سورۃ القصص (28): آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں۔ - اردو ترجمہ

اس صفحہ میں سورہ Al-Qasas کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ القصص کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔

سورۃ القصص کے بارے میں معلومات

Surah Al-Qasas
سُورَةُ القَصَصِ
صفحہ 387 (آیات 14 سے 21 تک)

وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّهُۥ وَٱسْتَوَىٰٓ ءَاتَيْنَٰهُ حُكْمًا وَعِلْمًا ۚ وَكَذَٰلِكَ نَجْزِى ٱلْمُحْسِنِينَ وَدَخَلَ ٱلْمَدِينَةَ عَلَىٰ حِينِ غَفْلَةٍ مِّنْ أَهْلِهَا فَوَجَدَ فِيهَا رَجُلَيْنِ يَقْتَتِلَانِ هَٰذَا مِن شِيعَتِهِۦ وَهَٰذَا مِنْ عَدُوِّهِۦ ۖ فَٱسْتَغَٰثَهُ ٱلَّذِى مِن شِيعَتِهِۦ عَلَى ٱلَّذِى مِنْ عَدُوِّهِۦ فَوَكَزَهُۥ مُوسَىٰ فَقَضَىٰ عَلَيْهِ ۖ قَالَ هَٰذَا مِنْ عَمَلِ ٱلشَّيْطَٰنِ ۖ إِنَّهُۥ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِينٌ قَالَ رَبِّ إِنِّى ظَلَمْتُ نَفْسِى فَٱغْفِرْ لِى فَغَفَرَ لَهُۥٓ ۚ إِنَّهُۥ هُوَ ٱلْغَفُورُ ٱلرَّحِيمُ قَالَ رَبِّ بِمَآ أَنْعَمْتَ عَلَىَّ فَلَنْ أَكُونَ ظَهِيرًا لِّلْمُجْرِمِينَ فَأَصْبَحَ فِى ٱلْمَدِينَةِ خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ فَإِذَا ٱلَّذِى ٱسْتَنصَرَهُۥ بِٱلْأَمْسِ يَسْتَصْرِخُهُۥ ۚ قَالَ لَهُۥ مُوسَىٰٓ إِنَّكَ لَغَوِىٌّ مُّبِينٌ فَلَمَّآ أَنْ أَرَادَ أَن يَبْطِشَ بِٱلَّذِى هُوَ عَدُوٌّ لَّهُمَا قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ أَتُرِيدُ أَن تَقْتُلَنِى كَمَا قَتَلْتَ نَفْسًۢا بِٱلْأَمْسِ ۖ إِن تُرِيدُ إِلَّآ أَن تَكُونَ جَبَّارًا فِى ٱلْأَرْضِ وَمَا تُرِيدُ أَن تَكُونَ مِنَ ٱلْمُصْلِحِينَ وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ أَقْصَا ٱلْمَدِينَةِ يَسْعَىٰ قَالَ يَٰمُوسَىٰٓ إِنَّ ٱلْمَلَأَ يَأْتَمِرُونَ بِكَ لِيَقْتُلُوكَ فَٱخْرُجْ إِنِّى لَكَ مِنَ ٱلنَّٰصِحِينَ فَخَرَجَ مِنْهَا خَآئِفًا يَتَرَقَّبُ ۖ قَالَ رَبِّ نَجِّنِى مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلظَّٰلِمِينَ
387

سورۃ القصص کو سنیں (عربی اور اردو ترجمہ)

سورۃ القصص کی تفسیر (تفسیر بیان القرآن: ڈاکٹر اسرار احمد)

اردو ترجمہ

پھر جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل ہو گیا تو ہم نے اسے حکم اور علم عطا کیا، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Walamma balagha ashuddahu waistawa ataynahu hukman waAAilman wakathalika najzee almuhsineena

آیت 14 وَلَمَّا بَلَغَ اَشُدَّہٗ وَاسْتَوٰٓی اٰتَیْنٰہُ حُکْمًا وَّعِلْمًا ط ”یعنی جب آپ علیہ السلام کے ظاہری اور باطنی قویٰ پورے اعتدال کے ساتھ استوار ہوگئے اور آپ علیہ السلام پختگی کی عمر کو پہنچ گئے تو آپ علیہ السلام کو خصوصی علم و حکمت سے نوازا گیا۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ اس سے نبوت مراد ہے ‘ مگر عمومی رائے یہی ہے کہ نبوت آپ علیہ السلام کو بعد میں ملی۔

اردو ترجمہ

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت میں داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اسے مدد کے لیے پکارا موسیٰؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا اور اس کا کام تمام کر دیا (یہ حرکت سرزد ہوتے ہی) موسیٰؑ نے کہا "یہ شیطان کی کارفرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کن ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wadakhala almadeenata AAala heeni ghaflatin min ahliha fawajada feeha rajulayni yaqtatilani hatha min sheeAAatihi wahatha min AAaduwwihi faistaghathahu allathee min sheeAAatihi AAala allathee min AAaduwwihi fawakazahu moosa faqada AAalayhi qala hatha min AAamali alshshaytani innahu AAaduwwun mudillun mubeenun

آیت 15 وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ اَہْلِہَا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام شاہی محل میں رہتے تھے اور عام طور پر شاہی محلات عام شہری آبادی سے الگ علاقے میں ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آپ علیہ السلام کے شہر میں آنے کا یہاں خصوصی انداز میں ذکر ہوا ہے۔ عَلٰی حِیْنِ غَفْلَۃٍ کے الفاظ سے ظاہر ہوتا ہے کہ یا تو آپ علیہ السلام علی الصبح شہر میں آئے ہوں گے جب لوگ ابھی نیند سے بیدار نہیں ہوئے تھے یا پھر وہ دوپہر کو قیلولے کا وقت تھا۔ہٰذَا مِنْ شِیْعَتِہٖ وَہٰذَا مِنْ عَدُوِّہٖ ج ”حضرت موسیٰ علیہ السلام نے وہاں شہر میں ایک اسرائیلی اور ایک قبطی کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا۔قَالَ ہٰذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطٰنِط اِنَّہٗ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی نیت تو قتل کرنے کی نہیں تھی لیکن اتفاق سے ضرب زیادہ شدید تھی اور وہ شخص مرگیا۔ یہ حرکت سرزد ہوتے ہی آپ علیہ السلام کو فوراً احساس ہوا کہ یہ مجھ سے شیطانی کام صادر ہوگیا ہے۔ چناچہ آپ علیہ السلام نے فوراً اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کیا۔

اردو ترجمہ

پھر وہ کہنے لگا "اے میرے رب، مَیں نے اپنے نفس پر بڑا ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے" چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرما دی، وہ غفور رحیم ہے

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala rabbi innee thalamtu nafsee faighfir lee faghafara lahu innahu huwa alghafooru alrraheemu

اردو ترجمہ

موسیٰؑ نے عہد کیا کہ "“اے میرے رب، یہ احسان جو تو نے مجھ پر کیا ہے اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مدد گار نہ بنوں گا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Qala rabbi bima anAAamta AAalayya falan akoona thaheeran lilmujrimeena

آیت 17 قَالَ رَبِّ بِمَآ اَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ اَکُوْنَ ظَہِیْرًا لِّلْمُجْرِمِیْنَ ”یعنی چونکہ تو نے مجھے معاف فرما کر مجھ پر احسان فرمایا ہے ‘ لہٰذا میں عہد کرتا ہوں کہ میں آئندہ کبھی بھی کسی غلط کار شخص کا حمایتی نہیں بنوں گا۔[ مفسرین نے لکھا ہے کہ اسی روز حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرعون اور اس کی حکومت سے قطع تعلق کرلینے کا فیصلہ کرلیا ‘ کیونکہ وہ ایک ظالم حکومت تھی اور اس نے اللہ کی زمین پر ایک مجرمانہ نظام قائم کر رکھا تھا۔ اضافہ از مرتب ]

اردو ترجمہ

دُوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکار رہا ہے موسیٰؑ نے کہا "تُو تو بڑا ہی بہکا ہُوا آدمی ہے"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Faasbaha fee almadeenati khaifan yataraqqabu faitha allathee istansarahu bialamsi yastasrikhuhu qala lahu moosa innaka laghawiyyun mubeenun

آیت 18 فَاَصْبَحَ فِی الْْمَدِیْنَۃِ خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُ ”ظاہر ہے قتل کے بعد شہر میں ہر طرف قاتل کو ڈھونڈنے کی دھوم مچی ہوگی۔ ہر طرح سے تفتیش و تحقیق ہو رہی ہوگی۔ چناچہ آپ علیہ السلام خوفزدہ بھی تھے کہ کہیں راز نہ کھل جائے اور محتاط و متجسسّ بھی۔فَاِذَا الَّذِی اسْتَنْصَرَہٗ بالْاَمْسِ یَسْتَصْرِخُہٗ ط ”وہی شخص آج پھر کسی سے الجھا ہوا تھا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیکھ کر اس نے پھر آپ علیہ السلام کو مدد کے لیے پکارنا شروع کردیا۔قَالَ لَہٗ مُوْسٰٓی اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ ”کہ کل بھی ایک قبطی سے تمہاری لڑائی ہو رہی تھی اور آج پھر تم نے کسی سے جھگڑا مول لے رکھا ہے۔ لگتا ہے تمہاری فطرت ہی ایسی ہے اور تم ہر کسی سے زیادتی کرتے ہو۔

اردو ترجمہ

پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے تو وہ پکار اٹھا "اے موسیٰؑ، کیا آج تو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح نہیں کرنا چاہتا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Falamma an arada an yabtisha biallathee huwa AAaduwwun lahuma qala ya moosa atureedu an taqtulanee kama qatalta nafsan bialamsi in tureedu illa an takoona jabbaran fee alardi wama tureedu an takoona mina almusliheena

آیت 19 فَلَمَّآ اَنْ اَرَادَ اَنْ یَّبْطِشَ بالَّذِیْ ہُوَ عَدُوٌّ لَّہُمَالا ”حضرت موسیٰ علیہ السلام آگے تو بڑھے تھے اس قبطی کو پکڑنے کے لیے تاکہ اسے اپنے اسرائیلی بھائی کو مارنے سے روک سکیں ‘ لیکن چونکہ آپ علیہ السلام کے غصے کا رخ اسرائیلی کی طرف تھا اور اس کو سختی سے ڈانٹتے ہوئے آپ علیہ السلام نے اِنَّکَ لَغَوِیٌّ مُّبِیْنٌ کہا تھا ‘ اس لیے وہ سمجھا کہ آپ علیہ السلام اس کی پٹائی کرنا چاہتے ہیں ‘ چناچہ :قَالَ یٰمُوْسٰٓی اَتُرِیْدُ اَنْ تَقْتُلَنِیْ کَمَا قَتَلْتَ نَفْسًام بالْاَمْسِق ”گویا اس نے اپنی حماقت سے بھانڈا ہی پھوڑ دیا کہ کل والا قتل موسیٰ علیہ السلام نے کیا تھا۔وَمَا تُرِیْدُ اَنْ تَکُوْنَ مِنَ الْمُصْلِحِیْنَ ”گویا اس مکالمے سے اس اسرائیلی نے ثابت کردیا کہ وہ خود ایک منفی سوچ کا حامل اور گھٹیا کردار کا مالک شخص تھا۔

اردو ترجمہ

اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سِرے سے دَوڑتا ہوا آیا اور بولا "موسیٰؑ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیر خواہ ہوں"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Wajaa rajulun min aqsa almadeenati yasAAa qala ya moosa inna almalaa yatamiroona bika liyaqtulooka faokhruj innee laka mina alnnasiheena

آیت 20 وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز ”یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا تو اس قبطی نے جا کر مخبری کی ہوگی۔ تب یہ واقعہ پیش آیا ہوگا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون اور دوسرے امرائے سلطنت کے محلات شہر کی عام آبادی سے دور تھے۔ چناچہ ایک شخص وہاں سے دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تک یہ خبر پہنچائی۔ قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کے مارے جانے کی خبر ارباب اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد ایوان حکومت میں آپ علیہ السلام کے قتل کی قرار داد پیش ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام کے قتل کی رائے پر سب کا اتفاق ہونے والا تھا۔ یقیناً انہوں نے سوچا ہوگا کہ غلام قوم کا یہ فرد شاہی محل میں رہ کر خود سر اور سرکش ہوگیا ہے۔ آج اس نے ایک قبطی کو قتل کرنے کی جسارت کی ہے تو کل یہ شخص اپنی غلام قوم میں آزادی کی روح پھونک کر انہیں ہمارے خلاف بغاوت پر بھی آمادہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس سے پہلے کہ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ کھڑا کرے ‘ بہتر ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ”اس شخص نے آپ علیہ السلام کو یقین دلایا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بالکل صحیح مشورہ دے رہا ہے اور آپ علیہ السلام کی بھلائی چاہتا ہے۔

اردو ترجمہ

یہ خبر سنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دعا کی کہ "اے میرے رب، مجھے ظالموں سے بچا"

انگریزی ٹرانسلیٹریشن

Fakharaja minha khaifan yataraqqabu qala rabbi najjinee mina alqawmi alththalimeena

آیت 21 فَخَرَجَ مِنْہَا خَآءِفًا یَّتَرَقَّبُز ”لفظ یَتَرَقَّبُ قبل ازیں آیت 18 میں بھی آچکا ہے۔ اس سے مراد کسی شخص کی ایسی کیفیت ہے جس میں وہ کسی بھی طرف سے ممکنہ خطرے کی وجہ سے فکر مند بھی ہو اور انتہائی محتاط اور چوکنا بھی۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بھی اس وقت ایسی ہی کیفیت تھی۔

387