درس نمبر 143 ایک نظر میں
یہ اس سورة کا آخری سبق ہے ، پہلے اسباق میں اس کائنات کے اندر جاری تکوینی قوانین قدرت کا ذکر تھا ، جو اس بات کے لئے نشانی تھے کہ اس کائنات کا خالق ایک ہے۔ جن قوانین کے مطابق اللہ تعالیٰ رسولوں کو بھیجتا ہے ، وہ بھی ایک ہیں اور بتاتے ہیں کہ تمام رسولوں کا عقیدہ ایک ہی تھا۔ اس سبق میں مناظر قیامت اور اس کی علامات کا ذکر ہے۔ اس منظر میں مشرکین اور اللہ کے ساتھ ٹھہرائے ہوئے شرکاء کا انجام بتایا گیا ہے اور یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ وحدہ متصرف اور متدبر ہے جو پوری کائنات کو چلا رہا ہے۔
اس کے بعد بتایا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر اقتدار اعلیٰ عطا کرنے کے لئے بھی قوانین اور سنن الہیہ جاری کر رکھے ہیں اور خاتم النبین ﷺ کا بھیجا جانا ، اس دنیا پر درحقیقت اللہ کی رحمت ہے۔ رسول اللہ ﷺ کو کہا جاتا ہے کہ وہ ان کو اپنے حال پر چھوڑ دیں اور ان سے دست بردار ہوجائیں تاکہ یہ لوگ اپنے اللہ کے مقرر کردہ قدرتی انجام تک پہنچ جائیں اور پیغمبر ﷺ کو یہ بھی کہا جاتا ہے کہ آپ ان کے کفر ، تکذیب اور استہزاء پر اللہ سے معاونت طلب کریں۔ انہیں چھوڑ دیں کہ یہ کھیل کود میں مصروف رہیں۔ یوم الحساب تو دور نہیں ہے۔
وتقطعوٓا……لایرجعون (95)
رسولوں کا ایک گروہ ہے۔ یہ ایک ہی نظریہ پر قائم ہے او ان کی امت بھی ایک ہی امت ہے۔ اس امت کی بنیاد کلمہ طیبہ اور توحید پر ہے۔ اس کی شہادت اس پوری کائنات میں جاری وساری قوانین قدرت بھی دیتے ہیں۔ یہی وہ بنیادی کلمہ ہے جس کی طرف ابتداء سے لے کر انتہاء تک تمام رسولوں نے لوگوں کو بلایا ہے۔ اسلام کا یہ اصل کبیر ہے۔ ہاں مختلف رسولوں کے ہاں قائم ہونے والا مفصل نظام زندگی اور نظام قانون بہرحال مختلف ادوار میں مختلف رہا ہے۔ مختلف ادوار میں نظام قانونی اقدام کی استعداد اور ان کے درجہ ترقی کی مناسبت سے تشکیل پایا ہے۔ اس میں ان اقوام کے تجربات اور ان کے ذہنی ترقی اور قوت ادراک کو مدنظر رکھا جاتا رہا ہے۔ حیات ، وسائل زندگی اور لوگوں کے باہم ارتباط کے طور طریقوں ، سب کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
باوجود اس کے کہ رسول ایک تھے ، ان کا نظریہ حیات اور عقیدہ ایک تھا ، بعد میں آنے والے ان کے متبین نے اس ایک ہی دین ، نظریہ اور نظام کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور ہر گوہ دین کا ایک ایک ٹکڑا لے کر علیحدہ ہوگیا او اس کے بعد ان گروہوں کے درمیان اختلافات زیادہ ہوگئے ، عداوت شروع ہوگئی ، دشمنی اس قدر بڑھی کہ جنگ وجدال شروع ہوگئی اور لوگ دینی عقائد کی وجہ سے ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے حالانکہ عقائد ایک تھے ، کیونکہ امت ہی ایک تھی۔
انہوں نے دنیا میں تو اپنے ایک دین کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے لیکن ان کو یہ خیال نہیں ہے کہ یہ سب کے سب قیامت کی طرف بڑی جلدی سے بڑھ رہے ہیں۔
کل الینا رجعون (21 : 93) ” سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ “ کیونکہ لوٹنے کی جگہ تو اللہ کے سوا اور کوئی ہے ہی نہیں۔ اللہ ہی ان سے حساب و کتاب لینے والا ہے اور اس کو علم ہے کہ ان میں حق پر کون ہے اور باطل پر کون ہے۔
آیت 93 وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط ”بقول اقبالؔ : اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری ! یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے“۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت ‘ گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کا کوئی ایک موضوع اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔ مثلاً ایک گروہ قرآن میں سے ُ چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر و تقریرکا موضوع بناتا ہے جن میں حضور ﷺ کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہ حصہ اپنے لیے الاٹ کرا لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الکہف : 110 اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور ﷺ کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو ان کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ہی ہوتا ہے۔ الغرض ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چناچہ آج کے اس دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ جس کے لیے ہر صاحب علم کو استطاعت بھر کوشش کرنی چاہیے۔