سورۃ البقرہ (2): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Baqara کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ البقرة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ البقرہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Baqara
سُورَةُ البَقَرَةِ
صفحہ 3 (آیات 6 سے 16 تک)

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ سَوَآءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ خَتَمَ ٱللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰٓ أَبْصَٰرِهِمْ غِشَٰوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ وَمِنَ ٱلنَّاسِ مَن يَقُولُ ءَامَنَّا بِٱللَّهِ وَبِٱلْيَوْمِ ٱلْءَاخِرِ وَمَا هُم بِمُؤْمِنِينَ يُخَٰدِعُونَ ٱللَّهَ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ وَمَا يَخْدَعُونَ إِلَّآ أَنفُسَهُمْ وَمَا يَشْعُرُونَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ فَزَادَهُمُ ٱللَّهُ مَرَضًا ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌۢ بِمَا كَانُوا۟ يَكْذِبُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ لَا تُفْسِدُوا۟ فِى ٱلْأَرْضِ قَالُوٓا۟ إِنَّمَا نَحْنُ مُصْلِحُونَ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلْمُفْسِدُونَ وَلَٰكِن لَّا يَشْعُرُونَ وَإِذَا قِيلَ لَهُمْ ءَامِنُوا۟ كَمَآ ءَامَنَ ٱلنَّاسُ قَالُوٓا۟ أَنُؤْمِنُ كَمَآ ءَامَنَ ٱلسُّفَهَآءُ ۗ أَلَآ إِنَّهُمْ هُمُ ٱلسُّفَهَآءُ وَلَٰكِن لَّا يَعْلَمُونَ وَإِذَا لَقُوا۟ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ قَالُوٓا۟ ءَامَنَّا وَإِذَا خَلَوْا۟ إِلَىٰ شَيَٰطِينِهِمْ قَالُوٓا۟ إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِءُونَ ٱللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِى طُغْيَٰنِهِمْ يَعْمَهُونَ أُو۟لَٰٓئِكَ ٱلَّذِينَ ٱشْتَرَوُا۟ ٱلضَّلَٰلَةَ بِٱلْهُدَىٰ فَمَا رَبِحَت تِّجَٰرَتُهُمْ وَمَا كَانُوا۟ مُهْتَدِينَ
3

سورۃ البقرہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ البقرہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Inna allatheena kafaroo sawaon AAalayhim aanthartahum am lam tunthirhum la yuminoona

درس 2 ایک نظر میں

1۔ آیات کا یہ حصہ ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے ، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو ” شیاطین “ کا لقب دیتا ہے ، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کردیتا ہے ۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا ۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔

2۔ ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری خصوصیات (Style of expression) سے بھی متعارف ہوتے ہیں منظرکشی کے لے خطوط والو ان کی جگہ یہاں حسین الفاظ کا انتخاب پایا جاتا ہے ۔ ان الفاظ کو پڑھتے ہی اصل مناظرآنکھوں کے سامنے جلوہ گر ہوجاتے ہیں ۔ یہ مناظر اور یہ تصورات بڑی تیزی سے حرکت پذیر ہوتے ہیں اور زندگی کی تگ وتاز سے بھرپور نظر آتے ہیں ۔

3۔ سورت کے آغازہی میں ہلکے پھلکے ، عام فہم اور مختصر الفاظ میں تین قسم کے انسانوں کی عجیب تصویر کشی کی گئی ہے ۔ ان میں سے ہر نوع ایسی ہے کہ انسانی افراد اور مجموعوں کی ایک عظیم الشان تعداد کا زندہ جاوید نمونہ ہے ۔ یہ مجموعے حد درجہ حقیقی اور گہرے ہیں اور ہر زمان ومکان میں باربار وجود میں آتے ہیں اور قرآن کریم کے اعجاز کا یہ ایک خاص پہلو ہے کہ انسانیت کی طویل ترین تاریخ میں روز اول سے لے کر آج تک پوری انسانیت انہی تین گروہوں میں منقسم نظر آتی ہے ۔

4۔ ان مختصر کلمات اور معدودے چند جملوں کے ذریعہ ، ان طبقوں کے حقیقی خدوخال اس طرح واضح اور مکمل صورت میں لوح دماغ پر منقش ہوجاتے ہیں کہ یہ طبقے زندہ ومتحرک ، ممتاز ومشخص اور اپنے حقیقی خدوخال کے ساتھ صاف صاف آنکھوں کے سامنے چلتے پھرتے نظر آتے ہیں ۔ یہ بےساختہ جملے اس قدر موزوں اور متناسب اور اپنے اندر اس قدر مترنم صوتی ہم آہنگی رکھتے ہیں کہ کوئی طویل ترین کلام اور کوئی مفصل ترین بیان بھی اس کی گرد تک نہیں پہنچ سکتا ۔

5۔ جب ان طبقوں کی منظرکشی ختم ہوجاتی ہے تو پھر قرآن کریم تمام بنی نوع انسان کو یہ دعوت دیتا ہے کہ وہ پہلے طبقے میں شامل ہوں ۔ وہ انہیں پکارتا ہے کہ ایک اللہ ایک خالق اور ایک رازق کی بندگی اور غلامی کی طرف لوٹ آئیں ، جس کے ساتھ کوئی شریک نہیں اور اس کا کوئی ہمسر نہیں ۔ اس کے بعدنبی ﷺ کی صداقت اور رسالت اور آپ پر نزول قرآن کے بارے میں جو لوگ متشکک ہیں انہیں چیلنج دیا جاتا ہے کہ وہ ایک ایسی سورت توبنالائیں ۔ اگر وہ اس چیلنج کو قبول نہیں کرسکتے تو پھر دردناک اور خوفناک عذاب کے لئے تیار ہوجائیں ۔ اس کے برعکس مومنین اور منیبین کو خوشخبری دی جاتی ہے کہ ان کے لئے نہ ختم ہونے والاانعام واکرام ہے ۔ اور الفاظ کے آئینے کی جھلک بھی دکھادی جاتی ہے ۔

6۔ اس کے بعد پھر یہود ومنافقین کی فتنہ پردازی کا جائزہ لیا جاتا ہے جو یہ کہتے تھے کہ قرآن کریم میں چھوٹی چھوٹی چیزوں کو تمثیلات دی گئی ہیں ۔ لہٰذا یہ منزل کتاب نہیں ہے ۔ انہوں نے اس مسئلے کو آڑ بناکر شکوک و شبہات پھیلانے کا ایک وسیع کاروبار شروع کردیا تھا ۔ ان کو بتایا گیا کہ یہ مثالیں گہری حکمت پر مبنی ہیں اور یہ کہ انہیں پڑھ کر ایک شخص گمراہ بھی ہوسکتا ہے جیسا کہ وہ ہوئے اور دوسری طرف ان سے مومنین کا گروہ ایمان میں اور پختہ ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد ان پر نکیر کی جاتی ہے کہ وہ اس خالق ومدبر ، علیم وبصیر اور جلانے والے اور مارنے والے کا انکار کیوں کر کرتے ہیں ؟ حالانکہ وہی تو ہے جس نے انسان کے لئے پوری کائنات کو پیدا کیا ، انہیں یہاں یہ طویل و عریض مملکت دے کر اپنا خلیفہ وخود مختار بنایا اور انہیں بیشمار انعامات و اکرامات سے نوازا۔

” جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا ، ان کے لئے یکساں ہے ، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کروبہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔ اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ “

یہاں متقین اور کافرین بالکل ایک دوسرے کے بالمقابل کھڑے نظر آتے ہیں ۔ یہ کتاب متقین کے لئے تو ہدایت اور نور بصیرت ہے لیکن کفار کا حال یہ ہے کہ خواہ انہیں خبردار کیا جائے یا نہ کیا جائے ، وہ ہر حال میں روش کفر پر جمے ہوئے ہیں ۔ مومنین کے دلوں میں ہدایت ربانی کے جو دریچے سداوا ہوتے ہیں اور وہ روابط جن کی وجہ سے وہ ہر وقت اس پوری کائنات ، اس کے خالق ، اس کے ظاہروباطن اور اس کے عالم غیب وشہادت سے جڑے ہوئے ہوتے ہیں ، رشد وہدایت کے یہ سب دریچے کفار کے لئے بند نظر آتے ہیں ، اسی منظر میں انسان اور خالق کائنات کے درمیان وہ تمام رابطے بالکل کٹے ہوئے ہیں ، جو مومنین اور خالق کائنات کے درمیان قائم ودوائم ہوتے ہیں ۔

اردو ترجمہ

اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Khatama Allahu AAala quloobihim waAAala samAAihim waAAala absarihim ghishawatun walahum AAathabun AAatheemun

خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔

یہ نہایت کرخت ، جامد اور تاریک تصویر ہے ، جو ان لوگوں کے دل و دماغ کی گہری تاریکی وسیاہی اور مسلسل اندھے پن اور بہرے پن کی روش اختیار کرنے کی وجہ سے منقش ہوکر ہمارے سامنے جلوہ گر ہوتی ہے ۔ وَّلَہُم عَذَابٌ عَظِیمٌ” اور وہ سخت عذاب کے مستحق ہیں ۔ “ کیونکہ یہی ان کی معاندانہ اور کافرانہ روش کا قدرتی انجام ہے ، جو لوگ ڈرانے والے کی بات کو مان کر نہیں دیتے اور جن کو ڈرانا یا نہ ڈرانا یکساں ہوجاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے علم میں بھی یہ بات ہوتی ہے کہ یہ لوگ آخر تک اپنی اس روش پر قائم رہیں گے ۔ وہ اسی انجام کے مستحق ہیں ۔

اردو ترجمہ

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wamina alnnasi man yaqoolu amanna biAllahi wabialyawmi alakhiri wama hum bimumineena

اب سیاق کلام تیسری تصویر اور تیسرے منظر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ۔ اس تیسرے نمونے کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی جاتی ہے ۔” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا ۔ اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں ۔ اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں ´خبردار حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ۔ اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟

خبردار اس حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ۔ جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں ، اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے ، اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ ان الفاظ میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ مدینہ طیبہ کی واقعی صورتحال کی صحیح تصویر کشی ہے لیکن زمان ومکان کی حد بندیوں سے قطع نظر کرکے بھی جب ہم دیکھتے ہیں تو اس قسم کے لوگ ہمیں انسانوں کی ہر نسل میں موجودنظر آتے ہیں ۔ ہر نسل میں ایسے ذی حیثیت منافق لوگ پائے جاتے ہیں جو نہ تو اپنے اندر یہ جراءت پاتے ہیں کہ حق وصداقت کو پوری طرح تسلیم کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نہ ان میں یہ سکت ہوتی ہے کہ حق وصداقت کا صاف صاف انکار کردیں ۔ اس صورتحال کے ساتھ ساتھ ایسے لوگ عوام کے مقابلے میں اپنے لئے ایک اونچی حیثیت اور رتبہ بلند بھی پسند کرتے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو جمہور عوام سے زیادہ علیم وفہیم سمجھتے ہیں ۔ لہٰذا ہم ان آیات کو ہر قسم کی تاریخی مثالوں سے آزاد اور اصولی آیات سمجھتے ہیں جو ہر دور کے ان تمام لوگوں پر صادق ہیں جو منافقانہ روش اختیار کرتے ہیں ۔ غرض ان آیات میں جس نفسیاتی صورتحال کی تصویر کھینچی گئی ہے وہ ایسی صورتحال ہے کہ ہر دور میں نفس انسانی کی گہرائیوں میں موجود رہی ہے اور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی ۔

اردو ترجمہ

وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

YukhadiAAoona Allaha waallatheena amanoo wama yakhdaAAoona illa anfusahum wama yashAAuroona

ٍاس قسم کے لوگ ہمیشہ اللہ اور یوم آخرت پر ایمان (اور خادم اسلام ہونے ) کا دعویٰ کرتے ہیں ۔ لیکن درحقیقت ان کے دل دولت ایمان سے خالی ہوتے ہیں ، یہ صریح طور پر منافقت میں مبتلا ہوتے ہیں ، یہ بزدل ہوتے ہیں اور مومنین کے بارے میں ان کی جو حقیقی رائے ہوتی اس کا اظہار کرنے کی جراءت ان کے اندر نہیں ہوتی ۔

ایسے لوگ ہمیشہ اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ وہ غایت درجے کے ذہین ، معاملہ فہم اور پالیسی باز ہیں اور وہ ہر حال میں ان سادہ لوح مومنین کو طرح دے سکتے ہیں ۔ قرآن مجید کہتا ہے کہ ایسے لوگ صرف مومنین ہی کو نہیں بلکہ اللہ کو بھی دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ یُخٰدِعُونَ اللہ وَ الَّذِینَٰامَنُوا ” وہ اللہ اور ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائے ہیں ، دھوکہ بازی کررہے ہیں۔ “ اس آیت اور اس جیسی دوسری آیات میں ایک عظیم حقیقت کھل کر ہمارے سامنے آتی ہے ۔ یہ اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم الشان فضل وکرم ہے کہ قرآن کریم میں باربار بتاکید و تکرار اس کا اظہار ہوا ہے اور اسی میں دراصل بندہ مومن اور اللہ تعالیٰ کے درمیان قائم ربط وتعلق کا راز پنہاں ہے ۔ یعنی اللہ تعالیٰ مومنین کے محاذ کو خود اپنامحاذ قرار دیتا ہے ۔ ان کے معاملات اور حالات کو خود اپنے معاملات اور حالات قرار دیتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ انہیں اپنے ساتھ ملاتا ہے اور انہیں اپنے دامن شفقت ورافت میں لیتا ہے ۔ ان کے دشمن کو خود اپنا دشمن قرار دیتا ہے ، ان کے خلاف کی جانے والی سازشوں کو اپنے خلاف سازش قرار دیتا ہے ۔ یہ اس کی انتہائی شاہانہ کرم نوازی اور عزت افزائی ہے جس سے مومنین کی قدرومنزلت اپنے انتہائی عروج تک جاپہنچتی ہے اور جس سے اس بات کی تصدیق ہوتی ہے کہ اس کائنات میں ایمان باللہ ایک عظیم ترین حقیقت ہے جس سے دل مومن میں ثبات و طمانیت کے سرچشمے پھوٹ نکلتے ہیں ۔ وہ دیکھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ایک مومن کے مسائل اور مشکلات کو اپنے دست قدرت میں لے لیتا ہے ، اس کا معرکہ اللہ کا معرکہ قرارپاتا ہے ، اس کا دشمن اللہ کا دشمن بن جاتا ہے۔ اللہ اسے اپنے محاذ میں لے لیتا ہے اور اپنے عمل عاطفت میں داخل کرلیتا ہے ۔ اس کے مقابلے میں پھر انسانوں اور حقیر بندوں کی سازشوں ، دھوکہ بازیوں اور ایذا رسانیوں کی حقیقت کیا رہ جاتی ہے ؟

اس حقیقت کا دوسرا رخ یہ ہے کہ اس میں ان لوگوں کے لئے ایک خوفناک تہدید ہے جو مومنین کو دھوکہ دینے کی کوشش کرتے ہیں ۔ ان کے خلاف سازشیں کرتے ہیں اور ان کی ایذارسانی کے درپے ہوتے ہیں ۔ انہیں کہا جارہا ہے کہ ان کی یہ جنگ صرف مومنین کے خلاف ہی نہیں بلکہ وہن درحقیقت اس ذات اقدس کے خلاف صف آراء ہیں جو قوی و متین ہے اور قہاروجبار ہے ۔ اللہ کے دوستوں سے برسرپیکار ہوکر وہ دراصل اللہ کے خلاف لڑ رہے ہیں اور اپنی ان ذلیلانہ سرگرمیوں کی وجہ سے اللہ کے قہر وغضب کے مستحق بن رہے ہیں ۔

مومنین کا یہ فرض ہے کہ وہ اس حقیقت عظمیٰ کے ان دونوں پہلوؤں پر اچھی طرح غور وفکر کریں تاکہ انہیں اطمینان وثبات حاصل ہو اور وہ ٹھیک ٹھیک اپنی منزل کی طرف بڑھتے رہیں اور دھوکہ بازوں کے دھوکوں ، سازشیوں کی سازشوں اور اشرار کی ایذا رسانیوں کی کوئی پرواہ نہ کریں ۔ مومنین کے دشمنوں کو بھی ایک لمحہ کے لئے اس حقیقت پر غور کرلینا چاہئے ۔ انہیں چاہئے کہ وہ سوچ لیں کہ وہ کس کے ساتھ برسر پیکار ہیں اور کس ذات کے قہر وغضب کا مستحق بن رہے ہیں ۔ انہیں اس بات سے ڈرنا چاہئے کہ مومنین کے درپے آزاد ہوکر وہ کیا خطرہ مول لے رہے ہیں ؟

اب ہم دوبارہ ان لوگوں کی طرف متوجہ ہوتے ہیں جو بزعم خود مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں اور اپنے آپ کو غایت درجہ کا ذہین اور معاملہ فہم تصور کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے ہیں ۔ لیکن ملاحظہ کیجئے کہ آیت کے اختتام سے پہلے ہی وہ کس عظیم مذاق کا شکار ہوجاتے ہیں ۔

وَ مَا یَخدَعُونَ اِلَّاآ اَنفُسَہُم وَ مَا یَشعُرُونَ ” مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں یعنی وہ اس قدر غافل ہیں کہ خود اپنے آپ کو دھوکہ دے رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور تک نہیں اور اللہ ان کی سب حرکات سے باخبر ہے ۔ رہے مومنین تو وہ براہ راست اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں ہیں اور ان کے ذلیلانہ مکر و فریب سے وہ خود انہیں بچارہا ہے ۔ لیکن یہ نادان خواہ مخواہ دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ اور اپنے آپ کو برائی اور گناہوں سے ملوث کررہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ روش نفاق اختیار کرکے انہوں نے بہت نفع بشہ سودا کیا ہے ۔ اور اس سے انہیں کافی فائدہ پہنچا لیکن اس طرح وہ مومنین کی سوسائٹی میں اعلان کفر جیسے مشکل کام سے بھی بچ گئے اور مومنین کے ساتھ نئے معاشرے کے مفادات بھی انہوں نے سمیٹ لئے ۔ حالانکہ جس کفر کو وہ اپنے دل میں چھپا رہے ہیں وہ انہیں ہلاکت کے گھڑے کی طرف لے جارہا ہے ۔ ان کا نفاق ان کے لئے تباہی کا سامان ہے اور اس کی وجہ سے وہ ایک نہایت نامسعود انجام تک پہنچنے والے ہیں ۔

اردو ترجمہ

ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا دیا، اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں، اس کی پاداش میں ان کے لیے درد ناک سزا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fee quloobihim maradun fazadahumu Allahu maradan walahum AAathabun aleemun bima kanoo yakthiboona

لیکن سوال یہ ہے کہ منافقین یہ حرکت کیوں کرتے ہیں ۔ روش نفاق اختیار کرکے وہ مومنین کو یہ دھوکہ کیوں دینا چاہتے ہیں ؟ اس لئے کہ فِی قُلُوبِھِم مَّرَضٌ” ان کے دلوں میں بیماری ہے۔ “ ان کے دلوں کو یہ روگ لگ گیا ہے ۔ دماغوں پر یہ آفت آن پڑی ہے اور یہ انہیں حق کی راہ مستقیم پر چلنے نہیں دیتی ۔ اس کی وجہ سے وہ پھر اس بات کے مستحق ہوجاتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قانون قدرت ان کے اس روگ کو اور زیادہ کردے فَزَادَھُمُ اللہ ُ مَرَضًا ” ان کی اس بیماری کو اللہ نے اور بڑھادیا۔ “ ظاہر ہے کہ ایک بیماری دوسری کو جنم دیتی ہے ۔ گمراہی ابتداء میں نہایت معمولی ہوتی ہے اور جونہی اس کے خطوط وحدود آگے بڑھتے ہیں اس کا زاویہ وسیع تر ہوتا جاتا ہے ۔ یہ اللہ کا قانون قدر ہے ، جو ہر جگہ جاری وساری ہے ۔ یہ قانون فطرت انسانی سوچ اور طرز عمل تمام چیزوں اور تمام حالات میں جاری ہے ۔ وہ خود ایک معلوم ومعروف انجام کی طرف چلے جارہے ہیں ۔ وہ انجام جو ان سب لوگوں کے لئے مقدور ہے جو اللہ اور مومنین کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں ۔ وَ لَہُم عَذَابٌ اَلِیمٌم بِمَا کَانُوا یَکذِبُون ” یہ جھوٹ بولتے ہیں اور اس کی پاداش میں ان کے لئئے دردناک عذاب ہے ۔ “ ان کی اہم صفات میں سے یہ دوسری صفت ہے ، بالخصوص ان لوگوں کی جو ان میں سرکردہ تھے اور ہجرت رسول ﷺ سے قبل اپنی قوم اور قبیلے میں سرداری کے مناسب پر فائز تھے مثلاً عبداللہ ابن ابی ابن سلول ۔ ان کی خصوصیت یہ تھی کہ وہ مومنین کے خلاف دل میں گہراکینہ رکھتے تھے اور جو فتنہ و فساد برپا کرتے تھے اس کے لئے تاویلیں پیش کرتے اور اپنے ان کارناموں پر ہر قسم کی سزا ومواخذہ سے بچ کر پھولے نہ سماتے ۔

اردو ترجمہ

جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین پر فساد برپا نہ کرو تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha qeela lahum la tufsidoo fee alardi qaloo innama nahnu muslihoona

گویا یہ لوگ جھوٹ اور فریب پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ مومنین کو بیوقوف سمجھتے ہوئے الٹا یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ ہم تو مصلح ہیں وہ اس نصیحت کا کہ ” زمین میں فساد نہ کرو۔ “ یہ سادہ جواب نہیں دیتے کہ ” بھائی ہم کب فساد برپاکر رہے ہیں ؟ بلکہ وہ اکڑ کر یہ ادعا کرتے ہیں کہ ” مصلح تو ہیں ہی ہم۔ “

ہر دور اور ہر زمانے میں لوگوں کی یہ قسم دیکھنے میں آئی ہے کہ وہ عملاً فساد کی بدترین شکلیں برپاکررہی ہوتی ہیں اور اس کا دعویٰ یہ ہوتا ہے کہ ہم تو بس اصلاح معاشرہ چاہتے ہیں جب معاشرہ میں بلند اقدار تباہ ہوتی ہیں تو ایسے لوگ پیدا ہوتے ہیں ۔ وہ اخلاص اور پاکیزگی نفس سے محروم ہوتے ہیں اور جب اخلاص جاتا رہے اور نفس انسانی میں فساد پیدا ہوجائے تو تمام اعلیٰ قدریں اور حسن وقبح کے پیمانے از خود ختم ہوجاتے ہیں اور جن لوگوں کے دلوں میں خلوص اور ایمان نہ رہے ۔ وہ کبھی بھی فساد فکر وعمل کا شعور نہیں پاسکتے اور ان کے دل و دماغ میں خیر وشر اور اصلاح و فساد کا جو پیمانہ ہوتا ہے ، وہ ان کی خواہشات نفسانی کی طرف ، جھکتا رہتا ہے اور ربانی نظام حیات کی طرف مائل نہیں ہوتا ۔ اسی لئے ان کے اس دعوے کا یہ سخت لیکن حقیقت پسندانہ جواب دیا جاتا ہے۔

اردو ترجمہ

خبردار! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ala innahum humu almufsidoona walakin la yashAAuroona

اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ المُفسِدُونَ وَ ٰلکِن لَّا یَشعُرُونَ ” خبردار ! حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعور نہیں ہے ۔ “ ان لوگوں کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ بھی ہے کہ وہ کبر و غرور میں مبتلا ہوتے ہیں اور اپنے آپ کو عوام الناس سے اونچے درجے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے ہیں اور ان لوگوں کے دلوں میں اپنا جھوٹاوقار قائم رکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وَ اِذَا قِیلَ لَہُم اٰمِنُوا کَمَآ ٰامَنَ النَّاسُ قَالُوآ اَنُؤمِنُ کَمَآ ٰامَنَ السُّفَہَاءُ ، اَلآَ اِنَّہُم ھُمُ السُّفَہَآءُ وَلَکِن لَّا یَعلَمُون ” اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں ؟ خبردار حقیقت میں یہ تو خود بیوقوف ہیں ، مگر جانتے نہیں ۔ “

حقیقت یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں منافقین کو جس چیز کی طرف بلایا جارہا تھا وہ یہ تھی کہ وہ مخلصانہ طور پر ایمان لے آئیں اور اپنے ایمان کی ذاتی خواہشات سے پاک کردیں ۔ جس طرح دوسرے مخلصین اپنی انفرادیت ختم کرکے پوری طرح اسلام کے اندر جذب ہوگئے تھے ۔ اور انہوں نے اللہ کے سامنے سرتسلیم خم کردیا تھا اور انہوں نے نبی ﷺ کے لئے اپنے دلوں کے تمام دریچے کھول دیئے تھے ۔ آپ ﷺ انہیں جو ہدایت بھی دیتے وہ اخلاص اور بےنفسی سے لبیک کہتے تھے ۔ چناچہ منافقین کو دعوت دی جارہی تھی کہ وہ بھی ان لوگوں کی طرح اخلاص ۔ استقامت اور واضح اور صاف دل و دماغ کے ساتھ ایمان لائیں ۔

لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ یہ منافقین ان معنوں میں نبی کریم ﷺ کے سامنے پوری طرح جھکنے کے لئے تیار نہ تھے ۔ وہ اپنے آپ کو اعلیٰ طبقے (Upper Class) کے لوگ سمجھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ ان کے لئے تسلیم ورضا کی یہ کیفیت ضروری نہیں ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ وہ مومنین کے بارے میں کہتے تھے کہ کیا ہم ان بیوقوفوں کی طرح اندھی اطاعت کرتے پھریں اور قرآن نے بھی اس سختی ، تاکید اور جزم کے ساتھ ان کے اس زعم باطل کی تردید کی ۔” خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں مگر جانتے نہیں ۔ “

اردو ترجمہ

اور جب ان سے کہا گیا جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اسی طرح تم بھی ایمان لاؤ تو انہوں نے یہی جواب دیا "کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں؟" خبردار! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں، مگر یہ جانتے نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha qeela lahum aminoo kama amana alnnasu qaloo anuminu kama amana alssufahao ala innahum humu alssufahao walakin la yaAAlamoona

اردو ترجمہ

جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اور جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کر رہے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waitha laqoo allatheena amanoo qaloo amanna waitha khalaw ila shayateenihim qaloo inna maAAakum innama nahnu mustahzioona

سوال یہ ہے کہ کوئی بیوقوف کبھی یہ سمجھا ہے کہ وہ بیوقوف ہے ، یا کوئی گمراہ کبھی یہ شعور رکھتا ہے کہ وہ جادہ مستقیم سے ہٹ چکا ہے ۔ اس کے اب منافقین کی آخری صفت کو بیان کیا جاتا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ یہ لوگ صرف جھوٹ ، فریب کاری ، تحقیر مسلمین اور ادعاء وتعلی ہی میں مبتلا نہیں بلکہ ان مذموم صفات کے ساتھ وہ پست ہمت ، لئیم ، سازشی اور مکار بھی ہیں ۔ ان کی حالت یہ ہے کہ وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلَوْا إِلَى شَيَاطِينِهِمْ قَالُوا إِنَّا مَعَكُمْ إِنَّمَا نَحْنُ مُسْتَهْزِئُونَ ” جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “

بعض لوگ اس ذلت اور کمینگی کو قوت اور حکمت سمجھتے ہیں ، مکروفریب ان کے پر خیال میں غایت درجے کی فراست وسیاست ہوتی ہے۔ حالانکہ یہ چیز درحقیقت بےچارگی اور خسیس پنے کی آخری حد ہوتی ہے ۔ ایک پرشوکت اور قوی انسان کبھی کمینہ اور خبیث النفس نہیں ہوسکتا۔ نہ اسے مکر و فریب کی ضرورت پڑتی ہے ۔ نہ اسے اس بات کی ضرورت پڑتی ہے کہ وہ تنہائی میں چغل خوریاں کرے اور طعنے اور طنز سے دل کا غبار نکالے ۔ ان منافقین کا یہ حال تھا کہ وہ کھلم کھلا مسلمانوں کا سامنا کرنے سے کترا رہے تھے اور مومنین سے مل کر اپنی طرف سے بھی اس بات کا اظہار کررہے تھے کہ ہم مومن ہیں تاکہ اس طرح وہ مومنین کی جانب سے ہر قسم کی اذیت سے محفوظ رہیں اور اس طرح محفوظ ومامون ہو کر مومنین کے خلاف نیش زنی کرتے رہیں ۔ یہ لوگ جب اپنے شیاطین کے پاس جاتے ، جو غالباً (یہود ہوا کرتے تھے ، اور جنہیں ایسے لوگوں میں سے ایسے کئی افراد مل جاتے تھے جو اسلامی صفوں میں انتشار واختلاف پھیلانے کے لئے استعمال ہوں ۔ دوسری طرف یہودی بھی ایسے لوگوں کے لئے ایک سہارے اور ملجاوماویٰ کا کام کرتے تھے ۔ چناچہ یہ منافقین ” جب علیحدگی میں اپنے شیطانوں سے ملتے تو کہتے کہ اصل میں ہم تو تمہارے ساتھ ہیں اور ان لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں ۔ “ مومنین سے ان کا مذاق یہ تھا کہ وہ ایمان اور تصدیق قلبی کا اقرار کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ بس مومنین کیا جانتے ہیں کہ ہم کیا ہیں ۔

ان کی اس عیارانہ گفتگو اور مکارانہ طر زعمل کی وضاحت کے فوراً بعد قرآن کریم انہیں ایسی سخت ڈانٹ پلاتا ہے کہ اگر احساس ہو تو پہاڑ بھی مارے خوف کے کانپ اٹھیں۔

اردو ترجمہ

اللہ ان سے مذاق کر رہا ہے، وہ ان کی رسی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Allahu yastahzio bihim wayamudduhum fee tughyanihim yaAAmahoona

اللَّهُ يَسْتَهْزِئُ بِهِمْ وَيَمُدُّهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ” اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ، وہ ان کی رسی دراز کئے جاتا ہے اور یہ اپنی رو میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں ۔ “ کس قدر بدبخت ہے وہ شخص کہ آسمان و زمین کا قہار وجبار جس کے ساتھ مذاق کررہا ہے ؟ اس سے بڑی شقاوت کوئی اور نہیں ” اللہ ان کی رسی دراز کئے جارہا ہے اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے ہیں ۔ “ جب ایک حساس انسان ان الفاظ پر غور کرتا ہے اور مرکب خیال جو لانی دکھاتا ہے تویہاں آکر وہ نہایت ہی خوفناک اور کپکپا دینے والے منظر کے سامنے بےحس و حرکت کھڑا ہوجاتا ہے ۔ یہ اس قدر خوفناک انجام ہے جس سے دل دہل جاتے ہیں اور بدن پر رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں ۔ چناچہ ان مکاریوں کو یوں اپنے حال پر چھوڑدیا جاتا ہے ۔ نہ ان کا کوئی مرشد ۔ نہ کوئی راہ سجھائی دیتی ہے ۔ نہ ان کے سامنے کوئی مقصد ہے ۔ یہ لوگ اسی سرگردانی کی حالت میں ہوتے ہیں کہ اللہ دست قدرت انہیں اپنی شدید گرفت میں لے لیتا ہے اور یہ چوہوں کی طرح غفلت و لاپرواہی کے عالم میں جال میں کو دجاتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کی جانب سے یہ ایک خوفناک انجام ہے اور اس کے مقابلے میں اس مذاق کی کوئی حیثیت نہیں ہے جو یہ اپنے خیال کے مطابق کررہے ہیں ۔

یہاں اس حقیقت کا اظہارہورہا ہے جس کی طرف ہم پہلے بھی اشارہ کر آئے ہیں کہ کفر واسلام کے معرکہ میں خود اللہ تعالیٰ مومنین کا والی اور مددگار ہوتا ہے ۔ اللہ کے دوستوں اور بندوں کے لئے اس کی سرپرستی میں اگر طمانیت قلب کا ایک عظیم سرمایہ ہے تو اللہ تعالیٰ کے مخبوط الحواس ، غافل اور راندہ درگاہ دشمنوں کے لئے انجام بد اور ایک خوفناک پایان کار کی نشان دہی ہے ، جو اس کے لئے دھوکہ کھائے ہوئے ہیں کہ اللہ ان کے لئے رسی دراز کئے جارہا ہے اور وہ اپنی سرکشی اور گمراہی میں سرگرداں ہیں ۔ یہ اندھے ہورہے ہیں ، غفلت میں ڈوبے جارہے ہیں ، حالانکہ ایک خوفناک انجام ان کا منتظر ہے۔

اردو ترجمہ

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Olaika allatheena ishtarawoo alddalalata bialhuda fama rabihat tijaratuhum wama kanoo muhtadeena

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ “ اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی ۔ ان پر ہدایت کے دریا بہادیئے گئے تھے ۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی ۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے ۔ ویسا ہی انجام ان کا بھی ہوا۔ اس سودے میں انہیں کوئی نفع نہ ہوا اور ہدایت بھی ہاتھ سے جاتی رہی ۔

آپ نے دیکھا کہ قرآن نے ان آیات میں تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کی ہے ۔ ان میں سے اس تیسرے فریق نے لوح قرطاس میں نسبتاً زیادہ وسیع جگہ لی ۔ اس کے وسیع خاکے میں ہمیں مختلف رنگ بھرے ہوئے نظر آتے ہیں ، جو پہلی اور دوسری تصویر میں نہیں ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلی اور دوسری تصویر میں جو لوگ دکھائے گئے ہیں ان کی راہ ورسم کسی نہ کسی شکل میں متعین ہے۔ وہ سیدھی طرح ایک مخصوص روش پر قائم ہیں ۔ پہلی تصویر میں ایک ایسا کردار نظر آتا ہے جو فکر مستقیم کا مالک ہے ۔ ایک سیدھی راہ ہے جس پر وہ بالکل سیدھا جارہا ہے ۔ دوسری تصویر میں ایک نابینا شخص دکھایا گیا ہے جو حیران وسرگردان ہے اور اندھیرے میں ٹامک ٹوئیاں ماررہا ہے ۔ لیکن تیسرے شخص کی نفسیاتی حالت اس قدر پیچیدہ اس کا دل اس قدر بیمار ہے اور فکر اس قدر پریشان ہے کہ اس پر مزید آخری ، ایک آخری تبصرے کی ضرورت ہے ۔ اس تصویر میں کچھ مزید خاکے ہیں اور ان میں رنگ بھرے گئے ہیں تاکہ اس گروہ کی مکروہ اور متلون شخصیت کے خدوخال اچھی طرح واضح ہوسکیں ۔

اس تفصیلی بحث سے ایک طرف تو وہ کردار بھی اچھی طرح ہمارے سامنے آجاتا ہے جو منافقین مدینہ ، فدائیان اسلام کی ایذارسانی ، ان کے اندرانتشار اور بےچینی پھیلانے کے سلسلے میں ادا کررہے تھے ۔ دوسری طرف اسلامی جماعت کو متنبہ کردیا جاتا ہے کہ ہر دور میں ایک منافق ، نظم جماعت کے لئے کس قدر خطرناک ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور اسلامی جماعت میں ان منافقین کی پردہ وری اور ان کی سازشوں کو بےنقاب کرنے کی کتنی اہمیت و ضرورت ہے ۔

3