اب پھر اہل ایمان کو دوبارہ پکارا جاتا ہے۔ انسان کے مالی حالات معاملات اور اس کی اولاد کے مفادات بعض اوقات انسان کو خوف اور بخل کی وجہ سے جدوجہد کرنے سے روک دیتے ہیں۔ جس زندگی کی طرف رسول اللہ دعوت دے رہے ہیں وہ ایک باعز زندگی ہے اور اس زندگی کے حصول کی راہ میں مشکلات لازماً پیش آتی ہیں اور اس کے لیے قربانیاں بھی دینی پڑتی ہیں۔ لہذا قرآن کریم ان کمزوریوں کی اصلاح اس طرح کرتا ہے کہ وہ تحریک اسلامی کو فتنہ مال اور فتنہ اولاد کے بارے میں خبردار کرتا ہے۔ یہ دونوں چیزیں اس طرح فتنہ ہیں کہ ان سے انسان کا امتحان مقصود ہوتا ہے۔ اس امتحان اور آزمائش سے گزرنا مشکل کام ہے۔ ان کی وجہ سے دعوت جہاد سے انسان رک جتا ہے اور امانت ، عہد اور بیعت کے تقاضوں وک پورا کرنے میں کوتاہی کرتا ہے۔ لہذا تم خبردار رہو کہ جہاد سے پیچھے رہ جانا رسول اللہ سے غداری ہے اور اس امانت سے غداری اور اس میں خیانت ہے جو مسلمانوں کے سپرد کی گئی ہے یعنی مقصد اعلائے کلمۃ اللہ اور قیام حاکمیت الہیہ اور لوگوں کو سچائی اور انسان کی دعوت اور ان کو یہ بھی یاد دلایا جاتا ہے کہ اللہ کے ہاں جو اجر عطیم ہے ، اس تحریک جہاد پر وہ مال اور اولاد سے زیادہ قیمتی ہے۔
اس کرہ ارض پر امت مسلمہ کے ذمہ جو فرائض عائد کیے گئے ہیں ، ان کو ترک کرنا اور ان سے دست بردار ہوجانا خدا اور رسول کے ساتھ خیانت ہے۔ اسلام کی اساس کلمہ طیبہ (لا الہ الا اللہ محمد رسول اللہ) ہے۔ یعنی اللہ وحدہ لا شریک حاکم ہے۔ اور یہ حاکمیت اس شکل میں ہے جو حضرت محمد صلی اللہ علی ہوسلم نے پیش کی۔ انسانوں نے اپنی پوری تاریخ میں کسی وقت بھی ذات باری سے بالکل انکار نہیں کیا بلکہ انسان یہ غلطی کرتے رہے ہیں کہ وہ اللہ کے ساتھ دوسرے الہوں کو شریک کرتے رہے ہیں۔ کبھی تو یہ شراکت محدود پیمانے پر اعتقادات اور عبادات میں ہوتی ہے اور کبھی نہایت ہی وسیع پیمانے پر اللہ کے اقتدار اعلیٰ اور حق حاکمیت میں بھی ہوتی ہے۔ اور یہ دوسری صورت عظیم شرک کی صورت ہے لہذا اسلام کے سامنے کبھی یہ مسئلہ اہم نہیں رہا ہے کہ لوگ خدا کو تسلیم کریں اور ان کو یہ دعوت دی جائے کہ خدا موجود ہے ، بلکہ مسئلہ ہمیشہ یہ رہا ہے کہ یہ خدا وحدہ لاشریک ہے اور اسے اس حیثیت کے ساتھ تسلیم کیا جائے اور لا الہ الا اللہ کا مفہوم یہی ہے کہ اس کرہ ارض پر حق حاکمیت بھی صرف اسے حاصل ہے اور جس طرح تمام لوگ اقرار کرتے ہیں کہ اس کائنات کا حاکم اللہ ہے ، اسی طرح وہ یہ اقرار بھی کریں کہ زمین پر بھی وہ الہ ہے۔ اور آسمان پر بھی ھوالذی فی السماٗ الہ و فی الارض الہ۔ اللہ وہ ہے جو آسمانوں پر بھی الہ ہے ، اور زمین پر بھی الہ ہے “۔ یہ ہے اصل قضیہ۔ مزید یہ کہ رسول اللہ ﷺ بھی اللہ کا پیغام لانے والے ہیں لہذا رسول اللہ ﷺ پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔
یہ ہے دین اسلام کا اصل مسئلہ یعنی نظریات جن کا دل دماغ میں جاگزیں ہونا ضروری ہے اور وہ عملی جد وجہد جس کے ذریعے اس کرہ ارض پر عملی نظام قائم کیا جائے۔ لہذا ان مقاصد سے دستکش ہونا خیانت ہے اللہ تعالیٰ اہل ایمان کو یہاں متنبہ کرتے ہیں کہ تم ہر گز انمقاصد سے دستکش نہ ہونا۔ یہ خیانت تصور ہوگی۔ لہذا جو گروہ اپنے اس نظریہ کا اعلان کردے اس کا فرض ہے کہ وہ اس کے لیے جدوجہد کرے۔ اس راہ میں جو جہاد اور اس کی مشکلات ییش آئیں انہیں برداشت کرے۔ چاہے مال دینا پڑے ، چاہے اولاد کو قربان کرنا پڑے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ اس امانت میں خیانت کرنے سے بھی مسلمانوں کو خبردار کرتا ہے جس کے وہ اس وقت سے حامل ہیں جب سے رسول اللہ ﷺ کو بھیجا گیا ہے ، کیونکہ اسلام صرف چند کلمات سے عبارت نہیں ہے جن کو جس زبان سے ادا کردیا جائے ، اور نہ چند عبادات اور دعاؤں کا نام ہے بلکہ وہ ایک مکمل نظام زندگی ہے جو پوری انسانی زندگی پر حاوی ہے۔ اس کے قیام کی راہ میں بڑی بڑی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اسلام در حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنی پوری عملی زندگی کو کلمہ طیبہ کے اصولوں پر استوار کردے۔ اور لوگوں کو اللہ کی بندگی کی طرف لوٹا دیا جائے۔ انسانی معاشرے کو اللہ کی حاکمیت اور اس کے قانون اور اخلاقی نظام کی طرف لوٹا دیا جائے۔ ان لوگوں کو رد کردیا جائے جو اللہ کے حق حاکمیت پر دست درازی کرتے ہیں۔ اپنی الوہیت قائم کرتے ہیں اور اس نظام میں لوگوں کے درمیان مکمل عدل اور انصاف نافذ کیا جائے اور کرہ ارض پر انسان فریضہ خلافت الہیہ ادا کرتے ہوئے یہ سب کچھ کرے۔
یہ ہیں وہ فرائض جو ہر مسلمان پر عائد ہوتے ہیں اور جو ان کو ادا نہیں کرتا وہ گویا خائن ہے۔ وہ اس عہد کی خلاف ورزی کر رہا ہے جو اس نے اللہ کے ساتھ کیا ہے۔ وہ رسول اللہ ﷺ کی بیعت کو توڑ رہا ہے اور اس میں خیانت کر رہا ہے۔
اور یہ فرائض کچھ قربانیوں کا تقاضا کرتے ہیں ، ان کا پہلا تقاضا یہ ہے کہ انسان مال اور اولاد کے فتنوں اور آزمائشوں میں کامیاب نکلے اور اس کا نصب العین رضائے الہی اور اجر اخروی ہو ، جو عظیم اجر ہے اور جو ان لوگوں کے لیے محفوظ ہے جو امین ہیں ، صابرین ہیں ، قربانیاں دینے والے ہیں اور آخرت کو ترجیح دینے والے ہیں۔
آیت 27 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ تَخُوْنُوا اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ اللہ کی امانت میں خیانت یقیناً بہت بڑی خیانت ہے۔ ہمارے پاس اللہ کی سب سے بڑی امانت اس کی وہ روح ہے جو اس نے ہمارے جسموں میں پھونک رکھی ہے۔ اسی کے بارے میں سورة الاحزاب میں فرمایا گیا : اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَۃَ عَلَی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَیْنَ اَنْ یَّحْمِلْنَہَا وَاَشْفَقْنَ مِنْہَا وَحَمَلَہَا الْاِنْسَانُط اِنَّہٗ کَانَ ظَلُوْمًا جَہُوْلً۔ ہم نے اپنی امانت کو آسمانوں ‘ زمین اور پہاڑوں پر پیش کیا تو انہوں نے اس کے اٹھانے سے انکار کردیا اور وہ اس سے ڈر گئے ‘ مگر انسان نے اسے اٹھا لیا ‘ یقیناً وہ ظالم اور جاہل تھا۔ پھر اس کے بعد دین ‘ قرآن اور شریعت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی بڑی بڑی امانتیں ہیں جو ہمیں سو نپی گئی ہیں۔ چناچہ ایمان کا دم بھرنا ‘ اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول ﷺ کی محبت کا دعویٰ کرنا ‘ لیکن پھر اللہ کے دین کو مغلوب دیکھ کر بھی اپنے کاروبار ‘ اپنی جائیداد ‘ اپنی ملازمت اور اپنے کیرئیر کی فکر میں لگے رہنا ‘ اللہ اور رسول ﷺ کے ساتھ اس سے بڑی بےوفائی ‘ غداری اور خیانت اور کیا ہوگی !
اللہ اور اس کے رسول کی خیانت نہ کرو کہتے ہیں کہ یہ آیت حضرت ابو لبابہ بن عبد المنذر ؓ کے بارے میں اتری ہے۔ انہیں آنحضرت ﷺ نے بنو قریظہ کے یہودیوں کے پاس بھیجا تھا کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلے کی شرط کے ماننے پر قلعہ خالی کردیں ان یہودیوں نے آپ ہی سے مشورہ دریافت کیا تو آپ نے اپنی گردن پر ہاتھ پھیر کر انہیں بتادیا کہ حضور کا فیصلہ تمہارے حق میں یہی ہوگا۔ اب حضرت ابو لبابہ ؓ بہت ہی نادم ہوئے کہ افسوس میں نے بہت برا کیا اللہ کی اور اس کے رسول کی خیانت کی۔ اسی ندامت کی حالت میں قسم کھا بیٹھے کہ جب تک میری توبہ قبول نہ ہو میں کھانے کا ایک لقمہ بھی نہ اٹھاؤں گا چاہے مر ہی جاؤں۔ مسجد نبوی میں آ کر ایک ستون کے ساتھ اپنے تئیں بندھوا دیا نو دن اسی حالت میں گذر گئے غشی آگئی بیہوش ہو کر مردے کی طرح گرپڑے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی توبہ قبول کرلی اور یہ آیتیں نازل ہوئیں لوگ آئے آپ کو خوشخبری سنائی اور اس ستون سے کھولنا چاہاتو انہوں نے فرمایا واللہ میں اپنے تئیں کسی سے نہ کھلواؤں گا بجز اس کے کہ خود رسول کریم ﷺ اپنے ہاتھ مبارک سے کھولیں چناچہ آپ خود تشریف لائے اور اپنے ہاتھ سے انہیں کھولا تو آپ عرض کرنے لگے کہ یارسول اللہ میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ میری توبہ قبول کرلے تو میں اپنا کل مال راہ للہ صدقہ کر دونگا آپ نے ارشاد فرمایا نہیں صرف ایک تہائی فی سبیل اللہ دے دو یہی کافی ہے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہ ؓ فرماتے ہیں کہ یہ آیت حضرت عثمان ؓ کی شہادت کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ حضرت جابر بن عبداللہ کا بیان ہے کہ ابو سفیان مکہ سے چلا جبر ئیل ؑ نے آ کر حضور ﷺ کو خبر دی کہ ابو سفیان فلاں جگہ ہے آپ نے صحابہ سے ذکر کیا اور فرمادیا کہ اس طرف چلو لیکن کسی کو کانوں کان خبر نہ کرنا لیکن ایک منافق نے اسے لکھ بھیجا کہ تیرے پکڑنے کے ارادے سے رسول اللہ ﷺ تشریف لا رہے ہیں ہوشیار رہنا۔ پس یہ آیت اتری لیکن یہ روایت بہت غریب ہے اور اس کی سند اور متن دونوں ہی قابل نظر ہیں۔ بخاری و مسلم میں حضرت حاطب بن ابو بلتعہ ؓ کا قصہ ہے کہ فتح مکہ والے سال انہوں نے قریش کو خط بھیج دیا جس میں آنحضرت ﷺ کے ارادے سے انہیں مطلع کیا تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو خبر کردی آپ نے آدمی ان کے پیچھے دوڑائے اور خط پکڑا گیا۔ حضرت حاطب نے اپنے قصور کا اقرار کیا حضرت عمر نے ان کی گردن مارنے کی اجازت چاہی کہ اس نے اللہ کے رسول اور مومنوں سے خیانت کی ہے آپ نے فرمایا اسے چھوڑ دو یہ بدری صحابی ہے۔ تم نہیں جانتے بدری کی طرف اللہ تعالیٰ نے بذات خود فرما دیا ہے جو چاہو تم کرو میں نے تمہیں بخش دیا ہے۔ میں کہتا ہوں کسی خاص واقعہ کے بارے میں اترنے کے باوجود الفاظ کی عمومیت اپنے حکم عموم پر ہی رہے گی یہی جمہور علماء کا قول ہے۔ خیانت عام ہے چھوٹے بڑے لازم متعدی سب گناہ خیانت میں داخل ہیں۔ اپنی امانتوں میں بھی خیانت نہ کرو یعنی فرض کو ناقص نہ کرو، پیغمبر کی سنت کو نہ چھوڑو، اس کی نافرمانی نہ کرو۔ عروہ بن زبیر کہتے ہیں کہ کسی کے سامنے اس کے حق کا اظہار کرنا اور درپردہ کرنا اس کے الٹ، باتیں کرنا اور کے سامنے اس کے خلاف کرنا بھی امانت کو ضائع کرنا اور اپنے نفس کی خیانت کرنا ہے۔ سدی فرماتے ہیں جب کسی نے اللہ و رسول کی خیانت کی تو اس نے امانت داری میں رخنہ ڈال دیا ایک صورت اس کی حضور کے زمانے میں یہ بھی تھی کہ آپ کی بات سنی پھر اسے مشرکوں میں پھیلا دیا۔ پس منافقوں کے اس فعل سے مسلمانوں کو روکا جا رہا ہے۔ پھر فرماتا ہے کہ تمہارے مال اور تمہاری اولادیں تمہارے امتحان کا باعث ہیں یہ دیکھیں آیا اللہ کا شکر کرتے ہو اور اس کی اطاعت کرتے ہو ؟ یا ان میں مشغول ہو کر، ان کی محبت میں پھنس کر اللہ کی باتوں اور اس کی اطاعت سے ہٹ جاتے ہو ؟ اسی طرح ہر خیرو شر سے اللہ اپنے بندوں کو آزماتا ہے۔ اس کا ارشاد ہے کہ مسلمانو مال و اولاد کے چکر میں اللہ کی یاد نہ بھول جانا۔ ایسا کرنے والے نقصان پانے والے ہیں اور آیت میں ہے کہ تمہاری بعض بیویاں اور بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہنا۔ سمجھ لو کہ اللہ کے پاس اجر یہاں کے مال و اولاد سے بہت بہتر ہیں اور بہت بڑے ہیں کیونکہ ان میں سے بعض تو دشمن ہی ہوتے ہیں اور اکثر بےنفع ہوتے ہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ متصرف ومالک ہے، دنیا و آخرت اسی کی ہے قیامت کے ثواب اسی کے قبضے میں ہیں، ایک اثر میں فرمان الٰہی ہے کہ اے ابن آدم مجھے ڈھونڈ تو پائے گا، مجھے پالینا تمام چیزوں کو پالینا ہے، میرا فوت ہوجانا تمام چیزوں کا فوت ہوجانا ہے، میں تیری تمام چیزوں سے تیری محبت کا زیادہ حقدار ہوں۔ صحیح حدیث میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان ہے تین چیزیں جس میں ہوں اس نے ایمان کی مٹھاس چکھ لی جسے اللہ اور اس کا رسول سب سے زیادہ پیارا ہو، جو محض اللہ کے لئے دوستی رکھتا ہو اور جسے آگ میں جل جانے سے بھی زیادہ برا ایمان کے بعد کفر کرنا معلوم ہوتا ہو۔ بلکہ یاد رہے کہ رسول اللہ ﷺ کی محبت بھی اولاد و مال اور نفس کی محبت پر مقدم ہے جیسے کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ تم میں سے کوئی باایمان نہیں ہوسکتا جب تک کہ میں اس کو اس کے نفس سے اور اہل سے اور مال سے اور سب لوگوں سے زیادہ محبوب نہ ہوجاؤں۔