روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔
آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47)
” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “
اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔
آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48)
” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “
اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔
آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49)
” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔
اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں :
آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49)
” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “
ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔
آیت 46 وَبَیْنَہُمَا حِجَابٌ ج۔ اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان ہونے والی اس نوعیت کی گفتگو کا نقشہ زیادہ واضح طور پر سورة الحدید میں کھینچا گیا ہے۔ وہاں آیت نمبر 13 میں فرمایا گیا ہے : فَضُرِبَ بَیْنَہُمْ بِسُوْرٍ لَّہٗ بَابٌ ط یعنی ایک طرف جنت اور دوسری طرف دوزخ ہوگی اور درمیان میں فصیل ہوگی جس میں ایک دروازہ بھی ہوگا۔وَعَلَی الْاَعْرَافِ رِجَالٌ یَّعْرِفُوْنَ کُلاًّمبِسِیْمٰٹہُمْ ج ۔ یہ اصحاب اعراف اہل جنت کو بھی پہچانتے ہوں گے اور اہل جہنم کو بھی۔ قلعوں کی فصیلوں کے اوپر جو برجیاں اور جھروکے بنے ہوتے ہیں جہاں سے تمام اطراف و جوانب کا مشاہدہ ہو سکے ‘ انہیں عرف جمع اعراف کہا جاتا ہے۔ دوزخ اور جنت کی درمیانی فصیل پر بھی کچھ برجیاں اور جھروکے ہوں گے جہاں سے جنت و دوزخ کے مناظر کا مشاہدہ ہو سکے گا۔ ان پر وہ لوگ ہوں گے جو دنیا میں بین بین کے لوگ تھے ‘ یعنی کسی طرف بھی یکسو ہو کر نہیں رہے تھے۔ ان کے اعمال ناموں میں نیکیاں اور بد اعمالیاں برابر ہوجائیں گی ‘ جس کی وجہ سے ابھی انہیں جنت میں بھیجنے یا جہنم میں جھونکنے کا فیصلہ نہیں ہوا ہوگا اور انہیں اعراف پر ہی روکا گیا ہوگا۔وَنَادَوْا اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ اَنْ سَلٰمٌ عَلَیْکُمْقف لَمْ یَدْخُلُوْہَا وَہُمْ یَطْمَعُوْنَ ۔ وہ اہل جنت کو دیکھ کر انہیں بطور مبارک باد سلام کہیں گے اور ان کی اپنی شدید خواہش اور آرزو ہوگی کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی جلد از جلد جنت میں داخل کر دے ‘ جو آخر کار پوری کردی جائے گی۔
جنت اور جہنم میں دیوار و حجاب جنتیوں اور دوزخیوں کی بات بیان فرما کر ارشاد ہوتا ہے کہ جنت دوزخ کے درمیان ایک اور حجاب حد فاصل اور دیوار ہے کہ دوزخیوں کو جنت سے فاصلے پر رکھے اسی دیوار کا ذکر آیت (فَضُرِبَ بَيْنَهُمْ بِسُوْرٍ لَّهٗ بَابٌ ۭ بَاطِنُهٗ فِيْهِ الرَّحْمَةُ وَظَاهِرُهٗ مِنْ قِبَلِهِ الْعَذَاب 13) 57۔ الحدید) ، میں ہے یعنی ان کے درمیان ایک دیوار ہائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہے۔ اس کے اندر رحمت ہے اور باہر عذاب ہے۔ اسی کا نام (اعراف) ہے۔ (اعراف) (عرف) کی جمع ہے ہر اونچی زمین کو عرب میں عرفہ کہتے ہیں اسی لئے مرغ کے سر کی کلنگ کو بھی عرب میں (عرف الدیک) کہا جاتا ہے کیونکہ اونچی جگہ ہوتا ہے۔ ابن عباس فرماتے ہیں یہ ایک اونچی جگہ ہے جنت دوزخ کے درمیان جہاں کچھ لوگ روک دیئے جائیں گے۔ سدی فرماتے ہیں اس کا نام اعراف اس لئے رکھا گیا ہے کہ یہاں کے لوگ اور لوگوں کو جانتے پہچانتے ہیں۔ یہاں کون لوگ ہوں گے ؟ اس میں بہت سے اقوال ہیں سب کا حاصل یہ ہے کہ وہ یہ لوگ ہوں گے جن کے گناہ اور نیکیاں برباد ہوں گی بعض سلف سے بھی یہی منقول ہے۔ حضرت حذیفہ حضرت ابن عباس حضرت ابن مسعود وغیرہ نے یہی فرمایا ہے۔ یہی بعد والے مفسرین کا قول ہے۔ ایک مرفوع حدیث میں بھی ہے لیکن سنداً وہ حدیث غریب ہے اور سند سے مروی ہے کہ حضور سے جب ان لوگوں کی بابت جن کی نیکیاں بدیاں برابر ہوں اور جو اعراف والے ہیں سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ نافرمان لوگ ہیں جو اپنے باپ کی اجازت بغیر پھر اللہ کی راہ میں قتل کردیئے گئے اور روایت میں ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں قتل کئے گئے اور اپنے والدین کے نافرمان تھے تو جنت میں جانے سے باپ کی نافرمانی نے روک دیا اور جہنم میں جانے سے شہادت نے روک دیا۔ ابن ماجہ وغیرہ میں بھی یہ روایتیں ہیں۔ اب اللہ ہی کو ان کی صحت کا علم ہے بہت ممکن ہے کہ یہ موقوف روایتیں ہوں۔ بہر صورت ان سے اصحاب اعراف کا حال معلوم ہو رہا ہے۔ حضرت حذیفہ سے جب ان کی بابت سوال کیا گیا تو آپ نے فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر تھیں۔ برائیوں کی وجہ سے جنت میں نہ جاسکے اور نیکیوں کی وجہ سے جہنم سے بچ گئے پس یہاں آڑ میں روک دیئے جائیں گے یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ ان کے بارے میں سرزد ہو اور آیت میں آپ سے مروی ہے کہ یہ دوزخیوں کو دیکھ دیکھ کر ڈر رہے ہوں گے اور اللہ سے نجات طلب کر رہے ہوں گے کہ ناگاہ انکا رب ان کی طرف دیکھے گا اور فرمائے گا جاؤ جنت میں داخل ہوجاؤ میں نے تمہیں بخشا۔ حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں قیامت کے دن لوگوں کا حساب ہوگا ایک نیکی بھی اگر برائیوں سے بڑھ گئی تو داخل جنت ہوگا اور ایک برائی بھی اگر نیکیوں سے زیادہ ہوگئی تو دوزخ میں جائے گا پھر آپ نے آیت (فمن ثقلت موازینہ) سے دو آیتوں تک تلاوت کیں اور فرمایا ایک رائی کے دانے کے برابر کی کمی زیادتی ہے میزان کا پلڑا ہلکا بھاری ہوجاتا ہے اور جن کی نیکیاں بدیاں برابر برابر ہوئیں یہ اعراف والے ہیں یہ ٹھہرا لئے جائیں گے اور جنتی دوزخی مشہور ہوجائیں گے یہ جب جنت کو دیکھیں گے تو اہل جنت پر سلام کریں گے اور جب جہنم کو دیکھیں گے تو اللہ سے پناہ طلب کریں گے۔ نیک لوگوں کو نور ملے گا جو ان کے آگے اور ان کے داہنے موجود رہے گا ہر انسان کو وہ مرد ہوں خواہ عورتیں ہوں ایک نور ملے گا لیکن پل صراط پر منافقوں کا نور چھین لیا جائے گا اس وقت سچے مومن اللہ سے اپنے نور کے باقی رہنے کی دعائیں کریں گے۔ اعراف والوں کا نور چھینا نہیں جائے گا وہ ان کے آگے آگے موجود ہوگا انہیں جنت میں جانے کی طمع ہوگی، لوگوں ایک نیکی دس گنی کر کے لکھی جاتی ہے اور برائی اتنی ہی لکھی جاتی ہے جتنی ہو، افسوس ان پر جن کی اکائیاں دہائیوں پر غالب آجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ کا فرمان ہے کہ اعراف ایک دیوار ہے جو جنت دوزخ کے درمیان ہے اصحاب اعراف وہیں ہوں گے۔ جب انہیں عافیت دینے کا اللہ کا ارادہ ہوگا تو حکم ملے گا انہیں ہر حیات کی طرف لے جاؤ اس کے دونوں کناروں پر سونے کے خیمے ہوں گے جو موتیوں سے مرصع ہوں گے اس کی مٹی مشک خالص ہوگی اس میں غوطہ لگاتے ہی ان کی رنگتیں نکھر جائیں گی اور ان کی گردنوں پر ایک سفید چمکیلا نشان ہوجائے گا جس سے وہ پہچان لئے جائیں یہ اللہ کے سامنے لائے جائیں گے اللہ تعالیٰ فرمائے گا جو چاہو مانگو یہ مانگیں گے یہاں تک کہ ان کی تمام تمنائیں اللہ تعالیٰ پوری کر دے گا پھر فرمائے گا ان جیسی ستر گنا اور نعمتیں بھی میں نے تمہیں دیں۔ پھر یہ جنت میں جائیں گے، وہ علامت ان پر موجود ہوگی جنت میں ان کا نام مساکین اہل جنت ہوگا، یہی روایت حضرت مجاہد کے اپنے قول سے بھی مروی ہے اور یہی زیادہ صحیح ہے۔ واللہ اعلم۔ ایک حسن سند کی مرسل حدیث میں ہے کہ حضور ﷺ سے اعراف والوں کی نسبت دریافت کیا گیا تو آپ نے فرمایا کہ ان کا فیصلہ سب سے آخر میں ہوگا، رب العالمین جب اپنے بندوں کے فیصلے کرچکے گا تو ان سے فرمائے گا کہ تم لوگوں کو تمہاری نیکیوں نے دوزخ سے تو محفوظ کرلیا لیکن تم جنت میں جانے کے حقدار ثابت نہیں ہوئے اب تم کو میں اپنی طرف سے آزاد کرتا ہوں جاؤ جنت میں رہو سہو اور جہاں چاہو کھاؤ پیو، یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ زنا کی اولاد ہیں۔ ابن عساکر میں فرمان نبی ہے کہ مومن جنوں کو ثواب ہے اور ان میں سے جو برے ہیں انہیں عذاب بھی ہوگا، ہم نے ان کے ثواب اور ان کے ایمانداروں کے بابت حضور سے دریافت کیا تو آپ نے فرمایا وہ اعراف میں ہوں گے جنت میں میری امت کے ساتھ نہ ہوں گے ہم نے پوچھا یا رسول اللہ اعراف کیا ہے ؟ فرمایا جنت کا ایک باغ جہاں نہریں جاری ہیں اور پھل پک رہے ہیں (بیہقی) حضرت مجاہد فرماتے ہیں یہ صالح دینار فقہاء علما لوگ ہوں گے ابو مجاز فرماتے ہیں یہ فرشتے ہیں جنت دوزخ والوں کو جانتے ہیں پھر آپ نے ان آیتوں کے تلاوت کی اور فرمایا سب جنتی جنت میں جانے لگیں گے تو کہا جائے گا کہ تم امن وامان کے ساتھ بےخوف و خطر ہو کر جنت میں جاؤ۔ اس کی سند گو ٹھیک ہے لیکن یہ قول بہت غریب ہے کیونکہ روانی عبارت بھی اس کے خلاف ہے اور جمہور کا قول ہی مقدم ہے کیونکہ آیت کے ظاہری الفاظ کے مطابق ہے۔ حضرت مجاہد کا قول بھی جو اوپر بیان ہوا غرابت سے خالی نہیں واللہ اعلم۔ قرطبی ؒ نے اس میں بارہ قول نقل کئے ہیں۔ صلحاء، انبیاء، ملائیکہ وغیرہ۔ یہ جنتیوں کو ان کے چہرے کی رونق اور سفیدی سے اور دوزخیوں کو ان کے چہرے کی سیاہی سے پہچان لیں گے یہ یہاں اسی لئے ہیں کہ ہر ایک کا امتیاز کرلیں اور سب کو پہچان لیں یہ جنتیوں سے سلام کریں گے جنتیوں کو دیکھ دیکھ کر اللہ کی پناہ چائیں گے اور طمع رکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے انہیں بھی بہشت بریں میں پہنچا دے یہ طمع ان کے دل میں اللہ نے اسی لئے ڈالا ہے کہ اس کا ارادہ انہیں جنت میں لے جانے کا ہوچکا ہے۔ جب وہ اہل دوزخ کو دیکھتے ہیں تو کہتے ہیں کہ پروردگار ہمیں ظالموں میں سے نہ کر۔ جب کوئی جماعت جہنم میں پہنچائی جاتی ہے تو یہ اپنے بچاؤ کی دعائیں کرنے لگتے ہیں جہنم سے ان کے چہرے کوئلے جیسے ہوجائیں گے لیکن جب جنت والوں کو دیکھیں گے تو یہ چیز چہروں سے دور ہوجائے گی جنتیوں کے چہروں کی پہچان نورانیت ہوگی اور دوزخیوں کے چہروں پر سیاہی اور آنکھوں میں بھینگا پن ہوگا۔