وکم اھلکنا من القرون من بعد نوح وکفی بربک بذنوب عبادہ خبیرا بصیرا (71 : 71) ” دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوح (علیہ السلام) کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک لوئیں۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے “۔
اب آخر میں بتایا جاتا ہے بعض لوگ صرف دنیا ہی کے لئے زندہ رہتے ہیں۔ صرف اس دنیا کے لئے ۔ وہ اس زمین سے اوپر کی طرف نظریں نہیں اٹھاتے ، ایسے لوگوں کو اللہ صرف اس دنیا کے سامان فراہم کرتا ہے ، اور آخرت میں ایسے لوگوں کے حصے میں صرف جہنم آتی ہے ، اور جو لوگ صرف اس دنیا ہی کے لئے زندہ ہوتے ہیں اور ان کی نظریں اس سے آگے کسی منظر کی تلاش میں نہیں اٹھتیں ، وہ اسی دنیا میں ڈوب جاتے ہیں۔ وہ اس زمین کے کیچڑ میں لت پت ہوتے ہیں ، کیڑوں کی طرح گندی نالیوں میں پڑے رہتے ہیں ، اور ہر قسم کی گندی لذت کوشی میں ڈوبے ہوئے ہوتے اور شہوت اور جذبات کے غلام ہوتے ہیں اور دنیاوی لذت کے حصول میں ایسے ایسے کاموں کا ارتکاب کرتے ہیں جو ان کو جہنم رسید کردیتے ہیں۔
آل قریش سے خطاب اے قریشیوں ! ہوش سنبھالو میرے اس بزرگ رسول کی تکذیب کر کے بےخوف نہ ہوجاؤ تم اپنے سے پہلے نوح ؑ کے بعد کے لوگوں کو دیکھو کہ رسولوں کی تکذیب نے ان کا نام و نشان مٹا دیا۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ نوح سے پہلے کے حضرت آدم ؑ تک کے لوگ دین اسلام پر تھے۔ پس تم اے قریشیو کچھ ان سے زیادہ ساز و سامان اور گنتی اور طاقت والے نہیں ہو۔ اس کے باوجود کہ تم الشرف الرسل خاتم الانبیاء کو جھٹلا رہے ہو پس تم عذاب اور سزا کے زیادہ لائق ہو۔ اللہ تعالیٰ پر اپنے کسی بندے کا کوئی عمل پوشیدہ نہیں خیر و شر سب پر ظاہر ہے، کھلا چھپا سب وہ جانتا ہے ہر عمل کو خود دیکھ رہا ہے۔