اس صفحہ میں سورہ An-Nahl کی تمام آیات کے علاوہ تفسیر بیان القرآن (ڈاکٹر اسرار احمد) کی تمام آیات کی تفسیر بھی شامل ہے۔ پہلے حصے میں آپ سورہ النحل کو صفحات میں ترتیب سے پڑھ سکتے ہیں جیسا کہ یہ قرآن میں موجود ہے۔ کسی آیت کی تفسیر پڑھنے کے لیے اس کے نمبر پر کلک کریں۔
۞ يَوْمَ تَأْتِى كُلُّ نَفْسٍ تُجَٰدِلُ عَن نَّفْسِهَا وَتُوَفَّىٰ كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ
وَضَرَبَ ٱللَّهُ مَثَلًا قَرْيَةً كَانَتْ ءَامِنَةً مُّطْمَئِنَّةً يَأْتِيهَا رِزْقُهَا رَغَدًا مِّن كُلِّ مَكَانٍ فَكَفَرَتْ بِأَنْعُمِ ٱللَّهِ فَأَذَٰقَهَا ٱللَّهُ لِبَاسَ ٱلْجُوعِ وَٱلْخَوْفِ بِمَا كَانُوا۟ يَصْنَعُونَ
وَلَقَدْ جَآءَهُمْ رَسُولٌ مِّنْهُمْ فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمُ ٱلْعَذَابُ وَهُمْ ظَٰلِمُونَ
فَكُلُوا۟ مِمَّا رَزَقَكُمُ ٱللَّهُ حَلَٰلًا طَيِّبًا وَٱشْكُرُوا۟ نِعْمَتَ ٱللَّهِ إِن كُنتُمْ إِيَّاهُ تَعْبُدُونَ
إِنَّمَا حَرَّمَ عَلَيْكُمُ ٱلْمَيْتَةَ وَٱلدَّمَ وَلَحْمَ ٱلْخِنزِيرِ وَمَآ أُهِلَّ لِغَيْرِ ٱللَّهِ بِهِۦ ۖ فَمَنِ ٱضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَلَا عَادٍ فَإِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ
وَلَا تَقُولُوا۟ لِمَا تَصِفُ أَلْسِنَتُكُمُ ٱلْكَذِبَ هَٰذَا حَلَٰلٌ وَهَٰذَا حَرَامٌ لِّتَفْتَرُوا۟ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ ۚ إِنَّ ٱلَّذِينَ يَفْتَرُونَ عَلَى ٱللَّهِ ٱلْكَذِبَ لَا يُفْلِحُونَ
مَتَٰعٌ قَلِيلٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ
وَعَلَى ٱلَّذِينَ هَادُوا۟ حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِن قَبْلُ ۖ وَمَا ظَلَمْنَٰهُمْ وَلَٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ
آیت 111 يَوْمَ تَاْتِيْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَاروز قیامت ہر شخص چاہے گا کہ کسی نہ کسی طرح جہنم کی سزا سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ لہٰذا اس کے لیے وہ مختلف عذر پیش کرے گا۔
فَكَفَرَتْ بِاَنْعُمِ اللّٰهِ فَاَذَاقَهَا اللّٰهُ لِبَاسَ الْجُوْعِ وَالْخَوْفِ بِمَا كَانُوْا يَصْنَعُوْنَ اس تمثیل کے بارے میں مختلف آراء ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ ایک عام تمثیل ہے اور کسی خاص بستی سے متعلق نہیں۔ کچھ مفسرین کا خیال ہے کہ یہ قوم سبا کی مثال ہے جس کے بارے میں تفصیل آگے چل کر سورة سبا میں آئے گی۔ ایک تیسری رائے یہ ہے کہ اس مثال کے آئینے میں مکہ اور اہل مکہ کا ذکر ہے کہ یہ شہر ہمیشہ سے امن و سکون کا گہوارہ چلا آ رہا تھا اور یہاں اہل مکہ کی تجارتی سرگرمیوں اور حج وعمرہ کے اجتماعات کے باعث خوشحالی اور فارغ البالی بھی تھی۔ دنیا بھر سے انواع وا قسام کا رزق فراوانی سے ان کے پاس چلا آتا تھا مگر حضور کی بعثت کے بعد آپ کی دعوت کا انکار کرنے کی پاداش میں اس شہر کے باشندوں پر قحط کا عذاب مسلط کردیا گیا تھا۔ مکہ میں یہ قحط اسی قانون خداوندی کے تحت آیا تھا جس کا ذکر سورة الانعام کی آیت 42 اور سورة الاعراف کی آیت 94 میں ہوا ہے۔ اس اصول یا قانون کے تحت ہر رسول کی بعثت کے بعد متعلقہ قوم پر چھوٹے چھوٹے عذاب آتے ہیں تاکہ انہیں خواب غفلت سے جاگنے اور سنبھلنے کا موقع مل جائے اور وہ رسول پر ایمان لا کر بڑے عذاب سے بچ جائیں۔تاویل خاص کے اعتبار سے اس مثال میں یقیناً مکہ ہی کی طرف اشارہ ہے مگر اس کی عمومی حیثیت بھی مدنظر رہنی چاہیے کہ کوئی بستی بھی اس قانون خداوندی کی زد میں آسکتی ہے۔ جیسے پاکستان کے عروس البلاد کراچی کے حالات کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ ایک وقت وہ تھا جب کراچی میں امن وامان وسائلِ رزق کی فراوانی اور خوشحالی کی کیفیت ملک بھر کے لوگوں کے لیے باعث کشش تھی ‘ مگر پھر دیکھتے ہی دیکھتے یہ شہر وہی نقشہ پیش کرنے لگا جس کی جھلک اس آیت میں دکھائی گئی ہے۔ یعنی کفر ان نعمت کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے اس کے باشندوں کو بھوک اور خوف کا لباس پہنا دیا۔
وَّاشْكُرُوْا نِعْمَتَ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ اِيَّاهُ تَعْبُدُوْنَ نوٹ کیجیے کہ اللہ کی نعمتوں کا ذکر مختلف انداز میں اس سورت میں بار بار آ رہا ہے۔
فَمَنِ اضْطُرَّ غَيْرَ بَاغٍ وَّلَا عَادٍ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌیعنی انتہائی مجبوری کی حالت میں جان بچانے کے لیے وقتی طور پر بقدر ضرورت ان حرام اشیاء کو استعمال میں لا کر جان بچائی جاسکتی ہے مگر نہ تو دل میں ان کی طلب ہو نہ اللہ سے سرکشی کا ارادہ اور نہ ہی ایسی حالت میں وہ چیز ضرورت سے زیادہ کھائی جائے۔
آیت 116 وَلَا تَــقُوْلُوْا لِمَا تَصِفُ اَلْسِنَتُكُمُ الْكَذِبَ ھٰذَا حَلٰلٌ وَّھٰذَا حَرَامٌحلال اور حرام کا فیصلہ کرنے کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ یہ ایک سنجیدہ معاملہ ہے اس لیے اس بارے میں غیر محتاط رویہ اختیار نہیں کرنا چاہیے کہ بغیر علم دلیل اور سند کے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔
آیت 118 وَعَلَي الَّذِيْنَ هَادُوْا حَرَّمْنَا مَا قَصَصْنَا عَلَيْكَ مِنْ قَبْلُ اس بارے میں تفصیل سورة آل عمران : 93 ‘ النساء : 140 اور الانعام : 146 میں گزر چکی ہے۔ حضرت یعقوب نے اپنی مرضی سے اپنے اوپر اونٹ کا گوشت حرام کرلیا تھا ‘ جس کی تعمیل بعد میں وہ پوری قوم کرتی رہی۔ اس کے علاوہ مختلف حیوانات کی چربی بھی بنی اسرائیل پر حرام کردی گئی تھی۔