سورۃ المائدہ (5): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Maaida کی تمام آیات کے علاوہ فی ظلال القرآن (سید ابراہیم قطب) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ المائدة کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ المائدہ کے بارے میں معلومات

Surah Al-Maaida
سُورَةُ المَائـِدَةِ
صفحہ 117 (آیات 51 سے 57 تک)

۞ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلْيَهُودَ وَٱلنَّصَٰرَىٰٓ أَوْلِيَآءَ ۘ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَآءُ بَعْضٍ ۚ وَمَن يَتَوَلَّهُم مِّنكُمْ فَإِنَّهُۥ مِنْهُمْ ۗ إِنَّ ٱللَّهَ لَا يَهْدِى ٱلْقَوْمَ ٱلظَّٰلِمِينَ فَتَرَى ٱلَّذِينَ فِى قُلُوبِهِم مَّرَضٌ يُسَٰرِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَىٰٓ أَن تُصِيبَنَا دَآئِرَةٌ ۚ فَعَسَى ٱللَّهُ أَن يَأْتِىَ بِٱلْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِهِۦ فَيُصْبِحُوا۟ عَلَىٰ مَآ أَسَرُّوا۟ فِىٓ أَنفُسِهِمْ نَٰدِمِينَ وَيَقُولُ ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓا۟ أَهَٰٓؤُلَآءِ ٱلَّذِينَ أَقْسَمُوا۟ بِٱللَّهِ جَهْدَ أَيْمَٰنِهِمْ ۙ إِنَّهُمْ لَمَعَكُمْ ۚ حَبِطَتْ أَعْمَٰلُهُمْ فَأَصْبَحُوا۟ خَٰسِرِينَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ مَن يَرْتَدَّ مِنكُمْ عَن دِينِهِۦ فَسَوْفَ يَأْتِى ٱللَّهُ بِقَوْمٍ يُحِبُّهُمْ وَيُحِبُّونَهُۥٓ أَذِلَّةٍ عَلَى ٱلْمُؤْمِنِينَ أَعِزَّةٍ عَلَى ٱلْكَٰفِرِينَ يُجَٰهِدُونَ فِى سَبِيلِ ٱللَّهِ وَلَا يَخَافُونَ لَوْمَةَ لَآئِمٍ ۚ ذَٰلِكَ فَضْلُ ٱللَّهِ يُؤْتِيهِ مَن يَشَآءُ ۚ وَٱللَّهُ وَٰسِعٌ عَلِيمٌ إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ ٱللَّهُ وَرَسُولُهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ ٱلَّذِينَ يُقِيمُونَ ٱلصَّلَوٰةَ وَيُؤْتُونَ ٱلزَّكَوٰةَ وَهُمْ رَٰكِعُونَ وَمَن يَتَوَلَّ ٱللَّهَ وَرَسُولَهُۥ وَٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ فَإِنَّ حِزْبَ ٱللَّهِ هُمُ ٱلْغَٰلِبُونَ يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوا۟ لَا تَتَّخِذُوا۟ ٱلَّذِينَ ٱتَّخَذُوا۟ دِينَكُمْ هُزُوًا وَلَعِبًا مِّنَ ٱلَّذِينَ أُوتُوا۟ ٱلْكِتَٰبَ مِن قَبْلِكُمْ وَٱلْكُفَّارَ أَوْلِيَآءَ ۚ وَٱتَّقُوا۟ ٱللَّهَ إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ
117

سورۃ المائدہ کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ المائدہ کی تفسیر (فی ظلال القرآن: سید ابراہیم قطب)

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کر دیتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la tattakhithoo alyahooda waalnnasara awliyaa baAAduhum awliyao baAAdin waman yatawallahum minkum fainnahu minhum inna Allaha la yahdee alqawma alththalimeena

(آیت) ” نمبر 51 تا 53۔

یہاں مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس ولایت اور رفاقت کا مفہوم متعین کردیا جائے جس سے اہل ایمان کو اللہ تعالیٰ سختی سے منع کرتے ہیں کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ رفاقت نہ ہونی چاہئے ۔

اس رفاقت کا مفہوم یہ ہے کہ یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ حلیفانہ اور باہم تعاون اور امداد کا معاہدہ نہ ہونا چاہئے ۔ اس کا مفہوم یہ نہیں ہے کہ تم ان کے دین کی اتباع کرو اور اس لئے کہ یہ تو سوچنا بھی ممکن نہیں ہے کہ مسلمانوں میں ایسا بھی کوئی ہو سکتا ہے کہ وہ یہودیوں اور نصرانیوں کے دین کی اتباع کرتا ہو۔ یہ درحقیقت باہم تحالف اور معاونت کی دوستی ہوتی تھی ‘ جس کے بارے میں اس وقت مسلمانوں کا ذہن صاف نہ تھا کہ یہ بھی حرام ہے ۔ مسلمان یہ سمجھتے تھے کہ ایسے تحالف اور تعاون ابھی تک جائز ہیں ۔ اور یہ التباس اس لئے تھا کہ اسلام سے پہلے ان لوگوں کے درمیان ایسے دوستی کے معاہدے ہوا کرتے تھے اور اسلام کے ابتدائی ایام میں بھی ایسا ہوتا تھا خصوصا مدینہ کے ابتدائی ایام میں ۔ ان نصوص کے ذریعے اللہ نے اس سے منع کردیا اور ایسے معاہدوں کو باطل قرار دے دیا ۔ خصوصا جبکہ میثاق مدینہ کے مطابق مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان ہونے والے معاہدے پر یہودیوں نے عمل نہ کیا تھا اور اس سے ظاہر ہوگیا تھا کہ اہل اسلام اور ان کے درمیان اب کوئی معاہدہ ولا ممکن نہیں ہے ۔

یہ مفہوم اور مدلول قرآن کی تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہے ۔ (دیکھئے مسلمانان مدینہ اور ان مسلمانوں کے بارے میں جو ابھی تک مکہ میں تھے اور انہوں نے ہجرت نہ کی تھی (آیت) ” مالکم من ولایتھم من شیء حتی یھاجروا “ یعنی تمہارے اور ان کے درمیان کوئی دوستی اور رفاقت نہیں ہے ۔ الا یہ کہ وہ ہجرت کریں ۔ ظاہر ہے کہ اس ولایت سے مراد ولایت فی الدین یعنی اسلامی بھائی چارہ نہیں ہے ۔ یہاں ولایت سے مراد وہ دوستی ہے جس میں از روئے معاہدہ ایک دوسرے کے ساتھ نصرت اور تعاون کا اقرار کیا جاتا ہے ۔ یہ معاہدہ ان لوگوں کے درمیان بھی نہیں ہو سکتا جو اگرچہ مسلمان ہوں لیکن انہوں نے دارالاسلام کی طرف ابھی تک ہجرت نہ کی ہو ۔ یہی قسم ہے جس سے ان آیات میں اہل اسلام کو منع کیا گیا ہے کہ وہ یہود ونصاری کے ساتھ اس قسم کی دوستی نہ کریں جبکہ مدینہ کے ابتدائی دونوں میں یہ عہد قائم تھا ۔

اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اور بات ہے اور انکے ساتھ دوستی کے معاہدے کرکے ان کو اپنا دوست بنانا اور چیز ہے لیکن اہل اسلام کے دماغ کے اندر ابھی تک دین کی حقیقت نہیں اتری اور ابھی تک انہوں نے دین کے فرائض ووظائف کو نہیں سمجھا کہ دین ایک منظم اور حقیقت پسندانہ منہاج ہے ۔ یہ مسلسل حرکت میں رہتا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے کہ اس کرہ ارض پر ایک واقعی صورت حال پیدا کر دے جو اسلامی تصورحیات کے مطابق ہو ۔ یہ تصورحیات ان تمام تصورات سے مختلف ہے جو انسانیت کے اندر متعارف رہے ہیں۔ اس طرح اس اسلامی صورت حالات کا پھر ان تمام تصورات و حالات کے ساتھ تصادم ہوتا ہے جو اس کے خلاف ہوتے ہیں ۔ نیز اس کا لوگوں کی خواہشات کے ساتھ ‘ لوگوں کے فسق وفجور اور انکے انحرافات کے ساتھ بھی تصادم ہوتا ہے اور یہ نظام بھی ایسی کشمکش میں داخل ہوجاتا ہے کہ اس سے کوئی چھٹکارا نہیں ہوتا ۔ یہ تصادم اس لئے ہوتا ہے کہ اسلامی نظام ایک جدید صورت حال پیدا کرتا ہے اور اپنے اس ہدف کی طرف وہ مسلسل مثبت طور پر حرکت کرتا رہتا ہے ۔

ایسے لوگ جن کے شعور واحساس کے اندر اسلامی نظریہ حیات کا یہ پہلو واضح نہیں ہوتا اور جن کے شعور کے اندر اسلا اور دوسرے ملل ونحل کے اندر برپا معرکے کا اچھی طرح ادراک نہیں ہوتا اور جو اس قسم کی واضح قرآنی ہدایات سے غافل ہیں تو وہ ان ہدایات جن کے اندر اسلامی معاشرے میں رہنے والے اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا حکم دیا گیا ہے اور ان کے تمام حقوق محفوظ کئے گئے ہیں اور ان ہدایات کے درمیان جو معاہدات تحالف اور باہم نصرت کے بارے میں ہوتے ہیں اور جن کے مطابق ولایت اور دوستی صرف اللہ اور رسول اللہ اور جماعت مسلمہ کے ساتھ ہی ہو سکتی ہے وہ ان دونوں کے درمیان فرق نہیں کرتے ۔ وہ اس بات کو بھول جاتے ہیں کہ جب اسلام اور اہل کتاب کے درمیان کوئی معرکہ درپیش ہو تو اس میں اہل کتاب اور تمام دوسرے اہل کفر ایک دوسرے کے حلیف ہوتے ہیں اور یہ ان کی ایک مستقل پالیسی اور صفت ہے ۔ ان کو مسلمانوں کے ساتھ محض ان کے اسلام کی وجہ سے دشمنی ہوتی ہے اور یہ کہ وہ کسی مسلمان سے اس وقت تک راضی نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے دین کو چھوڑ کر ان کے دین کی اطاعت اختیار نہیں کرلیتا یہی وجہ ہے کہ تمام اہل کتاب اسلام اور اسلامی جماعتوں کے خلاف مسلسل برسرپیکار ہیں ۔ تاہم انکے منہ سے بھی کبھی کبھی یہ بات نکل جاتی ہے اور ان کے دلوں میں جو کچھ چھپا ہوا ہے وہ تو بہت ہی بڑا ہے ۔ یہ اور اس قسم کی دوسری باتیں ۔

ایک مسلمان کو بہرحال یہ ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ رواداری کا رویہ اختیار کرے ۔ لیکن اسے اس بات سے روکا گیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ دوستی کا معاہدہ کرے ۔ یعنی باہم نصرت اور حلیفانہ دوستی ۔ اس کی راہ جس پر چل کر اس نے دین کو قائم کرنا ہے اور اسے دنیا پہ غالب کرنا ہے اہل کتاب کی راہ سے بہت دور ہے اگرچہ وہ بہت بڑی رواداری اور محبت کا اظہار کیوں نہ کریں ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس بات پر کبھی راضی نہیں ہوسکتے کہ مسلمان اپنے دین پر قائم رہیں اور اسلامی نظام کو روبعمل لائیں اور یہ رواداری انہیں اس بات سے نہیں روک سکتی کہ وہ اسلام کے خلاف یکجا ہو کر نہ لڑیں۔ وہ ہمیشہ ایسا کرتے ہیں۔

یہ ایک عظیم سادہ لوحی ہوگی اور یہ ایک عظیم غفلت ہوگی کہ ہم یہ سمجھ بیٹھیں کہ ہمارے لئے دین کے غلبے کی راہ وہی ہے جس پر اہل کتاب یہودونصاری چل رہے ہیں اور اس راہ پر چل کر ہم کفار اور ملحدین کا مقابلہ کریں گے جب کہ کفار اور ملحد تو آج کل سب سے زیادہ یہی اہل کتاب ہیں ۔ چناچہ اب معرکہ بھی مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان ہے ۔

ہم میں سے جو سادہ لوح لوگ ہیں وہ اس ساری حقیقت کو سمجھ نہیں پاتے اور ہر دور میں ایسے مسلمان رہے ہیں کہ جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ مسلمان اور اہل کتاب مل کر الحاد اور مادیت کے خلاف جنگ کرسکتے ہیں اس لئے کہ اہل کتاب بھی اہل دین ہیں اور ہم بھی اہل دین ہیں ۔ لیکن یہ سادہ لوح لوگ قرآن کریم کی ان تمام تعلیمات کو بھول جاتے ہیں بلکہ پوری اسلامی تاریخ کو بھول جاتے ہیں ۔ اہل کتاب تو وہی لوگ ہیں جو ملحد اور مشرک لوگوں سے کہتے تھے ۔ (آیت) ” ھولاء اھدی من الذین امنوا سبیلا “۔ (یہ مشرک ان لوگوں کے مقابلے میں زیادہ ہدایت پر ہیں جو ایمان لائے ہیں ) اور یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے مسلمانوں کے خلاف احزاب کو جمع کیا تھا اور مدینہ پرچڑھ دوڑے تھے ۔ یہ تمام احزاب کو پروٹیکشن دیتے تھے ۔ یہ اہل کتاب ہی تھے جنہوں نے دو صد سال تک اسلام کے خلاف صلیبی جنگیں لڑیں اور یہی اہل کتاب ہی تو تھے جنہوں نے اندلس میں مسلمانوں کے خلاف ناقابل تصور جرائم کا ارتکاب کیا ۔ یہی اہل کتاب ہیں جنہوں نے حال ہی میں فلسطین سے عرب مسلمانوں کو نکالا اور انکی جگہ یہودیوں کو بسایا اور اس سلسلے میں وہ تمام ملحدوں اور زندیقوں سے تعاون کرتے رہے ۔ یہ اہل کتاب ہی ہیں جو ہر جگہ سے مسلمانوں کو خانہ بدر کر رہے ہیں ‘ حبشہ میں ‘ صومالیہ میں ‘ اریٹریا میں اور الجزائر میں غرض ہر جگہ وہ اس مالک بدری اور اس ظلم میں وہ ملحدین ‘ مشرکین اور بت پرستوں کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں ۔ یوگو سلاویہ ‘ چین ‘ ترکستان اور ہندوستان اور ہر جگہ وہ دشمنان اسلام کے ساتھ معاون ہیں۔

قرآن کریم کی ان مکمل اور جامع ہدایات اور فیصلوں کے بعد بھی ہم میں ایسے لوگ اٹھ کھڑے ہوتے ہیں جو یہ کہتے ہیں کہ مسلمانوں اور ان اہل کتاب کے درمیان ملحدانہ مادہ پرستی کے خلاف تعاون اور دوستی ہو سکتی ہے ۔ ایسے لوگوں نے درحقیقت قرآن کریم کا مطالعہ اچھی طرح نہیں کیا اور اگر کیا ہے تو پھر ان کے ذہنوں میں اسلام کے نظریہ مذہبی رواداری اور نظریہ ولایت اور دوستی کے درمیان خلط واقعہ ہوگیا ہے ۔

یہ اس قسم کے لوگ ہیں کہ ان کے شعور میں اسلام کی یہ حیثیت نہیں ہے کہ اسلام ایک نظریہ حیات ہے جو لوگوں سے کوئی دوسرا نظریہ قبول نہیں کرتا ۔ نہ ان کے ذہن میں یہ بات ہے کہ اسلام ایک مثبت تحریک ہے جو اس دنیا کی صورت حال کو یکسر بدلنا چاہتا ہے اور یہ کہ اہل کتاب نے ہمیشہ اسلام کی راہ روکی ہے ‘ جس طرح وہ آج بھی اسلام کی راہ روکے کھڑے ہیں اور یہ اہل کتاب کا وہ موقف ہے جو کبھی تبدیل نہیں ہوتا کیونکہ یہی ان کے لئے واحد طبعی موقف ہے ۔

ہم ان لوگوں کو ان کی اسی پوزیشن میں چھوڑے ہوئے ہیں کہ وہ غافل رہیں اور یا متغافل رہیں اور ہم خود اللہ کی ان ہدایات پر غور کریں جو بالکل واضح اور صریح ہیں۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَتَّخِذُواْ الْیَہُودَ وَالنَّصَارَی أَوْلِیَاء بَعْضُہُمْ أَوْلِیَاء بَعْضٍ وَمَن یَتَوَلَّہُم مِّنکُمْ فَإِنَّہُ مِنْہُمْ إِنَّ اللّہَ لاَ یَہْدِیْ الْقَوْمَ الظَّالِمِیْنَ (51)

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘

اس پکار کا رخ مدینہ طیبہ کے اندر کام کرنے والی جماعت مسلمہ کی طرف ہے لیکن یہی ہدایات ان تمام جماعتوں کے لئے بھی ہیں جو اس کرہ ارض پر کسی بھی جگہ کام کرتی ہیں ۔ اور یہی ہدایات قیامت تک رہیں گی ۔ ان تمام لوگوں پر جن پر یہ لقب درست طور پر استعمال ہو۔ (آیت) ” یایھا الذین امنوا “۔ نزول قرآن کے وقت ان ہدایات کی ضرورت اس لئے پیش آگئی تھیں اور اہل ایمان کو یہ ہدایات اس لئے دی گئی تھی کہ اس وقت مسلمانوں اور مدینہ کے اردگرد بسنے والے یہودیوں کے درمیان مکمل قطع تعلق نہ تھا ۔ ان کے درمیان ولایت کے اور حلیفانہ تعلقات ابھی تک باقی تھے ۔ اقتصادی اور دوسرے معاملات ایک دوسرے کے ساتھ ہوتے تھے اور پڑوس اور ہم نشینی کے تعلقات بھی دونوں کے درمیان موجود تھے ، مدینہ کے جو تاریخی اور اقتصادی حالات تھے یہ صورت حالات ان کا طبعی نتیجہ تھی کیونکہ وہاں عربوں اور یہودیوں کے درمیان تعلقات قائم تھے ، ان حالات کی وجہ سے یہودیوں کو یہ موقع مل رہا تھا کہ مسلمانوں کے خلاف سازش کرسکیں ۔ اور دین اسلام کے خلاف اپنی سرگرمیاں جاری رکھ سکیں ۔ ان کی یہ سازشیں مختلف نوعیت کی ہیں اور گزشتہ پانچ پاروں کی تفسیر میں ان کی پوری تفصیلات دے دی گئی ہیں اور اس سبق میں بھی اس سازش کے بعض پہلو لئے گئے ہیں۔

قرآن کریم کا نزول صرف اس غرض کے لئے ہوتا رہا کہ مسلمان کو اس دنیا میں اپنے عقیدے اور نظریہ حیات کے حوالے سے ‘ جو معرکہ درپیش ہے ‘ اور اس کے پیش نظر جو مقصد اقامت دین ہے ‘ اس بارے میں اس کی سوچ اور لازمی حد تک اس کا شعور پختہ ہوجائے ۔ نیز ایک مسلم شعور اور ان تمام لوگوں اور قوتوں کے درمیان مکمل خلیج ہوجائے جو اس دین اور اس کے نظام کی راہ روکے ہوئے ہیں اور جو کسی صورت میں بھی اسلامی جھنڈے کے نیچے نہیں آنا چاہتے ۔ ہاں یہ اور بات ہے کہ اس مکمل بائیکاٹ کے دائرے میں اخلاقی رواداری یا سماجی بائیکاٹ نہیں آتا ۔ اخلاقی برتاؤ اور سماجی روابط بہرحال ایک اچھے مسلمان کی صفات ہیں جو کسی بھی وقت اس سے جدا نہیں ہوتیں۔ ہاں ان ہدایات میں ان کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات سے منع کیا گیا جو صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہی ہو سکتے ہیں اور علیحدگی کا یہ وہ شعور ہے جو ایک مسلمان کے اندر ہر جگہ ‘ ہر زمانے اور ہر نسل کے اندر ہونا چاہئے ۔ قرآن کے الفاظ پر ذرا غور کیجئے ۔

” اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہیں میں ہے یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ‘

یہ لوگ خود ایک دوسرے کے رفیق ہیں ۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو زمان ومکان کی قید سے باہر ہے اس لئے کہ یہ حقیقت ایک طبعی حقیقت ہے اور یہ ان کے مزاج کا تقاضا ہے ۔ یہ لوگ کسی جگہ اور کسی دور میں بھی اہل ایمان کے دوست نہیں بنے صدیاں بیت گئیں اور ایک مثال بھی ان کی دوستی کے سامنے نہیں آئی اور اللہ کی یہ بات سچی رہی ہے ۔ حضرت محمد ﷺ کے خلاف جنگ میں بھی اہل کتاب باہم متحد تھے ۔ آپ کے بعد ہر اسلامی جماعت کی دشمنی میں یہ متحد رہے ہیں اور تاریخ کی طویل کڑیوں میں پورے کرہ ارض پر یہ اسلام کے خلاف متحد رہے ہیں ۔ ایک بار بھی اس قاعدے کے اندر کبھی استثناء نہیں ہوا اور دنیا میں ہمیشہ وہی ہوتا رہا جو قرآن کریم نے بطور صفت یہاں اہل کتاب کے لئے استعمال کیا قرآن کریم نے ان کی یہ صفت متفرق حادثات کے حوالے سے بیان نہیں کی ہے ۔ قرآن نے جس انداز میں یہ جملہ اسمیہ یہاں استعمال کیا ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیآء بعض “۔ (5 : 51) یہ محض انداز تعبیر نہیں ہے بلکہ اس سے یہ ظاہر کرنا مطلوب ہے کہ یہ باہم ولایت اور دوستی ان کا دائمی وصف ہے ۔

اس کے بعد قرآن کریم اس حقیقت کے فطرتی نتائج مرتب کرتا ہے ۔ جب یہود ونصاری صرف ایک دوسرے کے دوست ہیں تو ان کے ساتھ جو مسلمان بھی دوستی کرے گا وہ ان میں سے تصور ہوگا ۔ اسلامی صفوں کا جو شخص ان کا دوست ہوگا وہ اسلامی صف میں رہے گا ۔ وہ عملا اپنے آپ سے صفت ” اسلامی “ کی نفی کرتا ہے ۔ وہ عملا اپنے اوپر صفت یہودیت اور نصرانیت کا لباس اوڑھتا ہے ۔ حالانکہ یہ ایک فطری نتیجہ ہے ۔ (آیت) ” ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی انہی میں ہے)

ایسا شخص اپنے اوپر ظلم کرتا ہے ‘ اپنے دین پر ظلم کرتا ہے ۔ اس لئے کہ اس نے اپنی محبت ان کو دے دی ہے ۔ پھر اللہ تعالیٰ ایسے شخص کو نہ ہدایت دیتا ہے اور نہ اس کو واپس اسلامی صفوں میں قبول کرتا ہے ۔ (آیت) ” ان اللہ لا یھدی القوم الظلمین “۔ (5 : 51) (یقینا اللہ ظالموں کو اپنی راہنمائی سے محروم کردیتا ہے)

مدینہ کی اسلامی جماعت کے لئے یہ ایک نہایت ہی خوفناک دھمکی تھی ۔ یہ دھمکی اگرچہ سخت ہے لیکن بالکل قدرتی ہے اور اس کے اندر کوئی مصنوعی تشدد نہیں ہے ۔ اس لئے جو شخص بھی یہ ممنوع حرکت کرتا ہے وہ ان میں سے ہے اگر وہ ان میں سے نہ ہوتا تو ایک مسلمان کسی صورت میں بھی یہود ونصاری کا ولی اور دوست نہیں ہوتا سکتا ۔ نہ ہی اسلامی صفوں میں ایسے شخص کی ممبر شپ رہ سکتی ہے اس لئے کہ کسی اسلامی جماعت کے افراد کی دوستی اور ان کا حلیفانہ تعلق صرف اللہ اور رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے ساتھ ہوتا ہے ۔ یہ ہے ایک دوراہا اور فیصلہ طلب یونٹ ۔

ایک مسلمان اور اسلامی نظام کے مخالفوں اور دوسرے نظاموں کے داعیوں کے درمیان مکمل علیحدگی کے معاملے میں کوئی نرمی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ ایک نے اسلامی جھنڈا اٹھا رکھا ہے اور دوسرے نے مخالف اسلام جھنڈا اٹھا رکھا ہے ۔ اگر وہ ایسا کرے گا تو اس کرہ ارض پر وہ اسلام کا منفرد نظام قائم نہ کرسکے گا نہ اس سلسلے میں کوئی قابل ذکر سرگرمی دکھا سکے گا ‘

جب ایک مسلمان کو یہ پختہ یقین ہوتا ہے کہ اس کا دین ہی وہ واحد دین ہے جسے اللہ لوگوں کی جانب سے قبول کرے گا تو اس یقین کے اندر کوئی جھول اور کوئی نرمی نہیں رہتی ۔ اسے یہ بھی یقین ہوتا ہے کہ حضرت محمد ﷺ کی رسالت کے بعد اب کوئی رسالت نہیں ہے اور یہ کہ یہ اسلامی نظام زندگی ہی وہ منفرد نظام ہے جسے اس نے لوگوں کی زندگیوں میں قائم کرنا ہے اور اس کے مقابلے میں دنیا کا کوئی نظام قابل عمل نہیں ہے ۔ اس کرہ ارض پر انسان کی زندگی اس وقت تک درست نہیں ہو سکتی جب تک مسلمان اس نظام کو قائم نہ کردیں اور یہ کہ اللہ اسے معاف نہ کرے گا اگر وہ اپنی پوری قوت اس دین کیا قامت اور غلبے کی راہ میں پوری سعی نہیں کرتا ‘ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اسن نظام کے بدلے میں کوئی دوسرا نظام بطور متبادل قبول نہیں کرتا ‘ بلکہ اسلامی نظام کے کسی جزء کیلئے بھی کوئی متبادل اسے قبول نہیں ہے ۔ اور یہ کہ جب تک وہ اسلامی عقائد و تصورات کو خالص کرکے ان کے درمیان میں سے ہر غلط اور ملاوٹ کو پاک نہیں کرتا ‘ جب تک وہ تفصیلی نظام اور قانون امور سے تمام ملاوٹوں کو ختم نہیں کرتا ‘ الا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے سابقہ شرائع میں سے کسی چیز کو باقی رکھا ہو اس وقت تک اسلام غلبہ نہیں حاصل کرسکتا ۔ غرض ان تمام امور میں جب تک ایک مومن مکمل طور پر یکسو اور یقین محکم کا حامل نہیں ہوتا وہ اس بوجھ کو اٹھا ہی نہیں سکتا اور نہ عملا اس منہاج حیات کو قائم کرسکتا ہے جس کا بھاری فریضہ اللہ تعالیٰ نے اس کے کاندھوں پر ڈالا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ فریضہ اقامت دین ایک مشکل فریضہ ہے ۔ اس کی راہ میں سخت مشکلات ہیں اور اس راہ کی ذمہ داریاں کمر توڑ ہیں۔ اس راستے میں کینہ پرور دشمن بیٹھے ہیں ، خفیہ پھندے نصب ہیں اور رنج والم کے وہ مقامات ہیں جو بعض اوقات ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں ۔ اگر ایسی صورت نہ ہو تو پھر اس وقت جو جاہلیت قائم ہے اس میں کیا تکلیف ہے ۔ چاہے بت پرستانہ جاہلیت ہو ‘ اہل کتاب کی مخلوط جاہلیت ہو یا الحاد وزندقہ کی جدید جاہلیت ہو ۔ نیز اگر اسلامی نظام کے اندر کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار کرکے اس کے اور اہل کتاب اور دوسروں کے قائم شدہ نظاموں کے درمیان فرق ہی کو ختم کردیا جائے یا اسلام اور دور جدید یا قدیم کی جاہلیت کی درمیان امتزاج اور اتحاد کرکے کوئی نظام لایا جائے اور اس پر مصالحت کرلی جائے تو یقینا پھر اس راہ میں کوئی مشکلات نہیں ہیں ۔

یہ ایک فیصلہ کن جدائی اور امتیاز ہے اور جو لوگ ان حدوں کو مٹانا چاہتے ہیں اور اپنی کوششیں رواداری اور ” تقریب بین الادیان السماویہ “ کے دل لگتے عنوان کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں وہ نہایت ہی غلط راستے پر چل رہے ہیں یہ لوگ نہ ” ادیان “ کے مفہوم کو سمجھے ہیں اور نہ ہی ” تسامح “ اور رواداری کے مفہوم کو سمجھے ہیں ۔ یاد رہے کہ رواداری محض شخصی اور ذاتی معاملات میں ہوتی ہے ۔ اسلامی عقائد و تصورات اور اسلام کے اجتماعی نظام کے ڈھانچے کے اندر کوئی رواداری ممکن نہیں ہے ۔ یہ لوگ دراصل مسلمانوں کے اندر پائے جانے والے اس یقین کو متزلزل کرنا چاہتے ہیں جو ان کے درمیان پایا جاتا ہے ۔ اللہ اسلام کے سوا کسی اور دین کو قبول نہیں کرتا اور ہر مسلمان پر فرض ہے کہ وہ اقامت دین کے لئے جدوجہد کرے اور اسلام کے مقابلے میں کوئی اور متبادل دین قبول نہ کرے نہ اس کے اندر کوئی تبدیلی اور ترمیم قبول کرے اگرچہ یہ ترمیم نہایت ہی معمولی ہو ۔ اس یقین کو قرآن کریم بار بار ایک مومن کے دل و دماغ میں بٹھانا چاہتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام) (اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے) (آیت) ” ومن یتبع غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ) (اور جو شخص اسلام کے سوا کوئی اور دین تلاش کرے گا تو اس سے وہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا) (آیت) ” واحذرھم ان یفتنوک عن بعض ما انزل اللہ الیک (5 : 49) (ان سے ہوشیار رہو کہ وہ تم کو فتنے میں نہ ڈال دین ان میں سے بعض چیزوں کی نسبت جو اللہ نے تیری طرف نازل کیں) (آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ومن یتولھم منکم فانہ منھم “۔ (5 : 51) (اے لوگو جو ایمان لائے ہو ‘ یہود ونصاری کو اپنا دوست نہ بناؤ، وہ آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہیں ۔ اور تم میں جو شخص بھی انکو دوست بنائے گا ‘ اس کا شمار بھی ان میں ہوگا)

قرآن کریم اس صورت حال کی ایک جھلکی دکھاتا ہے جو اس موجود تھی اور جس کی وجہ سے قرآن کی یہ آیات نازل ہوئیں ۔

(آیت) ” فتری الذین فی قلوبھم مرض یسارعون فیھم یقولون نخشی ان تصیبنا دآئرۃ “۔ (5 : 52) (تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں ” ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں ۔ “

ابن جریر نے اپنی سند سے ابن سعد کی یہ روایت نقل کی ہے ۔ فرماتے ہیں عبادہ ابن صامت جو حارث ابن الخزرج کی اولاد سے تھے حضور ﷺ کے پاس آئے اور کہا : یا رسول اللہ ! میرے یہودیوں میں بیشمار لوگ دوست ہیں اور میں یہودیوں کی دوستی سے برات اختیار کرکے اللہ اور رسول اللہ ﷺ کی دوستی اختیار کرتا ہوں ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی رئیس المنافقین نے کہا میں تو ایک آیسا آدمی ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ میں تو اپنے حلیفوں اور دوستوں سے برات کا اعلان نہیں کرتا ۔

رسول اللہ نے عبداللہ ابن ابی مذکور سے کہا : ابو الحباب ‘ یہودیوں کی دوستی کے بارے میں آپ کو عبادہ ابن صامت کے ساتھ چشمک تھی تو اب وہ دوستی بھی تم قبول کرلو ‘ اس پر رئیس المنافقین نے کہا مجھے قبول ہے ۔ اس موقعہ پر یہ آیات نازل ہوئیں۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیآء “۔ (5 : 51) ابن جریر نے اپنی سند کے ساتھ زہری کی یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ جب بدر والوں کو شکست ہوئی تو مسلمانوں نے یہودیوں میں سے اپنے دوستوں سے کہا ‘ مناسب ہے کہ تم اسلام قبول کرلو ‘ اس سے پہلے کہ تم پر بھی بدر والوں کا دن آئے اس پر مالک بن الصیف نے کہا : تمہیں اس بات نے بہت ہی غرے میں ڈال دیا ہے کہ تم نے قریش کے کچھ لوگوں کو شکست دے دی ہے جن کو جنگ کے بارے میں کچھ علم ہی نہ تھا ۔ اگر ہم ہمت باندھتے اور تمہارے خلاف جمع ہوجاتے تو تمہارے اندر اتنی سکت نہ ہوتی کہ تم ہم سب کے خلاف لڑتے ۔ اس پر عبادہ ابن الصامت نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ یہودیوں میں میرے دوست ہیں وہ نہایت ہی مضبوط لوگ ہیں ۔ انکے پاس اسلحہ بھی بہت تھا ۔ وہ نہایت بارعب ہیں لیکن میں انکی دوستی اور معاہدہ وحلیفانہ ربط سے برات کا اعلان کرتا ہوں ۔ اب میرا اللہ اور رسول کے سوا کوئی اور دوست اور حلیف نہیں ہے ۔ اس پر عبداللہ ابن ابی نے کہا میں تو یہودیوں کی دوستی سے برات کا اعلان نہیں کرسکتا ۔ میں ایک ایسا آمدی ہوں کہ میرے نئے وہ بہت ہی ضروری ہیں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اے ابو الحباب تمہیں معلوم ہے کہ تم عبادہ ابن صامت کے ساتھ مناقت رکھتے تھے کہ یہودیوں میں ان کے دوست زیادہ تھے ۔ اب یہ دوستیاں تمہارے ۔ ‘ تو اس پر اس نے بھی کہا : ” اچھا تو میں پھر قبول کرتا ہوں ۔ “

محمد ابن اسحاق لکھتا ہیں کہ پہلا یہودی قبیلہ جس نے رسول اللہ ﷺ اور اس کے درمیان پائے جانے والے عہد ومیثاق کو توڑا وہ بنو قینقاع تھے ۔ مجھے عاصم ابن عمر ابن قتادہ نے بتایا کہ کہ رسول اللہ ﷺ نے ان پر محاصرہ کرلیا ہے ۔ ان لوگوں نے رسول اللہ ﷺ کے فیصلے پر ہتھیار ڈال دیئے ۔ اس پر عبداللہ ابی ابن السلول اٹھا : (جب یہ لوگ حضور ﷺ کے قابو آگئے تھے) تو اس نے کہا : اے محمد ﷺ میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو ۔ یہ لوگ خزرج کے حلیف تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس کا کوئی جواب نہ دیا ۔ اس نے دوبارہ کہا : اے محمد ! میرے دوستوں کے ساتھ نرمی کرو۔ اس پر پھر حضور ﷺ نے اس روگردانی کرلی۔ اس نے حضور ﷺ کی زرہ کے گریبان میں ہاتھ ڈال دیا ۔ اس پر حضور ﷺ نے اسے کہا ‘ چھوڑو مجھے ‘ اور حضور ﷺ کو بہت ہی غصہ آیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے چہرے پر اس کا پرتو آگیا ۔ اب کے بعد حضور ﷺ نے پھر کہا کہ تمہارا بیڑا غرق ہو مجھے چھوڑو۔ اس کے بعد اس نے کہا خدا کی قسم میں تمہیں ہر گز نہ چھوڑوں گا جب تک تم میرے دوستوں کے ساتھ اچھا سلوک نہ کرو۔ چار سو سادہ اور تین سو زرہ پوش دوستوں نے میری تفاظت سرخ اور سیاہ اقوام کے مقابلے میں کی ہے اور میں چھوڑ دوں کہ آپ ایک ہی صبح میں انکی فصل کو کاٹ دیں ۔ میں ایک ایسا شخص ہوں کہ میں مختلف چکروں سے ڈرتا ہوں ۔ اس پر حضور ﷺ نے فرمایا :” اچھا وہ سب تیرے ہوئے “۔

محمد ابن اسحاق نے عبادہ ابن صامت کی ایک روایت نقل کی ہے کہ جب بنو قینقاع نے حضور ﷺ کے ساتھ جنگ کی تو عبداللہ ابن ابی ابن السلول ان کے معاملے میں بڑھ گئے اور ان کے سامنے کھڑے ہوگئے اور عبادہ ابن صامت حضور ﷺ کے پاس گئے اور یہ بھی بنو عوف ابن الخزرج میں سے تھے ۔ اور بنو قینقاع میں ان کے بھی اسی قدر حلیف تھے ‘ جس قدر عبداللہ ابن ابی کے تھے۔ عبادہ ابن الصامت نے ان کا اختیار حضور ﷺ کو دے دیا اور کہا کہ میں ان کی دوستی سے برات کا اظہار کرتا ہوں اور اب میرا دوست اور حلیف صرف اللہ اور رسول اللہ ہیں اب میں صرف اللہ اور رسول اللہ ہی کو دوست رکھتا ہوں اور کفار کے حلیفانہ تعلقات کے خاتمہ کا اعلان کرتا ہوں ۔ تب اللہ نے عبادہ ابن الصامت اور عبداللہ ابن ابی کے بارے میں یہ آیت نازل فرمائی ۔

(آیت) ” یایھا الذین امنوا لا تتخذوا الیھود والنصری اولیاء بعضھم اولیآء بعض ۔۔۔۔ تا۔۔۔۔ ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون “۔ امام احمد نے اپنی سند سے ‘ اسامہ ابن زید کی روایت نقل کی ہے ۔ میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ عبداللہ ابن ابی کے پاس گیا ۔ آپ اس کی عبادت کے لئے جارہے تھے ۔ اسکو رسول خدا ﷺ نے کہا ” میں نے تمہیں منع کیا تھا کہ یہودیوں سے محبت نہ رکھو ۔ اس پر عبداللہ نے کہا : ” اسعد ابن زرارہ ان سے بغض رکھتے تھے اور وہ مرگئے۔ “

یہ روایات ان حالات کی اچھی طرح وضاحت کرتی ہیں جو اس وقت اسلامی معاشرے کے اندر عملا موجود تھے یہ معاشرہ ان روایات کے خلاف تھا جو اسلام سے پہلے مدینہ کے اندر موجود تھیں نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے اردگرد موجود تھیں ۔ نیز ان روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ابھی تک یہ سوچ فیصلہ کن مرحلے تک نہ پہنچی تھی کہ مدینہ کے ارد گرد پھیلے ہوئے یہودیوں کے ساتھ کیسے تعلقات رکھے جائیں اور کیسے نہ رکھے جائیں ۔ ہاں ایک بات ظاہر ہے کہ ان تمام روایات کا تعلق یہودیوں سے ہے اور عیسائیوں کے بارے میں کوئی ایسی روایت مذکور نہیں ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قرآن کریم مسلمانوں اور تمام دوسری جماعتوں کے درمیان تعلقات کی نوعیت کیلئے ایک دائمی ضابطہ ‘ معیار اور ایک مستقل سوچ دینا چاہتا تھا ۔ چاہے اس کا تعلق اہل کتاب سے ہو یا مشرکین سے ہو جیسا کہ اس درس پر تفصیلی بات کرتے وقت بتایا جائے گا ۔ ہاں یہ اپنی جگہ درست ہے کہ مسلمانوں کی نسبت یہودیوں کے موقف اور طرز عمل اور عیسائیوں کے موقف اور طرز عمل کے درمیان کافی فرق تھا اور یہ فرق عہد نبوی میں تھا ۔ اور اس سورة میں ایک دوسری جگہ قرآن کریم نے اس بات کی طرف اشارہ بھی کیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں :

(آیت) ” لَتَجِدَنَّ أَشَدَّ النَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الْیَہُودَ وَالَّذِیْنَ أَشْرَکُواْ وَلَتَجِدَنَّ أَقْرَبَہُمْ مَّوَدَّۃً لِّلَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ قَالُوَاْ إِنَّا نَصَارَی (5 : 82)

تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پاؤ گے اور ایمان والوں سے قریب ترین لوگوں کو پاؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاری ہیں۔ )

اس اختلاف کے باوجود جو اس وقت موجود تھا ‘ اس آیت میں یہود ونصاری ایک ہی سطح پر رکھا گیا ہے جس طرح اگلی آیت میں اہل کتاب اور کفار کو بھی ایک ہی سطح پر رکھا گیا ۔ یہ مساوات دوستی اور ولایت کی حد تک ہے اور یہ بات اسلام کے ایک دوسرے اصول پر مبنی ہے ۔ وہ اصول یہ ہے کوئی مسلم دوستی کا عہد اور حلیفانہ تعلقات صرف ایک مسلم ہی سے قائم کرسکتا ہے اس لئے کہ ہر مسلم صرف اللہ ‘ رسول اللہ اور اسلامی جماعت کے ساتھ دوستی کے تعلقات قائم کرسکتا ہے اور اس اصول کے تحت تمام گروہ اور فرقے برابر ہیں ‘ اگرچہ دوسرے ظروف واحوال میں ان کا موقف مسلمانوں کے مقابلے میں باہم مختلف ہو۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی پیش نظر رہنا چاہئے کہ یہ قاعدہ کلیہ اور دوٹوک اصول وضع کرتے ہوئے ‘ اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار اور از منہ کا علم تھا اور یہ قاعدہ صرف حضرت نبی کریم ﷺ کے زمانے کے لئے نہ تھا اور نہ ان حالات کے لئے تھا جو اس وقت موجود تھے بعد کے حالات نے اس بات کو ثابت کردیا کہ دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے ساتھ عیسائیوں کی عداوت ‘ دنیا کے مختلف علاقوں میں یہودیوں سے کم نہ تھی ، اگر ہم عرب کے عیسائیوں کے موقف کو مستثنی کردیں ‘ جنہوں نے اسلام کا خوب استقبال کیا تو باقی دنیا میں ‘ خصوصا یورپ میں عیسائیوں نے اہل اسلام اور دین اسلام کے ساتھ جو رویہ اختیار کیا وہ یہودیوں کے مقابلے میں بہت خراب تھا یا ان سے کم نہ تھا ۔ انہوں نے اسلام کے ساتھ سخت کینہ پروری کی ‘ اسلام کے خلاف سازشیں کیں اور اس کے خلاف جنگیں برپا کیں ۔ حبشہ جیسے ملک کو لیجئے کہ اس کے اسی زمانے کے بادشاہ نے مسلم مہاجرین کو پناہ دی اور اسلام کو خوش آمدید کہا ۔ وہاں بھی اہل اسلام کے خلاف سخت مظالم کئے گئے جو یہودیوں سے بھی زیادہ تھے ۔

اللہ تعالیٰ کو تو تمام ادوار کا علم تھا ۔ اس لئے اللہ نے اہل اسلام کے لئے یہ قاعدہ کلیہ وضع کردیا ۔ اس میں ان حالات کو نظر انداز کیا جو اس وقت دور اول میں موجود تھے اس لئے کہ وہ حالات مستقل اور دائمی نہ تھے اس قاعدہ کلیہ پر عمل کرتے وقت اسلام بعض ممالک کی پالیسی کو نظر انداز بھی کرسکتے ہیں جن کا رویہ اسلام کے خلاف نہیں ہے یا نہ ہوگا ‘ آخر الزمان تک ۔

آج تک اسلام کے خلاف اور ان لوگوں کے خلاف جو اپنا نام مسلمانوں جیسا رکھتے ہیں اور جن کو صفت اسلام کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے اگرچہ اسلام کے ساتھ ان کا کوئی حقیقی تعلق نہیں ہے ‘ یہودیوں اور عیسائیوں کی جانب سے ایک عظیم معرکہ آرائی جاری ہے ۔ یہ معرکہ آرائی ان کی ذات اور ان کے دین کے خلاف ہے اور دنیا کے ہر حصے میں جاری ہے ۔ اور یہ اس بات کی تصدیق کرتی ہے ۔ (آیت) ” بعضھم اولیاء بعض) ان میں سے بعض ، بعض دوسروں کے دوست ہیں اور یہ بات ہر عقلمند انسان پر لازم کردیتی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس نصیحت کو پلے باندھ لے کہ نصیحت نہیں بلکہ اللہ کی جانب سے اس قطعی ممانعت پر عمل کرنا ہے کہ اللہ کے صحیح بندوں کی دوستی صرف اللہ کے دوستوں اور رسول اللہ سے ہوگی اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف جس قدر کیمپ بھی ہوں ‘ جو اسلام کا علم بلند نہ کررہے ہوں ان سے کوئی دوستانہ تعلق نہ ہوگا اور نہ حلیفانہ تعلق ہوگا ۔ یہ اللہ کا دوٹوک فیصلہ اور قطعی حکم ہے ۔

اسلام مسلمانوں کو یہ ہدایت کرتا ہے کہ وہ دوسرے لوگوں سے اپنے تعلقات صرف عقیدے اور نظریے کے اساس پر قائم کریں اور ایک مسلمان کے تصور حیات کے اندر دوستی کا عہد اور حلیفانہ عہد یا دشمنی کا تعلق صرف نظریات کے زاویے سے ہوسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ ایک مسلم اور غیر مسلم کے درمیان باہم امداد اور نصرت کا معاہدہ (یعنی ولایت) کا قیام جائز نہ ہوگا اس لئے کہ ایک مسلمان اور ایک کافر کے درمیان عقائد و تصورات کے میدان میں کوئی تعاون اور نصرت نہیں ہوسکتی ۔ الحاد کے مقابلے میں بھی وہ اکٹھے نہیں ہوسکتے جیسا کہ ہم میں سے بعض سادہ لوح سوچتے ہیں ۔ بعض ایسے مسلمان اس لائن پر سوچتے ہیں جو قرآن کریم کو پڑھتے ہی نہیں اس لئے کہ دونوں کے درمیان کوئی مشترکہ بنیاد ہی نہیں ہے ۔ لہذا وہ کس بنیاد پر حلیف بن سکتے ہیں ؟

بعض لوگ جو قرآن مجید کا مطالعہ نہیں کرتے ‘ اور جن کو اسلام کی حقیقت کا ادراک بھی حاصل نہیں ہے اور بعض وہ لوگ جو فریب خوردہ ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ تمام ادیان دین ہیں جس طرح الحاد الحاد ہیں ۔ یہ ممکن ہے کہ تمام اہل دین مل کر الحاد کے مقابلے میں کھڑے ہوں کیونکہ الحاد جنس دین کا منکر ہے اور وہ مطلق دینداری کے خلاف ہے ۔

لیکن اسلامی تصور حیات کے مطابق معاملہ اس طرح نہیں ہے اور نہ ایک ایسے مسلمان کا شعور اسے قبول کرتا ہے جس نے اسلام کا مزہ صحیح طرح چکھا ہے ۔ اسلام کا مزہ صرف وہی شخص چکھ سکتا ہے جو اسلام کو بطور نظریہ حیات قبول کرتا ہے ۔ اس کے بعد وہ اس نظریہ حیات کے لئے ہر وقت متحرک رہتا ہے اور اس کا ہدف یہ ہوتا ہے کہ نظام اسلامی کو قائم کیا جائے ۔

ایک صحیح الفکر مسلمان کے ہاں یہ بات بالکل واضح اور متعین ہے کہ اللہ کے ہاں دین صرف اسلامی نظام حیات ہے ۔ اسلام کے بغیر کسی سوچ یا نظام کو اللہ دین نہیں مانتا کیونکہ اللہ نے جو فقرہ استعمال کیا ہے وہ یہ ہے ۔ (آیت) ” ان الدین عند اللہ الاسلام “ اللہ کے نزدیک صرف اسلام ہی دین ہے۔ اسلام کے علاوہ اگر کوئی کسی اور عقیدہ وعمل کا اتباع کرتا ہے تو اللہ اسے قبول نہ کرے گا ۔ (آیت) ” ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ “۔ حضور اکرم ﷺ کے بعد تو کوئی دین میں ایسا نہیں رہا ہے جو اللہ کو مقبول ہو۔ اب تو تمام دنیا کو اسلام ہی قبول کرنا ہوگا اور اس صورت میں اسے قبول کرنا ہوگا جس صورت میں اسے حضرت محمد ﷺ نے ہم تک پہنچایا ہے ۔ حضور اکرم ﷺ سے قبل نصاری کا جو دین صحیح مانا جاتا تھا وہ اب مقبول نہ ہوگا جس طرح عیسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد یہودیوں کا دین غیر مقبول قرار پایا تھا ۔

حضور اکرم ﷺ کی بعثت کے بعد یہود ونصاری کا وجود یہ معنی نہیں رکھتا کہ جس دین پر وہ عمل کر رہے ہیں وہ اللہ کو مقبول ہے یا یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بات کو تسلیم کرتا ہے کہ وہ بھی الہی دین پر ہیں ۔ بیشک ان کا دین الہی تھا مگر حضور اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے اور حضور ﷺ کی بعثت کے بعد صورت حال یہ ہے اور اس کا تمام مسلمان اعتراف کرتے ہیں کہ اب صرف اسلام ہی دین کی حیثیت رکھتا ہے اور مذکورہ بالا آیت اس سلسلے میں نص قطعی ہے جس میں کسی قسم کی کوئی تاویل نہیں ہو سکتی ۔

ہاں یہ بات مسلمہ اصولوں میں سے ہے کہ اسلام یہودونصاری پر جبر کر کے ان کو دین اسلام کے اعتراف پر مجبور نہیں کرتا ۔ اس لئے کہ اصول یہ ہے کہ (آیت) ” لا اکراہ فی الدین) (دین میں کوئی جبر نہیں ہے) لیکن اس کے معنی یہ نہیں ہیں کہ وہ جن امور پر عمل پیرا ہیں وہ دین ہے یا اللہ تعالیٰ ان کو بھی صحیح دین سمجھتا ہے ۔

اس لئے اسلام کسی ایسے محاذ کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا جو دینی محاذ ہو اور اس محاذ کے اندر اسلام بھی شامل ہو اور وہ الحاد کا مقابلہ کررہا ہو۔ دین تو فقط ایک ہے جس کا نام اسلام ہے اور اس کے علاوہ تمام محاذ لادین ہیں ‘ جو اسلام سے علیحدہ ہیں ۔ اب یہ لادینی نظام چاہے اپنی اصل میں الہی دین ہو اور اس کے اندر انحراف ہوگیا ہو یا وہ بت پرستانہ دین ہو اور اپنی بت پرستی قائم ہو یا الحاد ہو اور سرے سے تمام ادیان کا منکر ہو ‘ اور ان کے درمیان حلیفانہ معاہدہ ہوگیا ہو ‘ لیکن یہ تمام لادین دین اسلام سے متضاد ہیں اور ان کے اور اسلام کے درمیان کوئی حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا اور نہ ان کے درمیان دوستی ہو سکتی ہے ۔

ایک مسلمان اہل کتاب کے ساتھ معاملات رکھ سکتا ہے اور اسلام اس سے یہ تقاضا کرتا ہے کہ وہ ان معاملات کو بر و احسان پر استوار کرے ۔ جب تک وہ اسے دین کے معاملے میں اذیت نہ دین ۔ اسلام ایک مسلمان کو یہ اجازت بھی دیتا ہے کہ وہ ان میں سے پاکدامن عورتوں کے ساتھ نکاح بھی کرسکتا ہے ۔ ہاں ان میں سے ان لوگوں کے بارے میں فقہی اختلاف ہے ۔ جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ کا بیٹا تسلیم کرتے ہیں اور جو لوگ تثلیث کے قائل ہیں کہ آیا ایسی عورتوں کتابی قرار پاکر حلال ہوں گی یا انہیں بت پرست قرار دے کر حرام قرار دیا جائے گا ۔ بہرحال اگر ہم یہ اصول ہی لیں کہ نکاح عموما جائز ہے ‘ تو بھی حسن سلوک یا جواز نکاح سے اس بات پر دلیل نہیں دی جاسکتی کہ ان کے ساتھ دین میں حلیفانہ تعلقات قائم ہو سکتے ہیں اور دوستی بھی کی جاسکتی ہے ۔ اور اس کا یہ مفہوم بھی نہیں ہے کہ اہل کتاب کا دین حضرت محمد ﷺ کی بعثت کے بعد بھی اسلام کے ہاں معتبر ہے اور پھر اس کے ساتھ ایک ہی محاذ پر کھڑے ہو کر اسلام الحاد کا مقابلہ کرسکتا ہے ۔

اسلام تو آیا ہی اس لئے ہے کہ وہ اہل کتاب کے اعتقادات کو درست کرے اور بعینہ وہ اس لئے بھی آیا ہے کہ بت پرستوں کے غلط عقائد کو درست نہیں کرتا ۔ جب یہودیوں نے یہ سمجھا کہ حضرت نبی کریم ﷺ ان کو بھی دین اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیتے ہیں تو ان کو یہ بات نہایت ہی گراں گزری کہ حضور ﷺ ان کو بھی اسلام کی طرف دعوت دیں تو قرآن کریم نے ان کو اس غلط فہمی کو دور کیا اور کہا کہ اللہ تمہیں اسلام کی دعوت دیتا ہے اور اگر تم اعراض کرو تو تم بھی کافر ہو۔

ایک مسلمان تو اس بات کا مکلف ہے کہ وہ اہل کتاب کو اسلام کی طرف دعوت دے جس طرح وہ مکلف ہے کہ بت پرستوں اور ملحدوں کو دین اسلام کی دعوت دے ۔ ہاں اگر وہ مکلف نہیں ہے تو اس بات کا نہیں ہے کہ وہ ان لوگوں کو زبردستی اسلام کے اندر داخل کرے اس لئے کہ کسی کے دل و دماغ میں عقائد بذریعہ جبرواکراہ نہیں جمتے ۔ ” دین میں جبر “ صرف یہ نہیں ہے کہ ازروئے قرآن وہ ممنوع ہے ۔ اگر ممنوع نہ ہوتا تو بھی اس کا کوئی فائدہ نہ ہوتا ۔

یہ بات درست نہ ہوگی کہ ایک مسلمان حضرت نبی ﷺ کی بعثت کے بعد اس بات کا اعتراف کرے کہ جس دین پر اہل کتاب میں وہ مقبول دین ہے اور پھر بھی وہ انہیں دعوت دے کہ وہ اسلام کی طرف آجائیں ۔ ایک مسلمان صرف اس اساس پر اس بات کا مکلف ہو سکتا ہے کہ وہ ان کی طرف دعوت دے کہ وہ ان کے دین کو دین تسلیم نہ کرے ۔ اگر وہ ایسا کرتا ہے تو پھر منطقی بات یہ ہوگی کہ وہ مکلف نہیں ہے ۔ اس لئے کہ یہ بھی دین ہے اور وہ بھی دین ہے ۔ اگر یہ بات بطور اصولی موضوع تسلیم کرلی جائے تو اب ایک مسلمان اور ایک اہل کتاب کے درمیان یہ محاذ کہ وہ دین اسلام کو غالب کریں ایک غیر منطقی محاذ ہوگا ۔ اس لئے کہ وہ تو دین اسلام کو دین تسلیم ہی نہیں کرتے ۔ غرض اسلام میں یہ مسئلہ دین و ایمان کا مسئلہ ہے ۔ اور پھر یہ منطقی اور فطری اتحاد وتنظیم کا بھی مسئلہ ہے ۔

جہاں تک ایمان و اعتقاد کا تعلق ہے تو معاملہ بالکل واضح ہے ۔ ہم نے اس پر بہت طویل بحث کرلی ہے اور اوپر ہم نے قرآنی آیات سے ثابت کردیا ہے کہ مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان کوئی دوستی یا حلیفانہ تعلق قائم نہیں ہو سکتا ۔

رہی یہ بات کہ یہ ایک انتظامی اور تحریکی مسئلہ بھی ہے تو یہ بھی مذکور بالابحث سے واضح ہوگیا ہے ۔ اس لئے ایک مومن کی پوری جدوجہد یہ ہوگی کہ اسلامی نظام حیات کو زندگی کے تمام معاملات کے اندر نافذ کیا جائے اور ان تفصیلات کے ساتھ نافذ کیا جائے جن کا بیان حضرت محمد ﷺ نے کیا ہے ۔ اپنی تمام تفصیلات اور تمام پہلوؤں کے ساتھ اور زندگی کے تمام معاملات میں تو اس میدان میں ایک مسلم اس شخص کے ساتھ متحد اور ہمرکاب کس طرح ہوسکتا ہے جو سرے سے اسلام کو دین ہی نہیں مانتا ۔ نہ اسلامی شریعت کو شریعت مانتا ہے اور جس کے اہداف ومقاصد ہی دوسرے ہیں ۔ اگرچہ یہ اہداف ومقاصد اسلام کے خلاف نہیں ہیں لیکن وہ اسلام کے اہداف بھی نہیں ہیں ۔ اس لئے کہ اسلام کسی ہدف اور کسی عمل کو اس وقت تک قبول نہیں کرتا جب تک وہ اسلامی عقیدے پر قائم نہ ہو ۔

(آیت) ” مثل الذین کفروا بربھم اعمالھم کرماداشتدت بہ الریح فی یوم عاصف “۔ (14 : 18) (جن لوگوں نے اپنے رب سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اڑا دیا ہو)

اسلام ایک مسلمان پر یہ فریضہ عائد کرتا ہے کہ وہ اپنی جدوجہد صرف اسلام کے لئے کرے اور رات اور دن کی جدوجہد میں اپنی زندگی کے کسی بھی حصے کو اسلام تسلیم کرے گا جس نے نہ اسلام کے مزاج کو سمجھا ہو اور نہ دین اسلام کو سمجھا ہو ۔ یہ تصور نہیں کیا جاسکتا کہ ایک مسلمان کی زندگی کا کوئی حصہ اسلام سے خارج بھی ہو سکتا ہے جس کے اندر ایک مسلمان ان لوگوں کے ساتھ تعاون کرے جو دشمنان اسلام ہوں اور دشمن بھی ایسے ہوں جو مسلمانوں سے تب ہی راضی ہو سکتے ہوں جب وہ اسلام کو خیر باد کہہ دیں ۔ یاد رہے کہ اس بات پر قرآن نے واضح طور پر منصوص ہدایات دی ہیں کہ یہود ونصاری تم سے اس وقت تک راضی نہ ہوں گے جب تک تم ان کے دین وملت کو تسلیم نہ کرلو ۔ غرض یہ اتحاد اعتقادی اور نظریاتی طور پر بھی محال ہے جس طرح یہ عملی طور پر ممکن نہیں ہے ۔

عبداللہ ابن ابی ابن السلول نے جو معذرت کی ‘ (یہ شخص ان لوگوں میں سے تھا جن کی دل میں بیماری تھی ) اور اس سے آگے بڑھ کر یہودیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ تعلقات قائم کئے اور اس نے جو یہ کہا کہ وہ یہودیوں کے ساتھ اپنے حلیفانہ معاہدے تو نہیں توڑ سکتا کہ وہ ایک ایسا آدمی ہے جو چکروں سے ڈرتا ہے یعنی اسے ڈر یہ تھا کہ حالات ایسے نہ ہوجائیں کہ خود اس پر سختی ہو ۔ یہ عذر اس بات کا مظہر ہے کہ اس کے دل میں بیماری تھی اور وہ ضعیف الایمان تھا ۔ اس لئے کہ ولی اور مددگار تو صرف اللہ ہوتا ہے ۔ ناصر تو صرف اللہ ہے ۔ اور اللہ کے سوا کسی اور سے نصرت طلب کرنا گمراہی ہے ۔ اگر کوئی طلب کرتا ہے تو اس کا یہ کام ہی عبث ہے اس کا کوئی فائدہ نہ نکلے گا لیکن ابن ابی کی حجت اور اس کا عذر ہر شخص کا عذر ہے جو کسی بھی دور میں ابن ابی ابن السلول کا کردار ادا کرتا ہے ۔ اس کا تصور بھی ہر اس منافق کا تصور ہے جو مریض القلب ہے اور جس نے حقیقت ایمان کو نہیں پایا ہے ۔ دوسری جانب حضرت عبادہ ابن الصامت کا دل یہودیوں کی دوستی سے بھر گیا جب اس نے دیکھا کہ یہ لوگ غدار ہیں اس لئے کہ وہ خود سچے مومن تھے ۔ انہوں نے یہودیوں کی دوستی اور حلیفانہ معاہدوں کو توڑ دیا ۔ جبکہ عبداللہ ابن ابی نے ان معاہدوں کو گرمجوشی سے لیا ‘ ان کو سینے سے لگایا اور انکو اپنے دانتوں میں مضبوط پکڑ لیا اس لئے کہ وہ منافق تھا ۔

یہ دو طریق کار ہیں اور دو طرز ہائے عمل ہیں ‘ یہ دونوں مختلف عقائد و تصورات سے پیدا ہوئے ۔ ان دونوں کی تہ میں دو مختلف شعور کام کر رہے تھے اور یہی اختلاف دو مختلف طرز ہائے عمل کے درمیان قیامت تک رہے گا ۔ ایک قلب مومن ہوگا اور دوسرا قلب ایسا ہوگا جس نے ایمان کو نہ پہچانا ہوگا ۔

جو لوگ دین کے ایسے دشمنوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرتے ہیں اور انکے ساتھ اکٹھ کرتے ہیں ‘ جو منافق ہیں کو ہیں اور جن کا نطریہ ‘ جن کی دوستی اور جن کا اعتماد اللہ اور رسول اللہ کے لئے مخلصانہ نہیں ہے ‘ ان کو اللہ تعالیٰ نہایت ہی سختی سے تنبیہ کرتے ہیں کہ اللہ کی جانب سے یا تو اہل اسلام کو فتح نصیب ہوگی یا اور کوئی ایسی بات ظاہر کردی جائے گی جو فیصلہ کن ہوگی اور اس طرح ان کا نفاق ظاہر ہوجائے گا ۔ اور وہ پھر بہت شرمندہ ہوں گے ۔

(آیت) ” فَعَسَی اللّہُ أَن یَأْتِیَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِّنْ عِندِہِ فَیُصْبِحُواْ عَلَی مَا أَسَرُّواْ فِیْ أَنْفُسِہِمْ نَادِمِیْنَ (52)

” مگر بعید نہی کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے ۔

اس وقت یعنی مکمل فتح کے قریب جیسے فتح مکہ ہوئی یا کسی اور ذریعے سے حق و باطل کے درمیان فیصلہ کے وقت اور امر الہی کے آجانے کے وقت ‘ وہ لوگ سخت شرمندہ ہوں گے جن کے دل میں نفاق کی بیماری ہے کہ کیوں انہوں نے جلد بازی سے کام لیا اور یہودیوں اور عیسائیوں کے ساتھ دوستی اور حلیفانہ معاہدے کر لئے ۔ وہ نفاق کرتے رہے اور اب ان کا راز کھل گیا ۔ ایسے حالات میں پھر اہل ایمان کو منافقین کے حال پر تعجب ہوگا کہ کس طرح یہ لوگ اپنے سینوں میں نفاق لئے ہوئے تھے اور اب یہ لوگ کس قدر گھاٹے میں ہیں۔

اردو ترجمہ

تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں کہتے ہیں "ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں" مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fatara allatheena fee quloobihim maradun yusariAAoona feehim yaqooloona nakhsha an tuseebana dairatun faAAasa Allahu an yatiya bialfathi aw amrin min AAindihi fayusbihoo AAala ma asarroo fee anfusihim nadimeena

اردو ترجمہ

اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے "کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں؟" ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہو کر رہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wayaqoolu allatheena amanoo ahaolai allatheena aqsamoo biAllahi jahda aymanihim innahum lamaAAakum habitat aAAmaluhum faasbahoo khasireena

(آیت) ” وَیَقُولُ الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَہَـؤُلاء الَّذِیْنَ أَقْسَمُواْ بِاللّہِ جَہْدَ أَیْْمَانِہِمْ إِنَّہُمْ لَمَعَکُمْ حَبِطَتْ أَعْمَالُہُمْ فَأَصْبَحُواْ خَاسِرِیْنَ (53)

” اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ” کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ؟ “۔۔۔۔۔ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام ونامراد ہو کر رہے ۔

ہاں پھر ایک دن آگیا کہ فتح نصیب ہوئی ۔ کئی لوگوں کے خفیہ راز کھل گئے اور ان کے اعمال ضائع ہوگئے اور کئی گروپ سخت گھاٹے میں رہے ۔ اور آج بھی ہم اللہ کے اس وعدے کے انتظار میں ہیں کہ فتح آئے گی بشرطیکہ ہم اللہ کی رسی کو مضبوطی سے پکڑ رکھیں ۔ بشرطیکہ ہماری دوستی صرف اللہ سے ہو ‘ بشرطیکہ ہم اسلامی نظام کو سمجھیں اور اس کے مطابق اپنے افکار اور اپنے اعمال استوار کریں ‘ بشرطیکہ ہم معرکے کے اندر اللہ کی ہدایات اور راہنمائی میں اتریں اور ہم اللہ اور رسول کی سوا کسی کو دوست نہ بنائیں ۔

پہلی پکار اہل ایمان کو یہ تھی کہ وہ یہود ونصاری کی دوستی اور اس کے ساتھ حلیفانہ تعلقات قائم کرنے سے باز آجائیں ‘ ورنہ یاد رکھیں کہ ان کا شمار بھی ان میں ہوگا اور اس طرح وہ اسلام سے مرتد ہوجائیں گے ۔ ان کو پتہ بھی نہ چلے گا کہ وہ کیا سے کیا بن گئے بالکل غیر ارادی طور پر۔ اب یہاں ان کو دوسری کال دی جاتی ہے ۔ کہ خبردار ! ان میں سے کوئی مرتد نہ ہوجائے ۔ یہ اراتداد اس دوستی سے بھی ہو سکتا ہے اور دوسرے اسباب کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے ۔ اگر وہ مرتد ہوگئے تو اللہ کے ہاں ان کا کوئی مقام نہ رہے گا اور یہ بات بھی نوٹ کرلیں کہ ان کا یہ ارتداد اور الٹا پھرنا ‘ نہ اللہ کو مجبور کرسکتا ہے اور نہ اللہ کے دین کو نقصان دے سکتا ہے ۔ اللہ کے دین کے دوست اور بہت لوگ ہو سکتے ہیں جو اللہ کے علم میں ہیں ۔ اگر مسلمان سب کے سب پھرگئے تو وہ لوگ آجائیں گے اور یہاں ان لوگوں کے کچھ خدوخال بھی بتا دیئے جاتے ہیں جو کہ اللہ کے علم میں ہیں اور ریزور ہیں اور جو اس کے دین کے حامی و مددگار ہوں گے اور یہ خدوخال نہایت ہی پسندیدہ ‘ خوشنما ‘ خوبصورت اور چمکدار ہیں ۔ اور وہ قبلہ بھی بتا دیا جاتا ہے جس کی طرف ایک مسلم اپنی دوستی اور محبت کا رخ کرے گا اور اس دوسری پکار میں اس معرکے کا وہ حتمی انجام بھی ذکر کردیا جاتا ہے ‘ جو حزب اللہ اور تمام دوسری احزاب کے اندر جاری ہے ۔ اس انجام تک وہ لوگ اور صرف وہی لوگ پہنچیں گے جن کی محبت صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان کے ساتھ ہے ۔

اردو ترجمہ

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے، جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo man yartadda minkum AAan deenihi fasawfa yatee Allahu biqawmin yuhibbuhum wayuhibboonahu athillatin AAala almumineena aAAizzatin AAala alkafireena yujahidoona fee sabeeli Allahi wala yakhafoona lawmata laimin thalika fadlu Allahi yuteehi man yashao waAllahu wasiAAun AAaleemun

(آیت) ” نمبر 54 تا 56۔

اس صورت میں اور اس مقام پر مسلمانوں کو یہ تنبیہ کرنا کہ وہ مرتد نہ ہوجائیں ‘ اس بات کا پتہ دیتا ہے کہ ارتداد اور یہود ونصاری کے ساتھ دوستی اور تعلق موالات کے درمیان گہرا ربط ہے۔ خصوصا اس ریمارک کے بعد کہ جو شخص ان کے ساتھ محبت وموالات کا تعلق قائم کرے گا وہ انہیں میں شمار ہوگا ۔ وہ جماعت مسلمہ سے خارج تصور ہوگا اور ان کافر اور آدمی ہوگا ۔ (آیت) ’ ومن یتولھم منکم فانہ منھم) (تم میں سے جو ان کے ساتھ موالات کرے گا وہ ان میں سے ہوگا) اس مفہوم کی رو سے یہ دوسری پکار پہلی ہی تاکید وتائید ہوگی اور اس پکار کے بعد جو تیسری پکار آرہی ہے وہ بھی اس مفہوم پر دلالت کرتی ہے کیونکہ وہاں اہل کتاب اور کفار دونوں کے ساتھ تعلق موالات کی ممانعت کا ذکر ہے اور ان کو ایک صف میں کھڑا کردیا گیا ہے کہ اہل کتاب اور کفار کے ساتھ موالات کا درجہ ایک ہی ہے اور یہ کہ اسلام میں اہل کتاب اور دوسرے کفار کے ساتھ بعض تعلقات میں جو فرق کیا گیا ہے وہ ہدایات تعلق موالات پر لاگو نہیں ہیں ان میں موالات شامل نہیں ہے ۔

(آیت) ” یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ مَن یَرْتَدَّ مِنکُمْ عَن دِیْنِہِ فَسَوْفَ یَأْتِیْ اللّہُ بِقَوْمٍ یُحِبُّہُمْ وَیُحِبُّونَہُ أَذِلَّۃٍ عَلَی الْمُؤْمِنِیْنَ أَعِزَّۃٍ عَلَی الْکَافِرِیْنَ یُجَاہِدُونَ فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ وَلاَ یَخَافُونَ لَوْمَۃَ لآئِمٍ ذَلِکَ فَضْلُ اللّہِ یُؤْتِیْہِ مَن یَشَاء ُ وَاللّہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ(54)

” اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو ‘ اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے ۔ (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے ‘ جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ‘ جسے چاہے عطا کرتا ہے ۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔

کسی ایک گروہ اور جماعت کو اللہ کے کام پر لگانا اللہ کی منشا کو پورا کرنا ہے ۔ اگر ایسا گروہ اس کرہ ارض پر اللہ کے دین کی اقامت کے لئے دست قدرت کا آلہ کار ہو ‘ اور اور اس کے ذریعے دنیا میں عوام الناس پر اللہ کی حکومت قائم ہو ‘ ان کی زندگی میں اللہ کے احکام وہدایت نافذ ہوں ‘ انہی کے مطابق ان کی انتظامیہ ہو ‘ ان کی عدالتوں میں اسلامی شریعت نافذ ہو اور بھلائی ‘ خیر ‘ پاکیزگی اور ترقی کا دور دورہ ہو اور یہ اسلامی نظام کی وجہ سے دنیا کو حاصل ہو تو اس گروہ کا اس کام کے منتخب ہونا اور کیا جانا ہی اللہ تعالیٰ کا عظیم فضل وکرم ہے ۔ اب اگر کوئی اپنے آپ کو اللہ کے اس فضل وکرم سے محروم کرتا ہے تو یہ اس کی اپنی بدبختی ہوگی ۔ اللہ تعالیٰ غنی بادشاہ ہے اور ان محروم ہونے والوں کے علاوہ بھی اللہ کے علم میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اس فضل وکرم کے مستحق ہیں ۔

یہاں اللہ تعالیٰ ان مختاران الہی کی جو تصویر کشی فرماتے ہیں اس کے خدوخال نہایت ہی واضح ہیں اور ان کی صفات کا ذکر بھی نہایت ہی واضح طور پر کردیا گیا ہے ۔ یہ تصویر نہایت ہی روشن اور پرکشش ہے ۔

(آیت) ” فسوف یاتی اللہ بقوم یحبونہ “۔ (5 : 54) ” اللہ بہت سے لوگ پیدا کر دے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا “۔ یعنی ان کے اور ان کے رب کے درمیان رابطہ اور تعلق محبت کے متبادل تحفے ہوں گے ۔ محبت کیا ہے ؟ ایک روح ہے جو نہایت ہی لطیف ‘ روشن ‘ پر رونق اور نہایت ہی ہشاش وبشاش روح ہے ۔ جو اس قوم اور اللہ تعالیٰ کے درمیان رابطے کا کام دیتی ہے ۔

اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے ساتھ محبت کرتا ہے ۔ یہ ایک ایسا امر ہے جس کی قدروقیمت کا ادراک صرف اس شخص کو ہو سکتا ہے جس کو معرفت ربانی حاصل ہو اور انہیں صفات سے متصف ہو جو اللہ نے خود بیان کی ہیں ۔ نیز صرف وہی شخص اس کا تصور کرسکتا ہے جس کے حس ‘ شعور اور نفس وشخصیت پر ان صفات کا پر تو پڑا ہو۔ یہ فضل وکرم اسی شخص کے ادراک میں آسکتا ہے جو اس داتا کی حقیقت سے واقف ہو ‘ جو جانتا ہو کہ اللہ کون ہے ؟ اس عظیم کائنات کا مالک اور صانع کون ہے ؟ اور اس کائنات میں اس چھوٹے سے کیڑے انسان کا بھی وہ خالق ہے جو نہایت اونچی عظمتوں والے کے اقتدار میں ہے اور وہ اس کی خدمت میں ہے جو خالص اسی کا ہے اور اس کی بادشادہی میں ہے ۔ اور وہ ذات کون ہے اور یہ انسان کیا ہے جس پر ذات فضل وکرم کر رہی ہے ۔ اس کے ساتھ محبت کر رہی ہے حالانکہ انسان خود اس کا بنایا ہوا ہے ۔ وہ پاک ہے ‘ جلیل القدر ‘ عظیم المرتبہ ‘ الحی ‘ الدائم ‘ الارفیع ‘ الابدی ‘ الاول ‘ الاخر اور الظاہر والباطن ہے ۔

کسی بندے کا اپنے اللہ کے ساتھ محبت کرنا اس بندے کے لئے ایک نعمت ہے اور اس کی صرف وہی شخص سمجھ سکتا ہے جس کو اس کا ذوق ہو اور اللہ کی جانب سے کسی بند کے ساتھ محبت کرنا تو ایک عظیم بات ہے اور یقینا عظیم اور بھرپور اور فضل جزیل ہے ۔ اسی طرح اللہ کا اپنے بندوں کو ہدایت دینا ‘ ان کی تعریف کرنا بھی ایک بہت بڑا اعزاز ہے ۔ ان کے اندر اس ذوق جمیل کا پیدا ہونا اور ایک ایسا ذوق محبت پیدا ہونا جس کی دنیا کی محبتوں میں کوئی نظیر نہ ہو ‘ تو یہ بھی ایک عظیم وانعام واکرام ہے اور ایک عظیم فضل وکرم ہے ۔

جس طرح اللہ کی جانب سے بندے کے ساتھ محبت ناقابل بیان ہے اسی طرح بندے کی جانب سے اللہ کے ساتھ محبت بھی ناقابل بیان ہے ۔ دنیا کے محبت کرنے والوں کے کلام میں اور عبادات میں اس کا اظہار ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ وہ شعبہ ہے جس میں صوفیا میں سے واصل باللہ لوگ ہی برتری کے حامل ہیں ۔ لیکن صوفیوں کے لباس میں ‘ نام نہاد صوفیوں کی جو فوجیں پھرتی نظر آتی ہیں اور عوام کے درمیان معروف ہیں ان میں ایسے واصل باللہ بہت ہی کم نظر آئیں گے ۔ اس سلسلے میں رابعہ عدویہ کے کچھ اشعار میرے ذہن کی اسکرین پر آتے ہیں ۔ وہ کہتی ہیں :

فلیتک تحلوا والحیاۃ مریرۃ

ولیتک ترضی والانام غضاب

(اے کاش کہ آپ میٹھے ہوں اور زندگی کڑوی ہو اور اے کاش کہ آپ راضی ہوں اور تمام لوگ مجھ پر غضبناک ہوں)

ولیست الذی بینی وبینک عامر

وبینی وبین العلمین خراب :

(اے کاش کہ میرے اور آپ کے درمیان ہے وہ بستا رہے اور میرے اور لوگوں کے درمیان جو ہے وہ خراب ہو) یعنی تعلق ورابطہ ۔

اذا صح منک الحب فالکل ھین

وکل الذی فوق التراب تراب :

(اگر آپ کی جانب سے محبت درست ہوجائے تو پھر سب کچھ آسان اور حقیقت یہ ہے کہ اس مٹی کے اوپر جو مخلوق بھی چلتی پھرتی ہے وہ مٹی ہی ہے)

اللہ جل شانہ کی طرف سے اپنے بندوں میں سے ایک بندے کے ساتھ یوں اظہار محبت اور ایک عاجز بندے کی طرف سے اللہ کے ساتھ اظہار محبت جو منعم حقیقی ہے اور جو حقیقی فضل کرنے والا ہے ایک انعام ہے ۔ یہ محبت اس پوری کائنات میں پھیل جاتی ہے اور یہ محبت بھی ہر زندہ چیز کا مزاج بن جاتی ہے ہے پھر ایک فضا ہوتی ہے اور ایک سایہ ہوتا ہے جو اس پورے وجود کائنات پر چھا جاتا ہے اور انسان جو محبت بھی ہے اور محبوب بھی ‘ اس کی زندگی کا پیمانہ تو اس محبت سے پوری طرح بھر جاتا ہے ۔

اسلامی تصور حیات ایک مومن اور اس کے رب کے درمیان اس طرح کا محبوب رابطہ قائم کرتا ہے جو نہایت ہی عجیب اور نہایت ہی پیارا ہوتا ہے ۔ یہ دائمی محبت کا رابطہ ایسا نہیں ہوتا کہ اچانک قائم ہوجائے یا ایک چمک پیدا ہو اور چلی جائے ۔ یہ اسلامی تصور حیات میں ایک بنیادی اور حقیقی عنصر ہے ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں۔

(آیت) ” ان الذین وعملوا الصلحت سیجعل لھم الرحمن ودا) ” وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کئے ان کے لئے رحمن محبت کرنے والا ہے) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” ان ربی رحیم ودود “۔ ” بیشک میرا رب رحم کرنے والا اور محبت کرنے والا ہے ) اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” واذا سئلک عبادی عنی فانی قریب اجیب دعوۃ الداع اذا دعان) ” اور جب تم سے میرے بندے ‘ میرے بارے میں پوچھیں و بیشک میں قریب ہوں میں پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں ‘ جب وہ پکارتا ہے ۔ “ (آیت) ” والذین امنوا اشد حب اللہ) ” اور جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ اللہ کے ساتھ شدید محبت رکھتے ہیں ۔ “

اور دوسری جگہ ہے ۔ (آیت) ” قل ان کنتم تحبون اللہ فاتبعونی یحببکم اللہ ‘ ” کہہ دیجئے اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو تو میری اطاعت کرو ‘ تم سے اللہ محبت کرے گا) وغیرہ وغیرہ بیشمار ایسی آیات ہیں جو اس مضمون کا ظاہر کرتی ہیں۔

ان لوگوں پر تعجب ہے کہ وہ اس مضمون کی آیا پڑھتے ہیں اور پھر بھی کہتے ہیں کہ اسلامی تصور حیات ایک خشک سخت اور کرخت تصور ہے اور اس میں خدا بندے کے درمیان تعلق قہر وغضب سزا گوشمالی اور سختی اور دوری کا تعلق ہے ۔ اس میں کوئی ایسا تصور نہیں جس طرح مسیحی تصور میں مسیح کو اقانیم الوہیت میں سے ایک اقنوم تصور کیا جاتا ہے ۔ اور لوگوں میں اور اللہ میں ایک گہرا ربط بلکہ من تو شدم تو من شدی کا تصور پیدا ہوتا ہے ۔

حقیقت یہ ہے کہ اسلامی تصور حیات کی صفائی اور اس میں حقیقت الوہیت اور مقام بندگی کے اندر مکمل فرق و امتیاز کرنے کی وجہ سے ‘ الفت و محبت کی پرنم فضا میں کوئی کمی نہیں آتی ۔ اللہ اور بندے کے درمیان اس تصور میں نہایت ہی گہرا ربط موجود ہے لیکن یہ ربط وتعلق رحمت اور عدل کا تعلق ہے ۔ اس تعلق کا ایک رخ باہم محبت ہے تو دوسرا رخ مکمل پاکیزگی کا ہے ۔ ایک طرف محبت ہے اور دوسری جانب اللہ کی ذات کے لئے پاکیزگی ہے یہ نہایت ہی جامع اور مانع تصور ہے ۔ اور اس سے وہ تمام بشری تقاضے پورے ہوتے ہیں جو اپنے رب کے حوالے سے انسان کو درکار ہیں۔

چناچہ اس ” مومن رجمنٹ “ کی صفت سے متعلق ‘ جسے اس دین کے لئے اٹھایا گیا ہے اس آیت میں یہ الفاظ آتے ہیں اور بار بار ذہن میں پھرتے ہیں۔ (آیت) ” یحبھم ویحبونہ “۔ (وہ اللہ سے محبت کرتا اور اللہ اس سے محبت کرتے ہیں)

اس فضائے محبت میں جب یہ رجمنٹ اپنے عظیم فرائض کی ادائیگی کے لئے نکلتی ہے اور یہ بوجھ اٹھاتی ہے تو اس کے دل میں یہ شعور ہوتا ہے کہ اسے اللہ تعالیٰ نے اس خصوصی خدمت کے لئے بھرتی کیا ہے اور وہ اللہ جل شانہ کی خصوصی رجمنٹ ہے ۔

اس کے بعد اس رجمنٹ کی باقی خصوصیات بیان کی جاتی ہیں ۔ (آیت) ” اذلۃ علی المومنین “۔ (5 : 54) (مومنوں پر نرم ہوں گے) یہ ایک ایسی صفت ہے جو اطاعت ‘ نرمی اور یسر سے لی گئی ہے اور لفظ یہ استعمال کیا ہے کہ وہ مومنین کے مقابلے میں اپنے آپ کو ذلیل کر کے رکھیں گے ۔ لیکن اگر کوئی مومنین کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے کہ ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں اپنے نفس کو ذلیل کرتا ہے تو وہ ذلت نہیں ہے اور نہ اس میں توہین کا پہلو ہے اس لئے ایک مومن دوسرے مومن کے مقابلے میں نہایت ہی نرم ہوتا ہے ‘ سخت اور نافرمان نہیں ہوتا ۔ آسان اور نرم ‘ جلدی لبیک کہنے والا ‘ روادار ‘ محبت کرنے والا ہوتا ہے ۔ اس لئے اس کے لئے اس لفظ کے استعمال میں ذلت بمعنی حقارت کا مفہوم نہیں ہے بلکہ اس سے اخوت ‘ محبت ‘ عدم تکلف ‘ نفسیاتی اتحاد اور نظریاتی لگاؤ کے معانی کا اظہار ہوتا ہے ۔ ایک مومن اور دوسرے مومن کے درمیان کوئی پردہ اور راز نہیں رہتا۔

جب انسان بعض چیزیں اپنی ذات کے لئے اٹھا رکھتا ہے تو یہ جذبہ اسے اپنے دوسرے بھائی کے مقابلے میں زیادہ نمایاں ‘ بخیل اور کنجوس بنا دیتا ہے ۔ لیکن جب ایک شخص اپنے آپ کو ایک کمپنی یا رجمنٹ کا فرد بنا لیتا ہے تو وہ اپنا سب کچھ اس کے لئے قربان کردیتا ہے اور اس کی انفرادیت کا دائرہ محدود ہوجاتا ہے ۔ پھر اس کمپنی کے علاوہ وہ اپنے لئے کچھ اٹھا نہیں رکھتا جبکہ ان کی کمپنی اخوت اسلامی کی کمپنی ہوتی ہے اور وہ اللہ کے نام اور نظام پر جمع ہوئے ہیں۔ اللہ ان سے محبت کرتا ہے اور وہ اللہ سے محبت کرتے ہیں۔ محبت الہی ہی ان میں مشترک ہے اور یہ اسے باہم تقسیم کرتے ہیں ۔

(آیت) ” اعزۃ علی الکفرین “۔ (5 : 54) (جو کفار پر سخت ہوں گے) یعنی کافروں کے مقابلے میں ان کے اندر برتری ‘ ناپسندیدگی اور برتری کے جذبات پائے جاتے ہیں اور چونکہ مقابلہ کفار کے ساتھ ہے اس لئے ان کے مقابلے میں ان جذبات کا ہونا مناسب ہے ۔ ان جذبات کا اظہار ان کے مقابلے میں محض ذاتی عزت کے اظہار کے لئے نہیں ہے اور نہ صرف اپنی خودی بلند کرنا مطلوب ہوتا ہے بلکہ ان کی جانب سے عزت کا اظہار اسلامی نظریہ حیات کی طرف سے عزت کا اظہار ہوگا اس جھنڈے کی برتری ہوگی جس کے نیچے اہل ایمان کھڑے ہوں گے اور اہل کفار کے مقابلے میں ہوں گے ۔ اس سے اس بات کا اظہار ہوگا کہ ان کے پاس جو کچھ ہے وہ خیر ہے اور ان کا مقام یہ ہے کہ وہ دوسروں کو اپنے ساتھ لے کر اس بھلائی کے تابع کردیں ، یہ نہیں ہے کہ وہ دوسروں کے ساتھ مل کر اس چیز کے تابع ہوجائیں جس کے وہ دوسرے حامل ہیں اور وہ خیر نہیں ہے ۔ اس اظہار برتری اور سختی سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے اندر دین کے بارے میں خود اعتمادی ہے اور وہ ہوا وہوس کے دین پر قابو پا چکے ہیں ۔ انکے ہاں اللہ کی قوت تمام دوسری قوتوں پر غالب ہے اور اللہ کی جماعت تمام احزاب پر غالب ہے ۔ اگر وہ بعض معرکوں میں شکست بھی کھا جائیں تو پھر بھی وہ بلند عزم لئے ہوئے ہیں کیونکہ اسلامی جدوجہد کی طویل راہ میں بھی کبھی لغزش بھی تو ہو سکتی ہے ۔

(آیت) ” یجاھدون فی سبیل اللہ ولا یخافون لومۃ لائم “۔ (5 : 54) ” وہ اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے ۔ “ یہ جہاد فی سبیل اللہ ہوگا ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ زمین پر اسلامی نظام قائم کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ لوگوں پر اللہ کی بادشاہت کا اعلان کیا جائے ‘ یہ اس لئے ہوگا کہ ملک کے اندر اسلامی شریعت کے مطابق فیصلے ہوں اور ملک کے اندر بھلائی ترقی اور اصلاح بین الناس کا دور دورہ ہو ۔ یہ ہے ایک دوسری صفت اسلامی رجمنٹ کی ۔ اور اسے اللہ تعالیٰ نے محض اس لئے قائم کیا ہے کہ وہ اس کی زمین پر وہ فریضہ سرانجام دے جو اللہ کو مطلوب ہے۔

یہ رجمنٹ فی سبیل اللہ جہاد کرے گی ‘ اپنے ذاتی مقصد کے لئے نہ کرے گی ۔ نہ اپنی قوم کے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ اپنے وطنی مقاصد میں سے کسی مقصد کے لئے لڑے گی ‘ نہ وہ کسی نسل کے لئے کام کرے گی ۔ اس رجمنٹ کے ارکان صرف اللہ کی راہ میں جہاد کریں گے اور یہ جہاد اسلامی نظام حیات کے قیام کے لئے ہے ‘ اللہ کی حکومت کے قیام کے لئے ہے ‘ اور اللہ کی شریعت کے نفاذ کے لیے ہے اور اس راہ میں تمام لوگوں کی بھلائی ہے ۔ اس میں ان کی ذاتی کوئی غرض نہیں ہے ‘ نہ ان کا اپنا کوئی حصہ ہے ۔ یہ گروہ صرف اللہ کے لئے ہے اور اس میں کوئی اور شریک نہیں ہے ۔

یہ رجمنٹ اللہ کے راستے میں لڑنے مرنے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کا کوئی لحاظ نہ رکھے گی ۔ اس کو لوگوں کا کیا خوف ہوگا اور وہ کیا پرواہ کرے گی وہ تو اللہ کی محبت میں سرشار ہوگی اور یہی محبت اس کے لئے امام ضامن ہے ۔ لوگوں کے ہاں رائج مقامات قیام پر وہ سٹاپ نہ کرے گی ۔ سوسائٹی کی اقدار اس کی نظروں میں ہیچ ہوں گی اور جاہلیت کے ہاں معروف اس کے لئے معروف نہ ہوگا ۔ وہ تو سنت الہی کی رجمنٹ ہوگی اور وہ اسلامی نظام حیات پیش کرنے والی ہوگی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اپنی اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق کرنے والی ہوں گی ۔ لوگوں کی ملامت سے تو وہ لوگ ڈرتے ہیں جو اقدار اور ہدایات لوگوں کی خواہشات کے مطابق تشکیل دیتے ہیں اور جن کی قوت اور طاقت کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں لیکن جس جماعت کا رخ اللہ کی اقدار اور پیمانوں کی طرف ہوگا وہ تو کلمہ حق کو عوام کی اقدار اور پیمانوں پر غالب کرنے کی سعی کرے گی اور لوگوں کی خواہشات کے برعکس کام کرے گی تو وہ لوگوں سے کیا ڈرے گی ۔ جس شخص کی قوت اور اقدار کا سرچشمہ ذات باری ہو ‘ تو کیا پرواہ ہو سکتی ہے کہ لوگ کیا کہتے ہیں اور کیا کرتے ہیں ۔ وہ تو یہ سمجھے گا کہ گویا لوگ سرے سے موجود ہی نہیں ہیں ۔ ان لوگوں کی صورت حالات جو ہو سو ہو ‘ ان لوگوں کی تہذیب و تمدن جو ہو سو ہو ‘ وہ اپنی راہ پر رواں دواں رہے گا ۔

ہم لوگ تو دیکھتے ہیں کہ لوگ کیا کہتے ہیں ‘ لوگ کرتے ہیں ‘ لوگوں کے پاس کیا فکر وعمل ہے ‘ لوگ کن اصطلاحات میں بات کرتے ہیں ‘ لوگوں کی عملی زندگی کیا ہے اور ان میں کیا اقدار اور پیمانے ملحوظ ہیں ۔ ہمارا یہ رویہ اس وجہ سے ہے کہ ہم نے اصل اصول کو بھلا دیا ہے جس کے مطابق ہم نے ان اعتبارات کے مقابلے میں ایک پیمانہ بنانا ہے ‘ جس کے مطابق ہم نے اپنے حساب کو درست کرنا ہے اور جس کے مطابق ہم نے آپ کو تولنا ہے ۔ اور وہ اصول ہے اسلامی نظام حیات اسلامی شریعت اور اللہ کے احکام اصل بات یہ ہے کہ یہی ہے اصول حق اور اس کے ماسوا سب باطل ہے ۔ اگرچہ یہ لاکھوں کروڑوں کے لئے معروف ومتداول ہو۔ اگرچہ کئی نسلیں اسے صدیوں تک مانتی چلی آئی ہوں ۔

کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت یا کسی قدر کی یہ کوئی قیمت (VAlue) نہیں ہے کہ وہ موجود ہے یا وہ امر واقعہ ہے یا لاکھوں لوگ اس کے ماننے والے والے ہیں یا لاکھوں لوگ اس طرح زندگی بسر کرتے ہیں یا تمام لوگ اسے اصول حیات تسلیم کرتے ہیں ۔ اس قسم کے پیمانے کو اسلامی تصور حیات سلیم نہیں کرتے بلکہ کسی صورت حال ‘ کسی رواج ‘ کسی عادت ‘ کسی قدر کی قیمت یہ ہوگی کہ اسلامی تصور حیات میں اس کی کوئی قیمت ہے یا نہیں ہے اس لئے کہ تمام اقدار اور پیمانوں کا معیار اسلامی نظام ہے ۔

یہ وجہ ہے کہ یہ اسلامی رجمنٹ اللہ کی راہ میں جہاد کرے گی اور وہ کسی امامت کرنے والے کی ملامت سے خوف نہ کھائے گی ، یہ ہے نشانی ان مومنین کی جنہیں اللہ تعالیٰ نے اس رجمنٹ میں بھرتی کیا ہوگا ۔ اور یہ بھرتی بھی اللہ کرے گا اور پھر اس رجمنٹ کے سپاہیوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کو بہت گہرا پیار ہوگا ۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ اپنے ان بہادروں کی نشانیاں بتا رہا ہے ۔ ان کے پتے بتا رہا ہے ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔ ان بہادروں کے دلوں میں جو اطمینان ہوگا اور جس ثابت قدمی کے ساتھ راہ جہاد پر وہ رواں دواں ہوں گے یہ بھی اللہ کا فضل وکرم ہوگا ۔

(آیت) ” ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشآء واللہ واسع علیم “۔ (5 : 54) ” وہ جسے چاہتا ہے ذرائع دے دیتا ہے اور علم کے مطابق دیتا ہے ۔ اور اللہ کا دین بہت ہی وسیع ہے اور اس کے لئے جسے چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے “۔ اب اللہ تعالیٰ دھمکی کے بعد ‘ اس بات کا تعین فرماتے ہیں کہ اہل ایمان کی دوستی اور موالات کس کے ساتھ ہوگی اس کی تصریح کی جاتی ہے ۔

اردو ترجمہ

تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Innama waliyyukumu Allahu warasooluhu waallatheena amanoo allatheena yuqeemoona alssalata wayutoona alzzakata wahum rakiAAoona

(آیت) ” إِنَّمَا وَلِیُّکُمُ اللّہُ وَرَسُولُہُ وَالَّذِیْنَ آمَنُواْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)

” تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور رسول اللہ اور اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔

بطریق حصریہ فیصلہ دیا جاتا ہے جس میں کسی تاویل اور لیپاپوتی کی کوئی گنجائش نہیں رہتی اور نہ اسلامی تحریک کو پگھلانے اور اسلامی تصور حیات کو ڈھیلا کرنے کی کوئی گنجائش رہتی ہے ۔

اس کے سوا کوئی اور بات ممکن بھی نہ تھی اس لئے کہ یہ مسئلہ اپنی اصلیت کے اعتبار سے نظریاتی مسئلہ ہے ۔ پھر اس نظریہ کو لے کر ایک تحریک برپا کرنے کا مسئلہ ہے اور اس میں دوستی اور موالات کا خالصۃ اللہ کے لئے ہونا ضروری ہے صرف اللہ ہی پر بھروسہ کرنا ضروری ہے تاکہ دین صرف اسلام ہوجائے اور اسلامی صفوں میں اور ان صفوں کے درمیان مکمل جدائی ہوجائے جو صفیں اسلام کو دین تسلیم نہیں کرتیں جو اسلام کو منہاج حیات نہیں بتاتیں ۔ یہ تمام دو ٹوک پالیسیاں اس لئے ہیں کہ اسلامی تحریک کے اندر سنجیدگی ہو اور اس کا اپنا نظام ہو ۔ اس میں صرف ایک ہی قیادت کے لئے دوستی اور وفاداری ہو اور اتحاد ویقین ایک ہی رجمنٹ کے افراد کے اندر ہو اس لئے کہ یہ اتحاد اس گروہ کے درمیان ہے جسے نظریات کی اساس پر اٹھایا گیا ہے ۔

اب اس رجمنٹ کے بعض دوسرے اوصاف گنوائے جاتے ہیں ۔ یہ اس کے ممتاز اوصاف ہیں اور یہ اس لئے گنوائے جاتے ہیں کہ اسلام محض ایک عنوان ہی نہ ہو ، محض جھنڈا اور علامت ہی نہ ہو ‘ محض زبانی جمع خرچ نہ ہو یا اس طرح نہ ہو کہ وہ ایک نسب کی طرح پشت درپشت سے منتقل ہوتا ہو یا محض ایک صفت ہو جو اچھے لوگوں میں پائی جاتی ہے بلکہ وہ ایک علمی دین ہو۔

(آیت) ” ْ الَّذِیْنَ یُقِیْمُونَ الصَّلاَۃَ وَیُؤْتُونَ الزَّکَاۃَ وَہُمْ رَاکِعُونَ (55)

” وہ لوگ جو نماز قائم کرتے ہیں ‘ زکوۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔ ان کی صفات میں سے ایک صفت یہ ہے کہ وہ نماز قائم کرتے ہیں ۔ صرف نماز ادا نہیں کرتے بلکہ قائم کرتے ہیں اقامت صلوۃ کا مفہوم یہ ہے کہ وہ نماز پورے طور پر ادا کرتے ہیں اور ان کی نماز سے وہ آثار نمودار ہوتے ہیں جن کا ذکر اللہ نے فرمایا ہے ۔

(آیت) ” ان الصلوۃ تنھی عن الفحشآء والمنکر) (نماز فحاشی اور منکر سے روکتی ہے) اور جس شخص کی نماز اسے فحاشی اور برائیوں کے ارتکاب سے نہیں روکتی اس نے گویا نماز ادا نہیں کی ۔ اگر اس نے نماز قائم کی ہوتی تو نماز اسے برائیوں سے روکتی ۔

ان کی ایک صفت یہ ہے کہ وہ زکوۃ دیتے ہیں ۔ یعنی اللہ کی عبادت کرتے ہوئے مال میں سے اللہ کا حق ادا کرتے ہیں ۔ یہ ایک قسم کی مالی عبادت ہے اور اسے دل کی رغبت اور رضا مندی سے ادا کیا جانا چاہئے اس لئے کہ زکوۃ محض ٹیکس نہیں ہے کہ اسے بادل ناخواستہ ادا کیا جائے ۔ زکوۃ بھی عبادت ہے بلکہ یہ مالی عبادت ہے اور یہ اسلامی نظام کی خصوصیت ہے کہ وہ ایک حکم کے ذریعے مختلف مقاصد کو حاصل کرلیتا ہے ۔ رہے انسانوں کے بنائے ہوئے نظام تو ان میں ایسی کوئی خصوصیت نہیں ہے کہ ایک پہلو میں ہدف کو پورا کرلیں اور دوسرا پہلو سرے سے غائب ہو۔

کسی معاشرے کی اصلاح صرف اس بات سے نہیں ہوتی کہ اس میں لوگوں سے مال محض ٹیکس کے طور پر لیا جائے یا دولت مندوں سے مال لیا جائے اور فقراء کو دیا جائے اور یہ کام حکومت اور قوم کے نام پر کیا جائے یا اسے مالیے کا نام دیاجائے ، ایسی صورتوں میں صرف ایک مقصد پورا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ محتاجوں تک دولت کا ایک حصہ پہنچ جاتا ہے ۔ رہی زکوۃ تو اس کے نام اور مفہوم دونوں سے پاکیزگی اور نشوونما کا اظہار ہوتا ہے ۔ اس سے ایک طرف سے انسانی ضمیر کے لئے پاکیزگی حاصل ہوتی ہے اور دوسرے طرف مال کی پاکیزگی بھی حاصل ہوتی ہے کیونکہ یہ اللہ کی عبادت ہوتی ہے اور اس میں ادا کرنے والے کے جذبات اپنے فقراء بھائیوں کی طرف نہایت ہی محبت کے ہوتے ہیں ۔ زکوۃ دینے والا ایک عبادت کر رہا ہوتا ہے اور اس پر اسے قیامت میں اجر اور جزاء ملتی ہے ۔ نیز اس سے اس دنیا میں بھی معاشی ترقی ہوتی ہے اور مال میں برکت اور اضافہ ہوتا ہے ۔ پھر اس کے ذریعہ جو فقراء مال لیتے ہیں ان کے جذبات بھی مجروح نہیں ہوتے ۔ اس لئے کہ یہ لوگ اس کو اللہ کا فضل سمجھتے ہیں کہ اللہ نے ان کے لئے اغنیاء کی دولت میں حصہ رکھ چھوڑا ہے ۔ اس طرح ان کے دلوں میں اغنیاء کے خلاف عداوت وبغض پیدا نہیں ہوتا ۔ (اور یہاں یہ بات ذہن میں رہنی چاہئے کہ اسلامی معاشرے میں اغنیاء بھی حلال ذرائع سے مال کماتے ہیں وہ کسی کا حق نہیں مارتے ۔ وہ اپنا نصیب جمع کرتے ہیں) سب سے آخر مین یہ کہ زکوۃ کی شکل میں بڑے خوشگوار انداز میں ایک مالی ٹیکس بھی عائد ہوجاتا ہے اور نہایت ہی پاکیزگی ‘ نہایت ہی طہارت اور بڑھوتری کے ساتھ ۔

غرض زکوۃ کی ادائیگی ان لوگوں کی نہایت ہی ممتاز علامت ہے جو شریعت کا اتباع کرتے ہیں ۔ یہ ان کی جانب سے عملی اقرار ہے کہ وہ اللہ کی حکومت اور اس کے اقتدار اعلی کو تسلیم کرتے ہیں ۔

(آیت) ” وھم رکعون “۔ (5 : 55) (اور وہ رکوع کرتے ہیں) یہ ان کی شان اور صفت ہے ‘ یعنی یہ گویا ان کا وصف لازم ہے اور ان کی اصلی حالت ہی یہ ہے کہ وہ رکوع میں ہوتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ یقیمون الصلوۃ پر اکتفاء نہ کیا گیا اور راکعون بھی کہا گیا ‘ اس لئے کہ راکعون گویا ان کی ایک منفرد اور نہایت ہی ممتاز صفت ہے ۔ اسم فاعل کے ساتھ یہ صفت لا کر یہ تاثر دیا گیا کہ وہ دائما ایسا کرتے رہتے ہیں اور اس لئے اسے نمایاں کرکے بیان کیا گیا ۔۔۔۔۔ ایسے مقامات پر قرآن کی تعبیرات کے اندر نہایت ہی گہری اشاریت پائی جاتی ہے اگر کسی کو ادبی ذوق ہو ۔

اب اس رجمنٹ کے ساتھ اللہ کا وعدہ کیا ہے ؟ وہ اللہ پر اعتماد کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے دعا کرتی ہے ‘ وہ اللہ سے موالات کرتی ہے ‘ وہ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کی دوست ہے ۔ پھر دوسری جانب اسلامی صفوں کے سوا تمام صفوں سے کٹ چکی ہے اور خاصل اللہ کے لئے ہوگئی ہے ۔ اس کے ساتھ اب کیا وعدہ ہے ؟

اردو ترجمہ

اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اُسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Waman yatawalla Allaha warasoolahu waallatheena amanoo fainna hizba Allahi humu alghaliboona

(آیت) ” ومن یتول اللہ ورسولہ والذین امنوا فان حزب اللہ ھم الغلبون (56) (5 : 55۔ 56)

” اور جو اللہ اور اس کے رسول اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنا لے اور اسے معلوم ہو کہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے ۔

ایمان کے اصول کے بیان کے بعد اللہ تعالیٰ نے غلبے کا وعدہ کیا ہے ۔ اور ایمانی اصل اور ایمانی قاعدہ یہ ہے کہ موالات اور دوستی صرف اللہ ‘ رسول اللہ ﷺ اور مومنین کے لئے ہو۔ پہلے یہ حکم دیا گیا کہ اگر تم یہودیوں کے ساتھ موالات کرو گے تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ تم اسلامی صفوں سے خارج تصور ہوگا ‘ تمہارا شمار یہودونصاری میں ہوگا اور معنوی اعتبار سے تمہارا یہ عمل دین سے ارتداد ہوگا۔

یہ لمحہ فکریہ قرآن میں بار بار آتا ہے ‘ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ ایک مسلمان سے یہ توقع کرتا ہے کہ وہ اسلام کو مطلقا خیر سمجھے اور اس پر چلے ۔ اس لئے نہیں کہ وہ غالب ہوگا یا اسے زمین کے اندر اقتدار اعلی نصیب ہوگا ۔ تمکن فی الارض اور غلبہ تو ایمان کے آثار ہیں اور اپنے وقت پر ضرور نمودار ہوتے ہیں اور یہ اس لئے نمودار ہوتے ہیں کہ اللہ کی تقدیر پردے سے ظاہر ہو کہ اس نے اس دین کو اس کرہ ارض پر غالب کرنا ہے ۔ غلبے کا ویہ وعدہ اس لئے نہیں ہے کہ لوگ اس وعدے کے بل بوتے پر دین میں داخل ہوجائیں ۔ محض غلبہ مقصود نہیں ہے ‘ نہ اس میں ان کی ذات اور شخصیت کا کوئی فائدہ ہے ‘ یہ تو اللہ کی تقدیر ہوتی ہے جو مسلمانوں کے ہاتھوں ازپس پردہ تقدیر نمودار ہوتی ہے ۔ یہ غلبہ جو انہیں نصیب ہوتا ہے تو یہ ان کے نظریہ حیات کے لئے ہوتا ہے ‘ ان کی ذات کے لئے نہیں ہوتا ۔ ان کے لئے اگر کچھ ہے تو وہ اس راہ جدوجہد کرنے کا ثواب اخروی ہے اور یہ اخروی ثواب انہیں اس جدوجہد کے ان نتائج پر بھی ملے گا ۔ مثلا کرہ ارض پر اگر دین غالب ہوجاتا ہے تو اس زمین پر جو اصلاحی کام ہوتا ہے ‘ اس تمام کا ثواب انہیں ملے گا ۔

بعض اوقات اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے ساتھ غلبے کا وعدہ کرتا ہے تاکہ وہ ثابت قدم ہوجائیں اور ان کے سامنے جو مشکلات بھیانک صورت میں کھڑی ہیں ان کے اثرات سے وہ آزاد ہوجائیں ۔ یہ مشکلات بعض نہایت ہی تباہ کن ہوتی ہیں ۔ جب وہ انجام کا یقین حاصل کرلیتے ہیں تو ان کے دل قوی ہوجاتے ہیں اور وہ مشکلات کو انگیز کرلیتے ہیں ۔ وہ مشکل گھاٹی کو سر کرلیتے ہیں اور پرامید ہوجاتے ہیں کہ اللہ ان کے ہاتھوں اس امت کے لئے کوئی بھلائی برپا کردے گا ۔ ان کو جہاد کا ثواب ملے گا اور دین کے غلبے کا ثواب ملے گا اور اس پر جو نتائج مرتب ہوں گے ان کا ثواب بھی ملے گا ۔

غرض اس مقام پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا پر اس آیت کے لانے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس دور میں جماعت مسلمہ کے شب وروز کیا تھے اور یہ کہ ایسی خوشخبری کی ضرورت تھی ۔ چناچہ یہ فیصلہ دیا گیا کہ غلبہ حزب اللہ ہی کا ہوگا ۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ یہ آیات کس دور میں نازل ہوئیں ۔

ان حالات میں ہمارے لئے تمام نتائج کا خلاصہ اس مختصر فیصلے میں دے دیا جاتا ہے کہ حزب اللہ کو غلبہ ہوگا اور ایک مومن مطمئن ہوجاتا ہے کہ بس یہی ہے سنت الہیہ کہ حزب اللہ غالب ہوگی اگرچہ بعض معرکوں میں اسے بظاہر شکست بھی ہوجائے ‘ اس لئے کہ بعض ظاہری حالات کے ہوتے ہوئے بھی اللہ کا وعدہ سچا ہوتا ہے ۔ ہاں بعض مراحل تحریک میں شکست بھی نظر آتی ہے ۔ اس وعدے کے تحقق کی راہ بہرحال ایک ہی ہے اور وہ یہ ہے کہ موالات صرف اللہ رسول اللہ ﷺ اور اہل ایمان کے لئے ہو۔

اب ذرا اس امر پر غور کریں کہ قرآن مجید نے اہل ایمان کو ان لوگوں کے ساتھ تعلق موالات قائم کرنے سے بار بار منع کیا ہے جو اہل ایمان کے نظریے کے خلاف ہیں ۔ اور ان کے لئے نئے نئے انداز اختیار کئے ہیں تاکہ یہ بات ان کے احساس و شعور کا حصہ بن جائے اور یہ اصول ان کے ایمان کا حصہ بن جائے ۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ اسلامی تصور حیات میں اس اصول کی کس قدر زیادہ اہمیت ہے ۔

اس سلسلے میں جب اہل ایمان کے نام پہلی پکار جاری ہوئی تو وہ براہ راست تھی اور اس میں ان کو منع کیا گیا کہ اہل کتاب کے ساتھ تعلق موالات قائم کریں ۔ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو اللہ تعالیٰ فتح لے آئیں گے یا کوئی اور حکم جاری کردیں گے اور اس طرح تمام راز فاش ہوجائیں گے ۔ دوسری پکار میں ان کو اس بات سے ڈرایا گیا کہ اگر وہ اللہ اور رسول اللہ ﷺ اللہ کے دشمنوں سے تعلق موالات کریں گے تو مرتد ہوجائیں گے بلکہ چاہئے کہ تم ایک ایسی رجمنٹ کے سپاہی بن جاؤ جو اللہ کی خاص رجمنٹ ہے ۔ جس سے اللہ کو پیار ہے اور اس کو بھی اللہ سے محبت ہے ۔ اور یہی اللہ کی پارٹی ہے جسے غلبہ نصیب ہوگا ۔

اب یہاں ایک تیسری پکار ہمارے سامنے آتی ہے اس میں اہل ایمان کے جذبہ حمیت دین کو ابھارا جاتا ہے کہ دیکھو یہ لوگ تو تمہارے دین ‘ تمہارے طریقہ عبادت کے نہ صرف یہ کہ مخالف ہیں بلکہ وہ تمہارے طریقوں کے ساتھ سخت مذاق بھی کرتے ہیں اس تیسری پکار میں اللہ تعالیٰ نے ان کو منع کیا کہ وہ اہل کتاب کے ساتھ ساتھ دوسرے کفار کے ساتھ بھی تعلق موالات نہ رکھیں اور خدا خوفی کا رویہ اپنائیں ۔ اگر وہ مومن ہیں تو اللہ کی ان ہدایات پر اچھی طرح غور کریں اور اس پکار میں اہل کتاب اور کفار کی ایک دائمی صفت کا ذکر کیا ہے کہ یہ لوگ بےعقل ہیں ۔

اردو ترجمہ

ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رو اہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنا لیا ہے، اُنہیں اور دوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناؤ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Ya ayyuha allatheena amanoo la tattakhithoo allatheena ittakhathoo deenakum huzuwan walaAAiban mina allatheena ootoo alkitaba min qablikum waalkuffara awliyaa waittaqoo Allaha in kuntum mumineena

(آیت) ” نمبر 57 تا 58۔

” ہاں یہ صورت حال سخت ہیجان انگیز ہوتی بشرطیکہ کسی کے اندر ایمانی حمیت کا جذبہ موجود ہو اور وہ یہ سمجھتا ہو کہ اگر اس کے سامنے اس کے دین کی توہین کردی گئی ‘ اس کی عبادت کی توہین کردی گی اور اس کے نظریہ حیات اور موقف کی توہین کردی گئی تو اس کی کوئی عزت اور آبرو نہ رہے گی لہذا ایسے لوگوں سے ترک تعلق ہی ایک خدائی امر ہے ۔ اہل ایمان اور ایسے لوگوں کے درمیان دوستی یا تعلق موالات کس طرح قائم ہوسکتا ہے ۔ یہ حرکات وہ لوگ کرتے بھی اس لئے ہیں کہ ان کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل وخرد میں خرابی ہے اس لئے کہ اللہ کے دین اور مسلمانوں کے طریقہ عبادت کے ساتھ مذاق تو وہ لوگ کرتے ہیں جن کی عقل متوازن نہیں ہوتی ۔ جب عقل صحت مند اور درست ہو تو وہ اپنے ماحول سے ایمان کے اشارات پاتی رہتی ہے اور جب عقل اور فہم میں خلل واقعہ ہوجاتا ہے تو وہ اپنے اردگرد پھیلے ہوئے اشارات ایمان کا ادراک نہیں کرسکتی ۔ اس خلل کی وجہ سے انسان اور اس کے اردگرد پھیلی ہوئی کائنات کے درمیان ‘ تعلقات میں بھی خلل پیدا ہوجاتا ہے اس لئے کہ یہ پوری کائنات ہی اس بات پر شاید عادل ہے کہ اللہ ہی انسان کی بندگی کا مستحق ہے اور اگر عقل صحت مند ہو اور اس میں کوئی خلل نہ ہو تو اس کے اندر اس کائنات کی عظمت اور اس کے بنانے والے کی عظمت و جلالت پیدا ہوتی ہے اس لئے کوئی درست اور سلیم عقل اہل اسلام کے طریقہ عبادت کے ساتھ مزاح نہیں کرسکتی ۔

اسلامی عبادات کے ساتھ یہ مذاق اہل کتاب یہودیوں کی طرف سے بھی ہوتا تھا اور اہل کفر کی طرف سے بھی ۔ یہ مزاح اس وقت ہو رہا تھا جب یہ قرآن حضور اکرم ﷺ کے قلب پر اتر رہا تھا اور جماعت مسلمہ اسے اخذ کر رہی تھی ‘ البتہ سیرت رسول ﷺ سے کوئی ایسا واقعہ منقول نہیں ہے کہ نصاری کی طرف سے بھی یہ مذاق ہوا ہو ۔ لیکن قرآن کریم جماعت مسلمہ کے لئے ایک دائمی اصول وضع کر رہا تھا ‘ مسلمانوں کی زندگی کا ایک دائمی منہاج اور دائمی نظریہ تشکیل پا رہا تھا اور اللہ کو یہ بھی علم تھا کہ زمانے کی گردشیں کیا ہوں گی اور دیکھئے کہ بعد کے ادوار میں دین کے دشمنوں اور تحریک اسلامی کے دشمنوں نے اس امت کے ساتھ کیا سلوک کیا اور یہ سلوک ان لوگوں نے کیا جو اپنے آپ کو نصاری کہتے تھے اور یہ لوگ تعداد میں یہودیوں کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھے ۔ بلکہ یہود اور دوسرے کفار سے مل کر بھی زیادہ تھے ۔ یہ لوگ اسلام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور صدیوں تک اسلام کی دشمنی دلوں میں اٹھائے پھرے ۔ اسلام کے خلاف انہوں نے جنگیں جاری رکھیں اور یہ محاربت اس وقت سے شروع ہوگئی جب حضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں سلطنت روم کے ساتھ مسلمانوں کی مڈبھیڑ ہوئی اور یہ مڈبھیڑ صلاح الدین ایوبی کے وقت تک صلیبی جنگوں کی شکل میں جاری رہی ۔ اس کے بعد عالم اسلام کے خلاف تمام مغربی ممالک نے جمع ہو کر یہاں سے خلاف اسلامیہ کو ختم کیا ۔ اس کے بعد مغربی استعمار پیدا ہوا ‘ جس کی آغوش میں صلیبیت چھپی ہوئی تھی اور کبھی کبھار اس استعمار کی زبان سے اس کا اظہار بھی ہوجاتا تھا ۔ اس استعمار کے زیر سایہ مسیحی تبلیغ آئی اور مسیحی تبلیغ اور استعمار دونوں اندر سے ملے ہوئے تھے ۔ آج بھی ان لوگوں کے خلاف یہود ونصاری کی جہ جنگ جاری ہے جو اسلام کی نشاۃ ثانیہ اور احیائے اسلام کے لئے کسی بھی جگہ کام کرتے ہیں اور ان حملوں میں یہودی ‘ عیسائی اور تمام مشرکین بحیثیت ملت واحدہ شریک ہیں۔

قرآن اس لئے آیا کہ یہ مسلمانوں کے لئے کتاب ہدایت ہے اور قیامت تک کے لئے ہے اور یہ کتاب ہی اس امت کے تصورات کو تشکیل دیتی ہے ۔ امت کے لئے اجتماعی نظام بناتی ہے اور اس کے لئے تحریکی خطوط وضع کرتی ہے چناچہ یہاں اس نے ایک مستقل اصول رکھ دیا کہ امت مسلمہ کا کوئی فرد اللہ ‘ رسول اللہ اور مومنین کے سوا کسی اور کے ساتھ تعلق موالات قائم نہ کرے گا اور یہ اصول منفی طور پر ان کے سامنے رکھ دیا جاتا ہے کہ وہ یہود ونصاری اور کافروں کے ساتھ کوئی تعلق مولات قائم ہی نہ کرے اور اس بات کا فیصلہ نہایت ہی سختی سے کیا جاتا ہے اور اسے اس طرح مختلف انداز سے بار بار لایا جاتا ہے ۔

دین اسلام اہل اسلام کو رواداری کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب کے ساتھ اسلام عموما حسن معاملہ کا حکم دیتا ہے ۔ اہل کتاب میں سے جو لوگ اپنے آپ کو نصاری کہتے ہیں ‘ ان کے ساتھ اسلام خصوصی طور پر رواداری کا حکم دیتا ہے لیکن اسلام ان لوگوں کے ساتھ بھی تعلق موالات کی ممانعت کا حکم دیتا ہے اس لئے کہ رواداری اور حسن معاملہ اور حسن سلوک اخلاقی معاملات ہیں اور موالات کا تعلق نظریہ حیات اور تنظیم کے ساتھ ہے ۔ تعلق موالات دراصل ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا معاہدہ ہوتا ہے اور اس سے دونوں فریق ایک دوسرے کی مدد کرنے اور باہم تعاون کرنے کے پابند ہوجاتے ہیں اور مسلمانوں اور اہل کتاب کے درمیان تعاون ممکن نہیں ہے ۔ کفار کا مال تو اس بھی زیادہ بدتر ہے جیسا کہ اس سے قبل ہم وضاحت کرچکے ہیں ۔ مسلمانوں کے ساتھ موالات صرف دین ‘ اقامت دین اور جہاد میں ہو سکتی ہے اور ان معاملات میں ایک غیر مسلم کے درمیان تعاون کسی طرح ممکن نہیں ہے ۔

یہ مسئلہ نظریاتی اور دو ٹوک ہے ۔ اس معاملے میں صرف فیصلہ کن اور سخت موقف ہی اختیار کیا جاسکتا ہے اور یہی ایک مسلم کے شایان شان ہے ‘ دو ٹوک سنجیدگی ۔

اہل ایمان کے نام ان سخت نداہائے ثلاثہ سے فارغ ہو کر اب حضور نبی کریم ﷺ کو پکارا جاتا ہے کہ آپ خود اہل کتاب کی طرف متوجہہو کر ذرا ان سے پوچھیں کہ آخر تم بتاؤ کہ ہمارے ساتھ تمہاری جانب سے کی جانے والی اس دشمنی کے اسباب کیا ہیں ؟ تم ہم سے کیوں ناراض ہو ؟ محض اس لئے کہ ہم اللہ وحدہ پر ایمان لائے ہیں اور موجودہ کتاب کے ساتھ ان کتب پر بھی ایمان لائے ہیں جو ہم سے پہلے تم پر نازل ہوئی ہیں اور اب جو باران رحمت آ رہا ہے ہم اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ دشمنی بس یہی تو ہے کہ ہم مسلمان پورا پورا ایمان لاتے ہیں اور تم اہل کتاب فسق وفجور میں مبتلا ہو۔ حضور ﷺ کا یہ خطاب ان کے لئے نہایت ہی رسوا کن ہے لیکن اس خطاب سے اس معاملے کی اچھی طرح وضاحت بھی ہوتی ہے اور یہ فیصلہ کن خطاب ہے اور اس سے تعین ہوجاتا ہے کہ مابہ الافتراق کیا ہے ۔

یہ سوال اہل کتاب سے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کے مطابق کیا جارہا ہے ۔ ایک جانب سے یہ سوال مظہر حقیقت ہے کہ اہل کتاب اور اہل ایمان کے درمیان اصل صورت حال ہے کیا ؟ اور یہ کہ وہ کیا اسباب اور وجوہات ہیں جن کی وجہ سے اہل کتاب نے دین اسلام اور جماعت مسلمہ کے خلاف یہ موقف اختیار کیا ہے ۔ دوسری جانب سے یہ استفہام انکاری ہے اور بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے جو موقف اختیار کیا ہے ‘ وہ ان کے شایان شان نہیں ہے ۔ جن اسباب کی وجہ سے وہ اس دشمنی پر تلے ہوئے ہیں ان کا تقاضا یہ نہیں ہے جو وہ کرتے ہیں ۔ یہ اہل اسلام کے لئے ایک فہمائش بھی ہے اور ان کو یہ نفرت دلائی جاتی ہے کہ وہ اس قوم سے ہر گز تعلق موالات قائم نہ کریں اور یہ بالواسطہ اسی موقف کی تائید ہے جو اس سے قبل نداہائے ثلاثہ کے تحت بیان کیا گیا کہ ہر گز ان لوگوں سے یہ تعلق قائم نہ کرو ۔

اہل کتاب حضور ﷺ کے وقت بھی حضور ﷺ اور تحریک اسلامی کے ساتھ محص اس لئے دشمنی رکھتے تھے کہ یہ لوگ ایمان باللہ پر جمے ہوئے تھے ۔ قرآن کریم پر ایمان لاتے تھے ۔ اور سابقہ کتب پر بھی ایمان لاتے تھے اور اس کے سوا اہل ایمان کا اور کوئی جرم نہ تھا ‘ اور آج بھی وہ یہی دشمنی رکھتے ہیں ۔

یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ محض اس لئے دشمنی کرتے ہیں کہ ہو مسلمان ہیں اور یہود و نصاری نہیں ہیں اور یہود ونصاری کی حالت یہ ہے کہ وہ خود ان کتب سے بھی روگردانی اختیار کرچکے ہیں جو ان کی طرف نازل ہوئیں۔ ان کے فسق وفجور کی اور دلیلوں کے علاوہ یہ بھی ایک بڑی قوی دلیل ہے کہ وہ آخری رسالت پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ یہ آخری رسالت تمام سابقہ رسالتوں کی تصدیق کرتی ہے ۔ اور ان کی ہدایات کے لئے مہیمن ہے ماسوائے ان کے کہ جو خرافات انہوں نے اپنائے ہیں اور جو تحریفات انہوں نے اس میں خود کی ہیں۔

وہ اسلام کے خلاف یہ شعلہ بار جنگ کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں جو کبھی ٹھنڈی نہیں ہوتی اور گزشتہ چودہ صدیوں سے وہ اسے بھڑکا رہے ہیں یہ جنگ اس وقت سے برپا ہے جب سے مدینہ میں ایک اسلامی ریاست قائم ہوئی ہے ‘ اسلامی شخصیت نمودار ہوئی ہے اور مسلمانوں کا نقشہ عالم پر ایک مستقل وجود بنا ہے ۔ یہ وجود ان کے دین کی وجہ سے نمودار ہوا ہے ۔ انکے تصور حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی نظام حیات کی وجہ سے بنا ہے اور اسلامی منہاج حیات کے قیام کے لئے بنا ہے ۔

غرض مسلمانوں کے خلاف وہ یہ چومکھی لڑائی اس لئے لڑ رہے ہیں کہ وہ سب سے پہلے مسلمان ہیں اور یہ لوگ اپنی اس جنگ کو اس وقت تک ختم نہ کریں گے جب تک مسلمانوں کو اپنے دین سے الٹے پاؤں پھیر کر نہ لے جائیں اور جب تک ان کو غیر مسلم نہ بنا دیں ۔ ان کی یہ خواہش اس لئے ہے کہ وہ خود اپنے دین کو چھوڑ کر فاسق ہوگئے ہیں اس لئے وہ اس بات کو پسند نہیں کرتے کہ کوئی دوسرا بھی صحیح مومن اور دین پر اچھی طرح چلنے والا دنیا میں رہے ۔ اور اللہ تعالیٰ نے ایک دوسری جگہ اس حقیقت کو رسول اکرم ﷺ کو مخاطب کرتے ہوئے بڑی صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے ۔

(آیت) ” ولن ترضی عنک الیھود ولاالنصاری حتی تتبع ملتھم “۔ اور آپ سے یہود ونصاری ہر گز راضی نہ ہوں گے ‘ جب تک آپ ان کی ملت کے تابع نہ ہوجائیں “۔ اور یہی وجہ ہے کہ اس صورت میں اللہ نے واضح طور اہل کتاب کے سامنے ان کے اصل اغراض ومقاصد رکھ دیئے ہیں کہ وہ دشمنی کیوں کرتے ہیں۔

117