اس صفحہ میں سورہ Al-Qasas کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القصص کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ
وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ
قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ
قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ
فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ
فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ
وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ
فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
آیت 14 وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط ”یعنی جب آپ علیہ السلام کے ظاہری اور باطنی قویٰ پورے اعتدال کے ساتھ استوار ہوگئے اور آپ علیہ السلام پختگی کی عمر کو پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کو خصوصی علم و حکمت سے نوازا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے نبوت مراد ہے ‘ مگر عمومی رائے یہی ہے کہ نبوت آپ علیہ السلام کو بعد میں ملی۔
آیت 15 وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام شاہی محل میں رہتے تھے اور عام طور پر شاہی محلات عام شہری آبادی سے الگ علاقے میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے شہر میں آنے کا یہاں خصوصی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ علیہ السلام علی الصبح شہر میں آئے ہوں گے جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے یا پھر وہ دوپہر کو قیلولے کا وقت تھا۔ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں شہر میں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیت تو قتل کرنے کی نہیں تھی لیکن اتفاق سے ضرب زیادہ شدید تھی اور وہ شخص مرگیا۔ یہ حرکت سرزد ہوتے ہی آپ علیہ السلام کو فوراً احساس ہوا کہ یہ مجھ سے شیطانی کام صادر ہوگیا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔
آیت 17 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ”یعنی چونکہ تو نے مجھے معاف فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے ‘ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی بھی کسی غلط کار شخص کا حمایتی نہیں بنوں گا۔[ مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا فیصلہ کرلیا ‘ کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے اللہ کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ اضافہ از مرتب ]
آیت 18 فَاَصْبَحَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُ ”ظاہر ہے قتل کے بعد شہر میں ہر طرف قاتل کو ڈھونڈنے کی دھوم مچی ہوگی۔ ہر طرح سے تفتیش و تحقیق ہو رہی ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام خوفزدہ بھی تھے کہ کہیں راز نہ کھل جائے اور محتاط و متجسسّ بھی۔فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَہٗ بالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط ”وہی شخص آج پھر کسی سے الجھا ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ”کہ کل بھی ایک قبطی سے تمہاری لڑائی ہو رہی تھی اور آج پھر تم نے کسی سے جھگڑا مول لے رکھا ہے۔ لگتا ہے تمہاری فطرت ہی ایسی ہے اور تم ہر کسی سے زیادتی کرتے ہو۔
آیت 19 فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے تو بڑھے تھے اس قبطی کو پکڑنے کے لیے تاکہ اسے اپنے اسرائیلی بھائی کو مارنے سے روک سکیں ‘ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام کے غصے کا رخ اسرائیلی کی طرف تھا اور اس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کہا تھا ‘ اس لیے وہ سمجھا کہ آپ علیہ السلام اس کی پٹائی کرنا چاہتے ہیں ‘ چناچہ :قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بالْاَمْسِق ”گویا اس نے اپنی حماقت سے بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ کل والا قتل موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ”گویا اس مکالمے سے اس اسرائیلی نے ثابت کردیا کہ وہ خود ایک منفی سوچ کا حامل اور گھٹیا کردار کا مالک شخص تھا۔
آیت 20 وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز ”یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا تو اس قبطی نے جا کر مخبری کی ہوگی۔ تب یہ واقعہ پیش آیا ہوگا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون اور دوسرے امرائے سلطنت کے محلات شہر کی عام آبادی سے دور تھے۔ چناچہ ایک شخص وہاں سے دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تک یہ خبر پہنچائی۔ قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کے مارے جانے کی خبر ارباب اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد ایوان حکومت میں آپ علیہ السلام کے قتل کی قرار داد پیش ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام کے قتل کی رائے پر سب کا اتفاق ہونے والا تھا۔ یقیناً انہوں نے سوچا ہوگا کہ غلام قوم کا یہ فرد شاہی محل میں رہ کر خود سر اور سرکش ہوگیا ہے۔ آج اس نے ایک قبطی کو قتل کرنے کی جسارت کی ہے تو کل یہ شخص اپنی غلام قوم میں آزادی کی روح پھونک کر انہیں ہمارے خلاف بغاوت پر بھی آمادہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس سے پہلے کہ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ کھڑا کرے ‘ بہتر ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ”اس شخص نے آپ علیہ السلام کو یقین دلایا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بالکل صحیح مشورہ دے رہا ہے اور آپ علیہ السلام کی بھلائی چاہتا ہے۔
آیت 21 فَخَرَجَ مِنْہَا خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُز ”لفظ یَتَرَقَّبُ قبل ازیں آیت 18 میں بھی آچکا ہے۔ اس سے مراد کسی شخص کی ایسی کیفیت ہے جس میں وہ کسی بھی طرف سے ممکنہ خطرے کی وجہ سے فکر مند بھی ہو اور انتہائی محتاط اور چوکنا بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی اس وقت ایسی ہی کیفیت تھی۔