سورۃ القصص: آیت 14 - ولما بلغ أشده واستوى آتيناه... - اردو

آیت 14 کی تفسیر, سورۃ القصص

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ

اردو ترجمہ

پھر جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walamma balagha ashuddahu waistawa ataynahu hukman waAAilman wakathalika najzee almuhsineena

آیت 14 کی تفسیر

” بلوغ اشد “ کے معنی ہیں جب آپ کی جسمانی قوتیں مکمل ہوگئیں اور استواء کا مفہوم ہے جسمانی اور عقلی اعتبار سے پختگی تک پہنچنا۔ یہ درجہ بالعموم تیس سال کی عمر میں حاصل ہوتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس عرصے تک حضرت موسیٰ کیا فرعون کے قصر شاہی ہی میں رہے ؟ اور فرعون اور اس کی بیوی کے لے پالک اور محبنی رہے یا یہ ان سے علیحدہ ہوگئے اور انہوں نے قصر شاہی کو چھوڑ دیا۔ اس لیے کہ شاہی محلات کے گندے اور سڑے ہوئے ماحول میں کسی ایسے شخص کا رہنا ممکن ہی نہیں جس کی روح پاک و صاف ہو اور جس سے مستقبل میں نبوت کا کام لیا جانا ہے۔ خصوصاً جبکہ ان کی ماں نے ان کو یہ بات بتا دی ہوگی کہ ان کی شناخت کیا ہے۔ ان کی قوم کیا ہے اور ان کا دین کیا ہے اور اس کے بعد جب وہ دیکھ رہے ہوں گے کہ ان کی قوم پر کسی قدر مظالم ڈھائے جا رہے ہیں ، ان کو کس قدر ذلیل و خوار کر کے رکھا جا رہا ہے اور معاشرے کے اندر ایک ہمہ گیر فساد برپا ہے اور ہر طرف ظلم و تشدد کا دور دورہ ہے۔

لیکن ہمارے پاس ان کی اس زندگی کے بارے میں کوئی مستند ذریعہ علم نہیں ہے۔ البتہ بعد میں آنے والے واقعات کی بنیاد پر انسان ان کی اس زندگی کے بارے میں قیاس کرسکتا ہے۔ بعد میں اس پر تبصرہ کریں گے۔ یہاں اس پر غور کرنا ہے کہ علم و حکمت عطا کرنے کے بعد اللہ نے اس پر یہ تبصرہ کیا ہے۔

وکذلک نجزی المحسنین (28: 14) ” ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں “۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ

انہوں نے پاکیزگی اور احسان کی زندگی اپنا لی تھی اور یہ علم و حکمت جزائے احسان تھا۔

آیت 14 وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط ”یعنی جب آپ علیہ السلام کے ظاہری اور باطنی قویٰ پورے اعتدال کے ساتھ استوار ہوگئے اور آپ علیہ السلام پختگی کی عمر کو پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کو خصوصی علم و حکمت سے نوازا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے نبوت مراد ہے ‘ مگر عمومی رائے یہی ہے کہ نبوت آپ علیہ السلام کو بعد میں ملی۔

گھونسے سے موت حضرت موسیٰ کے لڑکپن کا ذکر کیا اب ان کی جوانی کا واقعہ بیان ہو رہا ہے کہ اللہ نے انہیں حکمت وعلم عطا فرمایا۔ یعنی نبوت دی۔ نیک لوگ ایسا ہی بدلہ پاتے ہیں، پھر اس واقعہ کا ذکر ہو رہا ہے جو حضرت موسیٰ ؑ کے مصر چھوڑنے کا باعث بنا اور جس کے بعد اللہ کی رحمت نے ان کار خ کیا یہ مصر چھوڑ کر مدین کی طرف چل دئیے۔ آپ ایک مرتبہ شہر میں آتے ہیں یا تو مغرب کے بعد یا ظہر کے وقت کہ لوگ کھانے پینے میں یا سونے میں مشغول ہیں راستوں پر آمد ورفت نہیں تھی تو دیکھتے ہیں کہ دو شخص لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ ایک اسرائیلی ہے دوسرا قبطی ہے۔ اسرائیلی نے حضرت موسیٰ سے قبطی کی شکایت کی اور اس کا زور ظلم بیان کیا جس پر آپ کو غصہ آگیا اور ایک گھونسہ اسے کھینچ مارا جس سے وہ اسی وقت مرگیا۔ موسیٰ گھبراگئے اور کہنے لگے یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن اور گمراہ ہے اور اس کا دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہونا بھی ظاہر ہے۔ پھر اللہ تعالیٰ سے معافی طلب کرنے لگے اور استغفار کرنے لگے۔ اللہ نے بھی بخشش دیا وہ بخشنے والا مہربان ہی ہے۔ اب کہنے لگے اے اللہ تو نے جو جاہ وعزت بزرگی اور نعمت مجھے عطا فرمائی ہے میں اسے سامنے رکھ کر وعدہ کرتا ہوں کہ آئندہ کبھی کسی نافرمان کی کسی امر میں موافقت اور امداد نہیں کرونگا۔

آیت 14 - سورۃ القصص: (ولما بلغ أشده واستوى آتيناه حكما وعلما ۚ وكذلك نجزي المحسنين...) - اردو