وکانو ................ العظیم (6 5: 6 4) ” اور یہ گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ “ الحنث کے معنی الذنب یہاں مراد شرک ہے۔ اس میں اشارہ ہے اس حلف کی طرف جو اللہ نے انسانی فطرت سے لیا تھا کہ وہ اللہ وحدہ پر ایمان لائیں گے اب انہوں نے اس عہد کو توڑ لیا اور حانث ہوگئے۔
آیت 46{ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ۔ } ”اور یہ اصرار کرتے تھے بہت بڑے گناہ پر۔“ بہت بڑے گناہ سے یہاں شرک مراد ہے ‘ جس کے بارے میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے سورة النساء میں حتمی فیصلہ دیا جا چکا ہے : { اِنَّ اللّٰہَ لَا یَغْفِرُ اَنْ یُّشْرَکَ بِہٖ وَیَغْفِرُ مَا دُوْنَ ذٰلِکَ لِمَنْ یَّشَآئُج } آیت 48 کہ اللہ تعالیٰ اپنے ساتھ کیے گئے شرک کو کبھی نہیں بخشے گا ‘ اس کے علاوہ جس کو چاہے گا بخش دے گا۔