اس صفحہ میں سورہ Al-Anfaal کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأنفال کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ وَٱعْلَمُوٓا۟ أَنَّمَا غَنِمْتُم مِّن شَىْءٍ فَأَنَّ لِلَّهِ خُمُسَهُۥ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِى ٱلْقُرْبَىٰ وَٱلْيَتَٰمَىٰ وَٱلْمَسَٰكِينِ وَٱبْنِ ٱلسَّبِيلِ إِن كُنتُمْ ءَامَنتُم بِٱللَّهِ وَمَآ أَنزَلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا يَوْمَ ٱلْفُرْقَانِ يَوْمَ ٱلْتَقَى ٱلْجَمْعَانِ ۗ وَٱللَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍ قَدِيرٌ
إِذْ أَنتُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلدُّنْيَا وَهُم بِٱلْعُدْوَةِ ٱلْقُصْوَىٰ وَٱلرَّكْبُ أَسْفَلَ مِنكُمْ ۚ وَلَوْ تَوَاعَدتُّمْ لَٱخْتَلَفْتُمْ فِى ٱلْمِيعَٰدِ ۙ وَلَٰكِن لِّيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا لِّيَهْلِكَ مَنْ هَلَكَ عَنۢ بَيِّنَةٍ وَيَحْيَىٰ مَنْ حَىَّ عَنۢ بَيِّنَةٍ ۗ وَإِنَّ ٱللَّهَ لَسَمِيعٌ عَلِيمٌ
إِذْ يُرِيكَهُمُ ٱللَّهُ فِى مَنَامِكَ قَلِيلًا ۖ وَلَوْ أَرَىٰكَهُمْ كَثِيرًا لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَٰزَعْتُمْ فِى ٱلْأَمْرِ وَلَٰكِنَّ ٱللَّهَ سَلَّمَ ۗ إِنَّهُۥ عَلِيمٌۢ بِذَاتِ ٱلصُّدُورِ
وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ ٱلْتَقَيْتُمْ فِىٓ أَعْيُنِكُمْ قَلِيلًا وَيُقَلِّلُكُمْ فِىٓ أَعْيُنِهِمْ لِيَقْضِىَ ٱللَّهُ أَمْرًا كَانَ مَفْعُولًا ۗ وَإِلَى ٱللَّهِ تُرْجَعُ ٱلْأُمُورُ
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ إِذَا لَقِيتُمْ فِئَةً فَٱثْبُتُوا۟ وَٱذْكُرُوا۟ ٱللَّهَ كَثِيرًا لَّعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ
آیت 41 وَاعْلَمُوْٓا اَنَّمَا غَنِمْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَاَنَّ لِلّٰہِ خُمُسَہٗ وَلِلرَّسُوْلِ وَلِذِی الْقُرْبٰی اس آیت میں مال غنیمت کا حکم بیان ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ بعثت کے بعد سے رسول اللہ ﷺ کا ذریعہ معاش کوئی نہیں تھا۔ شادی کے بعد حضرت خدیجہ رض نے اپنی ساری دولت ہر قسم کے تصرف کے لیے آپ ﷺ کو پیش کردی تھی۔ جب تک آپ ﷺ مکہ میں رہے ‘ کسی نہ کسی طرح اسی سرمائے سے آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات چلتے رہے ‘ لیکن ہجرت کے بعد اس سلسلے میں کوئی مستقل انتظام نہیں تھا۔ پھر آپ ﷺ کے قرابت دار اور اہل و عیال بھی تھے جن کی کفالت آپ ﷺ کے ذمہ تھی۔ ان سب اخراجات کے لیے ضروری تھا کہ کوئی معقول اور مستقل انتظام کردیا جائے۔ چناچہ غنائم میں سے پانچواں حصہ مستقل طور پر بیت المال کو دے دیا گیا اور آپ ﷺ کے ذاتی اخراجات ‘ ازواج مطہرات رض کا نان نفقہ اور آپ ﷺ کے قرابت داروں کی کفالت بیت المال کے ذمہ طے پائی۔وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِلا اسی پانچویں حصے میں سے معاشرے کے محروم افراد کی مدد بھی کی جائے گی۔اِنْ کُنْتُمْ اٰمَنْتُمْ باللّٰہِ وَمَآ اَنْزَلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا یَوْمَ الْفُرْقَانِ یَوْمَ الْتَقَی الْجَمْعٰنِ ط وَاللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ فیصلے غزوۂ بدر کے دن جو شے خصوصی طور پر نازل کی گئی وہ غیبی امداد اور نصرت الٰہی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ تمہاری مدد کے لیے فرشتے آئیں گے۔ وہ فرشتے اگرچہ کسی کو نظر تو نہیں آتے تھے ‘ لیکن جیسے تم لوگ بہت سی دوسری چیزوں پر ایمان بالغیب رکھتے ہو ‘ اللہ پر اور اس کی وحی پر ایمان رکھتے ہو ‘ جبرائیل علیہ السلام کے وحی لانے پر ایمان رکھتے ہو اور اس قرآن کے منزل من اللہ ہونے پر ایمان رکھتے ہو ‘ اسی طرح تمہارا یہ ایمان بھی ہونا چاہیے کہ اللہ نے اپنا وعدہ پورا کردیا جو اس نے اپنے رسول ﷺ اور مسلمانوں کی مدد کے سلسلے میں کیا تھا اور یہ کہ تمہاری یہ فتح اللہ کی مدد سے ہی ممکن ہوئی ہے۔ اگر تم لوگوں کا اس حقیقت پر یقین کامل ہے تو پھر اللہ کا یہ فیصلہ بھی دل کی آمادگی اور خوشی سے قبول کرلو کہ مال غنیمت میں سے پانچواں حصہ اللہ ‘ اس کے رسول ﷺ اور بیت المال کا ہوگا۔اس حکم کے نازل ہونے کے بعد تمام مال غنیمت ایک جگہ جمع کیا گیا اور اس میں سے پانچواں حصہ بیت المال کے لیے نکال کر باقی چار حصے مجاہدین میں تقسیم کردیے گئے۔ اس میں سے ہر اس شخص کو برابر کا حصہ ملا جو لشکر میں جنگ کے لیے شامل تھا ‘ قطع نظر اس کے کہ کسی نے عملی طور پر قتال کیا تھا یا نہیں کیا تھا اور قطع نظر اس کے کہ کسی نے بہت سا مال غنیمت جمع کیا تھا یا کسی نے کچھ بھی جمع نہیں کیا تھا۔ البتہ اس تقسیم میں سوار کے دو حصے رکھے گئے اور پیدل کے لیے ایک حصہ۔ اس لیے کہ سواریوں کے جانور مہیّا کرنے اور ان جانوروں پر اٹھنے والے اخراجات متعلقہ افراد ذاتی طور پر برداشت کرتے تھے۔
آیت 42 اِذْ اَنْتُمْ بالْعُدْوَۃِ الدُّنْیَا وَہُمْ بالْعُدْوَۃِ الْقُصْوٰی وادئ بدر دونوں اطراف سے تنگ ہے جب کہ درمیان میں میدان کی شکل اختیار کرلیتی ہے۔ اس وادی کا ایک تنگ کنارہ شمال کی طرف ہے جہاں سے شام کی طرف راستہ نکلتا ہے اور دوسرا کنارہ جنوب کی طرف ہے جہاں سے مکہ کو راستہ جاتا ہے۔ وادی میں سے ایک راستہ مشرق کی سمت بھی نکلتا ہے جو مدینہ کی طرف جاتا ہے۔ لہٰذا پرانے زمانے میں حاجیوں کے زیادہ تر فاقلے وادئ بدر سے ہی گزرتے تھے۔ اب نئی موٹر وے طریق الھجرۃ بن جانے سے لوگوں کو ان مقامات سے گزرنے کا موقع نہیں ملتا۔ غزوۂ بدر کے موقع پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایسی تدبیر کا ظہور ہوا کہ دونوں لشکر وادئ بدر میں ایک ساتھ پہنچے۔ یہاں اسی کا ذکر ہے کہ جب قریش کا لشکر وادی کے دور والے جنوبی کنارے پر آپہنچا اور مشرق کی جانب سے حضور ﷺ اپنا لشکر لے کر اس کنارے پر پہنچ گئے جو مدینہ سے قریب تھا۔وَالرَّکْبُ اَسْفَلَ مِنْکُمْ ط قریش کا تجارتی قافلہ اس وقت نیچے ساحل سمندر کی طرف سے ہو کر گزر رہا تھا۔ ابوسفیان نے ایک طرف تو قافلے کی حفاظت کے لیے مکہ والوں کو پیغام بھیج دیا تھا اور دوسری طرف اصل راستے کو چھوڑ دیا تھا جو وادی بدر سے ہو کر گزرتا تھا اور اب یہ قافلہ ساحل سمندر کے ساتھ ساتھ سفر کرتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔ بدر کے پہاڑی سلسلے سے آگے تہامہ کا میدان ہے جو ساحل سمندر تک پھیلا ہوا ہے۔ اور قافلہ اس وقت اس میدان کی بھی آخری حدود پر سمندر کی جانب تھا۔ اس لیے فرمایا گیا کہ قافلہ تم سے نچلی سطح پر تھا۔وَلَوْ تَوَاعَدْتُّمْ لاَخْتَلَفْتُمْ فِی الْْمِیْعٰدِلا یعنی یہ تو اللہ کی مشیت کے تحت دونوں لشکر ٹھیک ایک ہی وقت پر وادی کے دونوں کناروں پر پہنچے تھے۔ اگر آپ لوگوں نے مقام معین پر پہنچنے کے لیے آپس میں کوئی وقت مقرر کیا ہوتا تو اس میں ضرور تقدیم و تاخیر ہوجاتی ‘ لیکن ہم نے دونوں لشکروں کو عین وقت پر ایک ساتھ آمنے سامنے لا کھڑا کیا ‘ کیونکہ ہم چاہتے تھے کہ یہ ٹکراؤ ہوجائے اور اہل مکہ پر یہ بات واضح ہوجائے کہ اللہ تعالیٰ کی نصرت کس کے ساتھ ہے۔وَلٰکِنْ لِّیَقْضِیَ اللّٰہُ اَمْرًا کَانَ مَفْعُوْلاً لا لِّیَہْلِکَ مَنْ ہَلَکَ عَنْم بَیِّنَۃٍ یعنی حق کے واضح ہوجانے میں کوئی ابہام نہ رہ جائے۔ اہل مکہ میں سے ان عوام کے لیے بھی حق کو پہچاننے میں کوئی شک و شبہ باقی نہ رہے جنہیں اب تک سرداروں نے گمراہ کر رکھا تھا۔ اگر اب بھی کسی کی آنکھیں نہیں کھلتیں اور وہ ہلاکت کے راستے پر ہی گامزن رہنے کو ترجیح دیتا ہے تو یہ اس کی مرضی ‘ مگر ہم چاہتے ہیں کہ اگر ایسے لوگوں کو ہلاک ہی ہونا ہے تو ان میں سے ہر فرد حق کے پوری طرح واضح ہونے کے بعد ہلاک ہو۔وَّیَحْیٰی مَنْ حَیَّ عَنْم بَیِّنَۃٍط وَاِنَّ اللّٰہَ لَسَمِیْعٌ عَلِیْمٌ ۔جو سیدھے راستے پر آنا چاہتا ہے وہ بھی اس بَیِّنَہ کی بنا پر سیدھے راستے پر آجائے اور حیات معنوی حاصل کرلے۔
آیت 43 اِذْ یُرِیْکَہُمُ اللّٰہُ فِیْ مَنَامِکَ قَلِیْلاً ط رسول اللہ ﷺ نے خواب میں دیکھا کہ قریش کے لشکر کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے ‘ بس تھوڑے سے لوگ ہیں جو بدر کی طرف جنگ کے لیے آ رہے ہیں ‘ حالانکہ وہ ایک ہزار افراد پر مشتمل بہت بڑا لشکر تھا۔وَلَوْ اَرٰٹکَہُمْ کَثِیْرًا اور آپ ﷺ نے اپنے ساتھیوں کو وہ خبر جوں کی توں بتائی ہوتی :لَّفَشِلْتُمْ وَلَتَنَازَعْتُمْ فِی الْاَمْرِ دشمن کی اصل تعداد اور طاقت کے بارے میں جان کر آپ لوگ پست ہمت ہوجاتے اور اختلاف میں پڑجاتے کہ ہمیں بدر میں جا کر اس لشکر کا مقابلہ کرنا بھی چاہیے یا نہیں۔ اس طرح آراء میں اختلاف کی بنا پر بھی تمہاری جمعیت میں کمزوری آجاتی۔وَلٰکِنَّ اللّٰہَ سَلَّمَط اِنَّہٗ عَلِیْمٌم بِذَات الصُّدُوْرِ رسول اللہ ﷺ نے جو خواب دیکھا وہ تو غلط نہیں ہوسکتا تھا ‘ کیونکہ انبیاء علیہ السلام کے تمام خواب سچے ہوتے ہیں۔ اس لیے مفسرین نے اس نکتے کی توجیہہ اس طرح کی ہے کہ آپ ﷺ کو لشکر کفار کی معنوی حقیقت دکھائی گئی تھی۔ یعنی کسی چیز کی ایک کمیت quantitative value ہوتی ہے اور ایک اس کی کیفیت اور اس کی اصل حقیقت ہوتی ہے۔ کمیت کے پہلو سے دیکھا جائے تو لشکر کفار کی تعداد ایک ہزار تھی اور وہ مسلمانوں سے تین گنا تھے ‘ مگر اس لشکر کی اندرونی کیفیت یکسر مختلف تھی۔ درحقیقت مکہ کے عوام الناس کی اکثریت حضور ﷺ کو اپنے معاشرے کا بہترین انسان سمجھتی تھی۔ ان کی سوچ کے مطابق آپ ﷺ کے تمام ساتھی بھی مکہ کے بہترین لوگ تھے۔ مکہ کا عام آدمی دل سے اس حقیقت کو تسلیم کرتا تھا کہ محمد ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے ‘ بلکہ یہ لوگ ایک خدا کو ماننے والے ‘ نیکیوں کا حکم دینے والے اور شریف لوگ ہیں۔ چناچہ مکہ کی خاموش اکثریت کی ہمدردیاں مسلمانوں کے ساتھ تھیں۔ ایسے تمام لوگ اپنے سرداروں اور لیڈروں کے حکم کی تعمیل میں لشکر میں شامل تو ہوگئے تھے ‘ مگر ان کے دل اپنے لیڈروں کے ساتھ نہیں تھے۔ جنگ میں دراصل جان کی بازی لگانے کا جذبہ ہی انسان کو بہادر اور طاقتور بناتا ہے اور یہ جذبہ نظریے کی سچائی اور نظر یاتی پختگی سے پیدا ہوتا ہے۔ قریش کے اس لشکر میں کسی ایسے حقیقی جذبے کا سرے سے فقدان تھا۔ لہٰذا تعداد میں اگرچہ وہ لوگ زیادہ تھے مگر معنوی طور پر ان کی جو کیفیت اور اصل حقیقت تھی اس لحاظ سے وہ بہت کم تھے اور حضور ﷺ کو خواب میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اصل حقیقت دکھائی تھی۔
آیت 44 وَاِذْ یُرِیْکُمُوْہُمْ اِذِ الْتَقَیْتُمْ فِیْٓ اَعْیُنِکُمْ قَلِیْلاً وَّیُقَلِّلُکُمْ فِیْٓ اَعْیُنِہِمْ جب دونوں لشکر مقابلے کے لیے آمنے سامنے ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے ایسی کیفیت پیدا کردی کہ مسلمانوں کو بھی دیکھنے میں کفار تھوڑے لگ رہے تھے اور کفار کو بھی مسلمان تھوڑے نظر آ رہے تھے۔ ایسی صورت حال اللہ تعالیٰ نے اس لیے پیدا فرما دی تاکہ یہ جنگ ڈٹ کر ہو۔ اس لیے کہ وہ اس دن کو یوم الفرقان بنانا چاہتا تھا اور نہیں چاہتا تھا کہ کوئی فریق بھی میدان سے کنی کترائے۔
آیت 45 یٰٓاَیُّہَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِذَا لَقِیْتُمْ فِءَۃً فَاثْبُتُوْا یہ وہ دور تھا جب حق و باطل میں مسلّح تصادم شروع ہوچکا تھا اور دین کے غلبے کی جدوجہد آخری مرحلے میں داخل ہوچکی تھی۔ غزوۂ بدر اس سلسلے کی پہلی جنگ تھی اور ابھی بہت سی مزید جنگیں لڑی جانی تھیں۔ اس پس منظر میں مسلمانوں کو میدان جنگ اور جنگی حکمت عملی کے بارے میں ضروری ہدایات دی جا رہی ہیں کہ جب بھی کسی فوج سے میدان جنگ میں تمہارا مقابلہ ہو تو تم ثابت قدم رہو ‘ اور کبھی بھی ‘ کسی بھی حالت میں دشمن کو پیٹھ نہ دکھاؤ۔وَاذْکُرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا لَّعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔حالت جنگ میں بھی اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ‘ کیونکہ تمہاری اصل طاقت کا انحصار اللہ کی مدد پر ہے۔ لہٰذا تم اللہ پر بھروسہ رکھو : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُکَ الاَّ باللّٰہِ النحل : 127 ‘ کیونکہ ایک بندۂ مؤمن کا صبر اللہ کے بھروسے پر ہی ہوتا ہے۔ اگر تمہارے دل اللہ کی یاد سے منور ہوں گے ‘ اس کے ساتھ قلبی اور روحانی تعلق استوار ہوگا ‘ تو تمہیں ثابت قدم رہنے کے لیے سہارا ملے گا ‘ اور اگر اللہ کے ساتھ تمہارا یہ تعلق کمزور پڑگیا تو پھر تمہاری ہمت بھی جواب دے دے گی۔