یوں گویا ہم آخرت کے میدان میں دنیا کی فلم دیکھ رہے ہیں اور یہ جھلک ہمیں صرف دو فقروں میں دکھائی جاتی ہے۔ گویا ہم اپنی آنکھوں سے یہ جھلکیاں دیکھ رہے ہیں۔ اگرچہ دنیا وآخرت میں طویل عرصے ہیں ، آخرت میں یہ خطاب متقین کو تھا ، جبکہ دنیا میں یہ مجرمین کے لئے ہے اور زبان حال سے یہ کہا جارہا ہے کہ دیکھو کس قدر فرق ہوگا دونوں کے حالات میں ۔ کہ ایک گروہ اس مختصر زمانے میں خوب کھاپی رہا ہے اور طویل زمانوں کے لئے پھر محروم ہوگا۔
آیت 46{ کُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِیْلًا اِنَّکُمْ مُّجْرِمُوْنَ۔ } ”اے کفار و مشرکین ! تم کھا پی لو تھوڑی دیر کے لیے ‘ یقینا تم لوگ مجرم ہو۔“ تم لوگ اپنی دنیوی زندگی میں عیش کر رہے ہو تو کرتے جائو۔ بالآخر قیامت کے دن تمہیں مجرموں کی حیثیت سے ہمارے سامنے پیش ہونا ہے۔