یہ ایک ایسا منظر ہے جو مختلف انسانی گروہوں کی عکاسی کر رہا ہے ، جس میں مختلف گروپ نظر آ رہے ہیں جو مختلف رنگوں ، مختلف علاقوں اور مختلف زمانوں سے تعلق رکھتے ہیں ۔ یہ سب لوگ ایک وسیع میدان میں اٹھائے گئے ہیں اور یہ لوگ بغیر کسی نظام اور ترتیب کے ایک دوسرے کے خلاف گتھم گتھا ہو رہے ہیں ۔ کسی کو معلوم نہیں کہ وہ کیوں ادھر سے ادھر بھاگ رہا ہے۔ یہ لوگ دریا کی موجوں کی طرح ایک دور سے کے ساتھ ٹکراتے ہیں اور باہم مل جاتے ہیں بغیر کسی انتظام کے۔ پھر ایک صور پھونکا جائے گا۔
ونفخ فی الصور فجمعنھم جمعاً (81 : 99) ” پھر صور پھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔ “ اب وہ ایک صف میں منظر طریقے سے کھڑے ہیں۔
پھر وہ کافر جنہوں نے اللہ کی یاد سے منہ موڑا اور جو اس طرح نظر آ رہے تھے کہ شاید ان کی آنکھوں پر پردے ہیں اور شاید ان کے کانوں میں سننے کی قوت ہی نہیں ہے۔ ان پر جنم پیش ہوگی ۔ اب یہ لوگ جہنم سے اس طرح منہ نہ موڑ سکیں گے جس طرح یہ دنیا میں ہایت سے منہ موڑ رہے تھے۔ اب ان میں موڑنے کی طاقت نہ ہوگی۔ اب ان کی آنکھوں کے اوپر سے پردے ہٹ جائیں گے اب وہ سرکشی اور اعراض کا نتیجہ اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہوں گے یعنی جزاء پوری کی پوری جزائ۔
قرآن کریم نے یہاں اس منظر کو اس طرح پیش کیا ہے کہ ان کے اعراض کی تصویر کو اور ان کے لئے جہنم کی تپیش کو ایک دوسرے کے بالمقبال پیش کیا ہے دونوں چیزیں عملاً حرکت کرتے ہوئے منظر کی صورت میں پیش کی گئی ہیں اور یہ قرآن کریم کا مخصوص انداز کلام ہے اور اس تقابلی منظر کشی پر پھر تبصرہ ، نہایت ہی ختلخ اور حقارت آمیز تبصرہ یوں کیا جاتا ہے !
آیت 99 وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَىِٕذٍ يَّمُوْجُ فِيْ بَعْضٍ یہ قیامت سے پہلے رونما ہونے والے جنگی واقعات کی طرف اشارہ ہے۔ قرب قیامت کے واقعات میں سے ایک اہم واقعہ یاجوج و ماجوج کا ظہور بھی ہے۔ احادیث میں ان کے بارے میں ایسی خبریں ہیں کہ وہ دریاؤں اور سمندروں کا پانی پی جائیں گے اور ہرچیز کو ہڑپ کر جائیں گے۔ عین ممکن ہے وہ آدم خور بھی ہوں اور ضرورت پڑنے پر انسانوں کو بھی کھا جائیں۔ جیسے آج ہم چینی قوم کو دیکھتے ہیں کہ وہ سانپ بچھو کتا بلی ہرچیز کو ہڑپ کر جاتے ہیں۔ کثرت آبادی کے لحاظ سے بھی یاجوج و ماجوج کی بیشتر علامات کا تطابق چینی قوم پر ہوتا نظر آتا ہے۔یاجوج و ماجوج کی یلغار کا نقشہ سورة الانبیاء میں اس طرح کھینچا گیا ہے : وَہُمْ مِّنْ کُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ ”اور وہ ہر پہاڑ کی ڈھلوان سے اترتے ہوئے نظر آئیں گے“۔ 1962 ء میں چین بھارت جنگ کے دوران اخباروں نے چینی افواج کے حملوں کی تفصیلات بتاتے ہوئے بھی کچھ ایسی ہی تصویر کشی کی تھی : " Waves after waves of Chinese soldiers were coming down the slopes." بہرحال جس طرح یاجوج و ماجوج آج سے ڈھائی ہزار سال پہلے اپنے ملحقہ علاقوں کی مہذب آبادیوں کو تاخت و تاراج کرتے تھے ‘ اسی طرح قیامت سے پہلے ایک دفعہ پھر وہ دنیا میں تباہی مچائیں گے اور ان کا ظہور اپنی نوعیت کا ایک بہت اہم واقعہ ہوگا۔