آیت ” وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہِ إِلاَّ أَن قَالُواْ أَخْرِجُوہُم مِّن قَرْیَتِکُمْ إِنَّہُمْ أُنَاسٌ یَتَطَہَّرُونَ (82)
” مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ” نکالو ان لوگوں کو اپنی بسیتوں سے ‘ بڑے پاکباز بنتے ہیں ۔ “
عجیب بات ہے کہ ! جو پاکباز ہے اسے گاؤں سے نکالا جارہا ہے اور گندے ‘ غلیظ اور ناپاک لوگ بستیوں کے اندر رہنے کے مستحق بنتے ہیں لیکن یہ کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے ۔ دور جدید کی جاہلیت یہی تو کررہی ہے کیا یہ ان لوگوں کو مسترد نہیں کر رہی ہے جو پاکبازی اختیار کرتے ہیں اور ان گندگیوں میں اپنے آپ کو آلودہ نہیں کرتے ۔ اس بات کو وہ ترقی پسندی کہتے ہیں اور اسے عورت اور مرد کی آزادی کا نام دیتے ہیں یہ جاہلیت آج کے دور میں ایسے پاکباز لوگوں پر رزق کے دورازے بند کررہی ہے انکا زندہ رہنا اس نے مشکل کردیا ہے ۔ ان کی دولت کے ذرائع سکیڑ دیئے گئے ہیں ‘ ان کے افکار و تصورات کو دبایا جاتا ہے ۔ جاہلیت اس بات کو دیکھ ہی نہیں سکتی کہ کوئی پاکبازی اختیار کرے کیونکہ اس جاہلیت کو صرف وہی لوگ قبول ہیں جو گندے ناپاک اور برائیوں میں ملوث ہوں ‘ پاک لوگوں کے لئے اس کا دل تنگ ہے ۔ ہر دور میں جاہلیت کی ذہنیت یہی رہی ہے ۔
چناچہ انکو جلدی اپنے انجام سے دو چار کردیا جاتا ہے اور تمام دوسری تفصیلات کو یہاں چھوڑ دیا جاتا ہے ۔
آیت 82 وَمَا کَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖٓ الاّآ اَنْ قَالُوْٓا اَخْرِجُوْہُمْ مِّنْ قَرْیَتِکُمْج اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوْنَ ان کے پاس کوئی معقول جواب تو تھا نہیں ‘ شرم و حیا کو وہ لوگ پہلے ہی بالائے طاق رکھ چکے تھے۔ کوئی دلیل ‘ کوئی عذر ‘ کوئی معذرت ‘ جب کچھ بھی نہ بن پڑا تو وہ حضرت لوط علیہ السلام اور آپ علیہ السلام کے گھر والوں کو شہر بدر کرنے کے درپے ہوگئے۔ حضرت لوط علیہ السلام کی بیوی اس مقامی قوم سے تعلق رکھتی تھی ‘ اس لیے وہ آخر وقت تک اپنی قوم کے ساتھ ملی رہی۔ حضرت لوط علیہ السلام اللہ کے حکم سے اپنی بیٹیوں کو لے کر عذاب آنے سے پہلے وہاں سے نکل گئے۔
قوم لوط پر بھی نبی کی نصیحت کار گر نہ ہوئی بلکہ الٹا دشمنی کرنے لگے اور دیس نکال دینے پر تل گئے، اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو مع ایمانداروں کے وہاں سے صحیح سالم بجا لیا اور تمام بستی والوں کو ذلت و پستی کے ساتھ تباہ و غارت کردیا، ان کا یہ کہنا کہ یہ بڑے پاکباز لوگ ہیں بطور طعنے کے تھا اور یہ بھی مطلب تھا کہ یہ اس کام سے جو ہم کرتے ہیں دور ہیں پھر ان کا ہم میں کیا کام ؟ مجاہد اور ابن عباس کا یہی قول ہے۔