قرآن کریم عقیدہ توحید لے کر آیا۔ اس عقیدے کو قرآن نے مختلف اسالیب سے بیان کیا اور اس پر بیشمار دلائل دئیے۔ اور کئی طریقے اختیار کیے تاکہ لوگ نصیحت حاصل کریں اور فطری دلائل اور فطری اور منطقی طرز استدلال کو سمجھیں اور توحید کا فطری عقیدہ قبول کرلیں اور اس کائنا ت میں اللہ وحدہ لاشیرک کی ذات پر جو آثار و دلائل موجود ہیں ان پر غور کریں مگر ان لوگوں نے اس کے سوا کچھ نہ کیا کہ انہوں نے قرآن سے نفرت کی۔ کیونکہ انہیں ڈر یہ تھا کہ اگر انہوں نے قرآن کو سنا اور پڑھا تو وہ ان عقائد باطلہ پر قائم نہ رہ سکیں گے ، جن کو وہ مضبوطی سے پکڑے رہنا چاہتے ہیں ، کیونکہ ان کے عقائد شرکیہ ، اوہام اور خرافات پر مبنی تھے ور قرآن کے فطری اور منطقی استدلال کے مقابلے میں ٹھہر نہیں سکتے تھے۔
جس طرح اس سے قبل لڑکیوں کی نسبت الی اللہ کے معامل میں قرآن کریم نے ان کے خیالات کے مطابق بات کی تھی کہ خود اپنے لئے تو لڑکیوں کو پسند نہیں کرتے مگر اللہ کے لئے ثابت کرتے ہیں ، اب یہاں ان کے عقیدہ شرکیہ کو فرض کرکے یہ کہا جاتا ہے کہ اگر کوئی دوسرے خدا بھی ہوتے تو وہ اللہ کی ذات تک پہنچے کی کوء نہ کوئی سبیل نکالتے۔ وہ اللہ کا قرب حاصل کرتے۔
آیت 41 وَلَقَدْ صَرَّفْــنَا فِيْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِيَذَّكَّرُوْاان کی نصیحت کے لیے ہم نے قرآن میں اسلوب بدل بدل کر حق کو واضح کیا ہے۔ اس سورة مبارکہ کے بارے میں ایک خاص بات یہ ہے کہ اس میں قرآن کا لفظ اور ذکر بار بار آیا ہے۔ گویا اس سورت کے مضامین کا تانا بانا قرآن سے متعلق ہے۔ اس سے پہلے آیت 9 میں فرمایا گیا : اِنَّ ہٰذَا الْقُرْاٰنَ یَہْدِیْ لِلَّتِیْ ہِیَ اَقْوَمُ ۔ آیت زیر نظر میں بھی قرآن کا ذکر ہے اور یہ ذکر اس انداز میں آئندہ آیات میں بھی بار بار آئے گا۔وَمَا يَزِيْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًایہ ان لوگوں کی بد بختی ہے کہ قرآن میں گوناگوں اسلوبوں میں حق واضح ہوجانے کے باوجود ان کی بیزاری اور نفرت ہی میں اضافہ ہورہا ہے اور وہ حق سے اور زیادہ دور بھاگے جا رہے ہیں۔
دلائل کے ساتھ ہدایت اس پاک کتاب میں ہم نے تمام مثالیں کھول کھول کر بیان فرما دی ہیں۔ وعدے وعید صاف طور پر مذکور ہیں تاکہ لوگ برائیوں سے اور اللہ کی نافرمانیوں سے بچیں۔ لیکن تاہم ظالم لوگ تو حق سے نفرت رکھتے اور اس سے دور بھاگنے میں ہی بڑھ رہے ہیں۔