اس صفحہ میں سورہ Al-An'aam کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنعام کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
فَإِن كَذَّبُوكَ فَقُل رَّبُّكُمْ ذُو رَحْمَةٍ وَٰسِعَةٍ وَلَا يُرَدُّ بَأْسُهُۥ عَنِ ٱلْقَوْمِ ٱلْمُجْرِمِينَ
سَيَقُولُ ٱلَّذِينَ أَشْرَكُوا۟ لَوْ شَآءَ ٱللَّهُ مَآ أَشْرَكْنَا وَلَآ ءَابَآؤُنَا وَلَا حَرَّمْنَا مِن شَىْءٍ ۚ كَذَٰلِكَ كَذَّبَ ٱلَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ حَتَّىٰ ذَاقُوا۟ بَأْسَنَا ۗ قُلْ هَلْ عِندَكُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوهُ لَنَآ ۖ إِن تَتَّبِعُونَ إِلَّا ٱلظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إِلَّا تَخْرُصُونَ
قُلْ فَلِلَّهِ ٱلْحُجَّةُ ٱلْبَٰلِغَةُ ۖ فَلَوْ شَآءَ لَهَدَىٰكُمْ أَجْمَعِينَ
قُلْ هَلُمَّ شُهَدَآءَكُمُ ٱلَّذِينَ يَشْهَدُونَ أَنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَ هَٰذَا ۖ فَإِن شَهِدُوا۟ فَلَا تَشْهَدْ مَعَهُمْ ۚ وَلَا تَتَّبِعْ أَهْوَآءَ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱلَّذِينَ لَا يُؤْمِنُونَ بِٱلْءَاخِرَةِ وَهُم بِرَبِّهِمْ يَعْدِلُونَ
۞ قُلْ تَعَالَوْا۟ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّكُمْ عَلَيْكُمْ ۖ أَلَّا تُشْرِكُوا۟ بِهِۦ شَيْـًٔا ۖ وَبِٱلْوَٰلِدَيْنِ إِحْسَٰنًا ۖ وَلَا تَقْتُلُوٓا۟ أَوْلَٰدَكُم مِّنْ إِمْلَٰقٍ ۖ نَّحْنُ نَرْزُقُكُمْ وَإِيَّاهُمْ ۖ وَلَا تَقْرَبُوا۟ ٱلْفَوَٰحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ ۖ وَلَا تَقْتُلُوا۟ ٱلنَّفْسَ ٱلَّتِى حَرَّمَ ٱللَّهُ إِلَّا بِٱلْحَقِّ ۚ ذَٰلِكُمْ وَصَّىٰكُم بِهِۦ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ
آیت ” نمبر 147۔
اس کا دامن رحمت بہت وسیع ہے اور یہ رحمت ہمارے لئے بھی وسیع ہے اور اس سے پہلے کے مومنین کے لئے بھی وسیع تھی اور مومنین کے علاوہ تمام مخلوقات کے لئے بھی اس میں وسعت ہے کیونکہ وہ تو محسن ہے ۔ دوست کے لئے بھی رحیم ہے اور دشمن کے لئے بھی رحیم ہے ۔ اگر مجرم عذاب کے مستحق ہوں تو بھی وہ نفاذ عذاب میں جلدی نہیں کرتا اور یہ اس کی شان کریمی ہے اور اس ڈھیل کے عرصہ میں کئی لوگ توبہ کرلیتے ہیں اور اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں لیکن ان کا عذاب نہایت ہی سخت ہے ۔ صرف اس کا حلم ہی اسے اہل ایمان سے رد کرسکتا ہے ۔ اللہ کے نظام فضا وقدر میں جو وقت متعین ہے اس وقت تک ہی وہ مؤخر ہو سکتا ہے ۔
اس آیت میں اگرچہ شمع امید کو بھی روشن رکھا گیا ہے اور انسان کو مایوس نہیں کیا گیا لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس میں بھی تنبیہ بھی موجود ہے کہ وہ حد سے نہ گزرے اور اللہ وہ ذات ہے جس نے لوگوں کے دل و دماغ کو پیدا کیا ہے اور وہ جانتا ہے کہ ان کے لئے یہ دونوں باتیں ضروری ہیں تاکہ وہ ڈر جائیں ‘ اپنے رویے پر غور کریں اور دعوت اسلامی کو قبول کرلیں ۔
جب بات یہاں تک پہنچتی ہے اور اہل ضلالت کے لئے کوئی مفر نہیں رہتا ۔ جب ان کے پاس کوئی استدلال نہیں رہتا اور تمام بھاگنے کے راستے بند ہوجاتے ہیں تو قرآن کریم ان کے فرار کے آخری راستے کو بھی بند کردیتا ہے ۔ ان کے گمراہانہ تصورات ‘ شرکیہ عقائد اور بےمعنی اعمال کے لئے ایک راہ موجود تھی ۔ وہ کہتے تھے کہ وہ اپنا کوئی اختیار نہیں رکھتے ‘ وہ تو مجبور ہیں ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ نہ ایسے تصورات رکھتے ‘ نہ غلط عقائد ان کے ہوتے اور نہ وہ بداعمالیوں میں مبتلا ہوتے ۔ اگر اللہ چاہتا تو وہ ہمیں ان باتوں سے روک دیتا ۔ وہ تو قادر مطلق ہے اور اس کی قدرت پر کوئی قید نہیں ہے ۔
آیت ” نمبر 148 تا 149۔
افکار اسلامی کی تاریخ میں مسئلہ جبروقدر پر طویل مباحث رہے ہیں۔ اہل سنت اور معتزلہ اور مرجیہ اس میں باہم دست و گریبان رہے ہیں ۔ یونانی فلسفہ اور یونانی منطق جب عالم اسلام میں آئی تو اس نے بھی ان مباحث کو متاثر کیا ۔ پھر عیسائیوں کے فلسفہ لاہوت نے بھی اثرات ڈالے ۔ اور اس کو اس قدر پیچیدہ بنا دیا کہ یہ اسلام کے واضح اور حقیقت پسندانہ تصور کے لئے ناقابل فہم بنا گیا ۔ اگر اس مسئلے پر قرآن کے سنجیدہ ‘ حقیقت پسندانہ اور ڈائرکٹ انداز میں غور کیا جاتا تو یہ جدل وجدال نہ ہوتا اور یہ بحث وہ رخ اختیار نہ کرتی جو اس نے اختیار کیا ۔
جب ہم مشرکین کے قول کو پڑھتے ہیں اور اس کو قرآن کریم نے جس سادہ اور واضح انداز میں رد کیا اسے دیکھتے ہیں تو یہ بہت ہی سادہ اور قابل فہم نظر آتا ہے ۔
آیت ” سَیَقُولُ الَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ لَوْ شَاء اللّہُ مَا أَشْرَکْنَا وَلاَ آبَاؤُنَا وَلاَ حَرَّمْنَا مِن شَیْْء ٍ “۔ (6 : 148)
” یہ مشرک لوگ ضرور کہیں گے کہ ” اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے ۔ “
ان کا مقصد یہ تھا کہ انہوں نے جو شرک کیا ‘ ان کے آبا نے جو شرک کیا یا انہوں نے از خود جن چیزوں کو حرام قرار دیا اللہ نے انہیں حرام قرار دیا تھا اور ان کا یہ دعوی کرنا کہ یہ اللہ کی جانب سے مقرر کردہ شریعت ہے اور بلادلیل یہ دعوی کرنا کہ یہ سب امور اللہ کی مشیت کے مطابق چل رہے ہیں۔ اگر اللہ نہ چاہتا تو ہم شرک نہ کرتے ۔ اور نہ ان چیزوں کو حرام قرار دیتے ۔ یہ سب بیکار باتیں ہیں۔
اب دیکھئے کہ قرآن کریم ان کے اس فلسفے کی تردید کس طرح کرتا ہے ۔ قرآن کریم صرف یہ کہتا ہے کہ یہ لوگ بعینہ اسی طرح جھوٹ بول رہے ہیں جس طرح ان سے پہلے لوگوں نے جھوٹ بولا ۔ اور اس سے پہلے جن لوگوں نے جھوٹ بولا انہوں نے تو اپنے جھوٹ کا مزہ چکھ لیا ہے اور اب یہ نئے مکذبین آگئے ہیں اور اللہ کا عذاب ان کے انتظار اور استقبال میں ہے ۔
آیت ” ٍ کَذَلِکَ کَذَّبَ الَّذِیْنَ مِن قَبْلِہِم حَتَّی ذَاقُواْ بَأْسَنَا “۔ (6 : 148)
” ایسی ہی باتیں بنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزہ انہوں نے چکھ لیا ۔ “
یہ وہ تنبیہ ہے جو سوچنے والے کو جھنجوڑ کر رکھ دیتی ہے ۔ غافل سے غافل انسان بھی ہوش میں آجاتا ہے اور انجام کو سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے ۔
اب ایک دوسری تنبیہ ہے جس کے ذریعے ان کی فکری اصلاح مطلوب ہے ۔ یہ کہ اللہ نے کچھ احکامات واوامر دیئے ہیں اور بعض چیزوں سے منع کیا ہے اور انہیں حرام قرار دیا ہے ۔ ان چیزوں کے بارے میں وہ یقینی اور ناقابل شک علم حاصل کرسکتے ہیں ۔ رہی اللہ کی مشیت اور اس کا نظام تو وہ ایک پوشیدہ نظام ہے اور اس کی اصل حقیقت تک پہنچنا انسان کی قوت مدرکہ کے لئے کوئی آسان کام نہیں ہے ۔ وہ کس طرح جان سکتے ہیں کہ اللہ کی مشیت کیا ہے ۔ اور جب انسان اللہ کے نظام قضا وقدر کا ادراک ہی نہیں کرسکتا تو وہ کسی کے فعل کو کس طرح نظام قضا وقدر کی طرف منسوب کرسکتا ہے ۔
آیت ” قُلْ ہَلْ عِندَکُم مِّنْ عِلْمٍ فَتُخْرِجُوہُ لَنَا إِن تَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ أَنتُمْ إَلاَّ تَخْرُصُونَ (148)
” ان سے کہو ’ ” کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو ؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو ۔ “
اللہ نے جو احکام دیئے یا اس کی جانب سے جو منہیات ہیں ‘ وہ معلوم ہیں اور ان کے بارے میں قطعی علم ہمارے پاس قرآن میں موجود ہے ۔ سوال یہ ہے کہ یہ لوگ ان قطعی معلومات کو چھوڑ کر محض ظن وتخمین کے سراب کے پیچھے کیوں دوڑتے ہیں اور اس وادی میں کیوں قدم رکھتے ہیں جس کے نشیب و فراز سے وہ واقف نہیں ہیں۔
میں سمجھتا ہوں مسئلہ جبروقدر میں یہ ایک فیصلہ کن بات ہے ۔ اللہ تعالیٰ لوگوں کو اس بات کا مکلف نہیں بناتا کہ وہ اللہ کے نظام قضا وقدر کا علم حاصل کریں اور اس کے مطابق اپنی زندگیوں کو ڈھالیں ۔ اللہ کی جانب سے لوگوں پر صرف یہ فریضہ عائد کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کے اوامر اور منہیات کا علم حاصل کریں اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالیں ۔ جب وہ اس سلسلے میں سعی شروع کریں گے تو اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اللہ انہیں راہ ہدایت پر ڈال دیں گے اور ان کے دل اسلام کے لئے کھل جائیں گے ۔ مسئلہ قضا وقدر میں یہ ایک حقیقت پسندانہ اور عملی سوچ ہے اور انسان کے مسائل کے حل کے لئے کافی ہے یہ آسان بھی ہے ‘ واضح بھی ہے اور اس میں کوئی بحث و مباحثہ اور جدل وجدال نہیں ہے ۔ نہ تحکم اور سینہ زوری ہے ۔
اگر اللہ چاہتا تو آغاز ہی سے انسان کو اس طرح پیدا کرتا کہ وہ ہدایت کی راہ کے سوا کسی دوسری راہ پر چل ہی نہ سکتا یا اللہ انہیں مجبور کردیتا کہ وہ ہدایت اختیار کریں یا اللہ ان کے دلوں میں از خود ہدایت ڈال دیتا اور ان پر ہدایت کے لئے جبری ذرائع اختیار کرنے کی ضرورت ہی نہ پڑتی لیکن اللہ جل شانہ یہ نہیں چاہتے تھے ۔ اللہ کی مشیت یہ تھی کہ آدم کو قدرت واختیار دے کر اسے آزمائے اور یہ اختیار اس قدر ہو کہ وہ ہدایت وضلالت میں سے جس راہ پر چاہے اختیار کرے ۔ انسان جب کسی راہ کا آزادانہ ارادہ کرے تو اللہ پھر اس کی مدد کرے ‘ ہدایت کی طرف یا ضلالت کی طرف ‘ یعنی جو ضلالت کی طرف اشارہ کرے اس کے لئے وہ راہ بھی آسان ہو ۔ یہی وہ طریقہ ہے جس کے مطابق اس کی سنت جاری رہتی ہے ۔
آیت ” قُلْ فَلِلّہِ الْحُجَّۃُ الْبَالِغَۃُ فَلَوْ شَاء لَہَدَاکُمْ أَجْمَعِیْنَ (149)
” پھر کہو (تمہاری حجت کے مقابلے میں) ” حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے ‘ بیشک اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔ “
اب یہ مسئلہ واضح ہوجاتا ہے اور قرآن اسے اس انداز میں پیش کرتا ہے کہ ہر انسان اسے بسہولت سمجھ سکتا ہے ۔ رہی وہ علمی کشتیاں جو اس مسئلے پر ہوتی رہی اور وہ طویل جدل وجدال جو ہماری تاریخ کا حصہ ہے تو وہ اسلامی احساس اور اسلامی منہاج کے ساتھ لگا نہیں کھاتا ۔ نہ صرف یہ کہ اسلامی سوچ اسے قبول نہیں کرتی بلکہ یونانی فلسفے اور عیسائیوں کے ہاں لاہوتی مباحث بھی آج تک کسی نتیجے تک نہیں پہنچ پائے ۔ اس لئے کہ یہ مباحث جس انداز سے چلے وہ اس مسئلے کے مزاج کے خلاف تھا ۔
ہر حقیقت کی جو نوعیت ہوتی ہے اس کے مطابق ہی اسے لیا جاتا ہے اور اس پر بحث کے لئے اس کے حسب حال اسلوب اپنایا جاتا ہے ۔ جہاں تک مادی حقائق کا تعلق ہے ان کو بذریعہ تجربہ معلوم کیا جاسکتا ہے اور ریاضی حقائق کو ذہنی معروضات کے ذریعے معلوم کیا جاتا ہے لیکن جو حقائق مادی دنیا سے وراء ہیں ان کا اپنا منہاج بحث ہوتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے اوپر کہا یہ حقائق عملی نوعیت رکھتے ہیں اور انہیں عملی انداز میں اور حقیقت پسندانہ منہاج بحث کے ساتھ لینا چاہتے ۔ ان کو محض دینی مفروضوں کے انداز میں نہیں لینا چاہیے جس طرح ان کو پہلے بھی لیا گیا اور آج بھی لیا جا رہا ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ دین اسلام میں اس دنیا میں اس لئے آیا تھا کہ یہاں ایک عملی صورت حالات پیدا کر دے ۔ وہ احکام اور منہیات پر مشتمل ہے اور یہ احکام اور منہیات واضح ہیں ۔ ان کے بارے میں نامعلوم مشیت الہیہ کو زیر بحث لانے کا مقصد یہ ہوگا کہ ہم کسی بےکنار صحرا میں بلا دلیل پڑجائیں اور اپنی قوتوں کو لاحاصل جدل وجدال اور بادیہ پیمائی میں صرف کردیں ۔
اب اللہ تعالیٰ حضرت نبی کریم ﷺ کو ہدایت کرتے ہیں ۔ کہ آپ اس قانون سازی میں اللہ کو بطور گواہ پیش فرمائیں ۔ اس طرح جس طرح اس سے پہلے حضور کو ہدایت ہوئی تھی کہ آپ اللہ کے اقتدار اعلی اور حاکمیت کے مسئلے میں بھی اللہ کی ذات کو بطور شہادت پیش فرمائیں ۔ اس سورة کے آغاز میں یہ فرمایا گیا تھا ۔
آیت ” قُلْ أَیُّ شَیْْء ٍ أَکْبَرُ شَہَادۃً قُلِ اللّہِ شَہِیْدٌ بِیْْنِیْ وَبَیْْنَکُمْ وَأُوحِیَ إِلَیَّ ہَذَا الْقُرْآنُ لأُنذِرَکُم بِہِ وَمَن بَلَغَ أَئِنَّکُمْ لَتَشْہَدُونَ أَنَّ مَعَ اللّہِ آلِہَۃً أُخْرَی قُل لاَّ أَشْہَدُ قُلْ إِنَّمَا ہُوَ إِلَـہٌ وَاحِدٌ وَإِنَّنِیْ بَرِیْء ٌ مِّمَّا تُشْرِکُونَ (19)
” ان سے پوچھو کس کی شہادت بڑھ کر ہے ؟ کہو میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے ۔ یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے ‘ سب کو متنبہ کر دوں ۔ کیا تم لوگ واقعی یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہیں ؟ کہو میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا ۔ کہو خدا تو وہی ہے اور میں اس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔ “
اور یہاں اللہ تعالیٰ نے یوں فرمایا :
آیت ” نمبر 150۔
یہ ایک عظیم مقابلہ ہے ‘ اور ہے بھی فیصلہ کن اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دین اسلام کا مزاج کیا ہے ؟ دین اسلام میں اللہ کی ذات میں کسی اور کو شریک ٹھہرانا شرک ہے ۔ اسی طرح اللہ کی حق حاکمیت اور قانون سازی میں کسی اور کو عملا شریک کرنا بھی شرک ہے جو عملی شرک ہے ۔ الا یہ کہ کوئی ایسا قانون بنائے جس کی قرآن وسنت نے اجازت دی ہو ۔ قانون سازی میں اگر کوئی زبانی طور پر یہ اعلان کر دے کہ یہ قانون از جانب اللہ ہے تو اس کا دعوی مسترد ہوگا الا یہ کہ درحقیقت وہ منجانب اللہ ہو۔ یہاں اللہ تعالیٰ اس قسم کے لوگوں کو جو خود قانون بناتے ہیں یا کوئی قانون بنا کر اسے اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں ‘ اللہ جھوٹا قرار دیتا ہے اور یہ اعلان بھی کرد یا جاتا ہے کہ ایسے لوگوں کے دل میں نہ خوف آخرت ہے اور نہ ایمان آخرت اس لئے کہ یہ لوگ اگر منکر آخرت نہ ہوتے تو اللہ کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے کی جرات ہی نہ کرتے ۔ نہ کسی کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ۔ ایسی ہی تعبیر اس سورة کے آغاز میں بھی آئی تھی ۔
آیت ” الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ وَجَعَلَ الظُّلُمَاتِ وَالنُّورَ ثُمَّ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ بِرَبِّہِم یَعْدِلُونَ (1)
” تعریف ہے اللہ کے لئے جس نے زمین و آسمان بنائے ‘ روشنیاں اور تاریکیاں پیدا ہیں ۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رب کے ہمسر ٹھہرا رہے ہیں ۔ “
یہ ہے حکم ان لوگوں کے بارے میں جو اللہ سے اس کا حق حاکمیت چھینتے ہیں اور اسے ان لوگوں کے سپرد کرتے ہیں جو خود ان ہی کی طرح انسان ہیں یہاں ان لوگوں کے اس دعوی کو بھی مسترد کردیا جاتا ہے کہ ایسی کوئی قانون سازی اسلامی قانون سازی ہو سکتی ہے ۔ اب اللہ کے اس حکم کے بعد کسی اور انسانی رائے کی کیا وقعت ہو سکتی ہے ۔
اگر ہم یہ بات سمجھنا چاہیں کہ اللہ نے اس مسئلے کا فیصلہ اس انداز میں کیوں کیا ؟ اور ایسے لوگوں کو آیات الہیہ کو جھٹلانے والا کیوں کہا ۔ ان کے بارے میں یہ فیصلہ کیوں دے دیا کہ وہ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اور یہ کہ وہ مشرک ہیں اور اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو ہمسر بنانے والے ہیں ‘ تو ہمارا فرض ہے کہ ہم سمجھنے کی سعی ضرور کریں کیونکہ اللہ کی شریعت ‘ اس کے احکام اور فیصلوں پر تدبر کرنا اور ان کی حکمت معلوم کرنا ایک مطلوبہ امر ہے ۔
اللہ نے ان لوگوں کے بارے میں جو اپنی جانب سے عوام کے لئے قانون بنائیں یہاں یہ حکم لگایا ہے کہ وہ آیات الہیہ کی تکذیب کرتے ہیں اگرچہ وہ اسے اللہ کی شریعت کا عنوان دیں ‘ کیونکہ آیات الہیہ سے یہاں دو مفہوم لئے جاسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ ان سے مراد آیات کونیہ ہیں ‘ تو یہ آیات بھی اس بات پر گواہ ہیں کہ خالق اور رازق اللہ وحدہ ہے ‘ اور جو خالق اور رازق ہوگا وہی مالک ہوگا لہذا وہی متصرف اور حاکم ہوگا ۔ اس لئے جو شخص صرف اللہ کو حاکم نہ سمجھے تو وہ گویا آیات الہیہ کونیہ کی تکذیب کرتا ہے اور اگر ان آیات سے مراد قرآنی آیات ہوں تو قرآن کی بیشمار آیات واضح اور دو ٹوک انداز میں یہ قرار دیتی ہیں کہ حاکمیت اور قانون سازی کے معاملے میں اللہ وحدہ لاشریک ہے ۔ صرف اللہ کی شریعت ہی کو قانونی درجہ حاصل ہے ۔ اور لوگوں کو صرف اللہ کی شریعت کی پابندی کرنی اور کرانی چاہیے ۔
ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ نے بھی یہ قرار دیا ہے کہ یہ لوگ آخرت پر یقین نہیں رکھتے اس لئے کہ جو شخص آخرت پر یقین و ایمان رکھتا ہے کہ وہ ایک دن قیامت کے روز اپنے رب کو ملنے والا ہے تو ایسا شخص ہر گز اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی نہیں کرے گا اور نہ وہ اپنے لئے کسی ایسے حق کا مطالبہ کرے گا ۔ اللہ انسانوں کا حاکم مطلق ہے اس کا نظام قضا وقدر بھی انسان پر جاری ہے اور اس طرح اس کی شریعت بھی ان پر جاری ہونا چاہیے ۔
ان لوگوں کے بارے میں اللہ کی تیسری قرار داد یہ ہے کہ یہ لوگ دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ یعنی وہ اسی طرح شرک ہیں جس طرح بت پرست مشرک ہیں ۔ اگر یہ اہل توحید میں سے ہوتے تو وہ دوسروں کو اللہ کا ہمسر نہ بناتے نہ اس کے حق حاکمیت میں اور نہ اس کے حق الوہیت میں کیونکہ وہ ان میں منفرد ہے ۔ اور اگر کوئی دوسرا ان حقوق کو استعمال کررہا ہو تو اس کی مخالفت کرتے اور ہر گز اس پر راضی نہ ہوتے ۔
جیسا کہ معلوم ہوتا ہے ‘ یہ بات ان تمام احکام کی علت ہے کہ جو لوگ قرآن وسنت کے بالمقابل قانون سازی کرتے ہیں ان کے اس فعل کی وجہ سے اللہ نے ان پر یہ احکام صادر کئے کہ وہ مشرک ہیں ‘ اللہ کی آیات کو جھٹلانے والے ہیں اور یہ کہ دراصل وہ آخرت کی جوابدہی پر یقین نہیں رکھتے کہ ایک دین انہوں نے اللہ کے سامنے پیش ہونا ہے ۔ یہ ہے علت اور اس کے نتیجے میں یہ ہے حکم ۔ رہا یہ کہ ایسے لوگوں کے بارے میں اللہ کا یہ حکم کیوں ہے تو یہ تو نص قطعی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہو سکتی اور اس کے مطابق تو ایسے لوگ مشرک ہی سمجھے جائیں گے ۔ تو اب یہ ہر مسلمان کے سوچنے کی بات ہے کہ وہ اس سلسلے میں کیا طرز عمل اختیار کرتا ہے ۔
اس شہادت اور گواہی کے بعد اور ان کی جانب سے قرار دادہ محرمات کو رد کردینے کے بعد اب وہ فہرست دی جاتی ہے کہ فی الواقعہ اللہ نے کن چیزوں کو حرام قرار دیا ہے ۔ یہاں محرمات کے ذکر کے ساتھ ساتھ بعض مثبت احکام کی یاد دہانی بھی کی گئی ہے جس کے مخالف طرز عمل کو حرام قرار دیا گیا ہے ۔ ان محرمات کا آغاز ارتکاب شرک سے ہوتا ہے کیونکہ یہ اسلام کا اصول اولین ہے اور سب سے پہلے اس کو ذہن نشین کرانا ضروری ہے ۔ شرک سے مراد عام ہے ۔ شرک فی الاعتقاد اور شرک فی الحکم ۔ یہاں شرک سے دونوں قسم کے شرک مراد ہیں ۔ اس بنیادی اصول کے بعد تمام اوامر اور نواہی اسی پر مرتب ہوتے ہیں یعنی اسلام قبول کرلے اور پھر سرتسلیم ختم کر دے ۔
آیت ” نمبر 151 تا 153۔
اللہ تعالیٰ نے آیات کے اس حصے میں جو وصیتیں فرمائی ہیں اور جو قوانین بتلائیں ہیں مثلا مویشیوں اور پیداوار کے متعلق اور ادہام جاہلیت اور رسوم جاہلیت کی تردید وغیرہ تو ان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ قوانین وہدایات اس دین کی اساسی باتوں پر مشتمل ہیں۔ ان کی وجہ سے انسان کے ضمیر کو توحید کی روشنی اور زندگی ملتی ہے اور صدیوں پر مشتمل تاریخ میں انسانی خاندان کو تقویت ملتی ہے ۔ باہم تکافل اور باہم نصرت کی وجہ سے اجتماعی روابط مضبوط ہوتے ہیں اور ایک ایسا معاشرہ وجود میں آتا ہے جس میں حقوق کی ضمانت ہوتی ہے اور فرائض ادا کئے جاتے ہیں ۔ یہ سب کام اللہ کی ہدایات کے مطابق چلتے ہیں مگر ان کا آغاز عقیدہ توحید سے ہوتا ہے ۔
اور جب یہ ہدایات ختم ہوتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ یہی اللہ کا جاری کردہ صراط مستقیم ہے اور اس کے علاوہ جس قدر بھی راستے میں وہ ٹیڑھے راستے ہیں یعنی راہ توحید سے ہٹے ہوئے ۔
غرض ان تین آیات میں جو باتیں بیان کی گئی ہیں وہ نہایت ہی اہم امور سے متعلق ہیں ۔ یہ امور اس مسئلے کے بعد ذکر ہوئے جو بظاہر جاہلیت کا جزوی مسئلہ معلوم ہوتا ہے لیکن یہ مسئلہ اس دین کا نہایت ہی اساسی مسئلہ ہے کیونکہ یہ ان اہم وصیتوں کے ساتھ مربوط ہے ۔
آیت ” قُلْ تَعَالَوْاْ أَتْلُ مَا حَرَّمَ رَبُّکُمْ عَلَیْْکُمْ “ (6 : 151)
” اے نبی ﷺ ان سے کہو کہ آؤ میں تمہیں سناؤں تمہارے رب نے تم کیا کیا پابندیاں عائد کی ہیں ۔ ؟
آؤ میں تمہیں بتاؤں کہ اللہ نے کیا حرام کیا ہے ؟ تم خود جن بعض چیزوں کو حرام قرار دیتے وہ دراصل حرام نہیں ہیں ۔ اس نے تم پر بعض چیزیں حرام قرار دی ہیں اس لئے کہ اسے ایسا کرنے کا حق حاصل ہے کہ وہی تمہارا رب ہے ۔ رب کا مفہوم ہے ‘ قیم ‘ مربی ‘ ہادی اور حاکم ۔ لہذا حلال و حرام مقرر کرنا اس کا کام ہے ۔ یہ اس کا مقام اور منصب ہے ۔ کہ وہ ایسا کرے ۔ اگر اللہ کے سوا کوئی اور حلال و حرام مقرر کرے گا تو وہی رب کہلائے گا ۔ فی الحقیقت رب ہوتا ہی وہ ہے جو حلال و حرام مقرر کرے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئا “۔ (6 : 151)
یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ “
یہ بنیادی اصول ہے جس پر اسلامی تصورحیات کی پوری عمارت اٹھائی گئی ہے۔ تمام واجبات وفرائض اسی کی جانب لوٹتے ہیں اور اسی سے حقوق وواجبات متعین ہوتے ہیں ۔ یہ وہ اصول ہے کہ اس کے تسلیم کرنے کے بعد ہی کسی پر دوسرے احکام اور منہیات فرض ہوتے ہیں ۔ فرائض و تکالیف اور اسلامی نظام کی تفصیلات اور اسلامی دستور وقوانین کی پیروی تب عائد ہوتی ہے اور جب کوئی انسان یا معاشرہ عقیدہ توحید کو قبول کرکے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ اللہ وحدہ اس کا رب ہے اور وہی الہ اور حاکم ہے ۔ اس کی الوہیت ‘ اس کے اقتدار اعلی اور اس کی ربوبیت میں وہ کسی کو شریک نہیں سمجھتا ۔ وہ اعتراف کرلیتا ہے کہ اللہ ہی اس پوری کائنات کے تمام طبعی امور میں متصرف ہے ۔ عالم اسباب اور نظام تضاد وقدر اسی کی مرضی سے چلتا ہے وہ یہ عقیدہ بھی اپنا لیتے ہیں کہ آخرت میں انہوں نے اپنی پوری زندگی کارکردگی کا جواب دینا ہے ۔ وہ یہ بھی اعتراف کرلیتے ہیں کہ نظام حکومت میں بھی وہ اللہ کے احکام کے پابند ہیں ۔ غرض انسانی دل و دماغ کے لئے یہ عقیدہ ایک مکمل تطہیر ہے اور انسانی فکر اور عقلیت کو وہم و گمان کی بیماریوں سے مکمل طور پر صاف کردیا جاتا ہے ۔ اس کے ذریعہ ہی کسی معاشرے کو جاہلیت کی آلودگیوں سے پاک کیا جاسکتا ہے اور انسان انسانوں کی غلامی اور بندگی سے رہا ہو سکتا ہے۔
شرک اپنی ہر شکل و صورت کے اعتبار سے حرام ہے اس لئے کہ اس کی وجہ سے انسان ہر حرام چیز میں پڑ سکتا ہے ۔ یہ پہلا منکر ہے جس کے خلاف جہاد کا آغاز ہوتا ہے اور اس کے ہر پہلو کا انکار ضروری ہے ۔ یہاں تک کہ لوگ اعتراف کرلیں کہ اللہ کے سوا کوئی الہ نہیں ہے ۔ اللہ کے سوا کوئی رب نہیں ‘ اللہ کے سوا کوئی حاکم نہیں ہے ‘ اللہ کے سوا کوئی قانون ساز نہیں ہے اور پھر لوگ اس بات کا اعتراف بھی کرلیں کہ وہ ان معاملات میں صرف اللہ کے سوال کسی طرف رجوع نہ کریں گے ۔
توحید اپنے تمام معانی کے ساتھ ‘ اسلام کا وہ اساسی اصول ہے کہ جسے کسی صورت میں بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا ۔ نہ اسلام میں توحید کی کمی کو پورا کیا جاسکتا ہے نہ یہ کمی عبادت سے پر کی جاسکتی ہے ‘ نہ حسن اخلاق سے اور نہ فضائل اعمال سے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہاں جو وصیتیں کی جارہی ہیں ان کا آغاز اس جملے سے ہوتا ہے ۔
آیت ” أَلاَّ تُشْرِکُواْ بِہِ شَیْْئاً (6 : 151)
اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔
ہمیں چاہیے کہ یہاں ایک نظر ان آیات پر ڈالیں جو ان وصیتوں سے پہلے وارد ہوئی ہیں تاکہ ہمیں اس شرک کے تعین میں دشواری نہ ہو ‘ جس سے یہاں منع کیا گیا ہے ۔ ان وصیتوں سے پہلے ایک متعین موضوع پر بحث تھی ۔ وہ موضوع تھا حق قانون سازی ‘ اقتدار اعلی کا استعمال اور احکام ونواہی کا صدور ۔ ایک آیت قبل ہی یہ کہا گیا :
آیت ” قُلْ ہَلُمَّ شُہَدَاء کُمُ الَّذِیْنَ یَشْہَدُونَ أَنَّ اللّہَ حَرَّمَ ہَـذَا فَإِن شَہِدُواْ فَلاَ تَشْہَدْ مَعَہُمْ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء الَّذِیْنَ کَذَّبُواْ بِآیَاتِنَا وَالَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُونَ بِالآخِرَۃِ وَہُم بِرَبِّہِمْ یَعْدِلُونَ (150)
ان سے کہو ” کہ لاؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔ “ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا اور ہر گز ان لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں ۔ ‘
ہم اس لگا تار یاد دہانی کے اس لئے محتاج ہیں کہ اسلامی تاریخ میں شیاطین نے دین اسلام کی اساسی اصطلاحات کے معانی اور مفاہیم کو بدلنے کی جو جدوجہد کی ہے اس کے آثار اب ظاہر ہو رہے ہیں ۔ اسلامی تاریخ میں حاکمیت کے مسئلے کو اسلام کے بنیادی عقیدے کے مفہوم سے نکال دیا گیا ہے اور اس کو اسلامی فکر کا شعور اور احساس ہی نہیں رہا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ جو لوگ اسلام کے نہایت ہی مخلص اور پر جوش حامی ہیں وہ ایک پرستش کے شعار ‘ عبادات کے طریقے اور ایک اخلاقی قدر کے قیام اور قوانین کی معمولی خلاف ورزی کے جزوی مسائل پر تو بات کرتے ہیں مگر اصل مسئلہ یعنی اقتدار اعلی اور اس کے نظریاتی مقام پر بات نہیں کرتے ۔ وہ سکرات کے خلاف تو مہم چلاتے ہیں ۔ لیکن وہ اس عظیم منکر کے خلاف نہیں اٹھتے یعنی یہ کہ زندگی کو عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کرنے کے لئے نہیں اٹھتے ایسا نظام قائم کرنے کے لئے سعی نہیں کرتے جس میں حاکمیت صرف اللہ کی ہو۔
یہی وجہ ہے کہ تمام دوسری وصیتوں سے پہلے اللہ تعالیٰ نے لوگوں کو یہ وصیت کی کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں اور یہ وصیت ایسے سیاق میں کی جارہی ہے کہ شرک کا مفہوم ان تمام وصیتوں کے اصول کی روشنی میں متعین ہوتا ہے ۔
توحید اور نفی شرک وہ اصول ہے جس کی اساس پر ایک انسان علی وجہ البصیرت اپنے رب کے ساتھ مربوط ہوجاتا ہے اور جماعت مسلمہ کے افراد بھی باہم ان اصولوں کی اساس پر جڑ جاتے ہیں جو عقیدہ توحید اور نفی شرک کے نتیجے میں متعین ہوتے ہیں اور وہ اقدار ان لوگوں کے درمیان قدر مشترک بن جاتی ہیں جو عقیدہ توحید کے بعد وجود میں آتی ہیں ۔
اور یہ اصول واقدار اس قدر مستحکم ہوتے ہیں کہ جن کو خواہشات نفسانیہ اور جذبات سفلیہ کے طوفان اپنی جگہ سے نہیں ہلا سکتے اور نہ ان پر ان اصطلاحات کا اثر ہوتا ہے جو انسان نے اپنی خواہشات اور میلانات کے تحت وضع کر رکھی ہیں۔
آیت ” وَبِالْوَالِدَیْْنِ إِحْسَاناً وَلاَ تَقْتُلُواْ أَوْلاَدَکُم مِّنْ إمْلاَقٍ نَّحْنُ نَرْزُقُکُمْ وَإِیَّاہُمْ “۔ (6 : 151)
اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے ۔ “
صدیوں سے یہ خاندانی نظام قائم ہے اور اللہ نے یہ نظام عقیدہ توحید کی اساس پر قائم کیا ہے ۔ اللہ لوگوں پر والدین اور اولاد سے بھی زیادہ رحیم وکریم ہے اس لئے اللہ نے اولاد کو والدین کے بارے میں حسن سلوک کی وصیت فرمائی اور والدین کو ان کی اولاد کے بارے میں وصیت فرمائی ۔ اس وصیت کی پشت پر وہ نظریاتی رابطہ ہے ۔ جو اللہ کی حاکمیت اور ربوبیت کی صورت میں قائم ہے ۔ اللہ نے ان کو یہ ہدایت فرمائی کہ وہی خالق ہے اور وہی رازق ہے ۔ لہذا تم والدین کے بارے میں ان کی کبرسنی کے دور میں اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرو ‘ اور اولاد جب ضعیف وناتواں ہو تو تم ان کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کرو اور فقر اور مجبوری سے نہ ڈور کیونکہ اللہ تعالیٰ سب کا رازق ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ الْفَوَاحِشَ مَا ظَہَرَ مِنْہَا وَمَا بَطَنَ “۔ (6 : 151)
” اور بےشرمی کی باتوں کے قریب نہ جاؤ ۔ خواہ وہ کھلی ‘ یا چھپی ہوں۔ “
اللہ تعالیٰ نے سابقہ فقرے میں وصیت فرمائی کہ خاندانی نظام کو مضبوط بناؤ تو اس کے بعد حکم دیا گیا کہ خاندان اور معاشرے کو پاک وصاف رکھو کیونکہ معاشرہ بھی خاندانوں سے مل کر تشکیل پاتا ہے ۔ معاشرے کی اخلاقی تطہیر کا خیال رکھو ۔ اسلام معاشرے میں فحاشی کو برداشت نہیں کرتا ‘ چاہے یہ فحاشی ظاہری ہو یا پوشیدہ ‘ لہذا اس وصیت اور سابقہ وصیت کے درمیان گہرا ربط ہے ۔
یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ فحاشی کے کیچڑ میں کوئی پاکیزہ خاندان اور پاکیزہ معاشرہ پروان نہیں چڑھ سکتا ۔ فحاشی ظاہری ہو یا خفیہ اور باطنی ہو اس لئے کہ اسلام عفت اور پاکیزگی کو بہت اہمیت دیتا ہے ۔ جو طبقات بھی فحاشی پھیلاتے ہیں ان کا مقصد دراصل یہ ہوتا ہے کہ خاندانی نظام اور معاشرہ کمزور ہوجائیں ان کی بنیادیں ہل جائیں اور آخر کار وہ معاشرہ دم توڑ دے ۔
فواحش کیا ہوتے ہیں ؟ ہر وہ بات فواحش میں آتی ہے جو حد سے متجاوز ہو۔ لفظ فحش بعض اوقات خصوصا صرف زنا پر بھی بولا جاتا ہے ۔ اس آیت میں بھی غالب گمان یہ ہے کہ اس لفظ سے زنا مراد ہے ۔ کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ ان حرام امور کا ذکر فرما رہے ہیں جن کا ارتکاب ممنوع ہے خواہ کم ہو یا زیادہ ‘ لہذا یہاں مراد زنا ہوگا ۔ ورنہ قتل نفس بھی فاحشہ ہے اور مال یتیم کھانا بھی فاحشہ ہے ۔ اور اللہ کے ساتھ شرک بھی فاحشہ ہے ۔ لہذا یہاں لفظ فاحشہ سے مراد مخصوص طور پر زنا ہوگا اور زنا کے لئے ” فواحش “ یعنی جمع کا لفظ اس لئے استعمال ہوا ہے کہ زنا کے ساتھ اور مقدمات اور لوازم بھی لازم ہوتے ہیں جو سب کے سب فواحش ہیں مثلا نمائش حسن ‘ بےپردگی ‘ اختلاط ‘ الفاظ ومکالمات ‘ حرکات واشارات ‘ ہنسی اور مذاق ‘ میک اپ اور لوگوں کو آمادہ کرنا ‘ یہ سب افعال فواحش میں آتے ہیں ۔ ان میں سے بعض خفیہ ہیں اور بعض ظاہری ہیں ۔ بعض دل میں ہوتے ہیں اور اعضاء سے ہوتے ہیں ۔ یہ تمام فواحش کسی بھی معاشرے کے لئے ہم قاتل ہوتے ہیں اور کسی سوسائٹی کا اجتماعی وجود ان کے ذریعے کھوکھلا ہوجاتا ہے ۔ افراد معاشرہ کے دل گندے ہوتے ہیں اور ان کی ترجیحات حقیر ہوتی ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کی وصیت کے بعد یہ وصیت ذکر ہوئی ۔
زنا کے ساتھ متعلق فواحش چونکہ اپنے اندر جاذبیت رکھتے ہیں ‘ اس لئے حکم دیا گیا کہ ان کے قریب مت جاؤ ‘ تاکہ اس برائی میں مبتلا ہونے کے ذرائع ہی بند ہوجائیں اور دور رہنے کی وجہ سے ان فواحش کی کشش کیا اثرات کم ہوجائیں ۔ اور وہ انسان کی قوت ارادی پر غالب نہ آجائیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے یہ بات حرام قرار دی ہے کہ اگر کسی عورت پر ایک دفعہ نظر پڑجائے تو دوسری بار اسے دیکھنے کی کوشش نہ کی جائے اور مرد وزن کے درمیان اختلاط کو بھی ممنوع کیا گیا اور جاہلانہ آرائش وزیبائش کو ممنوع کیا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ عطر لگا کر باہر نکلنے سے بھی منع کیا گیا ہے ۔ اسی طرح تمام ایسی حرکات ہنسی مذاق اور اشارات کو اسلام کے پاک معاشرے میں منع کیا گیا ہے ۔ اسلام لوگوں کو ایسی مشکل صورت حال سے دو چار نہیں کرتا کہ اس میں انہیں اپنے اعصاب کے اوپر کنڑول نہ رہے اور وہ ترغیبات کا مقابلہ نہ کرسکیں ۔ اسلام ایک ایسا دین ہے جو حدود ونافذ کرنے اور سزائیں دینے سے پہلے ہی لوگوں کو بچاتا بھی ہے ۔ اسلام لوگوں کے ضمیر ‘ شعور حواس اور اعضاء تک کو بچانے کی سعی کرتا ہے اس لئے کہ رب تعالیٰ اپنی مخلوق کی کمزوریوں سے خوف واقف ہے ۔ وہ لطیف وخبیر ہے ۔
ہم اس بات کو اچھی طرح جانتے ہیں کہ جو لوگ دوسروں کے لئے عیاشیاں پیدا کرتے ہیں ‘ ان کے سفلی جذبات کو آزاد کرتے ہیں ‘ اور اس مقصد کے لیے تصاویر ‘ فلمیں ‘ افسانے میلے اور دوسرے تمام ذرائع فراہم کرتے ہیں وہ دین اسلام اور مسلمانوں کے بارے میں کیا ارادے رکھتے ہیں ۔
آیت ” وَلاَ تَقْتُلُواْ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّہُ إِلاَّ بِالْحَق “۔ (6 : 151)
اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ “۔
قرآن کریم میں ان تین منکرات کا ذکر بارہا ایک جگہ آیا ہے ۔ یعنی شرک زنا اور قتل نفس کا ذکر بارہا ایک ساتھ کیا گیا ہے اس لئے کہ یہ تمام جرائم دراصل قتل کے جرائم ہیں ۔ پہلا جرام شرک دراصل فطرت کا قتل ہے ۔ دوسرا جرام معاشرے کا قتل ہے ‘ اور تیسرا جرم نفس انسانی کا قتل ہے ۔ اس لئے کہ جو فطرت توحید پر قائم نہیں ہے ۔ وہ دراصل مردہ فطرت ہے اور جس سوسائٹی میں فحاشی پھیل گئی ہے وہ سوسائٹی بھی مردہ سوسائٹی ہے اور اس نے آخر کار ہلاک وبرباد ہونا ہے ۔ یونانی تہذیب ‘ رومی تہذیب اور فارسی تہذیب کی تباہی اسی بیماری یعنی فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی کی بیماری کی وجہ سے وقوع پذیر ہوئی ۔ یہ تاریخی تباہیاں بتاتی ہیں کہ کسی تہذیب کی بربادی اور ہلاکت کی پہلی علامت فحاشی ہوتی ہے ۔ آج مغربی تہذیب کے اندر جس تیزی سے فحاشی پھیلی ہے ‘ ماہرین اب انتظار کر رہے ہیں کہ کب اس پر ہمہ گیر تباہی آتی ہے اسی طرح وہ معاشرہ جس میں امن وامان نہ ہو وہ بھی لازما اپنے انجام تک پہنچتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نے ان جرائم کے لئے سخت سزائیں مقرر کی ہیں کیونکہ اسلام اپنے معاشرے کو ہمہ گیرتباہی سے بچانا چاہتا ہے ۔
اس سے پہلے یہ بات آگئی ہے کہ اپنی اولاد کو بھوک و افلاس کے ڈر سے قتل نہ کرو ‘ یہاں مطلق نفس کے قتل کی ممانعت کی گئی ہے ۔ یہاں اشارہ یہ مطلوب ہے کہ ایک فرد کے خلاف بھی اگر جرم قتل کا ارتکاب کیا جائے تو یہ جرم پورے معاشرے کے خلاف جرم تصور ہوگا ۔ دوسری جگہ اس کی تصریح یوں کی گئی ہے ۔
آیت ” انہ من قتل نفسا بغیر نفس اوفساد فی الارض فکانما قتل الناس جمیعا ومن احیاھا فکانما احیاء الناس جمیعا “ (5 : 32)
” جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی ۔ “
اس لئے کہ ارتکاب قتل کا وقوع زندگی پر ہوتا ہے اور زندگی نفس بشر میں ہوتی ہے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اس اصول کے تحت نفس انسانی کی بقا کی ضمانت دی ہے تاکہ دارالاسلام میں جماعت مسلمہ کے تمام افراد کو امن و سکون کے ساتھ زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور اسلامی معاشرے کا ہر فرد بڑی آزادی کے ساتھ ترقی کی جدوجہد میں حصہ لے سکے اور اسے ماسوائے حق کے کسی اور وجہ سے نہ ستایا جائے ، وہ سچائی جس کی اساس پر کسی کو ستایا جاسکتا ہے وہ اسلامی شریعت میں بیان کردی گئی ہے اور اس بارے میں کسی تاویل یا اندازے کی اب کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ یہاں اس کی تفصیلات نہیں دی گئیں اس لئے کہ یہ کام مدینہ میں اسلامی حکومت کے قیام کے بعد کیا جانا تھا تاکہ وہاں اسلامی شریعت کے نفاذ کے لئے ایک حکومت بھی موجود ہو۔ اس نکتے کی بڑی اہمیت ہے ‘ اور اس سے اسلامی نظام اور دین اسلام کے عملی مزاج کا پتہ چلتا ہے ۔ اسلامی نظام کی نشوونما اور اس کی حرکیت میں عملیت ایک اہم پہلو ہے کہ ان اساسی اصولوں کی تفصیلات بھی نہیں دی گئیں کیونکہ ابھی ان کے نفاذ کا ابھی وقت نہیں آیا تھا ۔
آگے بڑھنے سے پہلے یہاں یہ حکم دیا جاتا ہے کہ یہ اصول وقواعد اور اوامر ونواہی اللہ کی جانب سے ایک وصیت ہے اور اس پر تمہیں عمل کرنا ہے ۔
آیت ” ِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُمْ بِہِ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ (151)
یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔ “ اس قسم کی تعقیبات قرآن کریم کے ہر حکم ‘ ہر امر ونہی کے بعد آتی ہیں ۔ اور یہ قرآن کا خاص اسلوب ہے جس کے وہ قانونی امور کو بھی اللہ کی ذات سے وابستہ کردیتا ہے اور یہ تاثر دیا جاتا ہے کہ امر ونہی کے صدور اور قانون سازی کا کام صرف اللہ وحدہ کے اختیار میں ہے ۔ یوں اسلامی نظام مملکت میں قانون کے لئے بےحد احترام پایا جاتا ہے ۔
اس بات میں ایک یہ اشارہ بھی ہے کہ یہی بات قابل فہم ہے ۔ اس لئے کہ عقل کا تقاضا یہ ہے کہ اللہ کی حکومت کی اطاعت کی جائے ‘ جیسا کہ اوپر کہا گیا ۔ اسلامی تصور یہ ہے کہ اللہ خالق ‘ رازق اور متصرف فی الکون ہے لہذا لوگوں کی زندگی میں تصرفات بھی اللہ کے کے چلنے چاہئیں ۔
اس تعقیب اور وصیت سے پہلے جو آیت ہے اس میں پائے جانے والے احکام باہم متناسب ہیں اور بعد کے آنے والی آیت میں پائے جانے والے امور بھی باہم ہم رنگ ہیں اور درمیان میں یہ تبصرہ ہے ۔
آیت ” وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ “۔ (6 : 152)
اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔
کسی سوسائٹی میں یتیم ایک کمزور شخصیت ہوتی ہے ‘ اس کا حامی اور مربی کوئی نہیں ہوتا اور اس کے سر پر والدین کا سایہ نہیں ہوتا ۔ اس لئے اس کی ذمہ داری اسلامی سوسائٹی پر ڈال دی گئی ہے کیونکہ سوشل سیکورٹی اسلامی نظام کی اساس ہے ۔ دور جاہلیت میں یتیم ہمیشہ کسمپرسی کی حالت میں ہوتے تھے ۔ یتیم کے بارے میں قرآن کریم بار بار ہدایات دیتا ہے اور مختلف پہلوؤں سے اس مسئلے کو لیا گیا ہے ۔ اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ دور جاہلیت میں یتامی کی بےحد حق تلفی ہوا کرتی تھی ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے پیغمبری کے لئے بھی ایک یتیم شخص کا انتخاب کیا اور اسے یہ عظیم اعزاز بخشا کہ اسے تمام جہان والوں کے لئے رسول بنا کر بھیجا پھر فرمایا کہ ان کا خیال اس طرح رکھا جائے کہ ان کے مال کے قریب نہ جاؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو ‘ یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے ۔ “
حکم یہ ہے کہ یتیم کے متولی اور گارڈین کو یتیم کے مال میں صرف اتنا تصرف کرنا ہے جو اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کا فرض ہوگا کہ وہ اسے بچائے اور اسے ترقی دے ۔ جب وہ سن رش تک پہنچ جائے تو اسے چاہیے کہ وہ اسے پورا پورا دے دے اور ترقی یافتہ شکل میں دے ۔ سن رشد اس وقت حاصل ہوتا ہے کہ جب یتیم کی جسمانی اور عقلی قوت کمال کو پہنچ جائے ‘ اسطرح کہ وہ مال کو بچا بھی سکے اور اس کی حفاظ بھیکر سکے اور اسے ترقی بھی دے سکے ۔ اور وہ جب سوسائٹی میں ایک مختار شخص کی صورت میں آئے تو وہ اس کا ایک صحت مند فرد ہو اور سوسائٹی کے لئے مفید ہو ۔
سن رشد اور بلوغ کے بارے میں فقہاء کے درمیان اختلافات ہیں ۔ عبدالرحمن ابن زید اور امام مالک کے نزدیک عقلی بلوغ ہے ۔ امام ابو حنفیہ رحمۃ اللہ علییہ کے نزدیک پندرہ سال کی عمر ہے ۔ سدی تیس سال کی عمر مقرر کرتے ہیں اور اہل مدینہ بلوغ اور عقلمندی دونوں کے حصول کے بعد سن رشد مانتے ہیں اور کسی عمر کی تحدید نہیں کرتے ۔
آیت ” وَأَوْفُواْ الْکَیْْلَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ لاَ نُکَلِّفُ نَفْساً إِلاَّ وُسْعَہَا “۔ (6 : 152)
” اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو ‘ ہم ہر شخص پر ذمہ داریوں کا اتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے ۔
یہ حکم تجارتی معاملات کے بارے میں ہے کہ تجارتی معاملات میں حتی المقدور کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو ۔ ان احکام کو اسلامی عقائد ونظریات سے وابستہ کیا گیا ہے حالانکہ یہ محض تجارتی معاملات ہیں ۔ یہ اس لئے کہ اسلامی نظام میں تمام معاملات دین و ایمان سے وابستہ ہیں اور ان کے بارے میں جو احکام ہیں وہ منجانب اللہ ہیں۔ اس طرح یہ احکام اللہ اور اللہ کے اقتدار اعلی کے مسئلہ سے وابستہ ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان احکام کو ایک ایسے منظر میں لایا جاتا ہے جس میں اسلامی نظریہ حیات کا ربط زندگی کے تمام معاملات میں عیاں کیا گیا ہے ۔
تمام جاہلی نظاموں میں جس میں دور جدید کی جاہلیت بھی شامل ہے ‘ طریقہ یہ رہا ہے کہ عقائد و عبادات سے قانون اور معاملات کو بالکل علیحدہ رکھا جاتا ہے ۔ یہ وہ حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے حضرت شعیب (علیہ السلام) کے قصے میں اچھی طرح واضح کیا ہے ۔
آیت ” قالوا یشعیب اصلوتک تامرک ان نترک ما یعبد ابآئونا اوان نفعل فی اموالنا ما نشؤا (11 : 86)
” انہوں نے جواب دیا : اے شعیب کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے کہ ہم ان سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں باہم مالی اور تجارتی معاملات ‘ بیع اور شرا کے مسائل اور اسلامی نظریہ حیات کے نظریاتی پہلوؤں کو ایک ساتھ لایا جاتا ہے تاکہ یہ بتایا جاسکے کہ اس دین کا مزاج کیا ہے ؟ اور اس میں عقائد و قانون کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے ۔ عبادت اور معاملات دونوں میں اللہ کی بندگی ضروری ہے کیونکہ یہ دین ہی کا حصہ ہیں اور اس کے اصل الاصول سے مربوط ہیں۔
آیت ” وَإِذَا قُلْتُمْ فَاعْدِلُواْ وَلَوْ کَانَ ذَا قُرْبَی “۔ (6 : 152)
” اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنی رشتہ داری کا کیوں نہ ہو۔ “
سب سے پہلے اسلام قلب مومن کارابطہ اللہ کے ساتھ قائم کرتا ہے اور اس طرح انسان کو نہایت ہی بلند مقام تک پہنچاتا ہے ۔ مقصد یہ ہے کہ وہ اللہ پر ایمان لائے اور ہر وقت اس سے ڈرتا رہے اس راستے میں کئی ایسے مقامات آتے ہیں جہاں قدم ڈگمگا جاتے ہیں ۔ انسانی کمزوری اثر کر جاتی ہے اور انسان قرابت ‘ رشتہ داری اور قرابت کے حقوق کا لحاظ کرجاتا ہے ۔ کیونکہ انسان نہایت ہی کمزور ‘ ضعیف ہے اور دور اندیش نہیں ہے اور رشتہ داری کی قوت اس سے کمزوری کا ارتکاب کراتی ہے ۔ رشتہ داری کے ماحول میں وہ پروان چڑھتا ہے ۔ اس ماحول میں وہ زندہ رہتا ہے اور جب وہ رشتہ دار کے مقابلے میں شہادت کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس سے کمزوری کا ارتکاب ہوتا ہے ۔ اگر بھائی کے لئے شہادت دے تو مبالغہ ہوگا اور اگر خلاف دے تو کمی کرے گا یا بھائی اور دوسرے شخص کے درمیان فیصلہ کرے تو جانب داری کرے گا ۔ اس خطرناک مقام پر اسلام ہی مدد کو آتا ہے ۔ وہ انسانی ضمیر کو ہدایت دیتا ہے کہ وہ کلمہ حق کہے اور انصاف کرے ۔ اور صرف اللہ وحدہ پر بھروسہ کرے ۔ صرف اس سے ڈرے اور بھائی کی دوستی ودشمنی کے معاملے صرف اللہ کی نصرت طلب کرے ۔ اللہ سے ڈرے اور یہ نہ کرے کہ رشتہ داری کا حق ادا کرتے ہوئے اللہ کے حقوق کو تلف کردے ۔ اللہ انسان کا خالق ہے اور اس کی شہ رگ سے زیادہ اس کے قریب ہے ۔ چناچہ اللہ یہاں اپنی وصیتوں کے بعد اپنے ساتھ کئے ہوئے عہد کو یاد دلاتے ہیں ۔
آیت ” وَبِعَہْدِ اللّہِ أَوْفُوا “۔ (6 : 152)
” اور اللہ کے عہد کو پورا کرو “۔
اللہ کے عہد میں سے ایک یہ بھی ہے کہ سچ کہو اگرچہ اس کی زد تمہارے کسی قرابت دار پر پڑتی ہو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ ناپ اور تول کے پیمانے پورے رکھو۔ اس کے عہد میں سے یہ بھی ہے کہ یتیم کے مال میں اس طرح تصرف کرو کہ وہ اس کے لئے احسن ہو ۔ اس کے عہد میں یہ امر بھی داخل ہو ہے کہ بےگناہ جان کا احترام کرو ‘ اور ان سب عہدوں سے بڑا عہد یہ ہے کہ اللہ کے ساتھ الوہیت اور حاکمیت میں کسی کو شریک نہ کرو ‘ اور یہ عہد عہد اکبر ہے ۔ یہی انسانی فطرت کا تقاضا ہے ‘ اس لئے کہ مخلوق کو خالق کے ساتھ وابستہ ہونا چاہیے اور اسے ان نوامیس قدرت کا شعور ہونا چاہئے جو انسان کے اندر اور اس کے اردگرد کائنات میں جاری وساری ہیں ۔ اور آخر میں وہی تبصرہ ۔
آیت ” ْ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ (152)
”۔ ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔ “
ذکر کا مفہوم غفلت کے بالمقابل ہے۔ لہذا یاد رکھنے والا دل غافل دل کے متضاد ہوگا اور ذاکر وہ ہوگا جو اللہ کے عہد کو یاد رکھے اور ان عہود کے بارے میں اللہ کی وصیتوں کا خیال رکھے اور ان کو کسی حالت میں نہ بھولے ۔
یہ اصول جن کا آغاز عقیدہ توحید کے ساتھ ہوا ‘ جس میں اسلامی عقائد اور اسلامی قانون اور اسلام کے اجتماعی نظام کے بارے میں ہدایات دی گئی ہیں اور جن سے پہلے کے سبق میں اللہ کے اقتدار اعلی اور اس کے حق حاکمیت کے مضامین تھے جس میں حق قانون سازی نمایاں ہے ‘ یہ سب اصول اللہ کا صراط مستقیم ہیں ۔ یہ وہ راستہ ہے جس کے مقابلے میں دوسرے تمام راستے غلط ‘ دشوار گزار ہیں ‘ یہی مستقیم راستہ ہے ۔
آیت ” وَأَنَّ ہَـذَا صِرَاطِیْ مُسْتَقِیْماً فَاتَّبِعُوہُ وَلاَ تَتَّبِعُواْ السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِکُمْ عَن سَبِیْلِہِ ذَلِکُمْ وَصَّاکُم بِہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُونَ (153)
” نیز اللہ کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے ‘ لہذا اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو ۔ “
یہ سبق یہاں ختم ہوتا ہے جس کا آغاز اس آیت سے ہوا تھا :
آیت ” افغیر اللہ ابغی حکما ھو الذی انزل الیکم الکتب مفصلا “۔
” کیا میں اللہ کے سوا کسی اور کو حکم تلاش کرو ‘ حالانکہ وہی ہے جس نے تمہاری طرف کتاب مفصل طور پر نازل کردی ہے ۔ “ اور اس طویل سبق کا خاتمہ اس فقرے سے ہوا ۔ اس آغاز اور انجام اور درمیان میں مسئلہ حاکمیت الہیہ ‘ مسئلہ قانون سازی ‘ پھلوں اور مویشیوں کی حلت و حرمت ‘ ذبیحوں اور نذروں کے مسائل اور دوسرے اساسی اور اصولی مسائل تھے ۔ یہ مسائل اس آغاز و انجام کے درمیان بیان ہوئے ۔ مقصد یہ بتانا تھا کہ یہ ہے وہ وسیع دائرہ جس کے اندر یہ سب چیزیں آتی ہیں اور ان سب کا تعلق ان عقائد اور نظریات کے ساتھ ہے جو اس سورة کا اساسی مضمون ہے جس کا اہم نکتہ یہ ہے کہ اللہ حاکم و معبود ہے اور اس معاملے میں اس کے ساتھ کوئی شریک نہیں ہے ۔
یہ واحد راستہ ہی اللہ کا راستہ ہے اور اس راہ سے ہم اللہ تعالیٰ پہنچ سکتے ہیں ۔ وہ یہ ہے کہ لوگ اللہ وحدہ کو رب تسلیم کریں ‘ اسی کی عبادت کریں ‘ اسی کی اطاعت کریں ‘ صرف اسی کو اپنا حاکم و قانون ساز تسلیم کریں اور پوری زندگی اسی کے رنگ میں رنگ دیں ۔
یہ راہ ہے جو اللہ کی راہ ہے ۔ اس کے سوا جس قدر بھی راستے ہیں وہ اللہ کی راہ سے جدا ہوجاتے ہیں اور وہ راستے کسی انجام تک نہیں پہنچتے ۔ اللہ نے تمہیں اسی راستے پر چلنے کی ہدایت فرمائی ہے تاکہ تم متقی بن جاؤ ۔ لہذا معلوم ہوا کہ تقوی کا مدار صحیح عقیدے اور صحیح عمل پر ہے ۔ یہ تقوی ہی ہے جو انسان کو اللہ کے راستے کی طرف لے جاتا ہے ۔