اس صفحہ میں سورہ Al-Anbiyaa کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنبياء کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَٱلَّتِىٓ أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَٰهَا وَٱبْنَهَآ ءَايَةً لِّلْعَٰلَمِينَ
إِنَّ هَٰذِهِۦٓ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً وَٰحِدَةً وَأَنَا۠ رَبُّكُمْ فَٱعْبُدُونِ
وَتَقَطَّعُوٓا۟ أَمْرَهُم بَيْنَهُمْ ۖ كُلٌّ إِلَيْنَا رَٰجِعُونَ
فَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّٰلِحَٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا كُفْرَانَ لِسَعْيِهِۦ وَإِنَّا لَهُۥ كَٰتِبُونَ
وَحَرَٰمٌ عَلَىٰ قَرْيَةٍ أَهْلَكْنَٰهَآ أَنَّهُمْ لَا يَرْجِعُونَ
حَتَّىٰٓ إِذَا فُتِحَتْ يَأْجُوجُ وَمَأْجُوجُ وَهُم مِّن كُلِّ حَدَبٍ يَنسِلُونَ
وَٱقْتَرَبَ ٱلْوَعْدُ ٱلْحَقُّ فَإِذَا هِىَ شَٰخِصَةٌ أَبْصَٰرُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ يَٰوَيْلَنَا قَدْ كُنَّا فِى غَفْلَةٍ مِّنْ هَٰذَا بَلْ كُنَّا ظَٰلِمِينَ
إِنَّكُمْ وَمَا تَعْبُدُونَ مِن دُونِ ٱللَّهِ حَصَبُ جَهَنَّمَ أَنتُمْ لَهَا وَٰرِدُونَ
لَوْ كَانَ هَٰٓؤُلَآءِ ءَالِهَةً مَّا وَرَدُوهَا ۖ وَكُلٌّ فِيهَا خَٰلِدُونَ
لَهُمْ فِيهَا زَفِيرٌ وَهُمْ فِيهَا لَا يَسْمَعُونَ
إِنَّ ٱلَّذِينَ سَبَقَتْ لَهُم مِّنَّا ٱلْحُسْنَىٰٓ أُو۟لَٰٓئِكَ عَنْهَا مُبْعَدُونَ
آیت 91 وَالَّتِیْٓ اَحْصَنَتْ فَرْجَہَا ”یعنی پوری طرح سے پاک دامن رہیں۔فَنَفَخْنَا فِیْہَا مِنْ رُّوْحِنَا ”یعنی حرف ”کُن“ بیٹے کی پیدائش کا ذریعہ بن گیا۔
آیت 92 اِنَّ ہٰذِہٖٓ اُمَّتُکُمْ اُمَّۃً وَّاحِدَۃًز ”اُمت ابراہیم ‘ علیہ السلام امت اسماعیل ‘ علیہ السلام امت موسیٰ علیہ السلام ‘ امت عیسیٰ علیہ السلام ٰ ‘ امت محمد ﷺ اور دوسرے تمام انبیاء کی امتیں بنیادی طور پر ایک ہی دین کی پیروکار تھیں اور یوں تمام انبیاء اور ان کے پیروکار گویا ایک ہی امت کے افراد تھے۔ اس مضمون کو سورة البقرۃ ‘ آیت 213 میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے : کَان النَّاسُ اُمَّۃً وَّاحِدَۃً قف یعنی شروع میں تمام انسان ایک ہی امت تھے اور ایک ہی دین کے ماننے والے تھے۔ پھر لوگوں نے اپنی اپنی سوچ اور اپنے اپنے مفادات کے مطابق صراط مستقیم میں سے پگڈنڈیاں نکال لیں ‘ مختلف گروہوں نے نئے نئے راستے بنا لیے اور ان غلط راستوں پر وہ اتنی دور چلے گئے کہ اصل دین مسخ ہو کر رہ گیا اور اب ان مختلف گروہوں کے نظریات کی یہ مغائرت اس حد تک بڑھ چکی ہے ع ”کہ پہچانی ہوئی صورت بھی پہچانی نہیں جاتی !“یعنی آج بہت سے مذاہب کی اصلی شکل کو پہچاننا بھی ممکن نہیں رہا۔ ان کے بگڑے ہوئے عقائد کو دیکھ کریقین نہیں آتا کہ کبھی ان کا تعلق بھی دین حق سے تھا۔ بہر حال حقیقت یہی ہے کہ تمام انبیا ورسل علیہ السلام کا تعلق ایک ہی امت سے تھا۔ وہ سب ایک ہی اللہ کو ماننے والے تھے اور سب ایک ہی دین لے کر آئے تھے ‘ البتہ مختلف انبیاء کی شریعتوں کے تفصیلی احکامات میں باہم فرق پایا جاتا رہا ہے۔ یہ مضمون مزید وضاحت کے تحت سورة الشوریٰ میں آئے گا۔
آیت 93 وَتَقَطَّعُوْٓا اَمْرَہُمْ بَیْنَہُمْ ط ”بقول اقبالؔ : اُڑائے کچھ ورق لالے نے ‘ کچھ نرگس نے ‘ کچھُ گل نے چمن میں ہر طرف بکھری ہوئی ہے داستاں میری ! یہ مضمون سورة الحجر میں اس طرح بیان ہوا ہے : کَمَآ اَنْزَلْنَا عَلَی الْمُقْتَسِمِیْنَ الَّذِیْنَ جَعَلُوا الْقُرْاٰنَ عِضِیْنَ فَوَرَبِّکَ لَنَسْءَلَنَّہُمْ اَجْمَعِیْنَ ”یہ اسی طرح کی تنبیہہ ہے جس طرح ہم نے ان تفرقہ بازوں کی طرف بھیجی تھی۔ جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا۔ تو اے محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آپ کے رب کی قسم ! ہم ان سب سے پوچھ کر رہیں گے“۔ اس کیفیت کی عملی تصویر آج امت مسلمہ میں بھی دیکھی جاسکتی ہے۔ آج ہمارے ہاں صورت حال یہ ہے کہ ہر جماعت ‘ گروہ یا مسلک کے پیروکاروں نے قرآن کا کوئی ایک موضوع اپنے لیے مخصوص کرلیا ہے اور ان لوگوں کے نزدیک بس اسی کی اہمیت ہے اور وہی کل دین ہے۔ مثلاً ایک گروہ قرآن میں سے ُ چن چن کر صرف ان آیات کو اپنی تحریر و تقریرکا موضوع بناتا ہے جن میں حضور ﷺ کی رفعت شان اور محبت کا تذکرہ ہے۔ گویا انہوں نے قرآن کا صرف وہ حصہ اپنے لیے الاٹ کرا لیا ہے۔ ان کے مقابلے میں ایک دوسرا گروہ قُلْ اِنَّمَآ اَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ الکہف : 110 اور اس سے ملتے جلتے مضامین کی آیات پر ڈیرہ ڈال کر حضور ﷺ کی بشریت کو نمایاں کرنے اور مشرکانہ اوہام کی نفی کرنے کی کوشش میں مصروف ہے۔ اگر کوئی گروہ اولیاء اللہ اور صوفیاء سے عقیدت کا دعوے دار ہے تو ان کی ہر گفتگو اور تقریر کا محور اَلَآ اِنَّ اَوْلِیَآء اللّٰہِ لاَخَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُوْنَ یونس ہی ہوتا ہے۔ الغرض ہر گروہ کے ہاں کتاب اللہ کی چند آیات پر زور ہے اور باقی تعلیمات کی طرف کوئی توجہ نہیں۔ چناچہ آج کے اس دور میں قرآن کو ایک وحدت کی حیثیت سے پیش کرنے کی اشد ضرورت ہے ‘ جس کے لیے ہر صاحب علم کو استطاعت بھر کوشش کرنی چاہیے۔
آیت 94 فَمَنْ یَّعْمَلْ مِنَ الصّٰلِحٰتِ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَا کُفْرَانَ لِسَعْیِہٖ ج ”اللہ تعالیٰ ”الشّکور“ قدر دان ہے۔ اگر کسی کے دل میں ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت موجود ہے تو اس کے اخلاص اور ایثار کے مطابق اس کے ہر نیک عمل کی جزا دی جائے گی۔ ایسے کسی شخص کے چھوٹے سے عمل کی بھی ناقدری نہیں کی جائے گی۔ رہے وہ لوگ جو اللہ اور آخرت پر ایمان نہیں رکھتے لیکن نیکی اور بھلائی کے مختلف کام بھی کرتے ہیں تو اللہ کو ان کے ایسے کسی عمل سے کوئی سروکار نہیں۔ بہر حال جو کوئی بھی نیکی کا کوئی کام اللہ کی رضا اور آخرت کے اجر کی نیت کے بجائے محض دکھاوے یا کسی اور غرض کی بنا پر کرے گا تو اسے اس کا کوئی اجر آخرت میں نہیں ملے گا۔ مثلاً اگر کوئی شخص الیکشن لڑنا چاہتا ہے اور اس کے لیے گھر گھر جا کر خیرات بانٹ رہا ہے تو اس کے اس عمل کے پیچھے اس کا خاص مقصد اور مفاد ہے نہ کہ اللہ کی رضا۔ لہٰذا اللہ کے ہاں ایسا کوئی بھی عمل قابل قبول نہیں ہے۔ وَاِنَّا لَہٗ کٰتِبُوْنَ ”خالص ہماری رضا کے حصول کے لیے یا ہمارے دین کی سربلندی کے لیے جو ‘ جہاں اور جب کوئی عمل انجام پارہا ہے ہم اسے اپنے ہاں لکھ رہے ہیں تاکہ ایسے ہر ایک عمل کا پورا پورا اجر دیا جائے۔
آیت 95 وَحَرٰمٌ عَلٰی قَرْیَۃٍ اَہْلَکْنٰہَآ اَنَّہُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ ”اس آیت کا ایک مفہوم تو یہ ہے کہ جن بستیوں پر اللہ کے عذاب کا فیصلہ ہوجاتا تھا ‘ وہاں کے لوگ نبی یا رسول کے آنے کے بعد بھی کفر و شرک سے لوٹنے والے نہیں ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان پر اتمام حجت کے لیے رسول تو بھیج دیتا تھا ‘ لیکن اس کو خوب معلوم تھا کہ کفرو شرک سے ان لوگوں کے رجوع کرنے اور ایمان لانے کا کوئی امکان نہیں۔ اس کا دوسرا مفہوم یہ بھی ہے کہ اللہ کے عذاب سے جو بستی ایک دفعہ برباد ہوگئی پھر اس کے دوبارہ آباد ہونے کا کوئی امکان نہیں۔
آیت 96 حَتّٰیٓ اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”قرآن میں یا جوج اور ماجوج کا ذکر اس آیت کے علاوہ سورة الکہف میں بھی آیا ہے۔ سورة الکہف کے مطالعے کے دوران اس موضوع پر تفصیل سے بحث ہوچکی ہے۔ یاجوج اور ماجوج کی یلغار سے بچاؤ کے لیے ذوالقرنین کی تعمیر شدہ دیوار سے متعلق بہت واضح معلومات دنیا کے سامنے آچکی ہیں۔ دنیا کے نقشے میں ”دربند“ وہ جگہ ہے جہاں پر وہ دیوار تعمیر کی گئی تھی۔ دیوار اب وہاں بالفعل تو قائم نہیں ‘ مگر اس کے واضح آثار اس جگہ پر موجود ہیں۔ ان آثار سے دیوار کی dimensions کا اندازہ بھی لگایا جاسکتا ہے۔ آیت زیر نظر سے واضح ہوتا ہے کہ قرب قیامت کے زمانے میں یاجوج اور ماجوج کا سیلاب ایک بار پھر آنے والا ہے۔ اس سلسلے میں ایک رائے یہ بھی ہے کہ اٹھارہویں اور انیسویں صدی کے دوران یورپی اقوام کی یلغار colonization بھی اس آیت کا مصداق ہے جس کے نتیجے میں انہوں نے پورے ایشیا اور افریقہ پر بتدریج قبضہ جما لیا تھا۔ یعنی ایک ہی وقت میں فرانسیسی ‘ ولندیزی اور برطانوی اقوام نے ملایا ‘ انڈونیشیا ‘ ہندوستان سمیت پورے ایشیا اور افریقہ کو غلام بنا لیا تھا۔ یہ تمام لوگ سکنڈے نیوین ممالک سے اتری ہوئی اقوام کی نسل سے تھے ‘ جن کو Nordic Races کہتے ہیں اور یورپ کے White Anglo Saxons لوگ بھی انہیں کی اولاد سے ہیں۔ دراصل یہی وہ اقوام ہیں جو مختلف ادوار میں مہذب دنیا پر حملہ آور ہو کر ظلم و ستم اور لوٹ مار کا بازار گرم کرتی رہی ہیں۔ علامہ اقبال نے بھی اپنے اس شعر میں یورپی اقوام کے اس نوآبادیاتی استعمار colonization کو یاجوج اور ماجوج کے تسلط سے تعبیر کیا ہے : کھل گئے یاجوج اور ماجوج کے لشکر تمام چشم مسلم دیکھ لے تفسیر حرف یَنسِلُوْن !وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بظاہر ان اقوام کی افواج کو ان مقبوضہ ممالک سے نکلنا پڑا ‘ لیکن بالواسطہ طور پر وہ اپنے کٹھ پتلی اداروں اور افراد کے ذریعے ان ممالک پر مسلسل اپنا تسلط جمائے ہوئے ہیں۔ اس سلسلے میں ورلڈ بینک ‘ آئی ایم ایف اور بہت سے دیگر ملٹی نیشنل ادارے ان کے آلۂ کا رہیں۔ البتہ احادیث میں قرب قیامت کے زمانے کے حالات و واقعات کی جو تفصیل ملتی ہے اس کے مطابق قیامت سے قبل ایک دفعہ پھر یاجوج اور ماجوج کا سیلاب آئے گا۔ ان تفصیلات کا خلاصہ یہ ہے کہ قرب قیامت کے زمانے میں ایک بہت خوفناک جنگ احادیث میں اس کا نام الملحَمۃ العُظمیٰ ‘ جبکہ عیسائی روایات میں Armageddon بتایا گیا ہے ہوگی جس میں یہودی اور عیسائی مسلمانوں کے مقابل ہوں گے۔ فلسطین ‘ شام اور مشرق وسطیٰ کا علاقہ بنیادی طور پر میدان جنگ بنے گا ‘ جس کی وجہ سے اس علاقے میں بہت بڑی تباہی پھیلے گی۔ اسی زمانے میں حضرت مسیح علیہ السلام کا نزول اور امام مہدی کا ظہور ہوگا۔ امام مہدی حضرت فاطمہ رض کی نسل اور حضرت حسن رض کی اولاد میں سے ہوں گے۔ اس سے پہلے خراسان اور مشرقی ممالک میں اسلامی حکومت قائم ہوچکی ہوگی اور ان علاقوں سے مسلمان افواج مشرق وسطیٰ میں اپنے مسلمان بھائیوں کی مدد کے لیے جائیں گی۔ اس جنگ میں بالآخر فتح مسلمانوں کی ہوگی۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معجزانہ تائید ہوگی ‘ جس سے آپ علیہ السلام یہودیوں کو ختم کردیں گے۔ آپ علیہ السلام کی آنکھوں میں ایک خاص تاثیر آج کی لیزر ٹیکنالوجی سے بھی مؤثر ہوگی ‘ جس کی وجہ سے آپ علیہ السلام کی نگاہ پڑتے ہی یہودی پگھلتے چلے جائیں گے۔ پھر آپ علیہ السلام دجال جو مسیح ہونے کا جھوٹا دعوے دار ہوگا کو قتل کریں گے۔ حدیث میں آتا ہے کہ دجال بھاگنے کی کوشش میں ہوگا کہ حضرت مسیح علیہ السلام اس کو مقام لُدّ پر جا لیں گے اور قتل کردیں گے۔ واضح رہے کہ Lydda اسرائیل کا سب سے بڑا ایئربیس ہے۔ ان سب واقعات کے بعد یا جوج اور ماجوج کے سیلاب کی شکل میں ایک دفعہ پھر دنیا پر مصیبت ٹوٹ پڑے گی۔ آیت زیر نظر میں یاجوج اور ماجوج کی یلغار کے راستوں routs کے لیے لفظ ”حدب“ استعمال ہوا ہے ‘ جس کے معنی اونچائی کے ہیں۔ مندرجہ بالا آراء کے مطابق جن اقوام پر یاجوج اور ماجوج کا اطلاق ہوتا ہے ان سب کے علاقے ہمالیہ اور وسطی ایشیا کے پہاڑی سلسلوں کے شمال میں واقع ہیں۔ عین ممکن ہے کہ یہ لوگ ان پہاڑی سلسلوں کو عبور کرتے ہوئے جنوبی علاقوں پر یلغار کریں اور یوں ”مِنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ“ کے الفاظ کی عملی تعبیر کا نقشہ دنیا کے سامنے آجائے۔
آیت 97 وَاقْتَرَبَ الْوَعْدُ الْحَقُّ فَاِذَا ہِیَ شَاخِصَۃٌ اَبْصَارُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ط ”انتہائی خوف کی وجہ سے انسان کی آنکھ حرکت کرنا بھول جاتی ہے۔ کفار و مشرکین قیامت کے دن اسی کیفیت سے دو چار ہوں گے۔یٰوَیْلَنَا قَدْ کُنَّا فِیْ غَفْلَۃٍ مِّنْ ہٰذَا بَلْ کُنَّا ظٰلِمِیْنَ ہم آخرت کا انکار کر کے اپنی جانوں پر ظلم کرتے رہے۔ ہمیں اللہ کے رسول ﷺ کے ذریعے تمام خبریں مل چکی تھیں لیکن ہم نے غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کیا اور اس طرف کبھی توجہ ہی نہ کی۔
آیت 100 لَہُمْ فِیْہَا زَفِیْرٌ وَّہُمْ فِیْہَا لَا یَسْمَعُوْنَ ”ان کے معبود جو ان کے ساتھ ہی جل رہے ہوں گے ‘ وہ ان کی اس چیخ و پکار کو سن نہیں پائیں گے۔