اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ أَصْحَٰبَ ٱلنَّارِ أَن قَدْ وَجَدْنَا مَا وَعَدَنَا رَبُّنَا حَقًّا فَهَلْ وَجَدتُّم مَّا وَعَدَ رَبُّكُمْ حَقًّا ۖ قَالُوا۟ نَعَمْ ۚ فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌۢ بَيْنَهُمْ أَن لَّعْنَةُ ٱللَّهِ عَلَى ٱلظَّٰلِمِينَ
ٱلَّذِينَ يَصُدُّونَ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ وَيَبْغُونَهَا عِوَجًا وَهُم بِٱلْءَاخِرَةِ كَٰفِرُونَ
وَبَيْنَهُمَا حِجَابٌ ۚ وَعَلَى ٱلْأَعْرَافِ رِجَالٌ يَعْرِفُونَ كُلًّۢا بِسِيمَىٰهُمْ ۚ وَنَادَوْا۟ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَن سَلَٰمٌ عَلَيْكُمْ ۚ لَمْ يَدْخُلُوهَا وَهُمْ يَطْمَعُونَ
۞ وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَٰرُهُمْ تِلْقَآءَ أَصْحَٰبِ ٱلنَّارِ قَالُوا۟ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا مَعَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلْأَعْرَافِ رِجَالًا يَعْرِفُونَهُم بِسِيمَىٰهُمْ قَالُوا۟ مَآ أَغْنَىٰ عَنكُمْ جَمْعُكُمْ وَمَا كُنتُمْ تَسْتَكْبِرُونَ
أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمْتُمْ لَا يَنَالُهُمُ ٱللَّهُ بِرَحْمَةٍ ۚ ٱدْخُلُوا۟ ٱلْجَنَّةَ لَا خَوْفٌ عَلَيْكُمْ وَلَآ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ
وَنَادَىٰٓ أَصْحَٰبُ ٱلنَّارِ أَصْحَٰبَ ٱلْجَنَّةِ أَنْ أَفِيضُوا۟ عَلَيْنَا مِنَ ٱلْمَآءِ أَوْ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ ۚ قَالُوٓا۟ إِنَّ ٱللَّهَ حَرَّمَهُمَا عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ
ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَهُمْ لَهْوًا وَلَعِبًا وَغَرَّتْهُمُ ٱلْحَيَوٰةُ ٱلدُّنْيَا ۚ فَٱلْيَوْمَ نَنسَىٰهُمْ كَمَا نَسُوا۟ لِقَآءَ يَوْمِهِمْ هَٰذَا وَمَا كَانُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا يَجْحَدُونَ
آیت ” نمبر 44 تا 45۔
یہ آوازہ کس قدر تو ہیں آمیز اور کس قدر تلخ ہے ؟ اہل زبان ہی سمجھ سکتے ہیں ۔ اہل ایمان کو تو اچھی طرح یقین ہے کہ اللہ کا وعدہ بھی سچا ہے اور اس کی وعید بھی اٹل ہے لیکن وہ پھر بھی اہل جہنم سے سوال کرتے ہیں اور جواب میں وہ صرف لفظ ” ہاں “ منہ سے نکال سکتے ہیں ۔ صرف ایک ہاں پر جواب ختم اور بات کٹ جاتی ہے اور آواز آتی ہے :
آیت ” فَأَذَّنَ مُؤَذِّنٌ بَیْْنَہُمْ أَن لَّعْنَۃُ اللّہِ عَلَی الظَّالِمِیْنَ (44) الَّذِیْنَ یَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَیَبْغُونَہَا عِوَجاً وَہُم بِالآخِرَۃِ کَافِرُونَ (45)
” تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ” خدا کی لعنت ان ظالموں پر۔ جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے رہے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے ۔ “
اس آیت سے معلوم ہوجاتا ہے ظالموں کا مفہوم کافروں کے مترادف ہے ۔ کیونکہ یہی لوگ ہیں جو لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکتے ہیں ۔ یہ چاہتے ہیں کہ لوگوں کو سیدھی راہ سے ہٹا کر ٹیڑھی راہ پر ڈال دیں اور یہی لوگ منکر قیامت ہیں۔
یہ صفت کہ وہ اللہ کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں بتاتی ہے کہ جو لوگ عوام کو اللہ کے راستے سے روکنا چاہتے ہیں ان کا منصوبہ کیا ہے ‘ ان کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ وہ ٹیڑھا راستہ تجویز کرتے ہیں ‘ لوگوں کو سیدھے راستے پر نہیں ڈالتے ۔ وہ ٹیڑھ چاہتے ہیں اور ” سیدھ “ سے بھاگتے ہیں ۔ استقامت کی صورت ایک ہی ہے ۔ وہ یہ کہ انسان اللہ کے منہاج اور شریعت کو اپنا لے ۔ اس کے سوا تمام راستے ٹیڑھے ہیں اور جو کوئی دوسری راہ کا ارادہ کرے گا وہ آخر کار دار کفر میں پہنچ جائے گا ۔ کفر یہ ہے کہ انسان آخرت کی جواب دہی کا منکر ہوجائے اس لئے کہ اگر کسی کو آخرت میں ملاقات رب کا یقین ہو تو وہ ہر گز کسی کو اللہ کی راہ سے نہیں روکتا اور نہ وہ خود اللہ کے منہاج اور شریعت سے ایک طرف جاتا ہے ۔ غرض اللہ کی راہ سے روکنے والوں کی تصویر کشی اس آیت میں نہایت ہی صحیح اور جامع ومانع کی گئی ہے اور ہر دور میں دشمنان دین کی نفسیات یہی ہوتی ہیں ۔
اب منظر پر ایک نیا خطہ آتا ہے ‘ یہ جنت و جہنم کے درمیان حد فاصل ہے ۔ اس حدفاصل کے اوپر بھی کچھ مخلوق خدا بیٹھی ہے ‘ یہ لوگ اہل جنت کو بھی ان کی علامات سے پہچانتے ہیں اور اہل جہنم کو بھی انکی علامات سے پہچان لیتے ہیں ۔
دیکھئے ! یہ اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے کیا تاثرات پیش کرتے ہیں ۔
روایات میں آتا ہے کہ اعراف جو لوگ کھڑے ہوں گے ۔ یہ انسانوں ہی کا ایک گروہ ہوگا ‘ یاد رہے کہ اعراف جنت میں اور دوزخ کے درمیان حائل جگہ ہوگی ‘ یہ وہ لوگ ہوں گے جن کی نیکیاں اور برائیاں وزن میں برابر ہوں گی ۔ نہ نیکی انہیں جنت میں اہل جنت کے ساتھ لے جاسکے گی اور نہ برائی انہیں اہل جہنم کے ساتھ جہنم میں لے جاسکے گی ۔ یہ لوگ بین بین ہوں گے اور اللہ کے فضل اور رحمت کے انتظار میں ہوں گے ۔ یہ لوگ اہل جنت کو ان کی علامات کی وجہ سے پہچان سکیں گے ‘ کیونکہ اہل جنت کے چہرے ہشاش بشاش اور سفید ہوں گے ‘ انکے آگے ایک نور جاری وساری ہوگا اور ان کا ایمان محسوس ہوگا ۔ یہ لوگ اہل جہنم کو بھی ان کی علامات سے پہچان سکیں گے کیونکہ ان کے چہرے سیاہ ہوں گے اور ہوائیاں اڑ رہی ہوگی یا وہ ان لوگوں کو اس داغ کی وجہ سے پہچان لیں گے جو ان کی ناک پر لگایا جائے گا ۔ جس طرح سورة قلم میں ہے ۔ آیت ” سنسمہ علی الخرطوم “۔ (68 : 16) ” ہم عنقریب ان کی ناک پر داغ لگائیں گے ۔ “ تو یہ اہل اعراف اہل جنتکو سلام کریں گے “۔ اور سلام اس انداز کا ہوگا کہ وہ امید کریں گے کہ جلد ہی وہ بھی داخلہ جنت کے مستحق قرار پائیں گے اور جب وہ اہل جہنم کو دیکھیں گے تو انکی یہ نظر اچٹتی ہوگی ‘ بالاارادہ وہ ان پر نگاہ ڈالنا پسند نہ کریں گے ۔ وہ انہیں دیکھتے ہی اللہ کی پناہ مانگنے لگیں کہ بار الہا ! ہمیں ان کا ساتھی نہ بنا ۔
آیت ” وَبَیْْنَہُمَا حِجَابٌ وَعَلَی الأَعْرَافِ رِجَالٌ یَعْرِفُونَ کُلاًّ بِسِیْمَاہُمْ وَنَادَوْاْ أَصْحَابَ الْجَنَّۃِ أَن سَلاَمٌ عَلَیْْکُمْ لَمْ یَدْخُلُوہَا وَہُمْ یَطْمَعُونَ (46) وَإِذَا صُرِفَتْ أَبْصَارُہُمْ تِلْقَاء أَصْحَابِ النَّارِ قَالُواْ رَبَّنَا لاَ تَجْعَلْنَا مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِیْنَ (47)
” ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس بلندیوں (اعراف) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ” سلامتی ہو تم پر “ یہ لوگ جنت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ اور جب انکی نگائیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ” اے رب ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو۔ “
اس کے بعد اصحاب اعراف بڑے بڑے مجرموں کی طرف متوجہ ہوتی ہیں۔ یہ لوگ معروف قسم کے لوگ تھے اور ان پر بھی علامات جہنم عیاں تھیں ۔ ان پر وہ یہ تبصرہ کرتے ہیں کہ دنیا میں تمہاری جو جمعیت اور شوکت تھی اب وہ کہاں گئی ؟ ان کو یوں شرمندہ کرتے ہیں ۔
آیت ” وَنَادَی أَصْحَابُ الأَعْرَافِ رِجَالاً یَعْرِفُونَہُمْ بِسِیْمَاہُمْ قَالُواْ مَا أَغْنَی عَنکُمْ جَمْعُکُمْ وَمَا کُنتُمْ تَسْتَکْبِرُونَ (48)
” پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ” دیکھ لیا تم نے آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازوسامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے ۔ “
اب ذرا اپنی حالت کو دیکھو کہ کہاں پڑے ہو ‘ تمہاری جمعیت نے تمہیں کیا فائدہ دیا اور تمہاری استکبار نے تمہیں کیا تحفظ دیا ؟ اب یہ لوگ ان اکابر مجرمین کو یاد دلاتے ہیں کہ تم تو اہل ایمان کے بارے میں یہ کہتے تھے کہ یہ گمراہ ہوگئے ہیں اور یہ کہ یہ لوگ اللہ کی رحمت سے محروم ہیں۔
آیت ” أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمْتُمْ لاَ یَنَالُہُمُ اللّہُ بِرَحْمَۃٍ “۔ (7 : 49)
” اور کیا یہ اہل جنت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ان کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ “۔
اب دیکھو کہ تم کہاں کھڑے ہو اور یہ بھی دیکھو کہ ان کے بارے میں اللہ کے احکام کیا ہیں ؟ یہ ہیں :
آیت ” ادْخُلُواْ الْجَنَّۃَ لاَ خَوْفٌ عَلَیْْکُمْ وَلاَ أَنتُمْ تَحْزَنُونَ (49)
” آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجاؤ جنت میں ‘ تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج۔ “
ہاں ایک آواز اہل جن ہم کی طرف سے بھی سنائی دیتی ہے ۔ یہ پرامید بھی ہے اور رحم طلب بھی ۔ دوسری جانب سے اس کا جو جواب دیا جاتا ہے وہ نہایت ہی تلخ درد ناک اور عبرت آموز ہے ۔ ذرا غور کیجئے ۔
اس طرح اس طویل منظر کی جھلکیاں سامنے آتی ہیں اور چلی جاتی ہیں ۔ ابھی آخرت کی جھلکی ہے اور ساتھ ہی دنیا کی ایک جھلک دکھائی جاتی ہے ۔ ایک لمحہ ہم اس ان لوگوں کے ساتھ ہوتے ہیں جو آگ میں جل رہے ہیں ‘ جن کا خیال تھا کہ وہ اللہ کے حضور پیش نہ ہوں گے اور جنہوں نے آیات الہی کا انکار کردیا تھا حالانکہ ان کے پاس کتاب مفصل آچکی تھی جو بالکل واضح تھی اور اس کی تفصیلات اللہ کے علم پر مبنی تھیں ۔ انہوں نے اسے پس پشت ڈال دیا اور اپنی پسند کے ادہام اور شکوک کو اختیار کرلیا ۔ دوسرے ہی لمحہ ہم دیکھے ہیں کہ یہ یہی لوگ دنیا میں اس کتاب کے انجام کا انتظار کر رہے ہیں اس میں جو ڈراوے درج ہیں ان کے ظہور کے منتظر ہیں ۔ انہیں اس انجام بد سے ڈرایا جاتا ہے مگر اس منظر میں وہ واقع ہوچکا ہے ۔
یہ عجیب مناظر ہیں جو اس کتاب کے صفحات میں پیش کئے گئے اور انہیں اس انداز میں یہی کتاب معجز بیان پیش کرسکتی تھی ۔ اس طرح یہ طویل منظر کشی یہاں ختم ہوجاتی ہے اور اس پر اللہ کی جانب سے یہ آخر تبصرہ آتا ہے ‘ جس میں لوگوں کو ان مناظر قیامت کی روشن یاد دہانی کرائی جاتی ہے اور لوگوں کو خبردار کیا جاتا ہے کہ اللہ کے رسولوں اور اللہ کی آیات کی تکذیب کا انجام کیا ہو گا ؟
کہا جاتا ہے کہ لوگ اس کتاب میں دیئے گئے انجام کے بارے میں انتظار کرتے ہیں تو یہ ہے اس کا انجام اور اس انجام کے دنتوبہ کی کوئی گنجائش نہ ہوگی ۔ مشکلات میں کوئی سفارش نہ چلے گی اور یہ بھی ممکن نہ ہوگا کہ آزمائش کے لئے دوبارہ چانس دیا جائے ۔
یوں یہ منظر ختم ہوتا ہے اور انسان اس منظر میں گم رہتا ہے ۔ جب یہ منظر ختم ہوتا ہے تو دیکھنے والا یہ محسوس کرتا ہے گویا وہ قیامت کے میدان سے لوٹ کر دنیا میں آگیا ہے ۔ یوں محسوس ہوتا ہے کہ پلک جھپکتے ہی ہم آخرت میں چلے گئے اور واپس آگئے ۔
یہ پورے مناظر زندگی کے سفرپر مشتمل ہیں ۔ زندگی کا طویل سفر ‘ حشر ونشر اور حساب و کتاب اور جزا و سزاء جبکہ اس سے قبل کے سبق میں انسانیت نے اپنے سفر کا آغاز کیا تھا جبکہ انسان کے جد امجد جنت میں تھے ان کی لغزش کی وجہ سے انسان جنت سے اترا تھا ۔
یوں قرآن کریم انسان کو اور اس کے تصورات کو کہاں سے کہاں لے جاتے ہیں ‘ زمان ومکان کے دفتر لپیٹ دیئے جاتے ہیں ‘ فاصلے مٹ جاتے ہیں اور انسان کو ملکوت السماوات کی سیرکرائی جاتی ہے اور یہ سیر چند لمحات میں کرا دی جاتی ہے تاکہ وہ نصیحت پکڑے اور ڈرانے والوں کی باتوں کی طرف توجہ کرے اور سورة اعراف کے آغاز میں اللہ تعالیٰ نے کیا خوب کہا ۔
آیت ” کِتَابٌ أُنزِلَ إِلَیْْکَ فَلاَ یَکُن فِیْ صَدْرِکَ حَرَجٌ مِّنْہُ لِتُنذِرَ بِہِ وَذِکْرَی لِلْمُؤْمِنِیْنَ (2) اتَّبِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَیْْکُم مِّن رَّبِّکُمْ وَلاَ تَتَّبِعُواْ مِن دُونِہِ أَوْلِیَاء قَلِیْلاً مَّا تَذَکَّرُونَ (3)
” یہ کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے ‘ پس اے محمد ﷺ تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو ۔ اس کے اتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعے سے ڈراؤ اور ایمان والے لوگوں کو نصیحت ہو ۔ “