اب منظر پر ایک نہایت ہی سلیم الفطرت اور عفیف عورت کی آواز آتی ہے
قالت احدھما ۔۔۔۔۔۔ القوی الامین (26)
ان دونوں بہنوں کو بھیڑ بکریاں چرانا پڑتی تھیں اور پانی پلاتے وقت ان کو مردوں کی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑتا تھا اور ان کو مردوں سے واسطہ پڑتا تھا اور ان سے ٹکرانا پڑتا تھا ، جس طرح ہر اس عورت کو ایسے حالات درپیش ہوتے رہتے ہیں جو مردوں والا کام کرتی ہے۔ ان دونوں بہنوں کو ہر وقت اس کام میں اذیت کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ ان کی خواہش یہ تھی کہ وہ امور خانہ داری تک محدود ہوجائیں اور ایک پاک دامن عفت مآب ” زن خانہ “ کی طرح زندگی بسر کرنے کا موقع ملے اور انہیں چراگاہوں اور گھاٹوں پر غیر مردوں کے ساتھ اختلاط پر مجبور نہ ہونا پڑے۔ پاک دامن ، پاک فطرت اور سلیم الفطرت عورتوں کی روش یہی ہوتی ہے کہ ان کو مردوں کے ساتھ مقابلہ اور مزاحمت کرنا پسند نہیں آتا اور اس قسم کے اختلاط اور مزاحمت کی وجہ سے عورتوں کے اندر جو ہلکا پن پیدا ہوجاتا اسے کوئی سلیم الفطرت عورت پسند نہیں کرتی۔
حضرت موسیٰ نوجوان ، مسافر اور غریب الوطن ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ قوی اور امین بھی ہیں۔ اس عورت نے دیکھ لیا تھا کہ ان کی قوت اور شخصیت کو دیکھ کر تمام چرواہے سہم گئے تھے۔ انہوں نے موسیٰ کو فوراً راستہ دے دیا تھا اور ان دو مستورات کے جانوروں نے پانی پی لیا تھا۔ حالانکہ حضرت موسیٰ غریب الوطن تھے اور غریب الوطن اگرچہ کوئی بڑا آدمی ہو۔ کمزور سمجھا جاتا ہے۔ اور جب یہ عورت موسیٰ کو دعوت دینے گئی تھی تو اس نے دیکھ لیا تھا کہ پاک نظر اور پاک زبان رکھتے ہیں۔ چناچہ یہ عورت باپ کو مشورہ دیتی ہے کہ ابو آپ اس شخص سے اجارہ کرلیں تاکہ وہ اور اس کی بہن بکریاں چرانے کے عذاب سے نجات پالیں اور اس طرح ان کو وہ کام نہ کرنا پڑے جو مرد کرتے ہیں۔ حضرت موسیٰ مضبوط آدمی ہیں ، امین ہیں۔ اس لیے کہ جو شخص کسی دوشیزہ کی عفت کا امین ثابت ہوجائے ، وہ تمام امور پر امین ثابت ہوجاتا ہے۔ یہ اپنے اس مشورے میں بھی بالکل واضح سوچ رکھتی ہے اور صاف صاف بات کر رہی ہے اسے یہ خطرہ نہیں ہے کہ اس پر کوئی بدظنی کرے گا کیونکہ اس کی دل کی کتاب صاف ہے۔ اس کا احساس و شعور پاک ہے۔ اس لیے اسے کسی محاسبے سے ڈر نہیں ہے۔ چناچہ وہ اپنی اس تجویز میں شف شف نہیں کرتی۔ اور نہایت ہی صاف الفاظ میں واضح تجویز دیتی ہے۔
یہاں ان روایات کو دہرانے کی ہرگز ضرورت نہیں ہے جو مفسرین نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوت کے بارے میں نقل کی ہیں ، مثلا یہ کہ جس کنویں سے چرواہے پانی پلاتے تھے ، اس پر ایک بڑا پتھر رکھا ہوا ہوتا تھا جسے بیس ، چالیس یا اس سے بھی کم و بیش افراد اٹھا سکتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم کے سباق سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کنویں کے اوپر پتھر ہوتا تھا بلکہ دوسرے چرواہے پانی پلا چکتے تو بعد میں یہ دو عورتیں پانی پلاتیں۔ حضرت موسیٰ نے ان چرواہوں کو ہٹایا اور ان عورتوں کے مویشیوں کو پانی پلا دیا یا دوسرے چرواہوں کے ساتھ ساتھ پانی پلا دیا۔
نیز یہاں ان روایات کے دہرانے کی بھی ضرورت نہیں ہے جن میں ان کی دیانت و امانت پر یہ دلیل دی گئی ہے۔ جس میں انہوں نے اس دوشیزہ سے کہا کہ تم میرے پیچھے چلو اور پیچھے سے مجھے راستہ بتلاتی چلو ، اس خوف سے کہ کہیں ان کی نظر اس عورت پر نہ پڑجائے۔ یا یہ کہ حضرت موسیٰ نے اس لڑکی کو پیچھے چلنے کا اس وقت کہا جب وہ آگے چل رہی تھی تو ہوا نے اس کے کپڑوں کو ٹخنوں سے اوپر کردیا۔ یہ محض تکلفات ہیں اور ان کے ذریعہ سے ایسے شکوک کو دور کرنے کی سعی کی گئی ہے جن کا سرے سے وجود ہی نہیں ہے۔ حضرت موسیٰ بذات خود عفیف النظر تھے ، پاک احساسات رکھتے تھے اور یہ عورت بھی پاک دامن تھی ، عفت اور امانت جہاں ہو ان کے ثبوت کے لئے تکلفات کی ضرورت نہیں ہے خصوصاً مرد اور عورت کی ملاقات کے وقت کیونکہ عفت وہ پختہ ملکہ ہے جو بغیر کسی تکلف اور بناوٹ کے حصہ کردار ہوتا ہے۔
اس بوڑھے نے اپنی بیٹی کی اس تجویز کو قبول کرلیا۔ انہوں نے محسوس کرلیا کہ لڑکی اور موسیٰ دونوں کے اندر خواہش اور اعتماد پایا جاتا ہے اور فطری میلان موجود ہے۔ اور یہ دونوں مل کر ایک صالح خاندان کی بنیاد ڈال سکتے ہیں۔ جب کسی نوجوان میں قوت اور عفت جمع ہوجائیں تو فطرتاً ہر سلیم الفطرت دوشیزہ ایسے شخص کو زندگی کا ساتھی بنانے پر راضی ہوتی ہے۔ جو خود پاک دامن اور صالح ہو۔ اس لیے اس بوڑھے نے حضرت موسیٰ کو پیش کش کردی کہ وہ اپنی بیٹیوں میں سے ایک تمہارے نکاح میں دے سکتے ہیں۔ اگر تم آٹھ سال تک میری خدمت کرو اور میرے مویشی چراؤ اور اگر بطور احسان تم دس سال تک یہ خدمت کرو تو تمہاری طرف سے احسان ہوگا۔
آیت 26 قَالَتْ اِحْدٰٹہُمَا یٰٓاَبَتِ اسْتَاْجِرْہُز ”اِسْتَاْجَرَ ”اج ر“ مادہ سے باب استفعال ہے۔ ”مُسْتأجِر“ وہ شخص ہے جو کسی کو اجرت پر ملازم رکھے ‘ جبکہ اجرت پر کام کرنے والے کو عربی میں ”آجر“ یا ”اَجِیر“ کہا جاتا ہے ہمارے ہاں عام طور پر آجر کے معنی اجرت دینے والا یا ملازم رکھنے والا کے لیے جاتے ہیں جو غلط ہیں۔ بہر حال عربی میں یہ دونوں الفاظ ہم معنی ہیں۔ ”اَجِیر“ صفت مشبہ ہے اور ”آجر“ اسم الفاعل۔اِنَّ خَیْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ ”حضرت موسیٰ علیہ السلام کی شخصیت کی یہ دونوں خصوصیات ان بچیوں کے مشاہدے میں آچکی تھیں۔ انہوں نے دیکھ لیا تھا کہ جب ان کی بکریوں کو پانی پلانے کے لیے آپ علیہ السلام کنویں کی طرف بڑھے تھے تو آپ کا ڈیل ڈول دیکھ کر کسی چرواہے نے آپ علیہ السلام سے الجھنے کی جرأت نہیں کی تھی اور سب نے بلا چون و چرا آپ علیہ السلام کو پانی پلانے کا موقع دے دیا تھا۔ اس کے علاوہ ان بچیوں کو آپ علیہ السلام کے شریفانہ رویہ سے آپ علیہ السلام کی امانت داری کا تجربہ بھی ہوچکا تھا۔ کسی مردکاسامنا کرتے ہوئے ایک شریف عورت فطری طور پر اس کی نظر کے بارے میں بہت حساسّ ہوتی ہے۔ آپ علیہ السلام نے چونکہ لڑکیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ان کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا ‘ اس لیے انہوں نے آپ علیہ السلام کی امانتداری کی گواہی دی کہ جس شخص کی نگاہ میں خیانت نہیں ہے وہ کسی اور معاملے میں بھی خیانت نہیں کرے گا۔