سورہ اعراف (7): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-A'raaf کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ الأعراف کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورہ اعراف کے بارے میں معلومات

Surah Al-A'raaf
سُورَةُ الأَعۡرَافِ
صفحہ 155 (آیات 38 سے 43 تک)

قَالَ ٱدْخُلُوا۟ فِىٓ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِكُم مِّنَ ٱلْجِنِّ وَٱلْإِنسِ فِى ٱلنَّارِ ۖ كُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّةٌ لَّعَنَتْ أُخْتَهَا ۖ حَتَّىٰٓ إِذَا ٱدَّارَكُوا۟ فِيهَا جَمِيعًا قَالَتْ أُخْرَىٰهُمْ لِأُولَىٰهُمْ رَبَّنَا هَٰٓؤُلَآءِ أَضَلُّونَا فَـَٔاتِهِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ ٱلنَّارِ ۖ قَالَ لِكُلٍّ ضِعْفٌ وَلَٰكِن لَّا تَعْلَمُونَ وَقَالَتْ أُولَىٰهُمْ لِأُخْرَىٰهُمْ فَمَا كَانَ لَكُمْ عَلَيْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُوا۟ ٱلْعَذَابَ بِمَا كُنتُمْ تَكْسِبُونَ إِنَّ ٱلَّذِينَ كَذَّبُوا۟ بِـَٔايَٰتِنَا وَٱسْتَكْبَرُوا۟ عَنْهَا لَا تُفَتَّحُ لَهُمْ أَبْوَٰبُ ٱلسَّمَآءِ وَلَا يَدْخُلُونَ ٱلْجَنَّةَ حَتَّىٰ يَلِجَ ٱلْجَمَلُ فِى سَمِّ ٱلْخِيَاطِ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُجْرِمِينَ لَهُم مِّن جَهَنَّمَ مِهَادٌ وَمِن فَوْقِهِمْ غَوَاشٍ ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلظَّٰلِمِينَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَعَمِلُوا۟ ٱلصَّٰلِحَٰتِ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا إِلَّا وُسْعَهَآ أُو۟لَٰٓئِكَ أَصْحَٰبُ ٱلْجَنَّةِ ۖ هُمْ فِيهَا خَٰلِدُونَ وَنَزَعْنَا مَا فِى صُدُورِهِم مِّنْ غِلٍّ تَجْرِى مِن تَحْتِهِمُ ٱلْأَنْهَٰرُ ۖ وَقَالُوا۟ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ ٱلَّذِى هَدَىٰنَا لِهَٰذَا وَمَا كُنَّا لِنَهْتَدِىَ لَوْلَآ أَنْ هَدَىٰنَا ٱللَّهُ ۖ لَقَدْ جَآءَتْ رُسُلُ رَبِّنَا بِٱلْحَقِّ ۖ وَنُودُوٓا۟ أَن تِلْكُمُ ٱلْجَنَّةُ أُورِثْتُمُوهَا بِمَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ
155

سورہ اعراف کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورہ اعراف کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اللہ فرمائے گا جاؤ، تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن و انس جا چکے ہیں ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتیٰ کہ جب سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala odkhuloo fee omamin qad khalat min qablikum mina aljinni waalinsi fee alnnari kullama dakhalat ommatun laAAanat okhtaha hatta itha iddarakoo feeha jameeAAan qalat okhrahum lioolahum rabbana haolai adalloona faatihim AAathaban diAAfan mina alnnari qala likullin diAAfun walakin la taAAlamoona

آیت ” نمبر 38 تا 39۔

آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّارِ “۔ (7 : 38)

” اللہ فرمائے گا جاؤ ‘ تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “

یعنی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جا ملو ‘ انسانوں اور جنوں میں تمہارے جو دوست ہیں ان میں شامل ہوجاؤ ‘ لیکن جہنم میں ۔ کیا تمہیں معلوم نہ تھا کہ کہ ابلیس نے اپنے رب کی نافرمانی کی تھی ؟ کیا اس نے آدم اور اس کی بیوی کو جنت سے نہ نکلوایا تھا ؟ کیا شیطان نے اولاد آدم کو گمراہ نہ کیا تھا کیا اللہ نے اسی شیطان کو دھمکی نہ دی تھی کہ وہ اور اس کے تمام متبعین جہنم میں جھونک دیئے جائیں گے ؟ لہذا اب تم سب جہنم میں خوشی سے داخل ہوجاؤ‘ کچھ پہلے جاؤ اور کچھ ان کے پیچھے ان کا اتباع کرو ‘ تم سب ایک دوسرے کے دوست ہو اور سب کے سب برابری کی بنیاد پر اس کے مستحق ہو۔ ۔

یہ تمام امتیں اور یہ تمام اقوام اور جماعتیں باہم دگر اس طرح دوست ‘ حلیف اور پیوست تھیں کہ ان میں سے آخری قوم سب سے پہلی قوم کی متبع تھی اور ان میں سے تابع جماعت اپنی متبوع جماعت سے ہدایات لیتی تھی لیکن آج صورت حالات یہ ہے کہ ان کے درمیان دشمنی ہوگئی ہے اور وہ ایک دوسرے کو برا بھلا کہہ رہی ہیں۔

آیت ” کُلَّمَا دَخَلَتْ أُمَّۃٌ لَّعَنَتْ أُخْتَہَا “۔ (7 : 38)

” ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا “ ‘۔ ملاحظہ کیجئے کہ بیٹا باپ پر لعنت بھیج رہا ہوگا کس قدر برا ہے یہ انجام ۔ دوست دوست کو کوس رہا ہوگا ۔ پیچھلے لوگ اگلوں سے مل جائیں گے اور دور اور قریب والے سب ایک جگہ ہوں گے تو انکے درمیان اب جدل وجدال یوں شروع ہوگا۔

آیت ” حَتَّی إِذَا ادَّارَکُواْ فِیْہَا جَمِیْعاً قَالَتْ أُخْرَاہُمْ لأُولاَہُمْ رَبَّنَا ہَـؤُلاء أَضَلُّونَا فَآتِہِمْ عَذَاباً ضِعْفاً مِّنَ النَّار “ (7 : 38)

” حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے رب ‘ یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا ‘ لہذا انہیں آگ کا دوہرا عذاب دے ۔ “

یوں ان لوگوں کے مصائب کا آغاز ہوتا ہے ۔ اس منظر میں دوست اور یار بھی سامنے آتے ہیں ‘ یہ لوگ ایکدوسرے کو کو ستے ہیں ‘ اب یہ ایک دوسرے کے دشمن بن گئے ہیں ۔ ایک دوسرے پر لعن طعن کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ سے ایک دوسرے کے خلاف یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ انہیں سخت عذاب دیا جائے ۔ حالانکہ وہ ” رب “ پر دنیا میں افتراء باندھتے تھے اور اس کی آیات کو جھٹلاتے تھے ۔ اب اسی کو ” ربنا “ کہتے ہیں ۔ اب تو وہ صرف اسی کی طرف لوٹ رہے ہیں ۔ اور صرف اسی کی طرف رخ کئے ہوئے ہیں لیکن اللہ کی جانب سے ان کو جو جواب دیا جاتا ہے اور ان کی دعا جس طرح قبول ہوتی ہے وہ یہ ہے ۔

آیت ” ِ قَالَ لِکُلٍّ ضِعْفٌ وَلَـکِن لاَّ تَعْلَمُونَ (38)

” جواب میں ارشاد ہوگا ۔ ہر ایک کے لئے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہوں ۔ “ تمہارے اور ان سب کے لئے دوگنا عذاب ہے ۔

جب ان لوگوں نے یہ فیصلہ سنا تو جنکے خلاف یہ شکایت کی گئی تھی انہوں نے دعا کرنے والوں کا خوب مذاق اڑایا اور انکی طرف متوجہ ہو کہ کہا کہ ہم سب برابر کے مجرم ہیں۔

آیت ” وَقَالَتْ أُولاَہُمْ لأُخْرَاہُمْ فَمَا کَانَ لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ فَذُوقُواْ الْعَذَابَ بِمَا کُنتُمْ تَکْسِبُونَ (39)

” اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے تو) تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی ‘ اب اپنی کمائی کے نتیجے میں عذاب کا مزا چکھو۔ “

اب یہاں یہ المناک منظر ختم ہوجاتا ہے اور اسکے بعد ان لوگوں کے اس انجام کو ایک منطقی انجام ثابت کرنے کے لئے تبصرہ آتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی تبدیلی ممکن ہی نہیں ہے ۔ یہ تبصرہ اس منظر سے پہلے آتا ہے جو مومنین صادقین کا منظر ہے اور اس المناک منظر کے بالکل برعکس ہے ۔

اردو ترجمہ

اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ (اگر ہم قابل الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کونسی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waqalat oolahum liokhrahum fama kana lakum AAalayna min fadlin fathooqoo alAAathaba bima kuntum taksiboona

اردو ترجمہ

یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے اُن کا جنت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کا گزرنا مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena kaththaboo biayatina waistakbaroo AAanha la tufattahu lahum abwabu alssamai wala yadkhuloona aljannata hatta yalija aljamalu fee sammi alkhiyati wakathalika najzee almujrimeena

آیت ” نمبر 40 تا 41۔

اب ذرا اپنے تصورات کو لے کر رکیے ۔ یہ ایک عجیب منظر ہے ۔ ایک اونٹ ہے اور اسے سوئی کے ناکے میں داخل کرانے کے لئے تیار کیا جارہا ہے ۔ کہا جا رہا ہے کہ انتظار کرو کہ یہ ناکہ اس قدر کھل جائے کہ اس سے اونٹ پار ہوجائے تب ہی ان کفار کے لئے جنت کے دروازے کھل سکتے ہیں ۔ تب ہی ان کی توبہ قبول ہو سکتی ہے ۔ لیکن وقت تو گزر چکا ہے ۔ اب یہ جنت میں اس طرح داخل نہیں ہوسکتے جس طرح سوئی کے ناکے سے ایک اونٹ پار نہیں ہو سکتا ‘ لہذا یہ ہمیشہ جہنم میں رہیں گے اور اس میں یہ لوگ پے درپے جمع ہوں گے ۔ اسی میں یہ لوگ ایک دوسرے کو ملامت کرتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے پر لعنت بھیجتے رہیں گے ۔ ایک دوسرے کے لئے سزا کا مطالبہ کرتے رہیں گے لیکن سب کے سب اسی عذاب میں مبتلا رہیں گے ۔

آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40)

” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “

آیت ” لَہُم مِّن جَہَنَّمَ مِہَادٌ وَمِن فَوْقِہِمْ غَوَاش “۔ (7 : 41)

” ان کے لئے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا ہے ۔ “

یعنی ان کے لئے فرش بھی جہنم کی آگ کا ہوگا اور مہاد کا اطلاق اس پر بطور مذاق کیا گیا ہے ۔ بچھونا ایسا ہوگا جس میں نہ نرمی ہوگی اور نہ ہی وہ فروخت بخش ہوگا اور آگ ہی کا اڑھنا ہوگا ۔ یعنی ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوں گے ۔

آیت ” وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُجْرِمِیْنَ (40)

” یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔ “

ظالم ہی مجرم ہیں اور یہ وہ لوگ ہیں جو مشرک ہیں اور آیات الہی کی تکذیب کرتے ہیں ۔ قرآن کی تعبیر کی رو سے یہ اوصاف مترادف ہیں ۔ اب اس منظر کے بالمقابل دوسرا منظر دیکھئے ۔ :

اردو ترجمہ

ان کے لیے تو جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Lahum min jahannama mihadun wamin fawqihim ghawashin wakathalika najzee alththalimeena

اردو ترجمہ

بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں وہ اہل جنت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waallatheena amanoo waAAamiloo alssalihati la nukallifu nafsan illa wusAAaha olaika ashabu aljannati hum feeha khalidoona

آیت ” نمبر 42 تا 43۔

یہ لوگ جو ایمان لائے اور اپنی استطاعت کے مطابق عمل کیا (کیونکہ اللہ کی جانب سے صرف وہی فرائض عائد کئے جاتے ہیں جن پر عمل ممکن ہوتا ہے) تو یہ لوگ ان باغوں کی طرف لوٹیں گے جو ان کیلئے تیار کیے گئے ہیں ۔ یہ لوگ اللہ کے فضل وکرم کی وجہ سے ان جنتوں کے مالک ہوں گے اور اس نے ان لوگوں کو ان جنتوں کا وارث ومالک بنا دیا ہے ۔ اور یہ اس لئے کہ انہوں نے ایمان کے بعد عمل صالح کو اپنایا اور یہ باغات اس بات کا صلہ ہیں کہ انہوں نے رسولوں کا اتباع کیا اور شیطان کے مخالف چلے ۔ انہوں نے اللہ رحیم وکریم کے احکام مانے اور شیطان رجیم کی معصیت کی لیکن یہ سب کچھ اللہ کی رحمت سے ممکن ہوا ۔ اگر اللہ کی رحمت نہ ہوتی تو ان کے لئے یہ سب کچھ ممکن نہ تھا ۔ اور اس مضمون کو حضور ﷺ نے ایک حدیث میں یوں بیان کیا ہے کہ ” تم میں سے کوئی ایک بھی صرف اپنے عمل کی وجہ سے جنت کو نہ جائے گا “ ۔ کہا کہ حضور ﷺ آپ بھی نہ جائیں گے ؟ ” نہیں میں بھی نہیں الا یہ کہ مجھے اللہ کی رحمت اور فضل ڈھانپ لے۔ “ ۔ ؛۔۔۔۔۔۔ یاد رہے کہ اس آیت اور حضور ﷺ کے قول مبارک کے درمیان کوئی تضاد نہیں ہے اس لئے کہ حضور ﷺ کے اقوال بھی وحی پر مبنی ہوتے ہیں اور اسلامی فرقوں نے اس موضوع پر جو اختلافی مباحث کیے ہیں وہ غلط فہمی پر مبنی ہیں ۔ یہ اختلاف محض ذاتی خواہشات پر مبنی تھے ۔ اللہ کے علم میں تھا کہ انسان ضعیف کمزور اور عاجز مخلوق ہے ۔ وہ صرف اپنے اعمال کے بل بوتے پر جنت کے استحقاق کے مقام تک نہیں پہنچ سکتی اور نہ وہ دنیا میں کسی ایک نعمت کے استحقاق پر جنت میں داخل ہو سکتی ہے ۔ اس لئے اللہ نے اپنے اوپر یہ فرض کرلیا کہ وہ رحیم وکریم ہوگا اور انسانوں کی جانب سے تھوڑے بہت اچھے اعمال بھی قبول کرلے گا ۔ اور ان تھوڑے بہت اعمال ہی کی بناء پر ان کے نام جنت لکھ دے گا مگر یہ محض اس کا فضل وکرم ہوگا ۔ پس وہ اپنے عمل ہی کی وجہ سے جنت کے مستحق قرار پائیں گے لیکن ان تھوڑے اعمال پر استحقاق کی عطاء محض رحمت الہی کی وجہ سے ہوگی ۔

ایک طرف یہ مفتری ‘ جھوٹے ‘ مجرم ‘ ظالم کافر اور مشرک اہل جہنم ایک دوسرے پر لعنت بھیجیں گے ‘ باہم جھگڑیں گے ‘ ان کے دل کینہ پروری اور دشمنی سے جوش ماریں گے ‘ حالانکہ دنیا میں وہ ہم نشین اور دوست تھے ۔ دوسری جانب وہ لوگ جو ایمان لائے تھے ‘ نیک عمل والے تھے وہ جنت میں بھائی بھائی محبت کرنے والے دوست ‘ اولیائے باصفا اور ہم نشنیاں دلسوز ہوں گے اور ان پر محبت کا سایہ ہوگا۔

آیت ” وَنَزَعْنَا مَا فِیْ صُدُورِہِم مِّنْ غِلٍّ “۔ (7 : 43)

” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “

بہرحال ایمان والے انسان ہی تو تھے ‘ انسانوں کی حیثیت سے انہوں نے زندگی بسر کی ۔ بارہا ایسا ہوا کہ وہ ایک دوسرے پر دنیا میں خفا ہوئے مگر انہوں نے اس خفگی کو چھپایا اور انکے دل میں ایک دوسرے کی خلاف کدورت پیدا ہوئی مگر انہوں نے اس کدورت غلبہ پایا البتہ کچھ اثرات آخر تک ان کے دلوں میں موجود رہے ۔

قرطبی اپنی تفسیر احکام القرآن میں کہتے ہیں : ” حضور ﷺ نے فرمایا کہ غل (کدورت) جنت کے دروازوں کے باہر پڑی ہوگی جس طرح اونٹوں کی مینگنیاں ۔ اللہ نے مومنین کے دلوں سے اس کو نکال پھینکا ہوگا۔ “ اور حضرت علی ؓ سے روایت ہے ۔ انہوں نے فرمایا ” میں امید کرتا ہوں کہ میں ” عثمان ‘ طلحہ ‘ اور زبیررضی اللہ تعالیٰ عنھم اجمعین ان لوگوں میں سے ہوں گے جن کے بارے میں فرمایا (ونزعنا) ” ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ۔ “

اہل جہنم جب ہر طرف سے آگ میں گھرے ہوئے ہوں گے تو دوسری جانب اہل جنت میں جن باغات میں ہوں گے ان کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور انکی وجہ سے پوری فضا پر ٹھنڈی ٹھنڈی ہوا جاری ہوگی ۔

آیت ” تَجْرِیْ مِن تَحْتِہِمُ الأَنْہَارُ “۔ (7 : 43)

” ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی “ ایک طرف اہل جہنم ایکدوسرے کو کوس رہے ہوں گے اور دست دگریبان ہوں گے اور دوسری جانب اہل جنت اللہ کی تعریف اس کے احسانات کو اعتراف کررہے ہوں گے ۔

آیت ” وَقَالُواْ الْحَمْدُ لِلّہِ الَّذِیْ ہَدَانَا لِہَـذَا وَمَا کُنَّا لِنَہْتَدِیَ لَوْلا أَنْ ہَدَانَا اللّہُ لَقَدْ جَاء تْ رُسُلُ رَبِّنَا بِالْحَقِّ “۔ (7 : 43)

” اور وہ کہیں گے کہ ” تعریف خدا ہی کے لئے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا ‘ ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا ‘ ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول حق ہی لے کر آئے تھے۔ “

ایک طرف اہل جہنم کو بطور تحقیر وطنز اور برائے شرمساری یہ کہا جائے گا ۔

آیت ” قَالَ ادْخُلُواْ فِیْ أُمَمٍ قَدْ خَلَتْ مِن قَبْلِکُم مِّن الْجِنِّ وَالإِنسِ فِیْ النَّار “۔ (7 : 38)

” تم بھی اسی جہنم میں چلے جاؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جا چکے ہیں ۔ “

آیت ” وَنُودُواْ أَن تِلْکُمُ الْجَنَّۃُ أُورِثْتُمُوہَا بِمَا کُنتُمْ تَعْمَلُونَ (43)

” اس وقت ندا آئے گی کہ ” یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں ان اعمال کے بدلے مین ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے ۔ “

اسی طرح اہل جنت اور اہل جہنم کے درمیان مکمل تقابل ان آیات میں دے دیا گیا ہے ۔ غرض یہ مناظر مزید آگے بڑھتے ہیں ۔ اب ہمارے سامنے ایک نیا منظر ہے ۔ اہل جنت جنت میں اترچکے ہیں اور مطمئن ہیں اور اہل جہنم کو بھی یقین ہوچکا ہے کہ اب یہی ان کا دائمی انجام ہے۔ چناچہ اہل جنت اب ان پر یہ آوازہ کستے ہیں اور وہ بھی بےبسی میں یہ جواب دیتے ہیں ۔

اردو ترجمہ

ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے اُن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی، اور وہ کہیں گے کہ "تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پا سکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے رب کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے" اُس وقت ندا آئے گی کہ "یہ جنت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

WanazaAAna ma fee sudoorihim min ghillin tajree min tahtihimu alanharu waqaloo alhamdu lillahi allathee hadana lihatha wama kunna linahtadiya lawla an hadana Allahu laqad jaat rusulu rabbina bialhaqqi wanoodoo an tilkumu aljannatu oorithtumooha bima kuntum taAAmaloona
155