سورۃ القمر: آیت 43 - أكفاركم خير من أولئكم أم... - اردو

آیت 43 کی تفسیر, سورۃ القمر

أَكُفَّارُكُمْ خَيْرٌ مِّنْ أُو۟لَٰٓئِكُمْ أَمْ لَكُم بَرَآءَةٌ فِى ٱلزُّبُرِ

اردو ترجمہ

کیا تمہارے کفار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لیے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Akuffarukum khayrun min olaikum am lakum baraatun fee alzzuburi

آیت 43 کی تفسیر

فرعون کے قصے کا آغاز و انجام اس قدر احتصار کے ساتھ دیا جاتا ہے۔ فرعون اور اس کے سرداروں کے پاس ڈرانے والے آتے ہیں۔ وہ نشانیاں پیش کرتے ہیں۔ وہ ان تمام نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں اور اللہ نے ان کو اس طرح پکڑا جس طرح ایک حقیقی اقتدار رکھنے والا پکڑتا ہے۔ عزت اور اقتدار کی طرف اشارہ کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ان کو نہایت ہی سختی سے پکڑا گیا اور اشارہ اسی طرف ہے کہ فرعون بڑی عزت ، قوت اور اقتدار اعلیٰ کی باتیں کرتا تھا جبکہ یہ سب امور اللہ کو حاصل ہیں۔ اللہ کے سامنے اس کی باطل عزت نہ رہی ، اس کا جھوٹا اقتدار اعلیٰ گر گیا اور حقیقی مقتدر اعلیٰ نے اسے خوب پکڑا اور بڑی شدت اور عبرت اموزی سے پکڑا جس طرح انہوں نے مصر میں سختی ، ظلم اور قہاری وجباری سے غریبوں پر ظلم شروع کررکھا تھا۔ اسی طرح اللہ نے ان کو بھی نابود کردیا۔ اب اس آخری منظر پر پردہ گرتا ہے۔ یہ فرعون جبار کا منظر اور اس کی ایک جھلک ہے۔

انسانی تاریخ میں منکرین کے عذاب کے مناظر میں سے یہ آخری منظر تھا۔ تمام منکرین کی یاد قارئین کے ذہنوں میں تازہ ہے اور سننے والوں اور دیکھنے والوں کا احساس ابھی ان نقوش سے منقش ہے کہ اہل مکہ کو خطاب شروع ہوجاتا ہے۔ ان کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ تم بھی اسی طرح نیست ونابود ہوسکتے ہو اگر تم باز نہ آئے بلکہ تمہاری جو حرکتیں ہیں ان کا تقاضا تو یہ ہے کہ تم پر اس سے بھی بھیانک عذاب آئے :۔

اکفارکم ................ مستطر (3 5) 45: 3 4 تا 55)

” کیا تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں ؟ یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ؟ یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں ، اقنا بچاؤ کرلیں گے ؟ عنقریب یہ جتھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے بلکہ ان سے نمٹنے کے لئے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے۔ یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔ جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے ، اس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کا مزا “۔

ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے۔ تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتروں میں درج ہے اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔

یہ دنیا اور آخرت دونوں کے عذابوں سے ڈراوا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ اس میں کوئی شک وشبہ نہیں ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس سے نکل بھاگنے کا کوئی راستہ اور سوراخ نہیں ہے اور نہ بھاگنے یا بچ جانے کی کوئی امید ہوسکتی ہے۔ نہ حساب و کتاب میں کوئی چابکدستی دکھائی جاسکتی ہے اور اس طرح سزا سے بچا جاسکتا ہے۔

تم نے دیکھ لیا امم سابقہ کے جھٹلانے والوں پر کیا گزری۔ آخر تمہارے پاس کیا گارنٹی ہے کہ تم اسی انجام سے دوچار نہ ہوگے۔

اکفار ............ اولئکم (45: 3 4) ” تمہارے کفار کچھ ان لوگوں سے بہتر ہیں “ امم سابقہ کے جو کفار اسی طرح نیست ونابود ہوئے تم ان سے کس پہلو میں اچھے ہو۔

ام لکم ............ الدبر (45: 3 4) ” یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے ’“ اور جس پر یہ منزل صحیفے گواہ ہیں کہ تم کفر اور تکذیب کے انجام سے بری الذمہ ہوجاؤ گے۔ نہ یہ بات ہے اور نہ وہ ہے۔ نہ تم ان سے اچھے ہو اور نہ ان صحیفوں میں تمہاری برات لکھی ہوئی ہے۔ بس یہی صورت ہے کہ تم بھی اسی انجام سے دو چار ہوجاؤ جس سے وہ دو چار ہوئے جس طرح اللہ نے مقدر فرمایا ہے۔

اب یہ خطاب عام کی شکل اختیار کرلیتا ہے اور اس میں ان کے معاملے پر سخت تعجب کا اظہار کیا جاتا ہے۔

آیت 43 { اَکُفَّارُکُمْ خَیْرٌ مِّنْ اُولٰٓئِکُمْ } ”تو اے قریش ! کیا تمہارے کفار اُن کفار سے کچھ بہتر ہیں ؟“ زمانہ سابق میں جن قوموں نے کفر کی روش اختیار کی ان کے انجام سے متعلق تمام تفصیلات تم لوگ جان چکے ہو۔ اب ذرا سوچو کہ تم میں سے جو لوگ ہمارے رسول ﷺ کا انکار کر کے کفر کے مرتکب ہو رہے ہیں ‘ کیا وہ کسی خاص خوبی کے حامل ہیں کہ گزشتہ کافر اقوام کی طرح ان پر عذاب نہیں آئے گا ؟ { اَمْ لَـکُمْ بَرَآئَ ۃٌ فِی الزُّبُرِ۔ } ”یا تمہارے لیے سابقہ الہامی کتب میں کوئی فارغ خطی آچکی ہے ؟“ تم میں آخر کیا خوبی ہے کہ جس تکذیب اور ہٹ دھرمی کی روش پر پچھلی قوموں کو سزا دی گئی ہے وہی روش تم اختیار کرو تو تمہیں سزا نہ دی جائے ؟ کیا تمہارے لیے آسمانی صحیفوں میں کوئی براءت نامہ لکھا ہوا ہے کہ تم پر عذاب نہیں آئے گا ؟

آیت 43 - سورۃ القمر: (أكفاركم خير من أولئكم أم لكم براءة في الزبر...) - اردو