وجآء رجل من اقصا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لک من النصحین (20)
” اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا اور بولا ” اے موسیٰ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
فرعون کے سرداروں ، اس کے حاشیہ نشینوں اور حکومتی افسروں اور اس کے خاص الخاص لوگوں کو معلوم ہوگیا کہ قتل میں موسیٰ کا ہاتھ ہے۔ اس لیے انہوں نے محسوس کرلیا کہ موسیٰ کی صورت میں خطرہ مجسم ہوکر آلگا ہے۔ کیونکہ یہ ایک ایسا کام ہے جس کی نوعیت انقلابی اور خطرناک ہے۔ یہ بغاوت کا آغاز ہے۔ اور اس کے محرکات میں بنی اسرائیل کا جذبہ انتقام ہے۔ لہٰذا یہ ایک نہایت خطرناک رجحان ہے اور اس کے انسداد کے لیے سخت تدابیر کی ضرورت ہئ۔ اگر یہ قتل کوئی معمولی واردات ہوتی تو اس پر انتہائی اعلیٰ سطح پر غور کی کیا ضرورت تھی۔ آئے دن انسانوں میں قتل ہوتے رہے ہیں لیکن اس قتل نے پورے نظام حکومت کو ہال کر رکھ دیا۔ انہوں نے بھی تدابیر کا آغاز کیا اور دست قدرت نے بھی اپنا کام شروع کردیا۔ سرداروں میں سے ایک شخص جو موسیٰ کا ہمدرد تھا ، دست قدرت نے اس سے کام لیا۔ یہ شاید وہی شخص ہے جو اپنے ایمان کو چھپا رہا تھا اور جس کا ذکر سورة غافر کی آیت 28 میں ہوا ہے۔ یہ شخص اٹھا اور اس نے حضرت موسیٰ کو اعلیٰ سطح پر ہونے والے مشوروں سے آگاہ کردیا۔ یہ شخص نہایت سنجیدگی ، اہتمام اور جلدی میں آیا اور اس نے شاہی کارندوں کو کسی کاروائی سے قبل حضرت موسیٰ کو اطلاع کردی۔
ان العلا یاتمرون ۔۔۔۔۔ من النصحین (28: 20) ” موسیٰ سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں ، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں “۔
آیت 20 وَجَآءَ رَجُلٌ مِّنْ اَقْصَا الْمَدِیْنَۃِ یَسْعٰیز ”یعنی اس دوسرے جھگڑے میں جب قتل کا راز فاش ہوگیا تو اس قبطی نے جا کر مخبری کی ہوگی۔ تب یہ واقعہ پیش آیا ہوگا۔ جیسا کہ پہلے ذکر ہوچکا ہے کہ فرعون اور دوسرے امرائے سلطنت کے محلات شہر کی عام آبادی سے دور تھے۔ چناچہ ایک شخص وہاں سے دوڑتا ہوا آیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام تک یہ خبر پہنچائی۔ قَالَ یٰمُوْسٰٓی اِنَّ الْمَلَاَ یَاْتَمِرُوْنَ بِکَ لِیَقْتُلُوْکَ ”یعنی آپ علیہ السلام کے ہاتھوں قبطی کے مارے جانے کی خبر ارباب اقتدار تک پہنچ جانے کے بعد ایوان حکومت میں آپ علیہ السلام کے قتل کی قرار داد پیش ہوچکی تھی اور آپ علیہ السلام کے قتل کی رائے پر سب کا اتفاق ہونے والا تھا۔ یقیناً انہوں نے سوچا ہوگا کہ غلام قوم کا یہ فرد شاہی محل میں رہ کر خود سر اور سرکش ہوگیا ہے۔ آج اس نے ایک قبطی کو قتل کرنے کی جسارت کی ہے تو کل یہ شخص اپنی غلام قوم میں آزادی کی روح پھونک کر انہیں ہمارے خلاف بغاوت پر بھی آمادہ کرسکتا ہے۔ چناچہ اس سے پہلے کہ یہ ہمارے لیے بڑا مسئلہ کھڑا کرے ‘ بہتر ہے کہ اس کو قتل کردیا جائے۔ فَاخْرُجْ اِنِّیْ لَکَ مِنَ النّٰصِحِیْنَ ”اس شخص نے آپ علیہ السلام کو یقین دلایا کہ وہ آپ علیہ السلام کو بالکل صحیح مشورہ دے رہا ہے اور آپ علیہ السلام کی بھلائی چاہتا ہے۔
گمنام ہمدر اس آنے والے کو رجل کہا گیا۔ عربی میں رجل کہتے ہیں قدموں کو۔ اس نے جب دیکھا کہ سپاہ حضرت موسیٰ کے تعاقب میں جارہی ہے تو یہ اپنے پاؤں پر تیزی سے دوڑا اور ایک قریب کے راستے سے نکل کر جھٹ سے آپ کو اطلاع دے دی کہ یہاں کے امیر امراء آپ کے قتل کے ارادے کرچکے ہیں آپ شہر چھوڑ دیجئے۔ میں آپ کا بہی خواہ ہوں میری مان لیجئے۔