔
(آیت) ” کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)
” اسی طرح ان سے پہلے جو لوگ تھے انہیں نے تکذیب کی یہاں تک کہ انہوں نے ہمارے عذاب کو چکھا ۔ “
ان آیات سے ثابت ہوا کہ شریعت کے بغیر از خود کسی چیز کو حرام سمجھنا شرک باللہ کے مترادف ہے ۔ جن لوگوں نے ہمیشہ آیات الہی کی تکذیب کی ہے وہ ایسا ہی کرتے آئے ہیں ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ ان سے پوچھتے ہیں کہ وہ اس قسم کے فیصلے اور استدلال کس منطق کی رو سے کرتے ہیں ۔
(آیت) ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” ان سے کہو ’ ’ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “
٭ اس کے بعد ان کو دعوت دی جاتی ہے کہ وہ اپنے موقف پر کوئی علمی ثبوت پیش کریں لیکن اگر وہ کوئی جھوٹے دلائل دیں تو ان کو یکسر رد کردیں ۔ اس سورة کے آغاز میں بھی اصل عقائد کے مضمون میں یہی حکم دیا گیا تھا کہ ان لوگوں کے ساتھ رابطہ ہی ختم کردیا جائے ۔ دونوں مواقع پر مضمون کے الفاظ میں بہت کم تغیر پایا جاتا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک باللہ (ذات میں) اور شرک باللہ (حاکمیت میں) ایک ہی درجہ رکھتا ہے ۔ جو شخص اللہ کے سوا قانون سازی کرتا ہے یا کسی کو قانون ساز تسلیم کرتا ہے وہ بھی شرک کرتا ہے ۔
(آیت) ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
” ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ “
ان آیات اور سابقہ آیات کے مناظر ‘ عبارات اور الفاظ تک ایک ہیں ۔ جو لوگ قانون سازی از خود کرتے ہیں وہ ہوائے نفس کے متبع ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آیات الہی کو جھٹلاتے ہیں اور یہ وہی لوگ ہیں جو آخرت پر ایمان ویقین نہیں رکھتے ۔ اگر وہ اللہ کی آیات کو سچا مانتے اور آخرت پر ایمان لاتے اور اللہ کی ہدایت کو تسلیم کرتے تو وہ اپنے لئے اور لوگوں کے لئے خود قانون نہ بناتے اور اللہ کے احکام کے سوا کسی کو حرام قرار نہ دیتے ۔
٭ اور آخر میں اللہ تعالیٰ ان چیزوں کے بارے میں بتاتے ہیں جو اس نے فی الحقیقت حرام کردی ہیں ۔ اس میں اجتماعی زندگی کے تمام اصول بتلا دیئے گئے ہیں یعنی اللہ کی توحید ‘ اللہ کے احکام اور حدود فرائض لیکن زیادہ تر وہ چیزیں گنوائی گئی ہیں جو حرام ہیں ۔۔۔۔۔۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے شرک کی ممانعت کی ‘ والدین کے ساتھ احسان کا حکم دیا اور فقر وفاقہ کے ڈر سے اولاد کے قتل کی ممانعت اور یہ کہ اللہ رازق ہے اور یہ کہ ممانعت اور یتیم کے مال کو کھانے کی ممانعت الا یہ کہ جائز طور پر اسے استعمال کیا جائے اور ناپ اور تول کے پیانوں کو درست رکھنے کا حکم ۔ بات اور معاملات میں عدل سے کام لیا جائے اگرچہ معاملہ رشتہ داروں کا ہو اور اللہ کے عہد سے وفا کی جائے اور ان سب امور کو منجانب اللہ وصیت قرار دیا گیا اور ان امور کے بارے وصیت کو بار بار دہرایا گیا ہے ۔
یہ تمام امور اسلامی نظریہ حیات کے اساسی اصول اور شریعت کے مبادی ہیں ۔ ان کو ایک ہی سلسلہ کلام میں جمع کیا گیا ہے اور بالکل ایک دوسرے کے ساتھ ملا کر اور منظم کرکے بیان کیا گیا ہے ۔ یہ سب احکام ایک ہی جملے ‘ ایک ہی گروپ اور ایک ہی اجتماعی شکل میں لائے گئے ہیں ۔ اس سے قرآن کریم کی اجتماعی سوچ اچھی طرح معلوم ہوجاتی ہے اور اسلام کا منہاج بھی واضح ہوتا ہے چناچہ اس سبق کے آخر میں کہا جاتا ہے ۔
(آیت) ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” اور یہ کہ یہ میرا سیدھا راستہ ہے لہذا تم اس پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس راستے سے ہٹا کر تمہیں پر اگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں دی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔
یہ آخری جملہ اس لئے کہا گیا تاکہ اس پورے سبق سے جو مقصود اصلی ہے وہ بالکل سامنے آجائے اور بات کھل کر ایک ہی فقرے میں سمیٹ لی جائے اور اس طرح دو ٹوک بن جائے ۔ دین اسلام میں عقائد اور قانون دونوں کا تعلق توحید اور شرک سے ہے ۔ بلکہ اسلامی قانون سازی میں بھی شرک کا ارتکاب ہو سکتا ہے جس طرح عقیدے میں شرک ہو سکتا ہے کیونکہ اسلام میں قانون سازی عین عقیدہ ہے اس لئے کہ قانون اسلامی دراصل عقیدہ توحید کی تفصیل وتشریح ہوتا ہے ۔ یہ حقیقت قرآن کریم کے متعدد نصوص سے بالکل واضح ہے ۔ اور اسلام کے اسلوب بیان کے مطابق اسے جگہ جگہ بیان کیا گیا ہے ۔
یہ وہ حقیقی مقام ہے جس سے دین کا مفہوم طویل تاریخی عوامل کی وجہ سے دور ہوگیا اور یہ عمل طویل زمانے میں مکمل ہوا ۔ اس مقصد کے حصول کے لئے خبیث اور اوچھے ہتھکنڈے استعمال کئے گئے ۔ آج حال یہ ہے کہ دین کے دشمن تو ہیں ہی دشمن ‘ خود دین کے لئے کام کرنے والوں اور اس کے پرجوش کارکنوں کے ذہنوں سے یہ حقیقت اوجھل ہوگئی ۔ خود حامیان دین بھی عقیدہ حاکمیت الہیہ کو اسلامی عقائد سے علیحدہ سمجھتے ہیں اور حامیان دین بھی مسئلہ حاکمیت الہیہ میں اس طرح پرجوش نہیں رہے جس طرح وہ معروف دینی عقائد کے لئے پرجوش ہیں ۔ وہ لوگ عقیدے حاکمیت الہیہ کے انکار کو دین کا انکار نہیں سجھتے جس طرح وہ عقیدہ توحید کے انکار اور اللہ کی عبادات کے انکار کو دین کا انکار سمجھتے ہیں حالانکہ دین اسلام نے کسی جگہ بھی عقیدے بندگی اور شریعت کو ایک دوسرے سے جدا نہیں کیا ہے ۔ اسلامی نظریہ حیات کے تصور کو طویل تاریخی اور تدریجی سازشوں کے تحت نکالا گیا ہے اور نہایت ہی ہوشیاری اور تجربہ کاری کے ساتھ یہ کام کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ حاکمیت الہیہ کے عقیدے نے موجودہ شکل اختیار کرلی ۔ اسلام کے برجوش حامی بھی اس کے حامی نہ رہے ‘ حالانکہ یہ حقیقت اس سورة میں واضح طور پر بیان ہوئی ہے ‘ باوجود اس کے کہ یہ سورة مکی سورة ہے اور اس کا موضوع دستور و قانون نہیں ہے بلکہ اس کا موضوع عقیدہ توحید اور اسلامی نظریہ حیات ہے لیکن اس کے باوجود اس نکتے کے تمام پہلو لئے گئے ہیں اور تمام تفصیلات دی گئی ہیں اور یہ بھی اس حوالے سے کہ بات اجتماعی زندگی کے اس جزوی مسئلے پر ہو رہی تھی لیکن اس جزوی مسئلے کا تعلق چونکہ ایک اصول سے تھا ‘ نظریاتی اور دستوری مسئلے سے تھا ۔ یہ اصول بھی ایسا تھا جو اساس دین ہے اس لئے یہاں اس پر زور دیا گیا ۔
لوگ بتوں کی پوجا کرنے والے پر تو شرک کا فتوی لگاتے ہیں لیکن ان لوگوں پر شرک کا فتوی نہیں لگاتے جو اپنے فیصلے طاغوتی عدالتوں سے کراتے ہیں ۔ وہ بت پرستی سے تو اجتناب کرتے ہیں لیکن طاغوتی حکام کی اطاعت سے اجتناب نہیں کرتے ۔ یہ لوگ قرآن کریم کی تلاوت تو کرتے ہیں لیکن اس دین کے مزاج کو نہیں سمجھتے ۔ انہیں چاہیے کہ قرآن کو اس طرح پڑھیں جس طرح وہ نازل ہوا ہے ۔ انہیں اس آیت پر غور کرنا چاہیے ۔
(آیت) ” وان اطعتموھم انکم مشرکون “۔ اگر تم نے ان کی اطاعت کی تو تم مشرک بن جاؤ گے ۔ “
اسلام کے یہ پرجوش حامی اپنے آپ کو اور دوسرے لوگوں کو صرف بعض جزوی امور کو زیر بحث لا کر مطمئن کرنے کی سعی کرتے ہیں کہ فلاں فلاں قانون ‘ اسلام کے خلاف ہے یا فلاں فلاں قانون کا فلاں جزء اسلام کے خلاف ہے ۔ ان کا جوش بعض جزوی اصطلاحات تک موقوف ہے یا وہ بعض بدعملیوں کی اصلاح تک اپنے آپ محدود رکھتے ہیں اور ان کے طرز عمل سے معلوم ہوتا ہے کہ گو اسلام تو پورے کا پورا قائم ہے لیکن بعض جزوی امور میں نقص رہ گیا ہے بس صرف ان امور کی اصلاح ہی سے اس کی تکمیل ہوجائے گی ۔
دین اسلام کے بارے میں غیرت رکھنے والے اور اس کے پرجوش حامی درحقیقت اس دین کے لئے باعث اذیت ہیں لیکن سمجھتے نہیں بلکہ اس قسم کی جزوی اور غیر اہم باتوں کو اہمیت دے کر یہ لوگ دین کی پیٹھ میں چھرا گھونپتے ہیں ۔
امت مسلمہ کے اندر اس وقت جو نظریاتی قوت اور جوش پایا جاتا ہے یہ لوگ اسے اس قسم کی غیر اہم باتوں پر صرف کرتے ہیں اور ضمنا وہ موجودہ دور کے جاہلی اجتماعی نظام اور جاہلی سوسائٹی کی تائید کرتے ہیں ۔ وہ عملا یہ شہادت دیتے ہیں کہ دین قائم ہے اور اگر کوئی کمی ہے تو وہ صرف یہ جزوی نقائص ہیں جنہیں وہ ختم کرنا چاہتے ہیں حالانکہ حقیقی صورت حال یہ ہے کہ دین مکمل طور پر معطل ہے اور اس وقت موجودہ سوسائٹی پوری طرح جاہلی سوسائٹی ہے ۔ اس میں اللہ کی حاکمیت جاری نہیں ہے ‘ ایسی حاکمیت جس میں اللہ کے ساتھ کوئی شریک نہ ہو ۔
دین اسلام تب قائم ہوگا جب زمین پر اللہ کی حاکمیت جاری ہوگی ۔ جب تک اللہ کی حاکمیت قائم نہ ہوگی دین پوری طرح قائم نہیں ہوسکتا ۔ آج اس کرہ ارض پر مسئلہ ہی یہ ہے کہ یہاں ایسے طاغوتی نظام قائم ہیں جنہوں نے دست درازی کرکے اللہ کی حاکمیت کو چھین لیا ہے ۔ یہ اختیار خود انہوں نے اپنے ہاتھ میں لے کر لوگوں کے لئے حلال و حرام متعین کرنا شروع کردیا ہے اور وہ لوگوں کے مال اور اولاد کے بارے میں قوانین بناتے ہیں۔
زیر بحث آیات اور بیانات میں اسی مشکل مسئلے کو نہایت ہی موثر انداز میں نہایت ہی تفصیل کے ساتھ لیا گیا ہے ۔ تمام باتوں کو اللہ کی حاکمیت اور بندگی کے نظریات کے ساتھ مربوط کیا گیا ہے اور انہیں مسئلہ کفر واسلام اور مسئلہ اسلام وجاہلیت قرار دیا گیا ہے ۔
اسلام نے جس عظیم معرکے کے بعد اس دنیا مین اپنا وجود قائم کیا تھا وہ محض الحاد کے خلاف معرکہ نہ تھا ‘ کہ ایک شخص خدا کو مان لے اور چند دینی رسومات کا پابند ہو کر حامی دین بن جائے یہ معرکہ اجتماعی فساد اور اخلاقی فساد کے خلاف محض کوئی اصلاحی تحریک بھی نہ تھا یہ باتیں بھی اگرچہ اس معرکہ میں شامل تھیں لیکن یہ تحریکات دین کے قیام کے بعد بھی جاری رہیں ۔ اسلام نے اپنے وجود کے لئے جو معرکہ سر کیا وہ اس کرہ ارض پر حاکمیت الہیہ کے قیام کا معرکہ تھا مکہ میں لوگ سمجھتے تھے کہ لا الہ الا اللہ کے معنی یہ ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ۔ اس وقت مکہ میں قرآن نے اس نظریہ کو مسلمانوں کے ذہن میں اچھی طرح بٹھا دیا تھا ۔ قرآن نے مسلمانوں کے ضمیر کے اندر اور ان کے دل و دماغ کے اندر یہ نظریہ اچھی طرح مرتسم کردیا تھا کہ حاکم صرف اللہ ہے اگرچہ مکہ میں نظام حاکمیت الہیہ اور نظام قانون اسلامی کا کوئی موقعہ نہ تھا ۔ کسی مسلمان کے ذہن میں یہ بات تھی ہی نہیں کہ اللہ کے سوا کوئی اور حاکم ہو سکتا ہے اور اگر کوئی یہ تصور کرتا تھا تو وہ مومن نہ ہوسکتا تھا ۔ جب یہ نظریہ مکہ میں مسلمانوں کے دل و دماغ میں اچھی طرح بیٹھ گیا تو مدینہ میں اس نظریہ کی بنیاد پر حاکمیت الہیہ قائم ہوئی ۔ اگر ہمارے دور کے دین کے پرجوش حامیوں کے ذہن میں یہ بات سماجائے تو انہیں اپنے طرزعمل پر غور کرنا چاہیے کہ وہ کیا کر رہے ہیں اور انہیں کرنا کیا چاہیے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ میں سمجھتا ہوں اس سبق پر یہ تبصرہ کافی ہے ۔ اب آیات کی تشریح ملاحظہ فرمائیں ۔
آیت ” نمبر 136۔
فصلوں اور مویشیوں کے بارے میں جاہلی سوسائٹی کے رسم و رواج کے بیان کے بعد یہاں بتایا جاتا ہے کہ ان فصلوں اور مویشیوں کی خالق اللہ کی ذات ہے اور وہی ہے جو زمین آسمان سے لوگوں کے لیے وسائل رزق فراہم کرتا ہے ۔ لیکن ان حقائق کو سمجھنے اور تسلیم کرنے کے بعد ذرا سوچیں کہ تم لوگو اللہ کے عطا کردہ رزق کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہو ‘ یہ کہ وہ اس کا ایک حصہ تو اللہ کے لئے قرار دیتے ہیں اور دوسرا حصہ اپنے بتوں کے نام منسوب کرتے ہیں ۔ (ظاہر ہے کہ بتوں کے مجاور ہی وہ لوگ ہیں جو بتوں کے حصے کو حاصل کرنے کے حقدار ہوتے ہیں) ۔ اب اللہ کے حصے کے ساتھ وہ یہ توہین آمیز سلوک کرتے ہیں جس کی تفصیلات آیت کے اندر دی گئی ہیں ۔
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب وہ غلہ لے آتے تو اسے ڈھیر بنا لیتے ۔ اس میں سے ایک حصہ اللہ کے لئے نکالتے اور ایک بتوں کے لئے ۔ اب جب تیز ہوا چلتی اور غلے کے دانے بتوں کے حصے سے اڑ کر اللہ کے حصے میں شامل ہوجاتے تو یہ اس حصے سے ان کو جدا کرکے پھر بتوں کے حصے میں ملا دیتے ‘ اور اگر اللہ کے حصے کی جانب سے ہوا آئے اور اللہ کے حصے سے دانے بتوں کے حصے میں مل جاتے تو وہ انہیں اسی طرح چھوڑ دیتے ۔ اسی کے بارے میں یہ آیت آئی ہے ۔
آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)
” یہ لوگ برے فیصلے کرتے ہیں “۔
مجاہد سے روایت ہے کہ وہ کھیت کے ایک حصے کو اللہ کے نام کردیتے اور ایک حصے کو اپنے بتوں کے لئے مخصوص کردیتے ۔ اب اللہ کے حصے سے ہوا اگر کسی چیز کو اڑا کر بتوں والے حصے میں ملا دے تو یہ اسے اسی طرح چھوڑ دیتے تھے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں مل جائے تو یہ اسے واپس کردیتے تھے ۔ اور کہتے ۔ (اللہ عن ھذا غنی) اللہ کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے ۔ “ اور مویشیوں میں سے انہوں نے سائبہ اور بحیرہ نام رکھے ہوئے تھے ۔ حضرت قتادہ سے روایت ہے ۔ اہل ضلالت نے یہ فیصلہ کیا کہ اپنے مویشیوں اور فصلوں کے ایک حصے کو اللہ کا حق قرار دے دیا اور ایک حصے کو بتوں کا حق قرار دیا ۔ اب اگر اللہ کے حصے کی کوئی چیز بتوں کے حصے میں خلط ملط ہوجاتی تو یہ اسے چھوڑ دیتے اور اگر بتوں کے حصے سے کوئی چیز اللہ کے حصے میں جا پڑتی تو یہ اسے لوٹا دیتے ۔ اور اگر کبھی خشک سالی ہوتی تو وہ اللہ کے حصے کو موقوف کر کے خود استعمال کرتے لیکن بتوں کے حصے کو ہر حال میں قائم رکھتے ۔ اس کے بارے میں اللہ نے کہا۔
آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136)
” یہ برا فیصلہ ہے جو یہ کرتے ہیں ‘۔
حضرت سدی کہتے ہیں کہ یہ اپنے مالوں کے حصے بناتے تھے اور فصلوں میں سے بھی اللہ کا حصہ مقرر کرتے تھے ۔ اسی طرح بتوں کے لئے بھی حصہ مقرر تھا ۔ بتوں کے حصے کو بتوں پر صرف کرتے اور اللہ کے حصے کو صدقہ کردیتے ۔ اب وہ مویشی جو بتوں کا حصہ ہوتے اگر اتفاقا مر جاتے اور اللہ کا حصہ زیادہ ہوجاتا تو وہ کہتے کہ ہمارے خداؤں کے لئے بھی تو اخراجات درکار ہیں تو وہ اللہ کے حصے میں سے لے کر اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شریکوں پر خرچ کرتے ۔ اور اگر اللہ کے حصے کی فصل خراب ہوجاتی اور بتوں والے حصے میں فصل زیادہ ہوجاتی تو کہتے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ اپنے حصے کو اچھا بناتا۔ یوں وہ بتوں کے حصے سے لے کر حصے کو پورا نہ کرتے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” اگر یہ سچے ہوتے تو ہر گز ایسا نہ کرتے کیونکہ یہ لوگ میرے حصے سے تو لیتے ہیں لیکن میرے حصے میں شامل نہیں کرتے اور یہی مطلب ہے ۔ آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کا ۔
ابن جریر آیت ” سَاء مَا یَحْکُمُونَ (136) کی تفسیر میں لکھتے ہیں ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ان لوگوں کے بارے اطلاع ہے کہ وہ برے فیصلے کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ انہوں نے جو فیصلہ کیا وہ نہایت ہی غلط فیصلہ تھا کہ انہوں نے میرا حصہ ان لوگوں کو دے دیا جو انہوں نے بزعم خود میرے شریک ٹھہرائے ہوئے ہیں اور مزید یہ کہ ان مزعومہ شریکوں کے حصے میں سے وہ مجھے کچھ نہیں دیتے ۔ یہی بات اس امر کے لئے کافی ثبوت ہے کہ یہ لوگ گمراہ بھی ہیں اور جاہل بھی ۔ انہوں نے سچائی کی راہ کو ایک طرف چھوڑ دیا کیونکہ وہ جب اپنے خالق اور رازق کے ساتھ انصاف نہیں کرتے تو وہ کس کے ساتھ کریں گے جبکہ اس نے ان پر لاتعداد احسانات بھی کر رکھے ہیں ۔ وہ اللہ کو ان بتوں کے برابر کرتے ہیں جو نفع ونقصان نہیں دے سکتے ۔ بلکہ انہوں نے ان بتوں کو اللہ فضیلت دے دی کہ ان کے حصے کو اللہ کے حصے سے بڑا قرار دیا ۔
یہ تھی وہ بات جو انسانوں اور جنوں میں سے شیطان لوگ اپنے دوستوں کو سجھاتے تھے تاکہ وہ مویشیوں اور فصلوں کے بارے میں اہل ایمان کے ساتھ الجھتے رہیں۔ ظاہر ہے کہ یہ شیاطین انسانوں کو جو زاویہ نظر دیتے ہیں ‘ اس میں ان شیاطین کا کوئی نہ کوئی مفاد ضرور ہوتا ہے ۔ انسانی شیطانوں کا مفاد یہ ہے (یہ کاہنوں ‘ مجاوروں اور رئیسوں میں سے ہوتے ہیں) کہ پہلے تو وہ ان انسانوں کے دل و دماغ پر چھا جاتے ہیں اور اس اثر کو قائم کرلینے کے بعد وہ ان کو اپنی مطلوبہ سمت کی طرف حرکت دیتے ہیں۔ اپنے دئیے ہوئے زاویہ نظر کے عین مطابق جو باطل تصورات اور فاسد عقائد پر مشتمل ہوتا ہے ۔ یوں وہ ان عوام الناس کو گمراہ کرکے خود اپنے مادی مفاد بھی حاصل کرتے ہیں مثلا یہ برخود غلط عوام بتوں کے لئے جو حصے تجویز کرتے ہیں وہ عملا انہیں لوگوں کو ملتے ہیں جو ان کو یہ تصور دیتے ہیں ۔ جنوں کے شیاطین کا مفاد یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈال کر ان کو گمراہ کرتے ہیں اور انکی قیادت کرکے ان کی دنیا بھی خراب کرتے ہیں اور آخرت بھی ۔
یہ تصورات جو عرب جاہلیت میں پائے جاتے تھے ‘ ان کی مثالیں دنیا میں پائی جانے والی دوسری جاہلیتوں کے اندر بھی موجود ہیں ۔ مثلا یونانی ‘ فارسی ‘ رومی اور افریقہ وایشیا کی دوسری جاہلیتوں میں ۔ یہ تصورات تمام جاہلیتوں میں مالی تصرفات کرتے ہیں اور یہ ہر جاہلیت میں موجود ہوتے ہیں ۔ مثلا دور جدید کی جاہلیت بھی ایسے مالی تصرفات کو روا رکھتی ہے جس کی اجازت اللہ نے نہیں دی ۔ چناچہ اس شرک میں دور جدید کی جاہلیت بھی ازمنہ سابقہ کی جاہلیتوں کے بالکل برابر ہے ۔ دونوں ایک ہی اصول پر قائم ہیں ۔ مثلا جاہلیت کی تعریف ہے ہو وہ تصرف جو عوام الناس کی زندگیوں میں کیا جائے جبکہ اس کی اجازت اللہ نے نہ دی ہو ۔ اب یہ اور بات ہے کہ قدیم زمانوں میں اس قسم کے تصرفات کی شکل ونوعیت اور ہوتی تھی اور آج ذرا مختلف ہے ۔ اصول ایک ہے اور شکلیں مختلف ۔
آیت ” نمبر 137۔
جس طرح ان لوگوں کے لئے ان کے شرکاء اور ان کے شیاطین نے اپنے مالوں اور فصلوں میں یہ تصرفات خوبصورت بنادیئے ہیں ‘ اسی طرح انہوں نے ان کے لئے قتل اولاد کو بھی مزین بنا دیا ہے ۔ یوں کہ وہ لوگ اپنی بیٹیوں کو تنگدستی کے خوف سے زندہ درگور کردیتے تھے ‘ یا اس لئے کہ وہ جنگی قیدی بن جائیں گی اور ان کے لئے موجب طار ہوں گی ۔ بعض اوقات وہ اولاد کو بطور نذر بھی قتل کرتے تھے ۔ جس طرح حضرت عبدالمطلب سے روایت ہے کہ انہوں نے یہ نذر مانی تھی کہ اگر اللہ نے ان کو دس ایسے بیٹے بخشے جوان کے لئے دست وبازو ہوں تو وہ ان میں سے ایک کو قربان کریں گے ۔
یہ تمام باتیں ان کے دل و دماغ میں انکی جاہلی رسومات نے پختہ طور پر بٹھا دی تھیں ۔ یہ رسومات جاہلیت وہ تھیں جو لوگوں نے خود ہی اپنے لئے وضع کی تھیں ۔ اس آیت میں جن شرکاء کا ذکر ہے اس سے مراد شیاطین جن وانس ہیں انسانوں میں سے جو شیاطین تھے وہ کاہن ‘ مجاور اور سردار تھے ۔ جنوں میں سے وہ لوگ تھے جو بعض انسانوں کے دوست بن جاتے تھے اور وہ انسانوں کی مدد کرتے تھے ۔ اس آیت میں ان شیاطین کا جو واضح ہدف بتایا گیا ہے وہ یہ ہے ۔
آیت ” لِیُرْدُوہُمْ وَلِیَلْبِسُواْ عَلَیْْہِمْ دِیْنَہُمْ “۔ (6 : 137)
” تاکہ انکو ہلاکت میں مبتلا کریں اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں ۔ “ یعنی وہ ان کو ہلاک کردیں ‘ ان پر ان کے دین کو گنجلک اور مشتبہ بنادیں ۔ اس طرح کہ وہ اسے واضح طور پر سمجھ نہ سکیں ۔ ہلاک کرنے کا مصداق ایک تو یہ ہے کہ وہ اپنی اولاد کو قتل کرتے ہیں ۔ دوسرا مصداق یہ ہے کہ ان کی اجتماعی زندگی اسلام کے خلاف ہوجاتی ہے اور وہ اپنے معاشرے میں ان مویشیوں کی طرح بن جاتے ہیں جن کو وہ شیاطین جس طرح چاہیں ہانک کرلے جائیں ‘ یعنی اپنے مقاصد اور مفادات کے مطابق یہاں تک کہ وہ لوگ ان حیوانوں کے اموال ‘ اولاد اور خود ان کی جان کے بارے میں قتل کرنے اور ہلاک کرنے کے اختیارات کے بھی ملک ہوجاتے ہیں۔ ان حیوانوں کے لئے اس کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہوتا کہ وہ پوری اطاعت کریں ۔ اس لئے کہ دین اور عقیدے کے ساتھ جو زائد تصورات وابستہ کردیئے گئے اور جو درحقیقت دین سے نہیں ہیں ‘ وہ نہایت ہی گہرے ہوگئے اور اب دیندار لوگوں پر ان کا بھاری دباؤ ہے ۔ یہ تصورات چونکہ سوسائٹی کے اندر موجود رسم و رواج کی وجہ سے دین سے وابستہ ہوئے ہیں اس لئے یہ عرف بھی ان کی پشت پر ہوتا ہے اور ان رسومات کا دباؤ معاشرے پر اس قدر زیادہ ہوجاتا ہے کہ عوام کالانعام اس کا مقابلہ نہیں کرسکتے ۔ الا یہ کہ یہ ان میں سے کوئی حقیقی دین کی بنیادون کو مضبوطی سے تھامے ہوئے ہو اور قرآن وسنت پر اس کی گرفت مضبوب ہو ۔
یہ دینی رنگ کے مبہم اور پیچیدہ تصورات جن کو لوگ دین سمجھتے ہیں ‘ یہ اجتماعی رسومات جن سے یہ تصورات پروان چڑھتے ہیں اور جو عوام الناس پر کمر توڑ بوجھ بنے ہوئے ہیں ‘ یہ ان صورتوں تک محدود نہیں ہیں جو قدیم زمانوں کی جاہلیتوں کے اندر پائی جاتی تھیں ‘ دور جدید کی تازہ ترین جاہلیت میں بھی یہ تصورات واضح طور پر موجود ہیں ۔ یہ رسم و رواج جو دور جدید میں بھی عوام الناس پر بارگراں بنے ہوتے ہیں اور ان کی وجہ سے عوام کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے ‘ لوگوں کے لئے لابدی بن گئے ہیں اور اب لوگوں کے لئے کوئی راہ نہیں رہی ہے کہ وہ ان کے چنگل سے نکل باگیں ۔ لوگوں نے اپنے اوپر مخصوص لباس فرض کرلئے ہیں اور بعض اوقات ان پر اس قدر روپیہ خرچ کرتے ہیں جو انکے پاس نہیں ہوتا ۔ یہ رسم و رواج لوگوں کی زندگی کو چاٹ جاتے ہیں ۔ ان کی تمام آرزوئیں خاک میں مل جاتی ہیں ‘ ان کے اخلاق ختم ہوجاتے ہیں لیکن ہو ہر حال میں ان کی پابندی کرتے ہیں۔ صبح کا لباس ‘ دوپہر کا لباس ‘ شام کا لباس ‘ منی اسکرٹ ‘ ٹیڈی لباس اور مضحکہ خیز لباس ‘ قسم قسم کا میک اپ اور بناؤ سنگھار ۔ بعض لوگ یہ کام کرتے ہیں بعض ان سے کراتے ہیں ۔ کرانے والوں میں سے لباس کے بڑے بڑے تاجر ‘ بڑی بڑی کمپنیاں اور بینکوں اور مالی اداروں کے سود خور کارندے اور وہ تاجر شامل ہیں جو لوگوں سے یہ حرکات اس لئے کراتے ہیں کہ اس کے نتیجے میں جو نفع ملے اسے وہ مزے لے لے کر کھائیں ۔ اس تمام صورت حال کی پشت پر یہودی سازش ہے اور یہودیوں نے یہ صورت حال اس لئے چلا رکھی ہے کہ اس طرح وہ لوگوں پر معاشی اور سیاسی حکمرانی کریں ۔ لیکن یہودی یہ کام اسلحہ اور فوج کے ذریعے نہیں کرتے بلکہ یہ کام وہ افکار وخیالات ‘ تصورات ونظریات کے ہتھیاروں کے ذریعے کرتے ہیں اور یہ حکومت وہ عرف عام کے دباؤ سے کرتے ہیں اور یہ بات اچھی طرح معلوم ہے کہ نظریات کا اثر اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ نظریات نظام حکومت کا روپ نہ دھاریں اور اجتماعی شکل اختیار نہ کرلیں اور سوسائٹی کے ڈھانچے کے اندر نہ گھس جائیں ۔ چناچہ سوسائٹی کے اندر ان جاہلی نظریات اور تصورات کو یہ یہودی بڑی اسکیم کے ساتھ پھیلاتے اور جاری کرتے ہیں ۔
یہ کام معاشرے کے تمام شیاطین کرتے ہیں ‘ یہ شیاطین جنوں میں بھی ہیں اور انسانوں میں بھی ۔ یہ تمام کام جاہلیت میں جس کی اشکال اور صورتیں مختلف ہیں ۔ لیکن اس کے اصول اور جڑیں اور بنیادیں ایک ہی ہوتی ہیں ۔ اگر ہم یہ سمجھیں کہ قرآن نے بعض ازمنہ قدیمہ کی جاہلیتوں ہی پر بحث وتقید کی ہے اور جدید دور کی جاہلیتوں سے اس کا کوئی تعلق نہیں تو ہم قرآن کریم کی شان کو گھٹا رہے ہوں گے ۔ حقیقت یہ ہے کہ قرآن کریم تمام قدیم وجدید جاہلیتوں پر بحث کرتا ہے ۔ وہ ہر دور میں انحراف کرنے والے معاشرے کا مقابلہ کرتا ہے اور اسے واپس لا کر جادہ مستقیم پر ڈالتا ہے ۔
باوجود اس کے کہ یہ ایک عظیم عمرانی بوجھ اور سازش ہے قرآن کریم مسئلہ جاہلیت کے حل کو آسان کرنے کے لئے اس حقیقت کا انکشاف کرتا ہے کہ یہ تمام شیاطین اور ان کے دوست اللہ کے ہاتھ میں ہیں اور وہ جو کچھ کر رہے ہیں اپنی قوت اور قدرت سے نہیں کر رہے ۔ وہ یہ کام اس لئے کر رہے ہیں کہ اللہ نے ان کو مہلت دے رکھی ہے ‘ اس دنیا کی مختصر زندگی کے لئے ۔ یہاں یہ لوگ جو کچھ کر رہے ہیں اللہ کے دائرہ قدرت کے اندر اور اللہ کی مشیت کے ساتھ کر رہے ہیں اگر اللہ کی مشیت نہ ہوتی تو وہ ہر گز ایسا نہ کرتے ۔ لہذا کوئی پرواہ نہیں ہے ۔ انہیں اپنی روش پر چلنے دیجئے ۔
آیت ” وَلَوْ شَاء اللّہُ مَا فَعَلُوہُ فَذَرْہُمْ وَمَا یَفْتَرُونَ (137)
” اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے ‘ لہذا انہیں چھوڑ دو کہ یہ اپنی افترا پردازیوں میں لگے رہیں ۔ “
یہ بات اپنی جانب سے کر رہے ہیں بلکہ وہ یہ دعوی کرتے تھے کہ یہ تمام تصورات اور تصرفات من جانب اللہ ہیں اور ان کے لئے یہ شریعت ہیں ۔ اپنے زعم کے مطابق وہ کہتے تھے کہ یہ تصورات وتصرفات حضرت اسماعیل (علیہ السلام) اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی شریعت ہیں۔
آج جاہلیت جدیدہ کے دور میں بھی شیاطین کا یہی رویہ ہے ۔ ان کی اکثریت میں اس قدر جرات تو نہیں ہے کہ وہ کمیونسٹوں کی طرح سرے سے وجود باری کا انکار ہی کردیں ۔ لیکن وہ دین کے ساتھ وہی سلوک کرتے ہیں جو دور جاہلیت قدیمہ کے لوگ کرتے تھے ۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم تو دین اور مذہب کا سخت احترام کرتے ہیں اور وہ جو قانون بتاتے ہیں اس کی اساس بھی دین اسلام پر ہی ہے ۔ لیکن ان لوگوں کا طریقہ ورادت خالص منکرین خدا اور کیمونسٹوں کے مقابلے میں زیادہ مکارانہ اور اذیت دہ ہے ۔ یہ لوگ مسلمانوں کے اس سوئے ہوئے جذبہ دین سے بہت ڈرتے ہیں جو ان کی رگ وروح میں جاری وساری ہے ۔ ا گرچہ وہ جذبہ اسلام کا حقیقی جذبہ نہ ہو ‘ کیونکہ مکمل اسلام تو پورا نظام حیات ہے ۔ وہ محض خفیہ جذبہ نہیں ہے اور نہ بجھی ہوئی چنگاری ہے ۔ اس طرح یہ لوگ مسلمانوں کے غیض وغضب سے بچنا چاہتے ہیں ۔ یہ نہایت ہی مکارانہ چال ہے اور اسلام کے خلاف ایک نہایت ہی تکلیف دہ صورت حالات ہے ۔
اب ذرا دین کے ان نادان حامیوں کے حالات کو دیکھئے ۔ یہ اسلامی نظام حیات کے اساسی مقاصد کو چھوڑ کر ادھر ادھر کی باتوں پر اپنی قوتیں کھپاتے ہیں ۔ انہیں اس جاہلی صورت حالات کے اندر یہ بات نظر ہی نہیں آتی کہ اللہ کی حاکمیت پر دست درازی کرکے شرک کا ارتکاب کیا جارہا ہے اور بےدانش جوش کی وجہ سے وہ موجودہ مشرکانہ نظام کو ایک اسلامی صورت حالات بناتے ہیں ۔ اپنی اس روش کی وجہ سے یہ تاثر دیتے ہیں کہ موجودہ حالات گویا اسلامی حالات ہیں اور ان حالات اور عالم اسلام کی صورت حال میں صرف چند جزئیات کا اختلاف ہے ۔
اپنے اس رویے کی وجہ سے اسلام کے یہ نادان دوست ‘ مذہبی طبقے اور بظاہر اسلام کے پرجوش حامی اس غیر اسلامی صورت حالات کو طول دے رہے جو سراسر غیر اسلامی ہے اور اسلامی دنیا پرچھائی ہوئی ہے حالانکہ اس طرز عمل کی وجہ سے ان لوگوں کے مقاصد پورے ہو رہے ہیں جو اسلام کے دشمن ہیں ۔ یہ خدمات وہ لوگ انجام دیتے ہیں جنہوں نے اسلام کا مخصوص مذہبی لباس پہن رکھا ہے حالانکہ اسلامی نظام نے کوئی ایسا مخصوص مذہبی طبقہ نہیں رکھا کہ اسلام کے بارے میں وہی بات کرسکے ۔ اسلام کا نہ کوئی کاہن ہے اور نہ اس میں کسی پادری کی گنجائش ہے کہ ان کے سوا کوئی اور اسلام کی بات ہی نہ کرسکے ۔